12 ذو الحجة 1445 هـ   18 جون 2024 عيسوى 1:27 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2024-05-19   237

فلان امیر اور میں غریب کیوں پیدا ہوا؟۔۔۔۔۔۔کیا یہ عدل ہے؟

زید ایک مومن معاشرے میں پیدا ہوتا ہے اور وہ مؤمن بن جاتا ہے، کیونکہ وہ ہدایت کے اسباب و عوامل کے قریب واقع ہوتا ہے اور ضلالت و گمراہی کے عوامل و اسباب سے وہ دور ہوتا ہے، جبکہ دوسرا شخص کافر یا ملحد و زندیق معاشرے میں جنم لیتا ہے تو وہ ان کی پیروی کرتے ہوئے انہی کی طرح کافر و مشرک یا ملحد و زندیق بن جاتا ہے تو اس میں عدل کہاں ہے؟!

اسی طرح ان میں سے ایک شخص صحیح و سالم پیدا ہوتا ہے اس میں  کسی قسم کی کوئی بیماری نہيں ہوتی ،وہ دنیا کی لذات سے استفادہ کرتا ہے اور وہ کسی چيز سے محروم نہيں ہوتا جبکہ دوسرا شخص پیدائشی مریض ہوتا ہے وہ کسی چيز پر قدرت اور طاقت نہيں رکھتا تو اس میں عدل کہاں ہے!

فلاں شخص ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوتا ہے وہ اس مشکلات اور آزمائشوں پرغلبہ پانے کی قدرت رکھتا ہے جو انسان کی زندگی میں پیش آتی ہيں نتیجتا میں وہ معصیت و نافرمانی کے کاموں کا ارتکاب کرنے میں مجبور و مضطر نہيں ہوتا جبکہ دوسرا شخص ایک فقیر و نادار گھرانے میں جنم لیتا ہے مشکل حالات اور مصیبتیں اسے ایسے کاموں میں ملوث کردیتی ہيں جن کا انجام قابل تعریف نہيں ہوتا تو اس میں عدل کہاں ہے؟!

اسی طرح ایک شخص دوسرے کی نسبت لمبی عمر پاتا ہے اور وہ دوسروں سے زيادہ نیک کام انجام دے سکتا ہے تو وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے اگر دوسرے شخص کو بھی اسی طرح وسائل مہیا جاتا تو وہ بھی اس طرح نیکیاں انجام دیتا بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ بہتر کام کرتا دوسرا محروم رہا اور پہلے کو عطا کیا گیا ؟ ان اختلافات و تفاوت کے عوامل و اسباب خود انسان کی طرف نہيں پلٹتے تو انسان کا کیا گناہ ہے جب وہ ایسے معاشرے میں یا حالات میں جنم لے جو اسے معصیت یا نافرمانی کی راہ میں گامزن کردیں، اس لیے ان جیسے موضوعات کو حل کرنے کیلئے عقل و شعور سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

اجمالی طور پر ان تمام مسائل کو(جن میں معاشرتی حالات بھی شامل ہيں جو انسان کے ایمان لانے کا سبب بنتے ہيں یا دیگر اسباب و عوامل جیسے مال و دولت یا صحت و سلامتی یا عمر اور زندگی کی مدت) مسئلہ رزق و روزی کی طرف پلٹانا ممکن ہے اور انسان کیلئے تقسیم شدہ رزق اور روزی شمار ہوتے ہيں ۔

چنانچہ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ رزق اور روزی میں تفاوت کے سبب کو جاننا چاہیے ۔سابقہ مقالات میں گزر چکا ہے جہاں مفاہیم اور معانی میں کھیل کود یعنی تغیر و تبدیلی کی سیاست کو بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالی نے ہر انسان کو اس مقصد و اختیار تک پہنچانے کو اپنے ذمہ لیا ہے پس جو انسان اس دنیا کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے خداوند کریم اسے دنیا عطا کرتا ہے پھر اسے شدید عذاب میں مبتلا کرے گا اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس کیلئے جدوجہد و کوشش کرتا ہے خداوند کریم اسے اس کے مقصد تک پہنچا دے گا اور انپے عبد و بندے کی نصرت و مدد فرمائے گا اور اسے کامیابی کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا قرآن کریم میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:

مَنْ كانَ يُريدُ الْعاجِلَةَ عَجَّلْنا لَهُ فيها ما نَشاءُ لِمَنْ نُريدُ ثُمَّ جَعَلْنا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاها مَذْمُوماً مَدْحُوراً (18)وَ مَنْ أَرادَ الْآخِرَةَ وَ سَعى‏ لَها سَعْيَها وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً (19)كُلاًّ نُمِدُّ هؤُلاءِ وَ هَؤُلاءِ مِنْ عَطاءِ رَبِّكَ وَ ما كانَ عَطاءُ رَبِّكَ مَحْظُوراً (20)

جو شخص اس جلد ہاتھ آنے والی دنیا کا ارادہ کرے گا تو ہم اس کیلئے  اس میں جلدی عطا کریں گے  جس کیلئےجو کچھ  چاہیں گے  پھر اسے جہنم میں ڈال دیں گے وہ اس میں مذمت اور پشیمانی کے ساتھ ڈالا جائے گا اور جو آخرت کا ارادہ کرے گا اور اس کیلئے اپنی مقدور بھر کوشش کرے کا جب کہ وہ مؤمن ہو تو ان کا سعی و کوشش کا شکریہ ادا کیا جائے گا ہم سب کی مدد کرتے ہيں اس پہلے گروہ کی اور دوسرے گروہ کی یہ تیرے ربّ کی عطا ہے اور تیرے رب کی عطا کسی سے رکتی نہيں ہے ،سورہ اسراء آیت 18-20۔

چنانچہ اللہ تعالی ہر انسان کو اس کے مقصد اور منزل تک پہنچاتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اور وہ اس کا انتخاب کرچکا ہوتا ہے تو اللہ تعالی سے انسانوں کے انتخاب کردہ منزل اور مقصد کے بارے میں سوال نہيں ہوسکتا جن کو انسانوں نے اپنی مرضی اور ارادہ سے اختیار کیا ہے جبکہ اللہ تعالی نے ان کو جنت کے راستوں کے بارے میں آگاہ کردیا ہے اور جہنم کی راہوں کے بارے میں بتا دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَ اللَّهُ يَدْعُوا إِلى‏ دارِ السَّلامِ وَ يَهْدي مَنْ يَشاءُ إِلى‏ صِراطٍ مُسْتَقيمٍ (25)؛ اللہ تعالی سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے ؛یونس ، آیت25۔

اور اللہ تعالی نے ہمیں شیطان کی پیروی سے ڈرایا ہے اور فرمایا:

 يا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلالاً طَيِّباً وَ لا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبينٌ (168) شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو ؛وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ؛ بقرہ ، آیت 168۔

نیز اللہ تعالی نے فرمایا:

الشَّيْطانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ يَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشاءِ وَ اللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَ فَضْلاً وَ اللَّهُ واسِعٌ عَليمٌ (268)؛  شیطان تمہيں فقر و فاقہ کا وعدہ کرتا ہے اور تمہيں برائي اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے جبکہ اللہ تعالی تمہيں مغفرت و بخشش نیز اپنے فضل و کرم کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ تعالی وسعت دینے والا اور جاننے والا ہے؛ سورہ بقرہ آیت 268۔

اللہ تعالی نے دونوں راہوں کے بارے میں انسان کو مکمل طور پر علم و آگاہی دینے کے بعد انتخاب کا حق انسان کو دیا ہے تو انسان جو بھی راستہ اختیار کرتا ہے وہ اس کے نتائج کا خود ذمہ دار ہے پس اللہ تعالی نے اس بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

فَأَلْهَمَها فُجُورَها وَ تَقْواها (8)قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها (9)وَ قَدْ خابَ مَنْ دَسَّاها (10)؛پس اللہ تعالی نے ہر جان کو اس کے فسق و فجور اور تقوی و پرہیزگار کا الہام فرما دیا ہے؛ پس جو اپنے آپ کو پاک کرے تو فلاح و کامیابی پائے گا اور جو اپنے آپ کو دھوکہ دے تو وہ نقصان اٹھائے گا؛ سورہ شمس، آیت 8-10۔

یہ اس مسئلہ کی پہلی جہت ہے جبکہ اس کی دوسری جہت یہ بھی ہے اسی طرح دنیا کے بھی مراتب اور مقامات ہیں جس طرح آخرت کے مراتب اور درجات ہيں۔ پس جن لوگوں نے دنیا کو اختیار کیا تو ایسا نہيں ہے کہ وہ سب ایک مرتبہ اور درجہ میں ہيں جیسا کہ جن لوگوں نے آخرت کو اختیار کیا تو وہ سب ایک درجہ اور مرتبہ نہيں ہونگے ۔

ثالثا یہ ہے کہ لوگوں کو ہدایت یا گمراہی کے درجہ تک پہنچانے کا طریقہ لوگوں میں مختلف ہے ان میں سے بعض ایسے ہيں کہ انہيں اس مرتبہ تک صرف مال و دولت کی فراوانی سے پہنچایا جاسکتا ہے اور کچھ ایسے ہيں جن کو اس مرتبہ تک صرف فقر و فاقہ کے ساتھ پہنچایا جاسکتا ہے اور کچھ ایسے ہيں کہ ان کو اس مرتبہ تک صرف صحت و سلامتی کے ساتھ پہنچایا جاسکتا ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کو صرف مرض و بیماری کے ساتھ پہنچایا جاسکتا ہے اور باقی سب اختلافات و تفاوت اسی باب سے ہيں ۔

جب یہ باتیں واضح ہوگئيں تو ہم کہتے ہيں: اللہ تعالی علم غیب ہے جیسا کہ علم کلام و عقائد میں یہ ثابت ہوچکا ہے اس سے ذرہ برابر کچھ بھی غائب نہيں ہے چاہے وہ زمین کی تاریکیوں مین ہو یا آسمان کی بلندیوں میں ہو پس اللہ تعالی جانتا ہے کہ فلاں شخص کو جب خلق فرمائے گا تو وہ کیا انتخاب کرے گا کیا وہ جنت کو اختیار کرے گا یا جہنم کو اختیار کرے گا یا کہیں کہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ انسان دنیا کو اختیار کرے گا یا آخرت کو اختیار کرے گا اور اس کے کس درجہ کو اختیار کرے گا اس انسان کے اختیار اور انتخاب کی بنیاد پر اللہ تعالی اسے اس کے انتخاب تک پہنچائے گا جیسا کہ آیت کریمہ میں گزر چکا ہے جس میں ہر گروہ کی مدد کرنے کا ذکر ہے اور اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:

إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى (4) فَأَمَّا مَنْ أَعْطى‏ وَ اتَّقى‏ (5) وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنى‏ (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى‏ (7) وَ أَمَّا مَنْ بَخِلَ وَ اسْتَغْنى‏ (8) وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنى‏ (9)فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى‏ (10) وَ ما يُغْني‏ عَنْهُ مالُهُ إِذا تَرَدَّى (11) إِنَّ عَلَيْنا لَلْهُدى‏ (12) وَ إِنَّ لَنا لَلْآخِرَةَ وَ الْأُولى‏ (13)؛تمہاری کوششیں مختلف ہيں پس جس نے راہ خدا میں عطا کیا اور تقوی اور پرہیزگاری کو اپنایا اور نیک کے ذریعہ اوامر الہی کی تصدیق کی تو ہم اسے آخرت کی آسانیوں کیلئے راہیں آسان کردیں گے اور جس نے راہ خدا میں خرچ کرنے میں بخل سے کام لیا اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے بےنیازی اختیار کی اور نیکی کی راہوں کو جھٹلانے لگا تو ہم آخرت کی مشکلات اور پریشانیوں کیلئے راہيں آسان کردیں گے تو جب وہ ہلاک ہوجائے گا تو اسے اس کا مال و دولت بھی کام نہيں آئے گا بے شک ہم پر ہدایت دینا ہے اور ہمارے لیے دنیا اور آخرت ہے ، سورہ لیل ، آيت 4-13۔

پس لوگوں کو ان کے مقاصد تک پہنچانے کی راہيں مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے رزق و روزی کی مقدار میں اختلاف آجا تا ہے تو اللہ نے بعض انسانوں کیلئے وہ معاشرتی ،اقتصادی اور صحت و سلامتی کے حالات مقدر کئے ہيں جو دوسروں کے حالات سے مختلف ہیں ۔

سابقہ آیات کریمہ کے علاوہ اہل بیت علیھم السلام کی طرف سے منقول بہت سی روایات میں اس مطلب کی تصریح کی گئی ہے چنانچہ داود بن سلیمان نے نقل کیا ہے کہ ہمیں امام رضا علیہ السلام نے بیان کیا کہ مجھے امام موسی بن جعفر کاظم علیھما السلام نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد گرامی امام جعفر صادق علیہ السلام نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد گرامی امام محمد بن علی باقر علیھما السلام نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد گرامی امام علی بن حسین زین العابدین علیھما  السلام نے حدیث بیان کی کہ مجھے مجھے میرے والد گرامی امام حسین بن علی علیھما السلام نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد گرامی امام علی بن ابی طالب علیھم السلام نے حدیث بیان کی ، آپ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے:

"اے فرزند آدم! تم سب گمراہ ہو مگر جس کو میں ہدایت دوں ، تم سب فقیر اور نادار ہو مگر جسے میں مالدار اور امیر بناؤں ، تم سب ہلاک ہونے والے ہو مگر جسے میں نجات دوں، پس تم مجھ سے سوال کرو میں تمہارے لیے کافی ہوں اور تمہیں تمہاری ہدایت کی راہوں کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہوں بے شک میں مومن بندوں میں کچھ ایسے ہیں کہ ان کی اصلاح فقر و فاقہ کے ذریعہ ہوتی ہے،اگر میں ان کو امیر اور مالدار بنا دوں تو اس سے وہ فاسد اور گمراہ ہوجائيں گے، اور میرے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اسے بیماری نیک بنا سکتی ہے پس اگر میں اس  کے جسم کو صحیح و سالم بنا دوں تو وہ اسے فاسد اور برباد کردے گی اور میرے کچھ میری عبادت اور بندگی کی کوشش اور جدوجہد کرتے ہيں اور نماز شب کیلئے کھڑے رہتے ہيں  تو میں ان پر اپنی رحمت اور شفقت کی بدولت نیند کو غالب کردیتا ہوں توصبح ہونے کے بعد ان کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ عبادت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں درحالانکہ وہ اپنے آپ پر ناراض ہوتے ہيں اور اپنی جان کی سرزنش کرتے ہيں اگر میں ان کو ان کے ارادوں کے ساتھ آزاد چھوڑ دوں تو ان کو اپنے اعمال سے خودپسندی اور غرور و تکبر داخل ہوجائے گا تو وہ اپنے اسی  عجب اور خودپسندی کی بدولت ہلاک ہوجائیں گے جب ان میں یہ ظن و گمان آجائے گا کہ وہ دوسرے عبادت گزاروں پر فوقیت لے گئے اور اپنی کوشش و جد و جہد کے ذریعہ مقصّرین کی حدود سے باہر نکل چکے ہيں تو وہ اس وہم اور گمان کی بدولت مجھ سے دور ہوجائیں گے جبکہ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ وہ میرے قریب ہورہے ہيں تو عمل کرنے والوں کو اپنے اعمال پر بھروسہ نہيں کرنا چاہیے اگرچہ وہ نیک اعمال ہوں اور گناہ گاروں کو میری مغفرت کے ان کے گناہوں کو شامل حال ہونے سے مایوس نہيں ہونا چاہیے اگرچہ ان کے گانہ بہت زيادہ ہوں بلکہ انہیں میری رحمت اور کرم پر بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے اور میری لطف و عنایت سے امید باندھنی چاہیے اور میری حسن نظر پر اعتماد ہوناچاہیے کیونکہ میں اپنے بندوں کیلئے وہ وسائل اور مقدمات فراہم کرتا ہوں جو ان کی اصلاح کا موجب ہوتے ہيں اور میں ان پر لطف و کرم کرنے والا اور ان کے حالات کی خبر رکھنے والا ہوں ؛ (امالی شیخ طوسی ، ص167)

پس ہم اللہ تعالی کے اس فرمان میں غور کریں فرمایا:

وَ لَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَ لكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ ما يَشاءُ إِنَّهُ بِعِبادِهِ خَبيرٌ بَصيرٌ(27)؛ اگر اللہ تعالی اپنے بندوں پر رزق و روزی میں وسعت دیتا تو یہ لوگ زمین میں بغاوت او رسرکشی کرتے لیکن اللہ تعالی اتنی مقدار میں رزق و روزی نازل کرتا ہے جتنا و ہ چاہتا ہے وہ اپنے بندوں کے حالات کی خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہے ؛ سورہ شوری ، آیت 27۔

نیز سورہ زخرف میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَ لَوْ لا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً لَجَعَلْنا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ وَ مَعارِجَ عَلَيْها يَظْهَرُونَ (33)وَ لِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَ سُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ (34)وَ زُخْرُفاً وَ إِنْ كُلُّ ذلِكَ لَمَّا مَتاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا وَ الْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقينَ (35)؛ اگر تمام لوگوں ایک امت ہونے اور کفر پر متفق ہوجانے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم رحمن کے حق میں کفر و انکار کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان سیڑھیوں کو چاندی کا بنا دیتے جن سیڑھیوں پر وہ چڑھا کرتے ہيں اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت بھی سونے چاندی کے بنا دیتے جن پر وہ تکیہ لگاتے ہيں اور ان کے گھروں کو مزین کر دیتے کیونکہ یہ سب تو صرف دنیا کا مال و متاع ہے جب کہ تیرے رب کے پاس آخرت متقیوں کیلئے ہے۔ سورہ زخرف، آیت، 33-35۔

خلاصہ یہ ہے کہ رزق و روزی کے مسئلہ میں اختلاف اور اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر صحت و مال ، زندگی اور باقی حالات کو مہیا کرنا وہ انسان کے دنیا یا آخرت اختیار کرنے کے لحاظ سے ہے کہ وہ اس درجہ کو کس درجہ میں حاصل کرنا چاہتا ہے اسی سے اس کیلئے جنت میں جانے کی راہیں مختلف ہوتی ہيں مثال کے طور پر زید جس راستے سے جنت میں اپنے درجہ تک پہنچتا ہے جو عمرو کے راستے سےمختلف ہوتا ہے۔ پس یہ دونوں مستحق جنت ہوسکتےہيں لیکن پہلا اپنےمقصد تک فقرو فاقہ کے ذریعہ جنت پہنچا ہے جبکہ دوسرا مال و دولت کی بدولت جنت پہنچا ہے اور تیسرا صرف مرض و بیماری کے ذریعہ جنت پہنچتا ہے جبکہ چوتھا صحت سلامتی کے ساتھ جنت پہنچ پاتا ہے تو رزق و روزی اور عمر کے تعین میں تفاوت اور اختلاف انسان کے اختیار کردہ اعما ل کے تاقابل ہے      ۔

شیخ مقداد الربیعی ، محقق و استاذ حوزہ علمیہ ۔

 

 

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018