12 ذو الحجة 1445 هـ   18 جون 2024 عيسوى 1:00 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2024-05-19   155

قضاء و قدر کی وضاحت

انیسویں صدی میلادی کے اواخر میں جب شیخ محمد عبدہ اپنے استاد شیخ جمال الدین افغانی کے ساتھ پیرس میں سکونت پذیر تھے اس وقت فرانس کے وزیر خارجہ ہانوتو نے مسلمانوں کے عقیدہ قضاء و قدر کے بارے میں طعن و تشنیع کی تو محمد عبدہ نے ان کو جواب دتے ہوے کہا تھا کہ اس عقیدہ کی تمام ادیان الہی میں جڑیں مضبوط ہیں۔

فرانسی وزیر خارجہ کے مطابق مسلمانوں کی عقب ماندگی، تنزل اور انحطاط کا سبب یہی عقیدہ قضاء و قدر ہے یعنی اللہ تعالی نے ان کے افعال اور اعمال کے متعلق سب کچھ لکھ دیا ہے اور انہیں اپنے افعال و اعمال کے معاملہ میں کوئی اختیار نہيں ہے، یہ مسلمانوں کو عمل اور کوشش کو چھوڑ کر سستی اور بے کار رہنے کی ترغیب کرتا ہے اور حقیقت حال کو بہتر بنانےکی جدوجہد اور کوشش سے دور بھاگنے کی تشویق کرتا ہے اور اس طرح مسلمانوں میں سستی اور کاہلی غالب آجاتی ہے تو عقیدہ قضاء و قدر مسلمانوں کی عقب ماندگی اور تنزلی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے ۔فرانسی وزیر خارجہ نے بعض دینی نصوص سے دلیل پیش کی جس سے یہ سمجھا جاتا ہے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا:

قُلْ لَنْ يُصيبَنا إِلاَّ ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا هُوَ مَوْلانا وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (51)؛ کہہ دیجیئے ہمیں کچھ نہيں پہنچے گا مگر جو کچھ خدا نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے وہ ہمارا مولا اور آقا ہے اور مؤمنین کو چاہیے کہ اللہ تعالی پر توکل اور بھروسہ کریں، سورہ توبہ ، آیت 51۔

 نیز اللہ تعالی نے فرمایا:

إِنَّا كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ (49)؛ ہم نے ہر چيز کو مقدار اور اندازے سے خلق فرمایا ، سورہ قمر، آیت 49۔

پس اللہ تعالی نے شروع سے سے یہ تمام چيزیں مقدر فرما دی ہیں اور انکو نوشتہ تقدیر میں لکھ دیا ہے، نیز اللہ تعالی نے فرمایا:

سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَ كانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَراً مَقْدُوراً (38)؛ پہلے گزر جانے والے لوگوں میں اللہ تعالی کی یہی سنت اور طریقہ رہا ہے اور اللہ تعالی امور کو مقدر اور معین کرنے والا ہے ، سورہ احزاب، آیت 38۔

یعنی قدر مقدور سے مراد حتمی حکم اور اٹل فیصلہ ہے اور اس کی مثالیں بہت زیادہ ہيں۔ اس طرح حدیث نبوی میں ہے :

 اللہ تعالی نے تقدیر کے فیصلے لکھ دیئے ہيں اور آدم کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے تدبیر معین کردی ہے(کتاب التوحید، باب قضاء و قدر، ح22، صفحہ 286۔)

دوسری حدیث میں منقول ہے:

اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی خلقت سے پچاس ہزال سال پہلے تقدیریں معین فرما دی ہیں، (کتاب التوحید، باب قضاء و قدر، ح22، صفحہ286۔)

اہل بیت (علیہم السلام)جو علم الہی کے خزانے دار ہيں، انہوں نے قضاء و قدر کی ایسی حقیقت بیان کی ہے جس کے بعد اس طرح کے توہمات اور شبہات کی کوئي گنجائش باقی نہيں رہ جاتی، کیونکہ نصوص دینی میں منقول قضاء و قدر کا وہ معنی اور مفہوم ہرگز نہيں ہے جس سے نظریہ جبر کو سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی انسانوں کے فاعل مختار ہونے کے عقیدہ کے خلاف کوئی بات سامنے آتی ہے، کیونکہ اس کا معنی نصوص دینی میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی جس چيز کے بارےمیں جانتا ہے کہ انسان اسے اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ انتخاب کرے گا اس کو قضاء و قدر میں لکھ دیتا ہے تو اس میں کوئی شک و شبہہ نہيں ہے کہ اللہ تعالی ان تمام چيزوں کو جانتا ہے جس کو انسان اپنی زندگی میں اپنے ارادہ و اختیار سے انتخاب کرتا ہے اور اسی چيز کو اگر اللہ تعالی نوشتہ تقدیر میں لکھ دے اور اسے قضاء و قدر کے حتمی فیصلوں میں قرار دے تو یہ انسانوں کو ان کے افعال و اعمال میں مجبور کرنے کے معنی میں نہيں ہوگا ۔

اس کی مثال یہ ہے کہ آپ اپنے بٹیے کے بارے میں یہ جانتا ہے کہ اس کے سامنے جب دو کھیل رکھا جائے تو وہ کونسا کھیل اختیار کرے گا، یہ جانتے ہوئے آپ اس کے سامنے دو کھیل رکھتے ہیں، یہ اس لڑکے کو کھیل کے انتخاب میں مجبور قرار دینے کے معنی میں نہيں ہوگا ۔پس جب اللہ تعالی جانتا ہے کہ زید اپنی زندگی میں اپنے ارادہ و اختیار سے ہند سے شادی کرنے کو انتخاب کرے گا اور وہ اس کو قضاء و قدر میں لکھ دے تو اللہ تعالی کی تقدیر اس کے علم و اگاہی سے متاخر ہے جو اس زید کے انتخاب و اختیار کے بارے میں موجود ہے۔

پس قضاء و قدر کا عقیدہ انسان کی حریت و آزادی اور اس کے اختیار و ارادہ کے عقیدہ کے خلاف نہيں ہے۔ اہل بیت عصمت و طہارت علیھم السلام سے اس کے متعلق منقول کلمات اور فرامین میں سے ایک وہ ہے جسے علامہ شیخ صدوق نے نقل کیا ہے:

ایک شخص امیر المومنین علی بن ابی طالب علیھما السلام کے صفین سے واپسی کے بعد آپ کی محفل میں کھڑا ہوا اور اس نے قضاء و قدر کے بارے مین سوال کیا تو امام علی علیہ السلام نے ایسا جواب دیا جس میں تمام دقیق نکات اور رموز و اسرار کو بیان فرمایا جو اس عقیدہ کے متعلق ہیں اور آپ نے اس کی غلط تفسیروں اور توجیہوں سے چشم پوشی فرمائی جو عقیدہ کے بارے میں بیان کی جاتی ہيں۔

 شیخ صدوق نے اس حدیث کو اپنی کتاب توحید کے باب قضاء و قدر میں نقل فرمایا ہے کہ راوی کا بیان ہے کہ ایک عراقی شخص امام امیر المومنین علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی:

ہمیں خبر دیجئے جو ہم نے اہل شام سے لڑنے کیلئے سفر کیا وہ اللہ تعالی کی قضاء و قدر کے تحت تھا ؟

امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

 ہاں اے شیخ ! خدا کی قسم! تم کسی بلندی اور ٹیلے پر نہیں چڑھے اور کسی وادی اور گھاٹی میں نہيں اترے مگر یہ سب خدا کے قضاء و قدر کے تحت تھا۔

اس عربی شیخ نے کہا: اے امیر المومنین! تو میں اپنی کوشش کو خدا کے نزدیک محفوظ شمار کروں کہ  وہ اس پر اجر و ثواب عطا فرمائے گا؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: خاموش اے عربی شیخ! شاید تیرا ظن و گمان یہ ہے کہ کوئي حتمی قضاء اور ازلی قدر تھی اگر ایسا ہوتا تو ثواب و عذاب باطل ہوجاتا اور امر و نہی اور تشویق و سرزنش ساقط ہوجاتے اور وعدہ و وعید کا معنی ہی نہ رہتا اور نافرمانوں اور معصیت کاروں کی کوئي ملامت اورسرزنش نہ کی جاتی اور نیکوکاروں اور احسان کرنے والوں کی کوئي مدح اور تعریف نہ ہوتی اور نیکوکار گناہگاروں کی نسبت ملامت اور سرزنش کے زیادہ حقدار ہوتے اور گناہگار نیکوکاروں کی نسبت احسان اور شکریہ کے زیادہ سزاوار ہوتے یہ باتیں تو بت پرستوں کے نظریات ہيں اور خدائے رحمن کے منکرین اور دشمنوں کے عقائد ہيں اور اس امت کے قدری و جبری نیز مجوسی اس قسم کی باتیں کرتے ہيں۔

پھر امیر المومنین علیہ السلام نے اس عربی شیخ کو وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

اے شیخ اللہ تعالی نے جن احکام کی ذمہ داری انسانوں کو دی ہے تو وہ ان کے ارادہ اور اختیار کے ساتھ ہوتی ہے اور جو انہيں کچھ کاموں سے منع کیا تو ساتھ ان کو ڈرایا ہے اور کم عمل کے ساتھ زیادہ اجر و ثواب کا وعدہ کیا ہے اور معصیت و نافرمانی کرنے والے اس پر غلبہ پاکر گناہ اور نافرمانی کا ارتکاب نہیں کرتے اور نہ ہی جبر و اضطرار سے اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے وہ سب باطل اور فضول پیدا نہيں کیا اور فرمایا:

 یہ ان کا ظن و گمان ہے جو کفر و انکار کرتے ہيں اور وائے ہو کافروں کیلئے کہ انہیں کا عذاب دیا جائے گا ؛ کتاب التوحید، باب قضاء و قدر، ح28، صفحہ 380۔

تو امام علی امیر المومنین علیہ السلام کے جواب سے عربی شیخ اس قدر خوش ہوا کہ اس نے آپ کی مدح و تعریف میں کچھ اشعار کہے کیونکہ آپ نے مسئلہ قضاء و قدر جیسے سنگین اور پیچیدہ مسئلہ کو حل فرما دیا اور اس کے متعلق پائي جانے والے شبہات اور توہّمات کی گنجائش نہيں چھوڑی۔

پس آپ علیہ السلام نے وضاحت فرما دی کہ قضاء و قدر کا معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے انسان پر کچھ ایسے افعال اور اعمال لکھ دیئے ہيں جو وہ اپنے وارادہ و اختیار کے بغیر انجام دے گا بلکہ اس کا معنی اور مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان پر وہ اعمال لکھ دیئے ہیں جن کے بارے میں وہ پہلے سے جانتا ہے کہ انسان انہیں اپنی زندگی میں اپنے ارادہ و اختیار سے انتخاب کرے گا

پس آیات اور روایات کی طرف رجوع کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سبب و مسبب کا نظام کا رنگ گہرا ہے جو پورے عالم تکوین و وجود میں پھیلا ہوا ہے اور انسان اور تمام موجودات اور عالم ممکنات اس قانون کے تحت گامزن ہیں اور یہی عمومی نظام  سببیت حکمت الہی کا تقاضا ہے اور اسی کے تحت یہ اس کائنات میں جاری و ساری ہے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث میں اس کا ارادہ کیا گیا ہے، امام عالی مقام علیہ السلام نے فرمایا:

(اللہ تعالی نے فقط اسباب کے تحت امور کو جاری کرنے کا ارادہ کیا ہے، پس اس نے ہر چيز کیلئے ایک سبب قرار دیا ہے)الکافی، محمد بن یعقوب کلینی، ج1 ص183، بصائر الدرجات، ص6۔

 پس ہر چيز، ہر معلوم اور ہر جدید پیدا ہونے والی شیء جب اس کے وجود کا ارادہ کیا جاتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کا خاص سبب اور علت اس سے پہلے وجود میں آئے اور ضروری ہے کہ وہ سبب بھی اپنے خاص اندازے اور معین حد تک موجود ہو تاکہ وہ اپنے معلول کے وجود کو یقین بنا دے ۔

تو قدر کا معنی یہ ہے کہ ان اسباب کی معین حد قرار دی جائے جو اپنے معلول اور مسبب کو وجود دینے میں کردار ادا کرے گی اور اس علت کے کامل ہونے کے بعد اس کا معلول یقینی ہوجائے گا اور اس کے معلول کا حصول اٹل ہوجائے گا۔ اور جدید امور کے اساسی اور اہم اسباب میں سے ایک وہ جس پر وہ موقوف ہوتے ہیں جیسے انسان کا ارادہ اور اختیار ہے تو جب انسان کسی کام کو انجام دینے کا ارادہ و اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کام کے ہونے کا فیصلہ کرتا ہے اور اپنے فیض و قدرت سے اس کو پیکر وجود عطا کرتا ہے ۔یہ نظریہ قضاء و قدر کا جوہر اور اساس ہے۔

علامہ شیخ محمد حسین کاشف الغطاء اس کے متعلق تحقیق پیش کرتے ہوئے فرماتے ہيں:

پس اللہ تعالی نے صفحہ تکوین اور کائنات کے حتمی فیصلوں میں لکھ دیا ہے یہ کوئی تشریعی اور قانونی تحریر نہيں ہے بلکہ سلسلہ اسباب و مسببات میں ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ اس کام کو انجام دے گا اور دونوں عبارتوں میں فرق دونوں حقیقتوں اور معنوں میں واضح فرق کی طرح نہایت روشن ہے اور آج تو یہ بات نہایت واضح اور بدیہی ہوچکا ہے کہ علم و آگاہی کا اپنے معلوم میں کوئي دخل اور اثر نہيں ہوتا اور معلوم اپنے اسباب و علل کے تحت وجود میں آتا ہے اس میں عالم کے علم یا جاہل کے جہل و نادانی کا کوئی دخل نہيں ہوتا؛ الدین و الاسلام، صفحہ 162۔

بلکہ انسان کا قضاء و قدر کے متعلق عقیدہ ہی اس کے اپنے خالق و مالک کی بارگاہ میں رجوع کرنے کے اساسی فرامین میں سے ہے۔کیونکہ اللہ تعالی نے انسان کو بالکل مطلق آزاد پیدا نہيں فرمایا کہ جو چاہے کرتا رہے اور جیسا چاہے کرتا رہے بلکہ وہ اپنے افعال اور اعمال کو انجام دینے میں اللہ تعالی کی طاقت و قدرت کا محتاج ہے تاکہ وہ اپنے ارادہ کی تکمیل کیلئے اپنے پرودگار کی بارگاہ میں فقیر ہے پس اللہ تعالی اس کیلئے اتنی حد تک اسباب و عوامل کو مسخر اور زیر کردیتا ہے جتنا اس کیلئے اپنے مقاصد اور منزل تک پہنچنے کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

 مَنْ كانَ يُريدُ الْعاجِلَةَ عَجَّلْنا لَهُ فيها ما نَشاءُ لِمَنْ نُريدُ ثُمَّ جَعَلْنا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاها مَذْمُوماً مَدْحُوراً (18) وَ مَنْ أَرادَ الْآخِرَةَ وَ سَعى‏ لَها سَعْيَها وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً (19) كُلاًّ نُمِدُّ هؤُلاءِ وَ هَؤُلاءِ مِنْ عَطاءِ رَبِّكَ وَ ما كانَ عَطاءُ رَبِّكَ مَحْظُوراً (20) انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنا بَعْضَهُمْ عَلى‏ بَعْضٍ وَ لَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجاتٍ وَ أَكْبَرُ تَفْضيلاً (21) جو شخص دنیا کی زندگی کا خواہاں ہوتا ہے ہم اسے دنیا میں ہی جس کیلئے جتنا چاہتے ہیں دیتے ہيں اور پھر اس کیلئے جہنم قرار دی جس میں وہ مذمت اور لعنت کے ساتھ ڈالا جائے گا اور جو آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اور وہ ایمان کی حالت میں اس کیلئے کوشش کرتا ہے تو ان کی کوشش کا شکریہ ادا کیا جائے گا اور ہم ہر ایک کو مدد دیتےہيں چاہے پہلی قسم کے لوگ ہوں یا دوسری قسم کے لوگ ہوں انہيں تیرے پروردگار کی عطا سے دیا جاتا ہے اور تیرے رب کی عطا اور کرم ممنوع نہيں ہے دیکھیں ہم نے کیسے بعض کو دوسروں کو فضیلت دی ہے اور آخرت کے درجات اور فضیلت اس سے کہيں بڑے ہیں؛ سورہ اسراء، آیات 18-21۔

پس اللہ تعالی جن کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ دنیا کو چاہتے ہیں تو ان کیلئے ایسے حالات سازگار بنا دیتا ہے اسی طرح جس کے بارے میں اسے علم و یقین ہوتا ہے کہ یہ آخرت کا مکمل ارادہ کر چکا ہے تو اللہ تعالی کی قضاء و قدر انسان کے ارادہ و اختیار کے تابع ہے نہ ویسا جو فرانسوی وزیر خارجہ ہانوٹو نے وہم و گمان  کیا ہے ۔

شیخ مقداد ربیعی: محقق و استاد حوزہ علمیہ

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018