12 ذو الحجة 1445 هـ   18 جون 2024 عيسوى 12:34 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2024-05-19   313

کیا مسلمانوں نے لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ؟

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان کا دین مکمل طور پر برحق ہے، باقی ادیان یا توا سلام کے آنے اور ان ادیان کو نسخ کرنے سے پہلے ہی وہ تحریف کا شکار ہوچکے تھے اور ان میں بہت سی تبدیلیاں لائی جا چکی تھیں اور پھر اسلام آنے کے بعد وہ دین نسخ بھی ہوگئے یا پھر وہ حقیقت میں کوئی دین ہی نہ تھا بلکہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے ان کو دین سمجھتے تھے. اسی لئے مسلمان ان اقوام و ملل کو کہ جن سے ان کا واسطہ پڑتا تھا ،جہالت وگمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم و معرفت کی روشنی کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس سلسلے میں وہ بہترین دلائل ، اچھا اخلاق کو ذریعہ بنا کر آسان طریقے سے دین پہنچاتے ہیں کہ جسے فطرت سلیم قبول کرے اور عقل کو اسے تسلیم کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو ۔ جبکہ اس راہ میں مسلمانوں کی روش پوری تاریخ میں )لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ( یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے ، کے مسلمہ اصول پر قائم ہے۔

خربوطلی نے اپنی کتاب (نظرات فی تاریخ الاسلام) میں مستشرق دوزی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: "اھل ذمہ کے ساتھ مسلمانوں کا اچھا سلوک اور حسن عمل اس بات کا موجب بنا کہ بہت سے اھل ذمہ نے اسلام قبول کیا ،کیونکہ انہیں اسلام میں ایسی آسانی اور سادگی نظر آتی تھی کہ جس سے وہ اپنے سابقہ مذھب میں آشنا نہ تھے"). الإسلام وأهل الذمة، ص111.   (

گوستاف لوبون اپنی کتاب (حضارة العرب)میں یوں لکھتے ہیں کہ: "دنیا میں قرآن کی تعلیمات کی پھیلنے کی وجہ طاقت نہیں تھی ،کیونکہ عربوں نے اپنی مفتوحہ اقوام کو اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں آزاد رکھا تھا پھر بعض نصرانی قبیلوں نے اسلام کیوں قبول کیا،اور عربی کو اپنی زبان کیوں بنائی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عرب عدل کے حوالے سے اس قدر معروف تھے کہ ان کی مثال دی جاتی تھی اور پھر اسلام پر عمل کرنے کے اعتبار سے اتنا آسان دین ہے کہ اس کی مثال باقی ادیان میں نہیں ملتی"  حضارة العرب، ص127.

مسلمان یقینا یہ جاننتے ہیں کہ پوری دنیا کے ہر انسان کو ہدایت دینا ممکن نہیں ہے ،اور لوگوں کی غالب اکثریت ایمان نہ لانے والوں کی ہے ،اسی لئے اسلامی مبلغین پر واجب ہے کہ وہ اپنی تبلیغ اور لوگوں کی ہدایت کا سلسلہ جاری رکھے ، ان کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے جو لوگ حق کے راستے پر نہیں آتے ان کا معاملہ آخرت کے دن خدا کے ہاتھ میں ہوگا جس طرح قرآن مجید نے واضح طور پر بیان فرمایا:  (وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ)  النحل: 82

یہی وجہ ہے کہ مسلمان جس شخص کو تبلیغ دین کرتا ہے اس سے کسی قسم کی لڑائی یا سختی کا احساس نہیں رکھتا، کیونکہ خدا نے ہدایت دینے کی مسؤلیت سے اسے آزاد رکھا اور یہ فرمایا ہے کہ ہدایت دینے کا کام صرف خدا کے ہاتھ میں ہے کہ جسے وہ چاہے ہدایت عطا کرے۔ خدا نے انسان کو حق و باطل میں تمیز کی صلاحیت سے نوازا ہے اور پھر انسان کو اپنی مرضی سے بغیر کسی جبر و اکراہ کے کوئی بھی عقیدہ اختیار کرنے میں آزاد رکھا ، جیسا کہ ارشاد ہوا:

(لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ) دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں، بتحقیق ہدایت اور ضلالت میں فرق نمایاں ہو چکا ہے، البقرة: 256، اسی طرح فرمایا :

(وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ) اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام اہل زمین ایمان لے آتے، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر سکتے ہیں؟، يونس: 99.

واقعا مسلمانوں نے کسی کو بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، ایمان ایک خالص قلبی عمل ہے لہذا جسے مجبور کرکے اسلام کا اظہار کرایا گیا ہو وہ حقیقتا مسلمان نہیں ہے ۔ اسلام نے اپنی تعلیمات میں عبادت گاہوں کا تحفظ اور اوردینی تعلیمات پر عمل کےلئے انسانی آزادی جیسے اقدار کے بارے میں بہت زور دیا ہے ۔

اسلام نے اپنے ماتحت آنے والے دیگر ادان کے پیرو کاروں کو اسلام میں داخل ہونے پر کبھی مجبور نہیں کیا ۔ بلکہ لوگوں کو ان کے عقیدوں پر چھوڑا گیا ،ان کو اپنے دینی اعمال و عبادات انجام دینے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی گئی اور ان کے عبادت خانوں کے تحٖفظ کو یقینی بنانے کا اہتمام کیا گیا ۔

ہمارے پاس اس کی کئی مثالیں ہیں کہ مسلمانوں نے کافر ذمی قرار پانے والوں کے ساتھ ان امور پر معاہدے تحریر کر دئیے ، مثلا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اھل نجران کو یہ تحریر عطا فرمائی کہ :اھل نجران کو امان نامہ عطا کیاہے، جو کہ ان کے کی عبادت گاہوں کی حفاظت اور عبادات میں عدم تدخل کو شامل تھا ،اس پر پھر خدا اور رسول خدا کی ضمانت دی گئی۔ (الطبقات الكبرى لابن سعد، ج1، ص266، وكتاب الأموال ابن زنجويه، ج2، ص449)

یہاں ہم مشہور مسیحی مؤرخین کی اسلام کی عظمت کے بارے میں رائے کا ذکر کریں گے ، دیگر ادیان کے ساتھ اسلام کی حسن سلوک کا ذکر کریں گے ، جن کی مثال آج کی دنیا میں بھی میسر نہیں ہے

وول ڈیورانٹ لکھتے ہیں کہ :"اھل ذمہ مسیحیوں ، زردشتیوں ، یہودیوں اور صابئیوں کو اسلامی حکومت میں ایسی آسانی میسر تھی کہ جس کی نظیر ہم آج کے مسیحی حکومتوں میں بھی نہیں پاتے ۔وہ اپنے دینے فرائض کی انجام دہی اور اپنے کلیساؤں اور دیگرعبادت گاہوں کی حفاظت میں مکمل آزاد تھے " (قصة الحضارة، ج12، ص131)

دوسری جگہ وہ لکھتے ہیں: "مشرق وسطی میں یہودیوں نے مسلمانوں کو خوش آمدید کہا تھا کہ جنہوں نے انہیں اپنے سابقہ ظالم حکمرانوں سے نجات دلائی تھے۔ اور پھر وہ پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے ۔ اسی طرح مسیحیوں کو بھی اپنے ایام عید وغیرہ کھلم کھلا منانے کی اجازت تھی ۔ فلسطیں میں مقدس مقامات کی زیارت کے لئے مسیحی مختلف جگہوں سے جوق در جوق آتے تھے، وہ مسیحی جنہوں بازنطینیہ کے کلیسا سے بغاوت کی تھی جو کہ قسطنطنیہ ،یروشلم اسکندریہ اور انطاکیہ کے کلیسا کی جانب سے طرح طرح کی مظالم کا شکار تھے ،وہ اب مسلمانوں کی سلطنت میں آزاد شہری قرار پائے تھے ".( نفس المصدر، ص132)

مسلمانوں نے خوش اسلوبی کے ساتھ دعوت دینے اور علمی انداز میں گفتگو کے علاوہ دیگر ادیان کے پیروکاروں کو اسلام قبول کرنے پر کبھی مجبور نہیں کیا

تھومس آرنلڈ لکھتے ہیں: ا'ہم نے کبھی کوئی ایسی کوشش نہیں دیکھی کہ جس میں باضابطہ طور پر کسی غیر مسلم کو مسلمان کرنے کوشش کی ہو، یا پھر کسی مسیحی کو دین مسیحیت چھوڑنے کے لئے ظلم کا نشانہ بنانے بارے میں سنا ہو " (الدعوة الى الإسلام، ص99)

روبرٹ سن کا کہنا ہےکہ : "صرف مسلمان ہی وہ ملت ہے کہ جن کے اندر اپنے دین کے بارے میں غیرت بھی ہے جبکہ دیگر ادیان کے ماننے والوں کے لئے درگزر کا احساس بھی ،مسلمان اس کے باوجود کہ وہ اپنے دین کی تبلیغ میں نہایت شوق کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر جو اسلام کو قبول نہ کرنا چاہے اور اپنے پسندیدہ دین پر عمل کرنے کی آزادی بھی دیتا ہے".( صفحة 128، كتاب حضارة العرب،  گوستاف لوبون )

اسی طرح راھب میشود کی کتاب (رحلۃ دینیۃ الی الشرق) میں صفحہ 29 پر یہ بات نقل کی ہے  : "افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسیحی اقوام کو درگزر کا درس مسلمانوں سے لینے کی ضرورت ہے ،جو کہ احسان کی نشانی اور اقوام و امم کے عقائد کا احترام اور ان پر کسی قسم کے عقیدے کو جبرا مسلط نہ کرنا ہے "

مسلمانوں نے نہ صرف دیگر ملتوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبورنہیں کیا بلکہ ان کو اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرنے میں دست تعاون بھی بڑھایا جس کی گواہی ٹرٹون نے اپنی کتاب )اھل الذمہ فی الاسلام) میں دی ہے: "اللہ رب العالمین نے عربوں کو دنیا پر حکمرانی عطا کی ہے تو ان عربوں کا ہمارے ساتھ سلوک کے بارے میں آپ سب جانتے ہیں ، وہ نصرانیت کے دشمن نہیں ہیں، بلکہ وہ ہماری قوم کی تعریف کرتے ہیں  ہمارے پادریوں کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے کلیسا اور دیر کی تعمیر میں ہماری مد کرتے ہیں" (أهل الذمة في الإسلام، ص159)

یہی بات در اصل مسلمانوں کے حق میں بہت اچھی بھی ثابت ہوئی ، بہت سی اقوام نے ان کا استقبال کیا، وہ مسلمانوں کی فتح کی صورت میں اپنے دین کو چھڑنے پر مجبور ہونے کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے، سپینش مفکر بلاسکوابانیر اپنی کتاب (ضلال الكنيسة)، ص64،پرمسلمانوں کے ہاتھوں فتح اندلسٓ کے بارے میں یوں رقم طراز ہے :"براعظم افریقہ سے آنے والے ان لوگوں کا اسپین نے بہترین استقبال کیا ،بغیر کسی مزاحمت یا دشمنی کے انہوں نے شہروں اور گاؤں کے معاملات کا اختیار ان کے ہاتھوں میں دیا ،جونہی کوئی عرب لشکر قریب آجاتا علاقے کے دروازے ان پر کھول دئے جاتے اور ان کو خوش آمدید کہا جاتا یہ لوگوں کو اسلامی تمدن سے روشناس کرانے کی جنگ کی فتح اور سزا دینے کی نہیں۔ ان قوموں نے اس سے زیادہ خوبصورت تہذیب کبھی نہیں دیکھی تھی جس میں ہر ایک کو اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل تھا ،اور یہی چیز در اصل قوموں کی حقیقی عظمت کا ستون ہے ،مسلمانوں نے اپنے زیر قبضہ شہروں میں مسیحیوں کے کلیسا اور یہودیوں کے عبادت گاہوں کو قبول کیا ، مسجد نے اپنے سے پہلے موجود دیگر ادیان کی عبادت گاہوں سے خوف نہیں کھایا اس لئے ان کو رہنے کا حق دیا، ان کی حمایت کی، نہ ان سے حسد کیا اور نہ ہی ان پر حکمرانی میں دلچسپی دکھائی. (فن الحكم في الإسلام، مصطفى أبو زيد فهمي، ص387)

انگریز مؤرخ سر تھامس ارنولڈ لکھتے ہیں : "پہلی صدی ہجری ہی سے مسلمان فاتحین نے عرب مسیحیوں کے ساتھ نہایت درگزر اور حسن سلوک سے کام لیا ، پھر یہی بہترین سلوک بعد کے زمانوں میں بھی جاری رہا، ،ہم پوری دیانتداری کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب مسیحیوں نے اسلام قبول کیا انہوں نے اپنی مرضی اور ارادے سے ایسا کیا آج کے زمانے میں جو عرب مسیحی ان ملکوں میں رہ رہے ہیں وہ ہماری اس بات پر بہترین دلیل ہے ۔.( الدعوة الى الإسلام، ص51)

مستشرقہ زیغرید ھونکہ کہتی ہے کہ : "عرب فاتحین نے اپنی مغلوب قومومں کو اسلام قبول کرنے پر کبھی مجبور نہیں کیا ۔اسلام سے پہلے جو مسیحی ، یہودی اور زردشتی بدترین مظالم کا شکار تھے ،اور ہولناک دینی تعصب کا شکار تھے ،اسلام نے ان سب کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اپنے دینی فرئض ادا کرنے کی جازت دے دی۔ مسلمانوں نے دیگر مذاھب کے عبادت خانوں کلیساؤں ، دہیروں، اسی طرح کاہنوں اور احبار کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا ۔ کیا یہ برداشت اور احترام کی انتہا نہیں ہے؟ کیا تاریخ نے ہمیں کہیں اور اس کی کوئی مثال نقل کی ہے؟ اگر ہے تو کب اور کون ؟" (شمس العرب تستطع على الغرب، ص364)

اسپین سے تعلق رکھنے والے مؤرخ اولاغی لکھتے ہیں: "نوی صدی کے پہلے نصف میں مسیحی اقلیت پوری آزادی کے ساتھ قرطبہ میں رہتی اور مکمل آزادنہ طور پر اپنی عبادات انجام دیتی تھی " (سعد بوفلاقة، ص14)

مسیحی قس ایلوج کہتے ہیں : (جہاں تک ہمارے عقائد کا تعلق ہے ہم ان مسلمانوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور ان کی طرف سے کسی قسم کی کوئی سختی یاتنگی کا شاکر نہیں ہیں). (نفس المصدر)

مغربی مؤرخین ہماری تاریخ کے بعض تاریک پہلؤں کو تعجب کے ساتھ نقل کیا ہے۔ لیکن بہر حال وہ اسلام کو بدنام کرنے والوں کی باتوں سے بالکل متضاد ہیں، زیغرد کہتی ہے کہ : "مسلمانوں نے مغلوب اقوام کے اوپر قبول اسلام کو مشکل بنا دیا تھا تاکہ غیر مسلموں سے حاصل ہونے والے مالی مفادات کم نہ ہوں ، جو غیر مسلموں سے وہ ٹیکس وغیرہ کی شکل میں وصول کرتے تھے " (شمس العرب تستطع على الغرب، ص365.)

ویل دیورانٹ خلیفہ عمر بن عند العزیز کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "ان کے آباء واجداد جو کہ بنی امیہ سے تھے، وہ اپنی سلطنت میں غیر مسلم لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی طرف ترغیب نہیں دلایا کرتے تھے ، تاکہ ان پر لگائے گئے مختلف قسم کے ٹیکسزمیں کمی نہ آئے لیکن عمر بن عبد العزیز نے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کیا جن میں مسیحی ، یہودی اور زرتشتی شامل ہیں ، جب اس کے خزانہ کے مسؤلین نے ان سے کہا کہ اس طرح تو آپ کا خزانہ خالی ہو جائے گا، تو عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا : خدا کی قسم میری خواہش ہے کہ تمام لوگ اسلام قبول کرے اور پھر ہم سب کھیتی باڑی کرنے والے بن جائیں اور اپنے ہاتھوں کی کمائی کھائیں ". (قصة الحضارة)

تھامس آرنلڈ ہمیں بتاتے ہیں کہ ::عثمان کے زمانے میں مصر کا خراج 12 ملین دینار تھا ، معاویہ کے دور میں کم ہو کر 5 ملین پر پہنچا اسی طرح خراسان کا بھی  یہی مسلہ ہتھا، اسی وجہ سے بعض حکمرانوں نے اھل ذمہ میں سے اسلام قبول کرنے والے لوگوں کا خراج معاف نہیں  کیا، اسی وجہ سے عمر بن عبد العزیز نے خراسان میں اپنے گورنرجراح بن عبد اللہ الھکمی کو معزول کر دیا تھا ،اور اس کو لکھا تھا کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہادی بنا کر بھیجا ہے لوگوں سے مال لینےوالا بنا کر نہیں بھیجا. (طبقات ابن سعد، ج5، ص283، اور الدعوة الى الإسلام، لأرنولد، ص93)

اگر  صورحال یہ تھی کہ جیسا بیان ہوا تو پھر مختلف قبیلوں کا قبول اسلام کی وجہ کیا تھی؟

کہا جاتا ہے : " عرب فاتحین کے عفو و درگزر اور احترام انسانیت کے جذبات وہ اہم چیز تھی کہ جس سے مؤرخین اکثر لا علم تھے جبکہ یہی عفو در گزر ہی اسلام کے تیزی سے پھیلنے اور لوگوں کا اس دین سے زیادہ سے زیادہ متاثر ہونے کی وجہ بنی تھی ، حق یہ ہے کہ اقوام عالم نے مسلمان فاتحین سے زیادہ درگزر کرنے والے نہیں دیکھے ۔ اور نہ ہی اسلام سے زیادہ درگزر کرنے والا کوئی دین دیکھا ہے ". (حضارة العرب، ص605.)

ویل دیورانٹ اس کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : "اسی چشم پوشی اور در گزر کی پالیسی کو شروع کے مسلمانوں نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا،اور اسی پالیسی کی وجہ سے بہت سے مسیحیوں ، تمام زردشتیوں اور ایک قلیل تعداد کے علاوہ تمام بت پرستوں نے اس جدید دین کو قبول کیا ۔ اسلام نے لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کیا جو کہ چین سے لے کر انڈونیشیا اور مراکش و اندلس تک پھیلے ہوئے تھے،اسلام ان کے خیالوں مین بستا اور اخلاق پر حاکم تھا ،ان کی زندگیوں کو بہتر کرتا اوران میں امید کی کرن پیدا کرتا جس سے ان کی زندگی کی تھکن دور ہو جاتی ".( قصة الحضارة، ج13، ص133)

رابرٹسن اپنی کتاب (تاريخ شارلكن)میں لکھتے ہیں : "لیکن ہمیں اسلام کے کسی خاص دینی طبقے کا علم نہیں ہے ، نہ لشکروں کے پیچھے خصوصی تبلیغی گروہ آتے تھے نہ فتح کے بعد اس علاقوں میں رہبانیت کا پرچار کرتے تھے ،نہ تلوار و زبان سے کسی کو مجبور کرتے تھے بلکہ لوگ اپنے شوق اور عشق کے ساتھ اس دین میں داخل ہو جاتے تھے ، اس کی وجہ قرآن میں موجود بہترین حکمت علمی اور اسلوب تعامل تھا ".( روح الدين، عفيف طبارة، ص412)

آدم متز کہتے ہیں "چونکہ شریعت اسلامی مسلمانوں کے ساتھ خاص تھی اس لئے اسلامی حکومت نے دیگر اقوام و ملل کو ان کے اپنے خاص عدالتوں کے اوپر ، اور ان عدالتوں کے حوالے سے جو ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ کلیسا کی عدالتیں تھیں ،ان عدالوں کے قاضی مسیحی علماء ہوتے تھے ۔ ان لوگوں نے بہت سی قانونی کتابیں لکھیں ، ان میں صرف زواج کے مسائل بیان نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ میراث ،اور مسیحیوں کے آپسی وہ معمالات کہ جن کا حکومت کا کائی تعلق نہیں وہ بھی ان کتابوں میں درج کئے گئے ہیں" ( الحضارة الإسلامية في القرن الرابع الهجري، ج2، ص93.)

وہ مزید لکھتے ہیں : "اندلس میں ہمیں باوثوق زرائع سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں نصاری اپنے آپس کے تنازعات کو اپنے درمیان ہی حل کر لیتے تھے اور کہیں شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا کہ مسئلہ قاضی کے پاس پہنچ جائے ".) نفس المصدر، ج2، ص95.)

شیخ مقداد الربیعی: محقق و استاد حوزہ علمیہ


جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018