12 ذو الحجة 1445 هـ   18 جون 2024 عيسوى 1:25 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2024-05-19   48

کیا قرآنی انبیاء کے وجود کااثبات آثار قدیمہ پر موقوف ہے؟

آثار قدیمہ کے علم نے بڑی ترقی کر لی ہے۔انسان نے اس میں ایسی مہارت پیدا کر لی ہے کہ سائنسی طور پر دستاویزات کا معائنہ کیا جاتا ہے اور بڑی دقت سے ان دستاویزات کی تاریخ ،مولف،عصر اور مقام کو معلوم کر لیا جاتا ہے۔اس علم کی وجہ سے ہی کتاب مقدس کی وثاقت میں شک پیدا کیا گیا ہے۔یہ اس لیے بھی پیدا ہوا کیونکہ زیادہ ترمغربی تعلیمی ادارے عقلی اور منطقی سوچ سے وابستہ ہو گئے اور عقلی و منطقی دماغ صرف حسی دلیلوں کو مانتا ہے۔بیسویں صدی میں امریکی ماہر آثار قدیمہ ولیم فاکس ویل البرائٹ اور ان کے طلباء کا تاریخی تحقیق میں ایک مکتب فکر قائم ہوا جس نے تاریخی حقائق کو پرکھنے کے لیے سائنس کو غلبہ دیا۔جو لوگ  کتاب مقدس کے متن اور اس کے تاریخی واقعات پر یقین رکھتے تھے۔ان کے لیے سائنس کی بنیاد پر ان واقعات کی تحقیق کا نیا رجحان پیدا ہوا بالخصوص جو مذہبی متون کی حیثیت کو نہیں مانتے تھے اور کہتے ہیں ان کے وجود پر آثار قدیمہ کے ثبو ت نہیں ہیں یوں یہ نیا سکول آف تھاٹ معرض وجود میں آیا جسے مدرسہ ابتدائیہ کا نام دیا گیا۔

اس بحث کا آغاز پچھلی صدی کی ساتویں دہائی میں اس وقت ہوا جب دو امریکی مصنفین کی دوکتب منظر عام پر آئیں۔ پہلی کتاب تاريخية روايات الآباء: البحث عن إبراهيم التاريخي جسے لٹوماس تھامسن نے لکھا تھا،دوسری کتاب إبراهيم في التاريخ والتراث ہے جسے جو فان سیٹرز نے لکھا تھا۔اس میں ان دونوں کی تحقیق البرائٹین کے کلاسیکل نظریہ کے خلاف تھی۔ان کتب میں محققین نے بائبل کے متن پر چھٹی اور ساتویں صدی کے اثرات موجود ہیں۔اسی وجہ سے یہاں سے ایک نیا سکول آف تھاٹ بنا جسے مدرسۃ اابتدائیہ کا نام دیا جاتا ہے۔

دونوں کتابوں کے عنوان پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ایک نئی تحریک کا آغاز تھا جس کی یہ نمائندگی کر رہی ہیں۔ کتاب مقدس میں مذکور بعض انبیاءؑ کے وجود کے مسئلے کو مورد تحقیق قرار دے کر ان کے ہونے نہ ہونے پر تحقیق کی جا رہی ہے۔در اصل یہ بحث اس انداز میں شروع کر کے کتاب مقدس اور مذہبی متن میں مذکور انبیاءؑ کے بارے میں تشکیک پیدا کی گئی ہے۔یہ ولیم فاکس ویل البرائٹ سکول آف تھاٹ کےزوال کا نتیجہ ہے۔اس سے مغربی فلسفے میں ایک نئے رجحان نے جنم لیا،اس رجحان میں منطق اور مثبت پسندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس رجحان میں سب کچھ مادی دلیل اور مادی شواہد ہی ہیں۔ نیا نقطہ نظر مذہبی علوم کی دنیا میں تیزی سے پھیل گیا۔ان کے نزدیک بائبل کی کتابوں کی کہانیاں محض ایک یہودی پروپیگنڈہ بن کر رہ گئی ہیں جن کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہے۔

کچھ عرب مصنفین نے بھی اس سکول آٖ ف تھاٹ کی پیروی کی کوشش کی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ان عرب  مصنفین نے کوئی زمینی تحقیق نہیں کی، ممکن ہے وہ کسی آثار قدیمہ کی  سائٹ پر ہی نہ گئے ہوں۔اصل میں انہوں نےصرف مغربی مفکرین کی اندھی پیروی کی ہے اور انہوں نے اصل موضوع کو دیکھا ہی نہیں ہے جس کی بنیاد پر  مغربی محققین نے البرائٹ کا نظریہ اختیار کیا اور  تھامسن کے نقطہ نظر کو ترک کر دیا۔یہ بنیاد بائبل مقدس میں  یقینی تحریف کا ہونا ہے جبکہ قرآن میں اس طرح کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے۔جب قرآن میں کوئی تحریف نہیں ہے تو قرآن کی شخصیات کے بارے میں  کوئی شک بھی نہیں ہوگا۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ صرف چند مستشرقین کی کتب سے ان کی باتوں کو لیتے ہیں یا ماہرین آثار قدیمہ جو دیگر ذرائع کے مقابلے میں آثار قدیمہ پر ہی انحصار کرتے ہیں ان کی باتوں کو ہی حرف آخر سمجھ لیتے ہیں۔ان میں سے ایک بڑا نام بیسویں صدی میں آنے والے محقق طہ حسین صاحب کا ہے جن کی یہ بات بہت مشہور ہوئی ،وہ لکھتے ہیں:تورات ابراہمؑ اور اسماعیلؑ کی بات کرتی ہے،اسی طرح قرآن بھی ان کی بات کرتا ہے۔تورات اور قرآن کے ان دونوں کے بارے میں بات کرنے سے ان کا وجود ثابت نہیں ہو جاتا۔چہ جائے کہ ہم اس پورے قصے کی تصدیق کریں جس میں حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ مکہ ہجرت کی اور یہیں سے مستعربہ کا ظہور ہوا۔ہم اس پورے واقعے میں مسلمانوں اور یہودیوں اسی طرح عربوں اور یہودیوں کے درمیان کسی تعلق کی تلاش میں ہیں۔وہ بہترین وقت جب اس تعلق کو ڈھونڈنے کی زیادہ ضرورت تھی وہ تھا جب یہودیوں نے عربوں کے شمال میں آباد ہونا شروع کیا اور وہاں بستیاں بنائیں۔ (في الشعر الجاهلي، ص29)

طہ حسین کی پوری بات جان لینے کے بعد کیا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ قرآن اور تورات  انبیاءؑ کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟اگر آپ تورات کی بات کو قبول نہیں کر رہے ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تورات میں تحریف ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ کافی کھلواڑ ہوتے رہے ہیں تو پھر آپ کا قرآن کے بارے میں کیا خیال ہے؟اس میں کسی قسم کی تحریف اور کھلواڑ نہیں ہوا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا)، الأسراء: 72

۷۲۔ اور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ (اندھے سے بھی) زیادہ گمراہ ہو گا۔

مسلمان مفکرین آثار قدیمہ اور کتابیات کی بحث میں حصہ لینے سے ہچکچاتے رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے عرب ملحدین اور مذہب مخالف مصنفین کو غلط فہمیاں پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور تاریخی واقعات میں الجھا دیتے ہیں۔اس سے ان چھوٹی فکر کے لوگوں کو معاشرے میں برا اثر ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔ جیسے کہ شامی مصنف فراس السواہ کی تحریریں ہیں ،اس کی تحقیق کا ملاحظہ کریں تو یہ انتہا پسند لکھاری تھامس کے مقالے کو ہی عربی میں ڈھالتا ہے۔تھامسن کے اثر کو ہم اس تحریر کے ذریعے واضح انداز میں محسوس کریں گے: آثار قدیمہ کے نئے  نظریہ کے حامی بائبل کی داستان کی تاریخی ساکھ کو بچانا چاہتے تھے۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ اصل بات کو تو ثابت کریں مگر اس کی تمام تفصیلات کو مشکوک کر دیں۔اس کے نتائج نے ہمیشہ کے لیے قصہ ہی ختم کر دیا اور اس سے ہمیں بہت سا مواد لکھنے کے لیے مل گیا جس کی روشنی میں فلسطین کےپہلے اور دوسرے دور کی تاریخ سامنے آئی۔اس سے اس بات کا بھی آغاز ہوا کہ تورات سے ہٹ کر بنی اسرائیل پر تحقیق کی جائے۔اسی پر محقق تھامس ایل تھامسن نے 1992 میں اپنی کتاب (The Early History of the Israelite People) میں بحث کی ہے۔ (آرام دمشق، ص176)

عراقی مصنف خزال المجیدی نے تورات اور آثار قدیمہ پر کم ہی لکھا ہے انہوں نے اپنی کتاب (The Ancient History of Jerusalem) اس پر کچھ روشنی ڈالی ہے اس میں بھی اس نے تھامسن کے مقالے کا حوالہ دیا ہے۔ہم اس کا تنقیدی مطالعہ کریں گے کیونکہ اس نے بھی یہ شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن انبیاءؑ کا مقدس کتابوں میں ذکر ہے ان کا آثار قدیمہ سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

المجیدی نے کہا:قدیم ترین تہذیبیں جن کے بارے میں گماں کیا جاتا ہے کہ انبیاءؑ ان تہذیبوں میں آئے تھے جیسے سمیرین اور اکادیان اور ان جیسی دیگر تہذیبیں ،ان تہذیبوں کی تمام معلومات بڑی دقت کے ساتھ موجود ہیں کہ ان میں انسانی زندگی کیسی تھی؟ان کی جنگیں اور کھانے کیسے تھے؟یہ سب موجود ہے مگر ان تہذیبوں میں آنے والے انبیاءؑ کے حوالے سے ان تہذیبوں سےآنے والی اطلات خاموش ہیں۔ان معلومات کا نہ ہونے یہ بتاتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے وہم  و گماں سےقصے تراش لیے  اور بنی اسرائیل نے اس میراث کو دیگر اقوام سے چوری کر کے لے لیا۔

علم آثار قدیمہ اور مقدس کتابوں میں مذکور تاریخی واقعات پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم پہلے دو اور پہلووں سے اس مسئلہ کا جائزہ لے لیں:سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ آثار قدیمہ کے آرکائیو کتنے بڑے ہیں اور کتنی مقدار میں آثار قدیمہ کو محفوظ کیا گیا ہے۔اس سے ہمیں معلوم ہو گا کہ ان آثار قدیمہ سے ہم کس حد تک حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ علم آثار قدیمہ کا مقام کیا ہے اور یہ فلسفہ اور نظریات پر یہ کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟

پہلے نقطے کو ذرا تفصیل سے بیان کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ علم آثار قدیمہ ان عمارتوں اور آثار پر چلتا ہے جن کا بڑا حصہ مرور زمانہ کے ساتھ گر کر تباہ ہو چکا ہے۔جو حصہ باقی بچا ہے اس پر اپنے علم و تحقیق کی بنیاد نہیں رکھ سکتے کیونکہ نامکمل معلومات سے بعض اوقات  غلط نتائج نکلتے ہیں۔آثار قدیمہ کے ماہرین کی اپنی رائےیہ ہے کہ جو کچھ بھی ملا ہے وہ سب ملا کر بھی گزری نسلوں کا محض پانچ فیصد علم ہی ہوتا ہے۔دوسری یہ بات بھی ہے کہ جو کچھ مل گیا ہے اس کا بھی مکمل تجزیہ اور مطالعہ نہیں کیا گیا۔صرف ماری/تل ہریری پچیس ہزار مٹی کے نوادرات دریافت ہوئے ہیں اب تک جو منظر عام پر آئے ہیں ان کی تعداد محض چند ہزار ہی ہے۔ برٹش میوزیم کے ایک نگران کا کہنا ہے کہ 150,000 مٹی کی الواح میں سے صرف ایک تہائی کو محفوظ کیا گیا ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہر نداف نعمان نے اپنے مضمون میں اس پر توجہ دی: (کیا آثار قدیمہ واقعی سپریم کورٹ کی حیثیت کا حامل ہے؟) نعمان نے ملنے والے شہری آثار کی بنیاد پر جو نتائج اخذ کیے ہیں ان کے درمیان اور تاریخی شہادتوں کے درمیان تضاد ہو جاتا ہے۔نعمان نے اس کی کئی مثالیں دی ہیں جہاں آثار قدیمہ کچھ اور کہہ رہا ہے اور یقینی  تاریخی گواہیاں کچھ اورکہہ رہی ہیں۔آرکیالوجی کی دلیلوں میں بہت مسائل موجود ہیں جنہیں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔یروشلم  کا قدیم شہر جسے تحقیق کے نام پر برباد کر دیا گیا۔یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب کوئی نئی چیز یہاں سے دریاف نہیں ہو گی ،اس کے برعکس دو ہزار بیس میں وہاں ایک قدیم انتظامی احاطہ دریافت ہوا۔

جنوب مشرقی ایشیا میں ایک بہت بڑی سلطنت تھی جس کے بارے میں کسی آثار قدیمہ نے کچھ دریاف نہیں کیا۔پھر اس کے بارے میں چینی ماہرین نے پرانا ریکارڈ دریافت کر لیا کہ ایسی ریاست موجود تھی۔دوہزار تئیس میں اس سلطنت کے آثار ملنا شروع ہو گئے۔

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم آثار قدیمہ کی بنیاد پر کسی دعوی کو قطعی اور یقینی قراردینا اور اس کے نتائج کو آرکیالوجی کی روشنی میں حتمی سمجھنا درست نہیں ہے۔ علم آثار قدیمہ اس بات سے عاجز ہے جیسے وہ پوری کی پوری سلطنت کو دریافت نہیں کر پائے تو وہ ایک تہذیب میں موجود انبیاء ؑ کو ثابت کرنے سے بطریق اولی قاصر ہیں۔

کسی بھی قوم کے بارے میں آگاہی کے لیے بہت بڑے علاقے اور بہت بڑے وقت کو بڑی تفصیل سے دیکھنا پڑتا ہے اس میں ایک بڑے جغرافیے کو دیکھنا ہوتا ہے جس علاقے میں یہ قوم پائے جاتی تھی۔یہ بات پیش نظر رہے کہ زمانہ ہزاروں سالوں پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ صرف چند مقبروں میں کچھ ممیوں، برتنوں، جانوروں کی ہڈیوں اور خوراک کی دریافت فقط یہ ثابت کرتی ہے کہ ان لوگوں نے قبر کے لیے دنیا سے ہی رزق کو ساتھ رکھا۔ان دریافتوں سے باقی تفاصیل کا علم نہیں ہوتا۔

یہاں یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جب بادشاہوں کی یہ صورتحال ہے تو نبوت کے آثار کی تفاصیل کیسے معلوم ہو سکتی ہیں؟ کیونکہ وہ ایسا گروہ جن کے ماننے والوں کی تعداد کم تھی۔اسی طرح انبیاءؑ کے پاس بڑے بڑے منصب،اثر و رسوخ اور سیاسی جاہ و جلال  بہت کم ہی آیا۔ان اقوام نے انبیاءؑ کی بات نہیں مانی اور انہیں جھٹلایا گیا۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ)، هود 17

یقینا یہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ)، الأعراف 101

۱۰۱۔ یہ وہ بستیاں ہیں جن کے حالات ہم آپ کو سنا رہے ہیں اور ان کے پیغمبر واضح دلائل لے کر ان کے پاس آئے لیکن جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے وہ اس پر ایمان لانے کے لیے آمادہ نہ تھے، اللہ اس طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

انبیاءؑ کی امتیں انہیں جادو گر اور مجنون کہتی رہی ہیں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

(كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ)، الذاريات 52

۵۲۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر اس سے انہوں نے کہا : جادوگر ہے یا دیوانہ۔

درحقیقت، مشہور بادشاہوں جیسے کہ سارگن II اور سیناچریب کے وجود کو ثابت کرنے والی تحریریں بہت کم تھیں،یہاں تک کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ آشوری بادشاہ توڈیا ایک افسانوی کردار تھا، جب تک کہ اس کے وجود کی گواہی دینے والا کوئی متن دریافت نہ ہو جائے۔

جب بادشاہوں کا یہ حال ہے جن کے پاس اثر و رسوخ،شہرت اور اقتدار ہوتا ہے اور ان کے اثرات نایاب ہو جاتے ہیں اور ان پر کوئی دلیل نہیں ہوتی تو انبیاءؑ تو کمزور گروہ سے تعلق رکھتے تھےان کے آثار کا کیا پتہ چلے گا؟

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بادشاہوں کی تاریخ اور نوشتہ جات جن پر المجیدی اور دیگر اپنی تحقیقات میں زیادہ انحصار کرتے ہیں۔یہ سب کچھ دراصل بادشاہوں کے مظالم کو چھپانے اور ان کی تعریفوں کے پل باندھنے والوں کی تحریریں ہیں۔یہ ان لوگوں نے لکھیں جنہیں بادشاہوں نے اپنی قصیدہ نویسی کے لیے چنا تھا۔یہ لوگ باشاہوں کی خودساختہ تعریفیں کرتے ہیں اور انہیں بڑا دکھاتے ہیں۔یاد رکھیں ان ظالم بادشاہوں کے مقابل حق کی آواز بلند کرنے والوں کو یہ تاریخ نویس نظرانداز کر دیتے ہیں۔

جہاں تک دوسرے پہلو کی بات ہے تو یہ معلوم ہے کہ آثار قدیمہ کی بنیاد اور خطر ناک چیز مفروضات ہیں اور محقق کا عقیدہ  ہے۔ اس کی نشاندہی ماہر آثار قدیمہ جیمز کی وہ کہتا ہے: ہر محقق کے پاس مفروضے ہوتے ہیں جو اس کی پڑھائی کو متاثر کرتے ہیں جب وہ متن یا آثار قدیمہ پر تحقیق کر رہا ہوتا ہے۔( Israel in Egypt, p14)

آثار قدیمہ کی دریافتوں کی کئی قسم کی ایک زیادہ تشریحات ہوتی ہیں،ان کئی طرح کی تشریحات کی بنیاد آثار قدیمہ کی ترجیحات ہوتی ہیں۔نامان کی تحریروں میں اس کا ثبوت ملتا ہے:آثار قدیمہ کی کھدائیوں کے نتائج کی تفسیر اسی طرح مختلف ہو سکتی ہے جیسے لکھی ہوئی تحریروں کی مختلف تفسیریں ہو سکتی ہیں،بعض اوقات ایک ہی چیز کی دو متناقض تفاصیل سامنے آجاتی ہیں۔ آثار قدیمہ کا ادب مختلف مسائل میں اختلاف رائے سے بھرا ہوا ہے.آثار قدیمہ کی دریافتیں خود سے تو کچھ نہیں بولتیں کہ وہ خود کی طرف سے خود سے  باتیں کریں۔

آثار قدیمہ کے اعداد و شمار کی تشریح مشکلات سے بھری ہوئی ہے۔اس لیے آثار قدیمہ کی دریافتوں کی تشریح بہت مشکل کام ہے۔( Bob Becking , lester Grabbe eds, p.167.)

آثار قدیمہ کا جدید مکتب عصبی فلسفوں سے متاثر ہے۔ 1960 کی دہائی سے شروع ہونے والی مابعد جدیدیت کی ثقافت نے مغربی یونیورسٹیوں  میں  غلبہ حاصل کیا ہے، جہاں شک ہی تحقیق کا اصلِ اصول اور حتمی مقصد ہے۔تاویل اور اندازہ گیری ہی ایک امکانی صورت ہے۔مؤرخ کیتھ ونڈ شٹل نے اپنی کتاب میں اس پر بحث کی( تاریخ کا قتل: ادبی تنقید اور سماجی ماہرین نے ہمارے ماضی کو کیسے مار ڈالا؟)اس نے قوموں کی تاریخ لکھنے کے بعد مابعد جدیدیت  کے اس جرم  کے بارے میں بات کی ہے۔ ماہر آثار قدیمہ اور agnostic William Deaver کا سوال اس کی کتاب میں نقل کیا گیا تھا۔ (مالذي عرفوه مؤلفو الكتاب المقدس، ومتى عرفوه؟ ص 128):یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مابعد جدیدیت کے ادب پر کوئی شک نہیں کیا جاتا اور اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔شکوک اور  سوالات کا سارا رخ بائبل کے متون پر لگایا جاتا ہے اور اسے  تمام پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے۔اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جب تک اس کی مذمت نہ کر دی جائے اور جب تک اسے گناہ نہ مان لیا جائے۔عجیب بات ہے۔

ماہرین کی ایک بڑی تعداد علم آثار قدیمہ کو کسی بھی قسم کی اہمیت دینے سے انکار کر دیتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف اصطلاحات کا چکر ہے یہ سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے جیسا کہ اسی طبعی علوم میں سے فرض کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قدیم انسان  اور اس کی زندگی کے بارے میں جاننا اس پر موقوف نہیں ہے کیونکہ اس میں جسمانی اور ریاضیاتی پیمائش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ Archaeological Science, p.4.

اس ساری بحث سے ہمیں علم آثار قدیمہ کی قدر و منزلت معلوم ہو جاتی ہے اور ان لوگوں کے اس نظریے کی بھی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے جس میں وہ ہر چیز کو جاننے کے لیے آثارقدیمہ کے ماہرین کا مطمئن ہونا ضروری قرار دیتے ہیں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018