16 ذو القعدة 1445 هـ   24 مئی 2024 عيسوى 9:38 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2024-04-07   473

عورت کی آدھی گواہی ، کیا اسلام میں عورت کی تکریم نہیں؟

آج کی دنیا میں مرد اور عورت کی برابری کا نعرہ مقبول عام ہے۔ہم ان سے پوچھتے ہیں عورت اور مرد کی برابری سے مراد کیا ہے؟کیا مرد اور عورت کی ذمہ داریوں کا الگ ہونا برابری کے خلاف ہے؟ مغربی فکر سے متاثر لوگ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو مرد کے مساوی مقام حاصل نہیں ہے، اسلام مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی کو نصف قرار دیتا ہے۔یہ کسی فقیہ کا قول نہیں بلکہ قرآن مجید کی واضح نص ہے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ)، البقرة: 282

پھر تم لوگ اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو (گواہ بناؤ)

اس آیت مجیدہ سے انہیں وہم ہوا ہے کہ قرآن عورت کی تکریم کے خلاف ہے اور اسے برابر کے حقوق نہیں دیتا۔

سب سے پہلے تو ہم تاریخی طور پر یہ دیکھیں گے کہ اسلام نے عورت کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ہے؟اسلام سے ہماری مراد ثقلین ہیں یعنی اللہ کی پاک کتاب قرآن مجید اور نبی اکرم کی اہلبیتؑ ،ان کے علاوہ ہم کسی طرف نہیں جائیں گے۔قرآن عورت اور مرد کو تخلیق میں بالکل برابر قرار دیتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًاالآية)، النساء:1

۱۔ اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بکثرت مرد و عورت (روئے زمین پر) پھیلا دیے اور اس اللہ کا خوف کرو جس کا نام لے کر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتداروں کے بارے میں بھی (پرہیز کرو)، بے شک تم پر اللہ نگران ہے۔

قرآن ذمہ داریوں میں بھی مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا ،قرآن مجید میں اللہ جب احکامات نازل کرتا ہے تو اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں اس میں جنس کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:

(إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا)، الأحزاب: 35

۳۵۔ یقینا مسلم مرد اور مسلم عورتیں، مومن مرد اور مومنہ عورتیں، اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں، راستگو مرد اور راستگو عورتیں، صابر مرد اور صابرہ عورتیں، فروتنی کرنے والے مرد اور فروتن عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی عفت کے محافظ مرد اور عفت کی محافظہ عورتیں نیز اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں وہ ہیں جن کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔

یہ بات فقط انفرادی ذمہ داریوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اجتماعی ذمہ داریوں میں بھی عورت مرد کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔جس طرح امر بالمعروف کرنا مرد پر فرض ہے بالکل اسی طرح عورت پر بھی فرض ہے۔قرآن مجیدمیں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ)، التوبة: 71

۷۱۔ اور مومن مرد اور مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے بہی خواہ ہیں، وہ نیک کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا، بے شک اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے ۔

اسی طرح اچھے عمل پر انعام میں بھی عورت مرد کے ساتھ شریک ہے اللہ قرآٓن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)، النحل: 97

۹۷۔ جو نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی ضرور عطا کریں گے اور ان کے بہترین اعمال کی جزا میں ہم انہیں اجر (بھی) ضرور دیں گے ۔

یہاں سے ایک بات بالکل واضح ہو گئی کہ اسلام میں عورت اور مرد تخلیق برابر ہے،اسی طرح ذمہ داریوں میں بھی عورت شریک ہے اور اچھے عمل کے انعام میں بھی بالکل مرد کے برابر ہے۔یہ بات بالکل درست ہے کہ اسلام نے عورت کی نفسیات اور اس کی جسمانی ساخت کی وجہ سے اسے بعض امور میں آسانیاں دی ہیں۔امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں میں دوسری خواتین کے ساتھ بیعت کرنے کے لیے نبی اکرم کے پاس آئی،آپ نے فرمایا:جس کی تم استطاعت اور طاقت رکھتی ہو۔

قرآن اور نبی اکرم کی تاکید کے بعد مسلمانوں نے یہ سمجھاعورت کے حقوق برابر ہیں۔جیسے مرد کے حقوق ہیں ویسے ہی عورت کے حقوق ہیں۔حبر امت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتے ہیں:میں اپنی بیوی کے لیے ویسے ہی اچھائی کو پسند کرتے ہوں جیسے اسے اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ایسا کیوں نہ ہو؟ قرآن مجید اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے:

(وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ.. الآية)، البقرة: 228

اور عورتوں کو دستور کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کونسا مرتبہ ہے جو پروردگار نے مرد کو عورت سے زیادہ دیا ہے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ)، البقرة: 228

البتہ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے

یہاں پر اس برتری سے مراد وہ مقام ہے جو کسی بھی خاندان کو چلانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔خاندانی زندگی ایک اجتماعی زندگی ہے،یہ بات ہر عقل مند انسان سمجھتا ہے کہ ہر طرح کے اجتماعی یونٹ کے لیے ایک مدیر یا چلانے والا سربراہ ضروری ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مردوں کو بطور جنس عورتوں پر ترجیح دی جائے۔یہاں مرد کا خاندانی نظام کا سربراہ ہونا مساوات کے خلاف نہیں ہے۔یہ تو نظام میں کردار کی تقسیم ہے۔انسان اس چیز کا ذمہ دار ہے جو اس کی فطرت سے مطابقت رکھتا ہے جس کے ساتھ اسے پیدا کیا گیا ہے۔خواتین بھی ان شعبوں میں ذمہ دار ہیں جو ان کے کردار کے مطابق ہیں۔نبی اکرم کی حدیث شریف میں اس کی وضاحت کی گئی ہے آپ نے فرمایا: خبردار تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) تم سے ہر شخص کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا ، لہٰذا امام یعنی سربراہ مملکت وحکومت جو لوگوں کا نگہبان ہے اس کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی، مرد جو اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس کو اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے ، اس کو ان کے حقوق کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی اور غلام مرد جو اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اس کو اس کے مال کے بارے میں جواب داہی کرنا ہوگی لہٰذا آگاہ رہو! تم میں سے ہر ایک شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔(مجموعة ورام)، ج 1، ص 6

ضروری ہے کہ ہم عورت کی گواہی کے آیت میں موجود حکم کو اسی سیاق و سباق میں دیکھیں۔یہاں اسلام جنس مرد کا جنس عورت پر کوئی فضیلت نہیں دے رہا۔یہاں تمام حالات اور واقعات میں ایک خصوصیت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔اگر اس کی وجہ اسلام کا مردوں کی طرف جھکاؤ تھا تو ضروری ہے کہ مرد کی گواہی کو ہر حال میں عورت کی گواہی پر ترجیح دی جائے، جب کہ ہمیں قرآن کریم میں ایسے احکامات ملتے ہیں جن میں عورت کی گواہی کو مرد پر ترجیح دی جاتی ہے۔قر آن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے:

(وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (6) وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (7) وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ (8) وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ)، النور: 6 9

۶۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے سوا کوئی گواہ نہ ہو تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ سچا ہے۔۷۔ اور پانچویں بار کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔۸۔ اور عورت سے سزا اس صورت میں ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔۹۔ اور پانچویں مرتبہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہے۔

مسئلہ یوں ہے کہ ہمارے پاس شوہر کی گواہی ہے جو کہتا ہے کہ میری زوجہ نے زنا کیا ہے۔اس کے مقابل میں عورت کی گواہی ہے وہ کہتی ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے اور وہ انکار کرتی ہے۔یہاں پر اسلام عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی پر مقدم کرتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ یہاں ایک جنس کو دوسری جنس پر ترجیح دینے کی بات ہی نہیں ہے۔قانون کی زبان میں اس کا تعلق (جرم ثابت کرنے کی دلیلوں) سے ہے۔اسلامی قانون صاحب حق کو حق دیا جاتا ہے اب اس کے لیے اصل میں کیا ہوا تھا؟اس کو جاننے کے لیے زیادہ دلیلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کی تفصیلات کو فقہ میں گواہیوں کے باب میں دیکھ سکتے ہیں۔کچھ جرائم بہت بڑے ہیں انہیں ثابت کرنے کے لیے زیادہ گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے زنا،اسے ثابت کرنے کے لیے دو گواہ کافی نہیں ہیں بلکہ چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو گا۔دوسری طرف یہ صرف عورت کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لیے مرد کی گواہی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ایسا کئی مقامات پر ہوتا ہے۔اس کا اطلاق کئی صورتوں میں ہوتا ہے مثلا لڑکی کے کنوارہ پن کی گواہی،نفاس کی گواہی اور ہر وہ مقام جسے مرد نہ دیکھ سکیں۔صحیحہ ابن سنان میں ہے وہ کہتے ہیں میں نے ابا عبداللہؑ سے سنا آپ فرما رہے تھے۔۔۔عورتوں کی مردوں کو شامل کیے بغیر ہر اس مقام میں گواہی قابل قبول ہے جہاں مرد کے لیے دیکھنا جائز نہیں ہے۔الوسائل 27 : 353 / كتاب الشهادات ب 24 ح 10

جیسے اسلامی فقہ کے قرض کے باب میں عورت کی گواہی کو اس وقت قبول کیا جب اس کے ساتھ اور عورت بھی گواہی دے۔کئی ایسے موارد ہیں جہاں اکیلے مردکی گواہی قابل قبول نہیں ہے اسے ساتھ میں دوسرے مرد ملانا پڑے گا تب گواہی قبول ہے۔فقہاء کے ایک گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ بھائی کی گواہی بھائی کے لیے قابل قبول نہیں ہے اس لیے کہ دونوں کے قربت زیادہ ہے۔بات منوانے کے لیے ایک اور گواہ کی ضرورت پڑے گی۔شیخ طوسی کی طرف منسوب ہے (النھایہ ص ۳۳۰) اس پر اسماعیل بن ابی زیاد سکونی کی ایک معتبر حدیث سے استدلال کیا گیا ہے۔وہ امام جعفرؑ سے اور وہ اپنے بابا سے روایت کرتے ہیں: ’’بھائی کی اپنے بھائی کے بارے میں گواہی قبول ہے اگر وہ تسلی بخش ہو اور دوسرا گواہ ہو۔‘‘الوسائل 27 : 368 / كتاب الشهادات ب 26 ح 5 ، التهذيب 6 : 286 / 790

سید مرتضیؒ کی طرف منسوب ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قبول نہیں ہے۔(حكاه في الجواهر 41: 75، وراجع الانتصار: 496)علامہ اپنی شہرہ آفاق کتاب میں اس حوالے سے متردد ہیں ۔(التحرير 2: 209)شہید نے دروس میں اسے قبول کیا ہے۔(الدروس 2: 132) بعض متاخر علماء بھی اسی نظریے کے قائل ہوئے ہیں۔

اسی طرح مرد کی گواہی اس صورت میں قبول نہیں ہے جب وہ جس کے بارے گواہی دے رہا ہے اس میں شریک ہو۔قرض لینے والے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کہ اسے مال کے استعمال سے حاکم شرع نے روک دیا ہے۔اسی طرح اس مالک کی گواہی بھی اس غلام کے حق میں قبول نہیں جسے اس نے تجارت کی اجازت دی تھی۔اس پر سماعہ کی معتبر حدیث دلالت کرتی ہے ،امام سے سوال ہوا کس کی گواہی قابل قبول نہیں ہے؟آپ نے فرمایا:ناقابل اعتبار،دشمن ،شریک، دافع مغرم،اجیر،غلام،تابع اور ملزم ان سب کی گواہیاں قابل قبول نہیں ہیں۔ الوسائل 27: 378 / كتاب الشهادات ب 32 ح 3

اسی طرح اگر کسی آدمی کے اور گواہ کے درمیان جھگڑا ہو جائے تو اس کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔ اسماعیل بن مسلم کی معتبر حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔امام جعفر صادق بن محمد باقرؑ اپنے بابا سے اور وہ اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں فرمایا:کینہ پرور اور دین کے معاملے میں غیرت سے عاری کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔الوسائل 27: 378 / كتاب الشهادات ب 32 ح 5، الفقيه 3: 27 / 73

پوری بحث کو خلاصہ کریں اور گواہی کی بحث پیش نظر رہے تو یہ بات سامنے آتی ہےکہ اس آیت کا مردوں کی عورتوں پر فضیلت دینےسے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسلامی قانون اور شریعت واقع کے مطابق ہے۔اس میں چھان بین کے ذریعے حقیقت تک پہنچا جاتا ہے تاکہ حق تلفیوں کا خاتمہ ہو اور تنازعات کا فیصلہ کیا جائے۔

شیخ مقداد الربیعی: محقق و استاد حوزہ علمیہ

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018