7 شوال 1445 هـ   16 اپریل 2024 عيسوى 10:45 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2024-04-02   97

تخلیق کائنات کے متعلق قرآن اور کتاب مقدس کی آراء کا تقابلی مطالعہ

تینوں ابراہیمیؑ ادیان کی مقدس کتابیں قرآن،تورات اور انجیل میں بہت سے سائنسی حقائق بیان ہوئے ہیں۔ مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ہر کتاب میں بیان شدہ سائنسی معلومات میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ انجیل میں جو سائنسی معلومات آئی ہیں وہ قرآنی معلومات سے بہت کم ہیں، قرآن نے کافی تفصیل سے سائنسی موضوعات کو بیان کیا ہے۔انجیل میں بیان کردہ سائنسی نظریات کی آج کی جدید سائنسی دنیا مخالفت کرتی ہے اور قرآن نے سائنس کے متعلق جو معلومات دی ہیں آج کی جدید ترین سائنسی معلومات بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔اس بات کا اعتراف بڑے بڑے سائنسدانوں نے کیا ہے کہ قرآن کی معلومات درست ہیں۔مشہور فرانسیسی مورس بوکائیل کہتے ہیں:میں نے قرآن کی عربی نصوص کا بڑی دقت کے ساتھ مشاہدہ کیا تمام تر کوشش و محنت کے بعد میں اس نیتجے پر پہنچا ہوں کہ قرآن میں کوئی ایسی معلومات نہیں دی گئیں جن پر ہم آج کی جدید ترین سائنسی دنیا میں بھی تنقید کر سکیں۔میں نے پرانے عہد نامے اور انجیلوں کا اسی معروضیت کے ساتھ جائزہ لیا۔مجھے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور بہت سی ایسی معلومات اور دعوے مل گئے جو آج کی جدید سائنس سے متصادم ہیں۔انسان انجیل کھولتے ہی ایسی معلومات کو فورا پا لیتا ہے۔جب آپ اپنی تحقیق شروع ہی کرتے ہیں اور پہلے صفحے سے اس کا آغاز کرتے ہوئے آپ کو اہم مسئلہ مل جاتا ہے ۔وہ یہ ہے کہ اس مقام پر متی کا متن لوقا کے متن سے واضح طور پر متصادم ہے اور یہ کہ مؤخر الذکر جدید علم سے متصادم ہے۔ مسئلہ انسان کے زمین پر قدم رکھنے کا ہے جس میں اس قدر اختلاف موجود ہے۔(قرآن،تورات ،انجیل اور سائنس ص 17ـ18)

یہ بات ہمارے لیے واضح کرتی ہے کہ دیگر کتب سماوی کے برعکس قرآن کسی بھی قسم کی تحریف سے پاک ہے۔بوکائیل کہتا ہے:عہد نامہ قدیم میں انسان کی طرف سے متن کا شمول کافی زیادہ ہےہم جب اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو واضح طور پر ہم انسانی مداخلت اور اصل متن میں فرق پاتے ہیں۔ہم ایک متن سے دوسرے، ایک ترجمہ سے دوسرے کو تقابلی انداز میں جانچیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل متن میں تحریف ممکن ہے اور دوہزار سال میں ایسا ہی کیا گیا ہے۔(نفس المصدر، ص21)

عہد نامہ قدیم کے لکھے جانے کی تاریخ سے واقف کسی کے لیے بھی یہ راز نہیں ہے کہ یہ 39 کتابوں پر مشتمل ہے۔ان میں پانچ کتابیں حضرت موسی ؑ کی طرف منسوب ہیں جنہیں تورات کہا جاتا ہے۔ہماری پوری بحث انہی پانچ کتابوں تک محدود رہے گی۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ تورات کے ماہرین کے نزدیک اس بات پر اتفاق ہے کہ تورات کی یہ پانچوں کتب حضرت موسیؑ نے نہیں لکھیں بلکہ یہ چار مصادر سے آئی ہیں جنہوں وثائق اربعہ کہا جاتا ہے:

یہودی ماخذ، یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کا نام (یہوواہ) ہے اور اسے نویں صدی قبل مسیح میں ملک یہوداہ (جنوبی ملک) میں لکھا گیا تھا۔

الوہیمک ماخذ، اسے اس لیے اس نام سے منسوب کیا گیا ہےکیونکہ اس میں اللہ کا نام (إلوهيم) ہے۔یہ یہودی ماخذ کے کچھ عرصہ بعد اسرائیل کی ریاست (شمالی ریاست) میں لکھا گیا تھا۔

ثانوی ماخذ، یہ ثانوی اس لیے کہلاتا ہے کیونکہ اس میں قانون موسیٰ علیہ السلام کو بحال کیا گیا، ایڈمنڈ جیکب کے مطابق یہ آٹھویں قبل مسیح کا ہے، اور فادر ڈوفوکس کے مطابق ساتویں قبل مسیح کا ہے۔

پادریوں کےذریعہ، اس لیے کہلاتا ہے کہ اسے پادریوں اوردینی رہنماوں نے لکھا تھا، یہ جلاوطنی کے دور میں یا اس کے بعد لکھا گیا یہ چھٹی صدی قبل مسیح میں لکھا گیا تھا۔

یہاں مصادر اربعہ کو سادہ انداز میں بتایا گیا ہے اور ان پر کوئی تنقید نہیں کی گئی۔اس کی تفاصیل بہت زیادہ ہیں تکرار سے بچنے کے لیے اسی پر اکتفا کیا ہےا ور یہی تحقیق کے دوران بار بار سامنے آتی ہیں۔یہ بات بھی اہم ہے کہ ان تفاصیل میں باہمی طور پر بھی تعارض موجود ہے۔آپ یہاں تخلیق کی تفاصیل دیکھیں،ہمیں پیدائش کی کتاب میں ہی تخلیق کی دو کہانیاں ملتی ہیں، جن میں سے پہلی یہودی دستاویز سے آتی ہے، اور دوسری الوہیمک دستاویز کے مطابق ہےان دونوں میں بڑا تضاد موجود ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ دونوں تفاصیل سائنس سے بھی متضاد ہیں۔دونوں میں تناقض کی مثال یہ ہے کہ پہلے قصے کے مطابق حضرت آدمؑ کو ایام تخلیق کے آخری دن یعنی چھٹے دن خلق کیا گیا۔"اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر خلق کیا،اس نے نر اور مادہ خلق کیے۔۔۔یہ چھٹے دن کی صبح و شام تھی1/ 31یہ پہلے باب میں ہے۔کتاب مقدس کا دوسرا باب اس کے مخالف بتاتا ہے۔دوسرے باب کے مطابق اللہ تعالی نے زمین آسمان کی خلقت کے بعد حضرت آدمؑ کو پیدا کیا"آسمانوں اور زمینوں اور ہر گروہ کی تخلیق مکمل ہو گئی۔۔۔اللہ تعالی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔پھر اس میں زندگی پھونک دی اور وہ ایک زندہ روح بن گیا۔(2/8)

اسی طرح باب اول میں دیکھیں تو وہاں یہ مذکور ہے کہ حضرت حواؑ کو حضرت آدمؑ کے ساتھ خلق کیا گیا۔(نر اور مادہ سبھی کو اللہ نے خلق کیا)دوسرے باب میں دوسری بار جب اس کی تفاصیل کو ذکر کیا تو اس میں کہا کہ پہلے آدم ؑ کو خلق کیا اس کے بعد نباتات اور حیوانات کو ذکر کیا اور اس کے بعد حضرت حواؑ کو خلق کیا گیا۔مورس بوکائیل اس میں کوئی شک نہیں ہے اسفار خمسہ پر تنقید کی جا سکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں نے مختلف زمانوں میں اس میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں یہ اس کی واضح مثال ہے کہ اس پر تنقید ہو سکتی ہے۔اس میں زبانی پہنچنے والی روایات اکٹھی کی گئی ہیں اور ماضی کی کئی نسلوں کی حکایات اور متن جمع کیے گئے ہیں۔(نفس المصدر، ص34.)

جہاں تک سائنسی تضادات کا تعلق ہے تووہ اس میں بہت زیادہ ہیں اور مشہور ہیں انہیں بیان کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ کتاب مقدس کے مدافعین بھی مانتے ہیں کہ سائنس کے مخالف بہت سی چیزیں بائبل میں موجود ہیں ہم ان میں سے کچھ کا بطور مثال تذکر کرتے ہیں:

تورات کے مطابق نباتات کی تخلیق اللہ تعالی نے تخلیق کے تیسرے دن کی ہے"اللہ تعالی فرماتا ہے: زمین پر گھاس پیدا کی، جڑی بوٹیوں کو پیدا کیا اور پھل دار درخت اپنی قسم کے مطابق پھل دینے والے پیدا کیے، یہ سب اس کے بیج زمین پر ہوتا ہے۔پس زمین نے گھاس پیدا کی، پودے جو بیج دیتے ہیں، اور درخت جو ان کے بیجوں کے ساتھ اپنی قسم کے مطابق پھل دیتے ہیں۔ اور خدا نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔ شام ہوئی اور صبح ہوئی، یہ تیسرا دن تھا۔(1/13)

خدا نے چوتھے روز سورج کو پیدا کیا اللہ فرماتا ہے:"آسمان کی وسعت میں ہر سو روشنیاں ہوں اور ان سے دن رات سے الگ ہو۔اسی طرح اس کے ذریعے موسموں اور ماہ و سال کا پتہ چلے۔اس کی روشنی آسمان کی وسعتوں کو نورانی کر دے۔"اس طرح اللہ نے دو بڑے نور بنائے بڑے نور کو دن اور چھوٹے نور کو رات کا نام دیا۔خدا نے سورج کو آسمان کی وسعت میں زمین پر روشنی دینے، دن اور رات پر حکومت کرنے اور روشنی کو اندھیرے سے الگ کرنے کے لیے رکھا ہے۔ خدا نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔ اور شام ہوئی اور صبح ہوئی، یہ چوتھا دن تھا۔(1/19)

تاہم، یہ بات ثابت ہے کہ پودوں کا وجود وہ بھی سورج کے بغیر یعنی اس سے پہلے، سائنسی طور پر ناممکن ہے!! یہاں تک کہ بائبل کے سب سے کٹر محافظ بنجمن سمتھ یہ کہتے ہوئے اس بات کو آگے نہیں بڑھا سکے تھے: ”چونکہ بائبل کہتی ہے کہ سورج زمین کی تخلیق کے بعد چوتھے دن تخلیق ہوا، اس لیے پیدائش کو فلکیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تمام کوششیں ختم ہو جائیں گی۔ علم فلکیات تو بے کار ہو جائے گا۔(Genesis,Science,and the Beginning,p.28 )

یہاں ایک اور سائنسی اصول کی بھی زبردست مخالفت ہوئی ہےسائنسی طور پر معلوم ہے کہ ستارے کائنات کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد وجود میں آئے ہوں گے اندازا دھماکے کے 180 ملین سال بعد بن گئے ہوں گے۔یہ سورج اور چاند کی تشکیل سے بہت پہلے کی بات ہے، جیسا کہ یہ سورج اورچاند کائنات کی آخری تہائی عمر سے پہلے وجود ہی نہیں رکھتے تھےسورج کی عمر کائنات کی عمر سے اربوں سال کم ہے، جبکہ بائبل کہتی ہے کہ خدا نے سورج اور چاند کو ستاروں سے پہلے پیدا کیا،یعنی پہلے دن پیدا کیا۔(خدا نے روشنی کو اندھیرے سے الگ کیا۔ خدا نے روشنی کو دن کہا اور اندھیرے کو رات کہا۔ اور شام ہوئی اور صبح ہوئی، پہلا دن تھا۔)(1/6) بائبل کے مطابق اللہ نے ستاروں کو ساتویں دن پیدا کیا(پس آسمان اور زمین اور ان کے تمام گروہ مکمل ہو گئے۔ اور ساتویں دن خُدا نے اپنا کام جو اُس نے کیا تھا ختم کر دیا۔)(2/2)

آخری بات جو ہم نے ابھی کی ہے اس کے ساتھ اس سائنسی طور پر ثابت بات کو دیکھیں کہ زمین اصل میں سورج کا حصہ تھی اور بعد میں الگ ہوئی ہے یعنی سورج زمین سے پہلے تھا۔تورات کو دیکھیں تو وہ کہتی ہے کہ زمین سورج سے پہلے تیسرے دن خلق ہوئی۔(اللہ تعالی فرماتا ہے:آسمان کے نیچے ایک جگہ پانی جمع ہوا تاکہ خشک زمین ظاہر ہو جائے۔ایسا ہی تھا خدا نے خشکی کو زمین کہا اوریہ تیسرے دن کی صبح تھی( 1/13)

یہ بھی ہے کہ خدا نے سورج کو چوتھے روز خلق کیا(:"آسمان کی وسعت میں ہر سو روشنیاں ہوں اور ان سے دن رات سے الگ ہو۔اسی طرح اس کے ذریعے موسموں اور ماہ و سال کا پتہ چلے۔اس کی روشنی آسمان کی وسعتوں کو نورانی کر دے۔"اس طرح اللہ نے دو بڑے نور بنائے بڑے نور کو دن اور چھوٹے نور کو رات کا نام دیا۔خدا نے سورج کو آسمان کی وسعت میں زمین پر روشنی دینے، دن اور رات پر حکومت کرنے اور روشنی کو اندھیرے سے الگ کرنے کے لیے رکھا ہے۔ اور خدا نے دیکھا کہ یہ اچھا ہے۔ اور شام ہوئی اور صبح ہوئی، یہ چوتھا دن تھا۔1/19ابراہیمی ؑ اور دیگر کافر انہ توہمات میں ایسے ہی باتیں ان لوگوں نے نقل کی ہیں جو بے سروپا ہیں۔قرآن نے تخلیق کائنات کی ابتداء پر بات کی ہے اور وہ بہت ہی حیرت انگیز باتوں کا ذکر کرتا ہے ہم اس میں سے صرف دو باتوں کو ذکر کرتے ہیں:

پہلا: کائنات کی توسیع: بیسویں صدی کے آغاز میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، یہ سب سے پہلے ریاضی کے حساب سے، پھر فلکیاتی رصد گاہوں کے ذریعے معروف سائنسدان ہبل کے ہاتھوں ثابت ہوا، اب اس معاملے میں کوئی شک نہیں ہے۔جارج گیمو کتاب( The Creation of the World صفحہ 77) میں اسی بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں۔دنیا کا خلا اربوں کہکشاؤں پر مشتمل ہے، یہ تیزی سے پھیل رہاہے، اور سچ یہ ہے کہ ہماری دنیا آرام کی حالت میں نہیں ہے، بلکہ اس کا پھیلاو مسلسل جاری ہے. تسلیم کرنا چاہیے کہ ہماری دنیا پھیل رہی ہے اور یہی اس کا پھیلنا علم کے رازوں کے خزانے کی کنجی فراہم کرتا ہے، کیونکہ اگر دنیا اب پھیلنے کی حالت میں ہے تو اسے کسی وقت شدید سکڑاؤ کی حالت میں بھی ہونا ہو گا۔

قرآن نے اسے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ)، الذاريات: 47

۴۷۔ اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا اور ہم ہی وسعت دینے والے ہیں۔

دوسرا یہ کہ کائنات آگ سے بنی ہے پانی سے نہیں۔ماضی کی بڑی ترقی یافتہ اقوام مصری،یونانی اور بابل کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کائنات کی اصل پانی ہے۔اسی تصور کی بنیاد پر کتاب مقدس کے مولفین نے بھی یہی لکھ دیا۔جیسا کہ پیٹر کے دوسرے خط میں ہے۔3/5: آسمان بہت پہلے موجود تھے، اور زمین، خدا کے حکم سے پانی سے وجود میں آئی اور پانی سے ہی باقی ہے۔

یہاں تعجب ہوتا ہے کہ قرآن ارسطو کی مخالفت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آسمان دھویں سے بنا ہے اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

(ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ)، فصلت: 11

۱۱۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت دھواں تھا پھر آسمان اور زمین سے کہا: دونوں آ جاؤ خواہ خوشی سے یا کراہت سے، ان دونوں نے کہا: ہم بخوشی آ گئے۔

یہ معلوم ہے کہ دھواں آگ سے آتاہے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس آیت مجیدہ اپنے نزول کے وقت موجود معروف اور تسلیم شدہ نظریے کے خلاف بات کی بلکے اس کے نقیض یعنی پانی کے نقیض سے تخلیفق آسمان کا بتایا ہے۔ضرورت تو اس بات کی تھی کہ نبی اکرم اہل کتاب کے ساتھ اتفاق کرتے کیونکہ آپ یہ چاہتے تھے کہ ان سب کو ہدایت کریں اور انہیں قریب کریں۔

ہمیں اس کا جواب معاصر سائنس کے نتائج سے ملتا ہے۔یہ بات پتہ چلتی ہےکہ یہ سب کچھ ایک بہت بڑے دھماکے کے بعد معرض وجود میں آیا ہے۔اسے سائنس کی زبان میں (Big Bang) کہا جاتا ہے۔فرانس بی کسافیہ مشہور ماہر فزکس ہے وہ کہتا ہے "آج کل زیادہ تر طبیعیات دان اور کاسمولوجسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ کائنات ممکنہ طور پر ایک ابتدائی دھماکے (بگ بینگ) کے ساتھ مادے کے آگ کے گولے سے تیار ہوئی ہے، اور کائنات تب سے پھیل رہی ہے۔(God of the Atoms, p.42.)

ایک انٹرویو میں، ٹوکیو آبزرویٹری کے ڈائریکٹر جاپانی پروفیسر یوشیوڈ کوزان نے کہا:"اس بات پر بہت زیادہ دلیلیں ہیں اب تو یہ ایک مشاہدہ میں آنے والی چیز ہو گئی ہے کہ ہم آسمان پر ستارے دیکھتے ہیں جو دھویں سے ہیں جو اس کائنات کی اصل ہے۔(العلم وحقائقه، ص130)

سائنسدانوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ اس بڑے دھماکے یعنی بگ بینگ کے نتیجے میں کچھ گیسیں پیدا ہوئی تھیں جو جمع ہو گئیں۔اسی سے وہ غبار معرض وجود میں آیا جس سے کائنات بنی۔اسی کو بنیاد مانا جاتا ہے جس سے ستارے اور کہکشائیں بنیں۔چنانچہ پروفیسر کوزان نے اس مواد کو دھند کہنے سے انکار کردیا۔وہ کہتا ہے "دھند میں ٹھنڈ ہوتی ہے اور اس مواد میں گرمی ہے۔ہاں، دھواں وہ گیسیں ہیں جن میں ٹھوس مواد موجود ہے،اور اس کی حقیقت مبہم ہے۔اسے دھویں کا نام دیا گیا ہے جس سے کائنات بنی ہے۔ستارے بننے سے پہلے، وہ گیسیں تھیں جن میں ٹھوس مواد موجود تھا، اور جس کی حقیقت مبہم ہے۔اسی طرح یہ گرم ہے اور گرم پر دھند کا عنوان صدق نہیں آتا۔اس کے لیے بہترین تعبیر دھویں کی ہی ہے۔(حوالہ سابق)

ملحد طبیعیات دان سٹیفن ہاکنگ کہتے ہیں۔"آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بگ بینگ کے دھوئیں سے بنے ہیں۔" حوالہ سابق ص131۔اس کے ساتھ ساتھ ماہرین فلکیات ہرشل اسپیس آبزرویٹری پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں ان کے مطابق: کائناتی دھول انٹرسٹیلر خلا میں تیرنے والے ٹھوس مواد کے چھوٹے ذرات سے بنی ہے۔یہ آپ کے گھر میں ملنے والی دھول کی طرح نہیں ہے، بلکہ دھوئیں کی طرح ہے۔(حوالہ سابق)

مذکورہ بالا سے یہ واضح ہو گیا کہ قرآن کا نظریہ بالکل درست ہے۔یہی نظریہ جدید سائنس کی تحقیقات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے علم کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔کیا ایسا سوچا جا سکتا ہے کہ ایسا نظریہ ان لوگوں کے ذریعے پتہ چلے جو افسانوی کردار کے حامل ہیں اور کافرانہ خرافات پر مبنی نظریات رکھتے ہیں اور یہ بالکل سادہ لوح لوگ تھے ان کا علم بھی بالکل ابتدائی تھا؟

شیخ مقداد الربیعی: محقق و استاد حوزہ علمیہ

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018