7 شوال 1445 هـ   16 اپریل 2024 عيسوى 11:54 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2024-03-23   94

14 صدیاں پہلے امام علی علیہ السلام کے قائم کردہ "انسانی حقوق"

امیر المومنین حضرت علیؑ کے زمانہ خلافت کا ملاحظہ کیا جائے تو آپ کا پورا زمانہ ہی جنگوں سے بھرا ہوا ہے۔آپ کے مختصر عہد حکومت میں تین بڑی جنگیں ہوئی ہیں۔ پہلی جنگ ناکثین کے ساتھ تھی جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے،دوسری قاسطین کے ساتھ تھی جسے جنگ صفین کہا جاتا ہے جو لشکر شام کے ساتھ ہوئی اور تیسری جنگ مارقین یعنی خوارج کے ساتھ نہروان میں ہوئی۔ یہ حقیقت ہے کہ جب حکومتیں جنگوں میں مشغول ہوتی ہیں تو عوامی آزادیوں پر بہت سی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔یہ حضرت امیر المومنینؑ ہیں جو ان جنگی حالات میں آج کے زمانے کی اصطلاح میں انسانی حقوق کے پہلے داعی بنے۔ یہ اتنے بڑے مسائل ہیں کہ ان میں سے کچھ کو حل کرنے کے لیےآج کا انسان بھی کوشاں ہے۔آج کی دنیا میں اسے بین الاقوامی قانون کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے مختلف اعلامیے اور چارٹر ہیں جیسے انسانی حقوق کا چارٹر،شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے وغیرہ کہا جاتا ہے ہم انسانی حقوق کا مختصر جائزہ لیتے ہیں اور دیکھیں گے کہ حضرت علیؑ نے کیسے اپنے دور حکومت میں یہ حقوق عام لوگوں کو فراہم کیے:

برابری اور مساوات

بین الاقوامی قانون کا مشاہدہ کیا جائے تو انسانوں کے درمیان مساوات اور برابری اس کی بنیاد ہے۔دنیا کا ہر انسان قانون کے سامنے برابر ہے،دنیا کے تمام انسانوں کو بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے برابری کا تحفظ حاصل ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کا آرٹیکل ۷ اسی کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ "تمام لوگ قانون کے سامنے برابر ہیں، اور انہیں بلا امتیاز قانون کے تحفظ سے مستفید ہونے کا مساوی حق حاصل ہے۔ انہیں کسی بھی امتیازی سلوک سے تحفظ کا بھی مساوی حق حاصل ہے۔یہ قانون ہر اس رویے اور اشتعال کو بھی شامل ہے جس میں کوئی امتیازی سلوک پر ابھارے،  یہ بھی منع ہے۔"

اسلام نے انسانیت کو یہ برابری اور مساوات بہت پہلے دے دی تھی۔ایک دن امیر المومنینؑ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:اللہ کی حمد ہو اور اسی کی ثنا ہو،اے لوگو:آدمؑ نے کسی غلام اور لونڈی کو پیدا نہیں کیا،تمام کے تمام انسان آزاد ہیں۔ لیکن خدا نے تمہیں ایک دوسرے پر اختیار دیا ہے۔ جسے کوئی تکلیف پہنچے وہ اس پر اچھی طرح صبر کرے اور اللہ تعالی پر منت نہ چڑھائے۔آگاہ رہو جب کوئی مال آٹا ہے تو اس میں سب برابر کے شریک ہیں۔

مروان نے طلحہ اور زبیر سے کہا حضرت علیؑ نے اس فرمان سے تم دونوں کا ارادہ کیا ہے(یعنی یہ فرمان تم دونوں کے خلاف ہے)۔

حضرت امیر نے ان دونوں(طلحہ و زبیر) کو تین دینار دیے،ایک انصارکا آدمی آیا اسے بھی تین دینار دیے پھر ایک سیاہ غلام آیا اسے بھی تین دینار دیے۔اس انصاری نے کہا:اے امیر المومنینؑ یہ وہ غلام ہے، جسے میں نے کل شام کو آزاد کیا تھا آپ نے مجھے اور اسے برابر بنا دیا؟امام ؑ نے فرمایا:میں نے اللہ کی کتاب میں اسماعیلؑ کی اولاد کی اسحق کی اولاد پر کوئی فضیلت نہیں دیکھی۔(الكافي، ج ٨، ص٦٩)

آپ کا وہ خط بہت مشہور ہے جو آپ نے مصر کے گورنر مالک اشترؒ کے نام لکھا،اس میں آپ نے انہیں مصر کی تمام اقوام کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی۔ رعایا کے ساتھ مہربانی اور محبت و رحمت کو اپنے دل کا شعار بنا لو اور خبردار ان کے حق میں سے کاٹ کے کھانے والے درندہ کے مثل نہ ہوجانا کہ انہیں کھا جانے ہی کو غنیمت سمجھنے گوکہ مخلوقات خدا کی دو قسمیں ہیں بعض تمہارے دینی بھائی ہیں اور بعض خلقت میں تمہارے جیسے بشر ہیں ،جن سے لغزشیں بھی ہوجاتی ہیں اور انہیں خطاوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور جان بوجھ کر یا دھوکے سے ان سے غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں۔لہذا انہیں ویسے ہی معاف کردینا جس طرح تم چاہتے ہو کہ پروردگار تمہاری غلطیوں سے درگذر کرے کہ تم ان سے بالاتر ہو اور تمہارا ولی الامر تم سے بالاتر ہے اور پروردگار تمہارے ولی سے بھی بالاتر ہے اور اس نے تم سے ان کے معاملات کی انجام دہی کا مطالبہ کیا ہے اور اسے تمہارے لئے ذریعہ آزمائش بنا دیا ہے اور خبردار اپنے نفس کو اللہ کے مقابلہ پر نہ اتار دیناکہ تمھارے پاس اس کے عذاب سے بچنے کی طاقت نہیں ہے اور تم اس کے عضو اور رحم سے بے نیازبھی نہیں ہو۔  خبر دار کسی کو معاف کردینے پرنادم نہ ہونا اور کسی کو سزادے کراکڑ نہ جانا۔ غیط و غضب کے اظہار میں جلدی نہ کرنا اگر اس کے ٹال دینے کی گنجائش پائی جاتی ہو۔(موسوعة الإمام علي بن أبي طالب (ع) في الكتاب والسنة والتاريخ، محمد الريشهري، ج ٤، ص٢٣٤)

محمد ابن ابی بکر ؒ کے نام جب انہیں مصر کی حکومت سپرد کی تو یہ نامہ تحریر فرمایا:

لوگوں سے تواضع کے ساتھ ملنا، ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا، کشادہ روئی سے پیش آنا اور سب کو ایک نظر سے دیکھنا، تاکہ بڑے لوگ تم سے اپنی ناحق طرف داری کی امید نہ رکھیں اور چھوٹے لوگ تمہارے عدل و انصاف سے ان (بڑوں) کے مقابلہ میں ناامید نہ ہو جائیں۔ کیونکہ اے اللہ کے بندو! اللہ تمہارے چھوٹے بڑے، کھلے ڈھکے اعمال کی تم سے باز پرس کرے گا اور اس کے بعد اگر وہ عذاب کرے تو یہ تمہارے خود ظلم کا نتیجہ ہے اور اگر وہ معاف کردے تو وہ اس کے کرم کا تقاضا ہے۔ (شرح نهج البلاغة، ابن أبي الحديد، ج ١٥، ص١٦٣)

جب مال کی تقسیم میں آپؑ کے برابری و مساوات کا اصول برتنے پر کچھ لوگ بگڑ اٹھے تو آپؑ نے ارشاد فرمایا:

کیا تم مجھ پر یہ امر عائد کرنا چاہتے ہو کہ میں جن لوگوں کا حاکم ہوں ان پر ظلم و زیادتی کر کے (کچھ لوگوں کی) امداد حاصل کروں تو خدا کی قسم! جب تک دنیا کا قصہ چلتا رہے گا اور کچھ ستارے دوسرے ستاروں کی طرف جھکتے رہیں گے، میں اس چیز کے قریب بھی نہیں بھٹکوں گا۔ اگر یہ خود میرا مال ہوتا تب بھی میں اسے سب میں برابر تقسیم کرتا، چہ جائیکہ یہ مال اللہ کا مال ہے۔ (نفس المصدر، ج ٨، ص ١٠٩۔)

آزادی اظہار کا حق

امیر المومنین حضرت علیؑ نے اپنی حکومت میں ہر چیز کے بارے میں آزادی اظہار کا کھلا موقع دیا ۔آپ نے خود سے اختلاف کرنے اور آزادی رائے کا پورا پورا حق دیا۔خوارج بحث مباحثہ کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ان کا یہ عمل نماز میں بھی جاری رہتا تھا۔آپ ؑ نے اپنی عادلانہ حکومت میں یہ اصول بنایا تھا کہ جب بھی کوئی حق بات کرے اسے قبول کیا جائے۔ جب کوئی فیصلہ آئے تو اس میں عدل کیا جائے اگرچہ ایسا کرنا بظاہر مشکل ہی کیوں نا ہو۔ان دونوں پر عمل کرنا بہت مشکل ہے آپ کے فرمان میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے: مجھ  سے ایسے بات نہ کرو جیسے جابر بادشاہوں سے بات کرتے ہو، اور مجھ سے ایسے احتراز نہ کرو جیسے اہل بادرہ یعنی مغضوب الغصب لوگوں سے احتراز کرتے ہو، اور میرے ساتھ چاپلوسی کے ساتھ بھی نہ ملو،

امام علیؑ لوگوں کی طرف سے نصیحت اور مشورے کا استقبال کرتے تھے آپ نے فرمایا: تم کبھی نہ روکنا اپنے آپ کو کسی بھی بات میں حق کہنے سے یا کسی بھی مشورے میں عدل سے ،بے شک میں اپنے آپ کو خطاء سے بےخوف نہیں سمجھتا اور نہ ہی اپنے عمل کے اندر خطا کے حوالے سے میں بےخوف ہوں، ہاں یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے بچا لے جو میری جان پر میرے سے زیادہ قدرت رکھتا ہے ،یقینا میں اور تم سب بندے مملوک ہیں اس رب کے جس کے علاوہ کوئی رب نہیں،وہ ہم پر اتنی قدرت رکھتا ہے جتنی ہم اپنی جانوں پر قدرت نہیں رکھتے،اس نے ہمیں ان معاملات سے نکالا جن میں ہم سے پہلے مبتلا تھے اور ہمیں ان معاملات تک پہنچایا جن میں ہمارے لیے خیر ہے، پھر اس نے ہمیں گمراہی کے بعد ہدایت دی اور اندھیرے کے بعد بصیرت دی۔ (الكافي الجزء الثامن ص356 – 357, بحار الأنوار للمجلسي الجزء27 ص253۔)

اجتماع کا حق

اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کا 2020 کا آرٹیکل نمر 37 کہتا ہے: "پرامن اجتماع کا بنیادی حق حاصل ہے، افراد کو اجتماعی طور پر اظہار خیال کرنے اور اپنے معاشرے کی تشکیل میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔" شہری اور سیاسی  آزادیوں کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 21 کا پہلا جملہ کہتا ہے: "پرامن اجتماع کے حق کو تسلیم کیا جائے گا۔"

اسلام صدیوں پہلے اس حق کو تسلیم کرتا ہےامام علیؑ نے خوارج کو نہروان میں جمع ہونے کی آذادی دی،انہیں صرف مخالفت کی وجہ سے آنے جانے سے نہیں روکا۔اسی طرح طلحہ اور زبیر کو مدینہ سے مکہ جانے کی اجازت دی حالانکہ آپ جانتے تھے کہ یہ دونوں بیعت سے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ابن ابی الحدید کہتا ہے:ہمارے شیخ ابو عثمان نے روایت کی ہے کہ جب طلحہ اور زبیر مکہ روانہ ہوئے ان دونوں نے لوگوں کو وہم میں رکھا کہ وہ عمرہ کی نیت سے جا رہے ہیں۔حضرت علیؑ نے اپنے اصحاب سے کہا خدا کی قسم یہ عمرہ کا ارادہ نہیں رکھتے یہ غدر کا ارادہ رکھتے ہیں۔) شرح نهج البلاغة،ج11، ص17(

اس سے بڑھ کر یہ کہ حضرت علیؑ نے کبھی بھی کسی کو اپنی طرف سے لڑنے پر مجبور نہیں کیا۔۔لوگ خود سے جہاد میں شریک ہوتے تھے۔

حق ملکیت اور اسمیں تصرف درست نہیں

اس حق کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ میں منظور کیا گیا جبکہ امام علی علیہ السلام نے اس سے بہت پہلے اپنے فوجی کمانڈروں کو جنگ کے دوران لوگوں کی املاک پر قبضے سے روکا،یہ ملکیت غیر مسلم ہی کی کیوں نہ ہو، انہیں حکم دیا:آپ نے مقامی شہروں کے رہنے والوں کو اپنے لشکر پر فوقیت دیں۔آپ نے اپنے لشکر کو کنووں سے پانی لینے پر بھی مقامی لوگوں کو مقدم قرار دیا۔آپ نے جاریہ بن قدامہ سعدی کو وصیت فرمائی وہ آپ کے اس لشکر کے قائد تھے جسے آپ نے معاویہ کے لشکر سے لڑنے کے لیے بھیجا معاویہ کے لشکر کی قیادت بسر بن ارطاہ کر رہا تھا،جس نے عام انسانوں پر بہت مظالم کیے اور بچوں کو بھی نہیں بخشا۔آپ نے وصیت میں فرمایا:اے جاریہ میں تجھے اللہ کے تقوی کی وصیت کرتا ہوں۔یہ بھلائی کی بنیاد ہے، اللہ کی مدد کا راز ہے،تم اس دشمن سے لڑو جس کی طرف تمہیں حکم دیا گیا ہے اور اسی سے لڑو جو تم سے لڑے۔زخمی آدمی کو قتل نہ کرو،کسی کے جانور کو اپنے استعمال میں نہ لاو اگرچہ تم اور تمہارےساتھی پیدل چل رہے ہوں۔پانی کے مالکوں سے ان کا پانی ضبط نہ کرو،وہ استعمال کر لیں جو بچ جائے اسے اچھے طریقے سے استعمال کرو۔کسی مسلمان مرد اور عورت کی توہین مت کرو۔کوئی ایسا کام نہ کروجو ادب کے خلاف ہو۔کسی بھی غیر مسلم معاہد مرد اور عورت پر ظلم نہ کرو۔ (نهج السعادة، ج ٨، ص٣٦٧۔)

امیر المومنین ؑ کی اسی انصاف پسندی کی وجہ سے 2002 میں اقوام متحدہ نے اپنی ایک سو ساٹھ صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی، جو کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے انسانی حقوق، ماحولیات، زندگی اور تعلیم کی بہتری کے لیے تیار کی تھی۔اس میں امام علی علیہ السلام کو عالمی برادری نے ایک رول ماڈل قرار دیا۔اس رپورٹ میں امام علیؑ کو سماجی اور انسانی انصاف کے لیے ایک مثالی شخصیت کے طوپر پیش کیا گیا۔اس رپورت میں نہج البلاغہ سے امیر المومنینؑ کے ارشادات سے اقتباسات شامل ہیں۔ان میں وہ فرامین شامل ہیں جو آپ نے احکامات کی صورت میں اپنے عہدیداروں،کمانڈروں اور لشکریوں کو دیے تھے۔اس رپورٹ میں حضرت علیؑ کے احکامات کو انصاف پھیلانے والے،علم کی رویج کرنے والے اور انسانی حقوق کے لیے باعث فخر قرار دیا۔

شیخ مقداد  الربیعی: محقق و استاد حوزہ  علمیہ

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018