9 رمضان 1444 هـ   31 مارچ 2023 عيسوى 3:55 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2023-02-19   69

فلسفہ اور اسلام کے نزدیک عقلی تعلیم ۔۔۔۔۔ تجزیہ و تحلیل

اسلامی فلسفے کے مبانی اور ان کا تجزیہ

۱۔ مقدمہ:

جب فلسفہ کا مقصد عقل کی تعلیم اور اس کو رشد و نمو بخشنا ہے اور یہ ہدف ہے کہ عقل کی طاقت استدلال کو بلند کیا جائے تو اس کام میں مسلمان دوسروں سے اولی و برتر ہیں ۔ اس لئے کہ ان کے فلسفے کا منبع و ماخذ وہ عظیم دینی کتاب ہے جس کا نام  قرآن کریم ہے جو ایک معجزہ عقلیہ ہے ۔ یہ معجزہ انسانوں کو عقل سے کام لینے کی جانب دعوت دیتا ہے اور کائنات میں غور وفکر کرنے کی تاکید کرتا ہے تاکہ حقیقی فلسفہ کے مبانی اور مبادی کو سمجھ سکے۔ جیسا کہ شہید مطہری کی تعبیر کے مطابق: " فلسفہ کل وجود کو ایک میدان بناتا ہے تاکہ اس میں انسانی فکر اپنی جولانی کا مظاہرہ کرے۔ فلسفہ انسانی عقل کو اپنے پروں پر اٹھاتا ہے اور اسے جہانوں  پر کمند ڈالنے کے قابل بنادیتا ہے ۔ اور یہ انسان کی آرزو کی انتہا اوراس کے عزم کی غایت ہے ۔

البتہ اسلام کے یہاں عقلی تعلیم کے مبانی  متعدد پہلوؤں پر مشتمل ہیں۔ اس لئے کہ اسلام کے اندر فلسفی مکاتب بھی متعدد ہیں اور یہ سب اسلام کے دامن میں ہی پروان چڑھے ہیں۔ پس اکثر اس بات کے قائل ہیں کہ دین ہی تعلیم کا سرچشمہ ہے ۔ اس بات کے پیش نظر لازم ہے کہ تعلیم کی بنیادوں کو دین ہی سے استخراج کیا جائے۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ دین کا بنیادی ہدف ہر لحاظ سے تعلیم دینا ہے  اگرچہ تعلیم کے میدان میں مختلف شعبے وجود میں آئے لیکن یہ سب کسی نہ کسی طرح اپنے میٹافزیکس امور کے اثبات میں فلسفیانہ انداز سے بحث کرنے کے محتاج ہیں اور چونکہ اسلام کا معجزہ جاوید ایک معجزہ عقلیہ ہے اس لئےاس میں عقل کو بروئے کار لانے اور اس کی بالیدگی کی تاکید کی گئی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ جس نے دین کے فلسفہ کی عقلی تعلیم  کے ساتھ مضبوط تعلق کے نظریے کو اپنایا۔ یہ فلسفہ اسے ایک ایسی فکری حرکت میں ڈالدیتا ہے جو متعدد شعبوں کی حامل ہوتی ہے۔ لہذا فلاسفہ نے بھی اس پر ایک ایسے نظریہ معرفت کی بنیاد رکھی جو اپنی پوری صراحت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ تمام عقلی و نقلی علوم  مجبور ہیں کہ عقل کی ترقی و کمال میں اس نظریہ معرفت سے استفادہ کریں۔ اس لئے ضروری ہےکہ ان علوم سے مربوط مبانی کو فلسفیانہ روش کے تحت ہی پڑھا جائے ۔ البتہ ایسے قائل بھی ہیں جو کہتےہیں کہ فلسفہ اور علمی نفسیات کو تعلیم سے دور رکھنا ضروری ہے اور تعلیم میں علوم نقلیہ پر اکتفاء کرنا چاہئے البتہ زمانےکے بدلنے کے ساتھ کلاسیک نظریات کی لہریں جدید نظریات کی موجوں کے ساتھ ٹکرا گئیں ۔ جس کے نتیجے میں تعلیم و تربیت  اور نظام تعلیم میں دین کی دخالت کی مقدار پر تنقید کرنے والے متعدد مکاتب سامنے آگئے ۔  

ہم نے اگرچہ گزشتہ گفتگو میں جب مغربی فلسفے کے مبانی کو بیان کررہے تھے وہاں پر بتادیا تھا کہ ہمارے عرب اور اسلامی ممالک میں مغربی فلسفے کی ایک بڑی تیز لہر ذہنی صلاحیتوں کے لئے تربیتی ورکشاپس اور ترقیاتی بیگ لے کر آرہی ہے لیکن یہ مغرب کی جانب سے داخل ہورہی ہے جس کی بنیاد لبرل سکولرزم پر ہےجس کو وہ آدمی جو سادہ لوح ہے اور ابھی ذہنی اور عقلی تعلیم و تربیت کے لحاظ سے پختہ نہیں وہ  اس سکولر موجوں کی بنیادی جڑوں کو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ اس پر اسلام کے نظام تربیت کے بعض مشترکات کی وجہ سے ایسا رنگ و زینت چڑھانے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وجہ سے سادہ لوح آدمی تمیز نہیں دے سکتا ۔لہذا اسلامی فکری دھارے کو جس اندرونی ناہمواری کا سامنا کرنا پڑا اس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے ، جس کی وجہ سے وہ مغربی پیداوار کے سحر میں مبتلا افراد پر تنقید کرنے اور اسلامی تعلیمی نصاب کے نظریہ سازوں کی ان خامیوں کو اجاگر کرنے کے قابل ہوسکیں ۔ تاکہ دوسرے کو بہانہ نہ ملے کہ وہ اسلامی فکری تعلیمی نظام کو فکری تعلیمی نظام سے ہی نکال دے اور اس کی جگہ یہ مغربی سکولر نظام جانشین بنادے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے بھی دیکھا کہ ہم نے مغربی فلسفوں کے مبانی کو اسلامی فلسفہ کی نسبت  کافی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا  ۔ اس کی درجہ ذیل چند وجوہات ہیں:

ا) ۔عرب اور اسلامی  سامعین کو مغربی فلسفوں کے مبانی سے آگاہ کرنا تاکہ ان کو مغربی فلسفے اور قرآنی نظام تعلیم کے درمیان کیا نقطہ اشتراک ہے اور کس حد تک ان دونوں کے درمیان جدائی پائی جاتی ہے نیز ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے متضاد نقطہ نظر سے واقف ہوجائیں اور جو تعلیم دین اور اس کی اسلامی ثقافت کے ساتھ سازگار ہے اس کو پہچان سکیں۔

ب) ۔ تعلیم و تربیت کے حوالے سے اس کے نظریاتی فورمز میں سوالات اٹھانا اور اسلامی اکیڈمک ثقافت کی ترویج کرنا اس خطرے کو مد نظر رکھتےہوئے کہ آج مغرب کی فیکٹریوں میں تیار کئے ہوئے روشن خیال فلسفے کی تربیت گاہوں سے جوانوں کی جو پیداوار سامنے آئے گی جو بسا اوقات ان کلاسک  مغربی فلسفوں سے بھی دور ہوتے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے ساتھ سازگار ہیں ۔ کیونکہ اسلام کی تعلیمات کا سرچشمہ وحی ہے ۔ بلکہ مغرب سے آنے والے یہ تحفے پراگماٹک فلسفے کے ساتھ سازگار ہوتے ہیں اور ان فلسفوں کا مقصد بھی لبرل سکولر ثقافت کی ترویج ہوتا ہے ۔

ج)۔ تعلیم  سے متعلق جو چیزیں مغرب سے وارد ہوئی ہیں ان پر ضروری توجہ دینا اور ان کے حوالےسے ایک صحیح حل تک پہنچنا ، نیز ان کے مقابلے میں کوئی نعم البدل پیش کرنا ۔

د)۔ ایسے مشترکات اور موافق نکات کو اجاگر کرنا جن کے ذریعے ایک ایسے مشترک نظام تک رسائی حاصل کرنا  ممکن ہو جن کے توسط سے مزیدعلوم ایجاد کئے جاسکیں اور عقلی مفہوم سے متعلق مفاہیم کے میدان میں اسلام کے نقطہ نگاہ سے اختلاف کو ختم کرنے کے بعد اس قابل ہو کہ عالمی سطح پر عملی اعتبار سے پیش کیا جاسکے ۔

ز)۔ مغربی مکاتب فکر کو یہ بتانا کہ کچھ فکری بحثیں جو اسلامی دھاروں میں ہم پر تنقید کرتی ہیں یہ فلسفیانہ تحریک سے وراثت میں ملی ہیں  جو سلفی مغربی فلسفہ سے ناراض ہے۔ یہ وہ افکار ہیں جن کو مغربی فلسفہ کے مجددین نے پھیلایا ہے۔

۲۔عقلی فلسفی تعلیم کے ساتھ دین کا تعلق

اگرچہ دین اسلام تعلیم کے میدان میں دین کے کردار پر تاکید کرتا ہے ، لیکن فلسفہ اور اس کے دین میں دخالت  کے لحاظ سے  نظریات متعدد اقسام کے ہوئے جن کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے :

ا) ۔ مسلمان دانشوروں کی ایک بڑی تعداد قائل ہے کہ دین اور فلسفہ کے درمیان ایک مکمل ہمآہنگی پائی جاتی ہے اسی طرح تشریع کی حکمت اور تعلیم کے مابین بھی سازگاری پائی جاتی ہے ۔ اس ںظریہ کے قائلین الکندی ، فارابی، ابن سینا اور صدر الدین شیرازی ہیں ۔

ب) ۔ انہی مسلم فلاسفہ میں غزالی ہیں جو دین کے ساتھ فلسفہ کے تعلق کو جزئی حد تک سمجھتےہیں ۔ جبکہ ان میں سہروردی اور ان کا اشراقی مدرسہ اور ایسےہی صدرالدین شیرازی اور ان کا مدرسہ  یعنی "الحکمۃ المتعالیۃ "ہے جو حکمت تشریع و عرفان اور فلسفہ کے درمیان مکمل رابطے کے قائل ہیں۔

ج) بعض فلاسفہ کہتے ہیں کہ فلسفہ ایک بے کار علم ہے ۔ انہوں نے دین میں عقل و فلسفہ کوداخل کرنے سے انکار کیا ہے ۔ ان میں  فرید وجدی  کتاب "علی اطلال العالم المادی" کے مؤلف اور ابوالحسن النداوی "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین " کے مؤلف ہیں ۔ ان دونوں کا کہنا ہے  کہ "فلسفے کی دخالت سے تعلیم و تربیت کی ساکھ گر گئی ہے۔ "البتہ یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے فلسفے کو  صرف مغرب سے آنے والے مادی فلسفے میں حصر کیا ہے ۔ جس طرح سے بعض اخوان المسلمین جیسے سید قطب بھی دین میں فلسفے کی دخالت کا انکار کرتے ہیں ۔

احمد رجب الاسمر کہتےہیں: " فلسفہ وہ منظم فکری استدلال ہے جو "اللہ تعالی، کائنات، علت خلقت کائنات اور اللہ تعالی کےساتھ انسان کے ربط و تعلق " کو ثابت کرتا ہے ۔ "

۳۔ اخلاق کا میٹافیزکس کے ساتھ تعلق

جب ہم اسلامی فلسفے کےمبانی کا مطالعہ کرتےہیں تو میٹافیزکس کےاعتبار سے اخلاق کی بحث میں مسلم فلاسفہ دو گروہوں میں منقسم نظر آتے ہیں : اشاعرہ  نظریہ اخلاق کی تاسیس میں صرف دینی موقف سے استناد کے قائل ہوئے ہیں ۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ اخلاق ثبوت و اثبات دونوں مقامات میں دین کی معرفت سے رتبے میں متأخر ہے ۔ انہوں نے "حسن و قبح شرعی " کے نظریے کو مقدم کیا اور حسن و قبح عقل کے ادراک اور اس پر حکم عقل کو حرام قرار دیا ہے ۔

عدلیہ یعنی شیعہ امامیہ اور معتزلہ دوںوں معتقد ہیں کہ خیر و شر کو تمیز دینے اور اس کے ادراک اور حکم کرنے میں عقل بالکل مستقل ہے ۔ وہ کہتےہیں کہ دینی نظام عقلی ادراک کی جانب راہنمائی کرتا ہے ۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ فضیلت و اخلاق کے لحاظ سے عقلی ادراک کا مرتبہ معرفت ،  دینی  کی epistemology سے مقدم ہے ۔

اس بناءپر فلسفہ اخلاق میں اصلی اور بنیادی سوالات عقلی عملی کی مہارت سے ہی حل کئے جائیں گے کیونکہ حسن و قبح اور خیر و شر کے مبادی کو عقل درک کرتی ہے ۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عقل تمام جزئیات کا بھی جواب دے سکتی ہے ۔ عقل کی اس حد تک صلاحیت نہیں بلکہ اس طرح کے جزئیات میں عقل ،  دینی اور وحیانی تعلیم  ومعرفت کی محتاج ہے  اور عقل ، عمل کے میدان اور تشریعی تزاحم کے موقع پر جزئی نواقص اور تفصیلی  احکام کو دینی تعلیمات اور معرفت کے ذریعے مکمل کرتی ہے ۔ اس لئے کہ عقلی مستقلات بہت محدود ہیں ۔ اگرچہ کلیات کے ادراک میں عقل کو علمی اور منطقی اعتبار سے سبقت حاصل ہے ۔

پس  یوں جب عقل اور معرفت دینی دونوں کی تعلیمات مرکب ہوتی ہیں تو اخلاق اپنے رتبے کےلحاظ سے کامل ہوجاتا ہے اور معرفت دینی ہمارے لئے وہ راہ توشہ فراہم کرتی ہے  جس کی روشنی میں  انسان عقل عملی کے مورد میں اولویتوں اور ترجیحات کی تشخیص دیتا ہے اورعقیدہ و بیان دونوں کے لحاظ سے اپنے بلند ترین مقاصد تک پہنچ جاتا ہے ۔

یہاں منطقی اور علمی مراتب کے لحاظ سے ان دونوں باتوں میں ایک جوہری فرق پایا جاتا ہے کہ یہ کہنا کہ کسی عقیدے پر یقین ایک اخلاقی فلسفے کی تھیوری کا باعث بنتا ہے اور یہ کہنا کہ یہ اس مابعد الطبیعاتی عقیدے کا نتیجہ ہے ۔ اس لئے کہ میٹافیزکس کسی خاص اخلاقی نظریہ کے لئے اسباب مہیا نہیں کرتا بلکہ یہ معرفت دینی ہے جس میں اخلاقی معرفت کی علمی جڑیں پائی جاتی ہیں ۔ اس بناء پر حسن و قبح عقلی کا نظریہ اس نظریے کے ساتھ ٹکرا جاتا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ  فلسفہ اخلاق متوقف ہے دینی معرفت کے اوپر " اور یہ وہ بات ہے جس کی ہم بالکل مخالفت کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ شرع اور عقل دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرنے والے ہیں ۔ عقل کے ذریعے کلیات کو ثابت کیا جاتا ہے اور شرع کے ذریعے اس کے جزئیات کو۔

۴۔  اسلامی فلسفہ پر اعتراضات اور ان کا جواب

ایک غلط شبہہ پھیل گیا  ہے کہ اسلامی فلسفہ، عربی اور یونانی فلسفے کی ایک غلط ترکیب اور اس کا غیر پسندیدہ معجون ہے۔ اس معجون کو بعض نے " عربی فلسفے " کا نام دیا اور بعض اس قسم کے فلسفے کے انکاری ہوئے ، ان کا کہنا یہ ہے کہ اس عربی فلسفے کے نظریات و افکار کسی اور فلسفہ پر مبتنی ہیں ۔ جبکہ ایک گروہ اور ہے جس کا یہ کہنا ہے کہ یہ فلسفہ :ارسطو" اور مشائیین کے نظریات کی شرح تک محدود ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قدیم تہذ یبوں چاہے وہ یونان کی ہوں یا ایران کی ایک دوسرے کے ساتھ ملحق ہوتے رہے ۔ ان میں  رائج فلسفے  بعض دوسرے فلسفوں کے اضافے کا سبب بھی بنے ۔ لیکن اسلامی فلسفہ کسی بھی صورت میں دوسرے فلسفوں سےماخوذ نسخہ یا نمونہ نہیں ہے ۔ یہ  جب شروع ہوا اور قرون وسطیٰ میں مسیحی فلسفے پر اثرانداز ہوا اور اس کو مزید فلسفی قواعد و اصول فرہم کیا اور مسیحی فلسفے کے بہت سارے مسائل اور موضوعات کی توضیح و تشریح کی ۔ جس طرح سے اسلامی فلسفے کا لاتینی زبان میں ترجمہ ہوا تو اس سے یورپ اور مسیحی فلسفے پر بھی بڑا اثر پڑا ۔ بلکہ اس فلسفے کو مسلمان فلسفیوں کے ذریعے مزید آگاہی ملی جیسے الکندی، فارابی اور ابن رشد جیسے فلاسفہ کے نظریات اور تشریحات سے ۔ یہاں حصر کر کے نہیں بلکہ بطور مثال ابن خلدون کا نام لیتے ہیں جو عمرانیات کے مؤسس ہیں کہ اس حقیقت کا کوئی منکر بھی نہیں اسی طرح ابن حیان ہیں جو پہلے دانشور ہیں جنہوں نے تجربے کے اصول کو سائنسی انداز میں لاگو کیا اور بوعلی سینا کا نام تو بھلایا نہیں جاسکتا جنہوں نے سب سے پہلے جسمانی ، ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کی درجہ بندی کی اور ان سب پر برتری اور فوقیت تو نبی مکرم حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے جو فلسفہ اسلامیہ کے اصول و مبادی لے کر آئے اور اس کے ستونوں کو یوں مضبوط کیا کہ یہ زندگی اور حکومت کے نظام کی طرح ہوگیا ۔ فلسفہ اسلامیہ کے اوپر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں کی جانب سے ہے جو اس علم کو اس کے مسائل پر صحیح تطبیق نہ کرسکے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس پر اعتراض کی وجہ مادی نگاہ ہے یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ اسلامی فلسفہ ایسے مجہول غیبی امور پر مشتمل ہے جن کی تشریح  اور تطبیق کے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے پیچیدہ حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے ۔ البتہ یہ اعتراض رد کردیا جاتا ہے کیونکہ اس کے اوپر مسلمان اور غیر مسلمان فلاسفہ نے بہت ساری شروحات و تشریحات لکھی ہیں اور چونکہ فلسفہ ایک عقلی فعالیت ہے جو کائنات اور زندگی کو نظریاتی پہلو سے سمجھانا چاہتا ہے ۔ لہذا عقلی تعلیم ہی اس کے تطبیقی میدان میں کار گر ہوسکتی ہے اس لئے یہی طریقہ معین ہے۔ لہذا واضح ہوا کہ یہی عقلی تعلیم ہی فکری فعالیت کا راستہ بتادیتی ہے اور اسے عقل عملی میں منقش کرتی ہے تاکہ سلوک عملی کے طریقہ کار کو کامل اور مضبوط بنایا جاسکے کہ جس کا نام اخلاق ہے ۔ گفتگو کی دوسری قسم میں اسلامی فلسفہ کے نقطہ نگاہ سے انسانی مبانی سے واقفیت حاصل کریں گے ۔ 

۵۔ فلسفہ اسلامیہ میں مبانی کا خلاصہ ذیل میں ذکر کیاجاتا ہے :

ا) انسان اور خالق کے درمیان رابطہ: یہ تعلق عبودیت کا ہے جو ایک ایسے عقیدتی عامل پر قائم ہے جس کی بنیاد یہ ہےکہ اللہ خالق و مربی ہے اور انسان مخلوق  اور محتاج تربیت ۔

ب) انسان اور کائنات کے درمیان رابطہ : یہ رابطہ تسخیر کا ہے جو ایک عامل مکانی پر قائم ہےاور وہ ایک جگہ پر رہنے کے طور طریقوں پر مشتمل ہے جو عبارت ہے پورا کرہ زمین اور اس کے ماحول سے ۔

ج) انسان اور انسان کے درمیان ربطہ : یہ عدل واحسان کا رابطہ کہلاتا ہے جو ایک سماجی عامل کے اوپر قائم ہے  اور یہ وہ رابطہ اور اسلوب ہے جو اسلامی تربیت کے نتیجے میں  انسانوں کے درمیان ظاہر اور کارفرما ہوتا ہے کہ جس کے اندر سارے انسان داخل ہوتے ہیں ۔ 

د) انسان اور زندگی کے درمیان رابطہ : یہ امتحان کا رابطہ ہے یعنی " امتحان اور آزمایش" ۔

ھ) انسان اور آخرت کے درمیان رابطہ : یہ ذمہ داری اور جزاء کا رابطہ ہے جو ایک مدت و زمانہ کے عامل پر قائم ہے اور وہ خود انسان کی عمر کے حساب سے ہے کہ یہ دنیا سے شروع ہوتا ہے اور آخرت تک چلا جاتا ہے جو ایک غیر متناہی مستقبل ہے ۔

اس سادہ سے علمی سفر کے بعد کہ جس میں اسلام اور مختلف  دوسرے فلسفوں کی روشنی میں عقلی تعلیم و تربیت کے مبانی بیان کئے گئے اس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ عقلی نظام تک  پہنچنے کے لئے بقائے باہمی اور تعاون کے پل بنانا ممکن ہے جو محرک کا حامل اور ان دونوں کی خصوصیات کا حامل ہو اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کو دور نہیں کرے۔ یہ اسلامی عقلی نظام، دین اوراخلاقی اقدار کے مطابق علم وثقافت کے میدان میں ایک معاشرے کے لوگوں کو دوسرے کی ثقافت میں ضم ہوئے بغیر اپنے عقلی فلسفہ  پر چلنے کا  اختیار بھی دیتا ہے ۔ بلکہ اختلاف نظر کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسلامی نقطہ نظر کو مد نظر رکھتےہوئے دوسرے کو سب کی بھلائی اور خیرخواہی کی خاطر قبول کرنے کی تاکید بھی کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ وہ آخری دین  ہے جو تمام انسانوں کی جانب بھیجا گیا ہے ۔

 فہرست ومنابع

1: ولترستيس، تاريخ الفلسفة اليونانية، ترجمة مجاهد عبد المنعم مجاهد، ص29.

2: مصباح اليزدي، الايدلويجيا المقارنة، ص 65.

3: نعيم حبيب جعنيني، الفلسفة وتطبيقاتها التربوية، ص131-139.

4: نعيم حبيب جعنيني، الفلسفة وتطبيقاتها التربوية ،ص183-223.

5: اسس الفلسفة والمذاهب الواقعية للعلامة الطباطبائي بتعليقات الشهيد مطهري قد سره.
6:  محمد حسين الطباطبائي مقدمة الشهيد مطهري، اسس الفلسفة ومذاهبها الواقعية، ص10.
7: ابو الفضل عزتي، علاقة الدين بالفلسفة، ص83.

8:  محمد الجعفري، العقل والدين، ص45.

9: محمد حسين طباطبائي، اسس الفلسفة ومذاهبها الواقعية مقدمة الشهيد مطهري، ج 3، ص231.

10: أحمد رجب الأسمر، فلسفة التربية في الإسلام، ص30.

11: دي بور، تاريخ الفلسفة الاسلامية، ترجمة مهدي عبد الهادي ص 41-50.

12عبد الرحمن بدوي، موسوعة الفلسفة ج3، ص11.

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018