10 رجب 1444 هـ   1 فروری 2023 عيسوى 9:42 pm کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن یعنی 10 رجب المرجب سنہ 195 ہجری کو خاندانِ رسالت کے نویں چراغ حضرت امام محمد الجواد علیہ السلام کی ولادت ہوئی، آپ نے 17 سال امامت کے فرائض انجام دیئے اور 25 سال کی عمری میں شہید ہوئے۔
مین مینو

2022-12-01   136

زکوۃ و صدقات فقراء کے عزت مند زندگی کے ذرائع

((خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ)) (التوبة -103)

(اے رسول) آپ ان کے اموال میں سے صدقہ لیجیے، اس کے ذریعے آپ انہیں پاکیزہ اور بابرکت بنائیں اور ان کے حق میں دعا بھی کریں، یقینا آپ کی دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔

زکوۃ ایک بنیادی اسلامی فریضہ ہے،یہ امراء سے لی جاتی ہے اور فقراء میں تقسیم کی جاتی ہے۔یہ اسلام کے پانچ بنیادی اراکین میں شامل ہے اور یہ اسلام کے بنیادی نظریات میں شامل ہے۔اس کے شریعت میں شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فقراء کی ضروریات کو پورا کیا جائے چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی ہوں۔اس سے اسلامی معاشرے میں رہنے والے افراد کے درمیان طبقانی تفاوت ختم ہوتا ہے۔اس کے ذریعے سے اقتصادی مشکلات دور ہوتی ہے ۔زکوۃ کا نظام اسلامی معاشرے میں جرائم کی جڑ کاٹتا ہے اور چوری،قتل،قبضے سمیت کئی برائیوں کو روکتا ہے کیونکہ ان جرائم کی اکثریت اس وقت ہوتی ہے جب ضروریات پوری نہیں ہوتیں یا حد سے بڑھا لالچ ہوتا ہے۔لالچ اور ضروریات کا پورا نہ ہونا سماجی نظام کو خراب کرتا ہے اور وحدت کو توڑنے کے ساتھ ساتھ سماجی ڈھانچے کو تباہ کرتا ہے۔ زکوۃ معاشرے کو تعاون کرنےو الا بناتی ہے اس کے ذریعے معاشرے کے افراد کے درمیان تفاوت ختم ہوتا ہے  اسلام کا ہدف یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کے درمیان تفاوت نہ ہو زکوۃ کا نظام اس کے لیے عملی اقدام ہے۔

زکوۃ معاشرے کے گروہوں کے درمیان مالی فرق کو کم کرتی ہے جو امیروں اور غریبوں میں موجود ہوتے ہیں ایک طرف امیر ہوتے ہیں جن کے پاس وسائل کی بہتاب ہوتی ہے اور دوسری طرف ففیر ہوتے ہیں جن کا گزر بسر ہونا بھی مشکل ہو رہا ہوتا ہے۔یہ سب اس لیے ہو رہا ہوتا ہے ۔معاشرے میں سرمائے کی گردش بہت ضروری ہےاس سے معاشرے میں یکجہتی آتی ہے،معاشرے کے تضادات جس میں عدم مساوات ،تنازعات،مشکلات اور طبقاتی نظام ہیں ختم ہوتے ہیں۔معاشرے کے تضادات مجموعی طور پر انسانی معاشرے پر منفی اثر ڈالتے ہیں  ملت اسلامیہ عالمی انسانی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

((يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ)) (الحجرات -13)

 اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقینا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، اللہ یقینا خوب جاننے والا، باخبر ہے۔

انسانوں کے درمیان بہت زیادہ مشترکات ہیں جو بہت ہی واضح ہیں۔

غلے اور حیوانات پر زکوۃ  فرض ہے اور اس کا پیمانہ بھی معلوم ہے جو امیر لوگوں پر واجب ہے وہ ادا کرتے ہیں زکوۃ کا مقصد یہ ہے کہ  معاشرے میں معاشی ناہمواری کا خاتمہ ہو۔اس کے ذریعے لوگوں کی کفالت کی جاتی ہے۔یہ کفالت اس لیے کی جاتی ہے کہ فقراء اور محتاج لوگوں کو  مادی اور معنوی مسائل سے نجات دے۔محتاج اور فقیر لوگ محتاج ہوتے ہیں اسلام ان کی عزت و آبرو کا خیال رکھتا ہے اور ایسے لوگوں کی ضروریات کے پورا نہ کرنے کو معصیت شمار کرتا ہے۔

زکوۃ دینا امیر لوگوں پر ضروری ہے اور اسلام اس پر عمل کرنے کا اہتمام کرتا ہے اور شریعت اسلامی اس کا حکم دیتی ہےکہ  متعلقہ نصاب کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے زکوۃ دی جائے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

((إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ)) (البقرة-277)

البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل بجا لائیں نیز نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

جو لوگ زکوۃ لیتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اللہ کی نظر میں ان کا حق ہے جو اس نے فرض کیا ہےاس کے ذریعے اللہ نے غریبوں کو عزت کی زندگی جینے کا عملی راستہ دیا ہے۔اس کے ذریعے اللہ نے عزت کے ساتھ غریبوں کی ضروریات کو پورا کیا ہے۔غریب اپنی ضروریات پوری کریں اور اللہ کی اطاعت کریں ۔اس طرح اللہ نے ان لوگوں کا خیال رکھا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

((وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ قال عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فسأكتبها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ)) (الأعراف -156)

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی مقرر فرما ہم نے تیری طرف رجوع کر لیا ہے،ارشاد فرمایا: عذاب تو جسے میں چاہتا ہوں دیتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے، پس اسے میں ان لوگوں کے لیے مقرر کر دوں گا جو تقویٰ رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔

ایک بہتر مسلم معاشرے کی تعمیر کے لیے امیر سے زکوۃ لے کر غریب کو دینا بہترین تعاون ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

((والمؤمنون وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ)) (التوبة-71)

اور مومن مرد اور مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے بہی خواہ ہیں، وہ نیک کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا، بے شک اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے ۔

اس کے ذریعے بہت سی مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔اس کو قرآن مجید نے باہمی تعاون  کا کہا ہے اس سے معاملات کی اصلاح ہوتی ہے اور  انسان بحرانوں پر اتحاد اور تعاون سے قابو پاتے ہیں۔

﴿ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾ (المائدة-2)

(یاد رکھو) نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو

یہ زکوۃ کی قدر و منزلت ہے کہ اللہ نے اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیا ہے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

((وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ)) (البقرة-43)

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو ۔

قرآن مجید نے بڑی صراحت کے ساتھ ان لوگوں کی تفصیل بتا دی ہے جنہیں زکوۃ دی جاتی سکتی ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے:

((إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾[التوبة-60)

یہ صدقات تو صرف فقیروں، مساکین اور صدقات کے کام کرنے والوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مقصود ہو اور غلاموں کی آزادی اور قرضداروں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہیں، یہ اللہ کی طرف سے ایک مقرر حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔

غریبوں،مسکینوں کو دی جائے،جن لوگوں نے تھوڑا عرصہ پہلے اسلام قبول کیا ہے ان کو دی جائے۔وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں  انہیں  دی جائے تاکہ ان کے قلوب اسلام  کے لیے  نرم ہو جائیں۔وہ مقروض جو قرض ادا نہیں کر سکتےاسی طرح وہ مسافر  جو واپس گھر نہیں جا سکتے اور وطن جانے کے لیے انہیں مدد کی ضرورت ہے انہیں زکوۃ دی جائے۔قرآن مجید نے مصارف زکوۃ کو مزید تفصیل سے بیان فرمایا ہے:

((لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ)) (البقرة -177)

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ جو کوئی اللہ، روز قیامت، فرشتوں، کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور اپنا پسندیدہ مال قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے۔

اس آیت مجیدہ میں مستحقین کو محتاج رشتہ داروں سے شروع کیا ہے اس سے رشتہ داروں میں رابطے کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے اس کے بعد یتیموں کا ذکر کیا جن کا کوئی آسرا نہیں ہوتا  اور وہ دن گزارنے کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018