28 صفر 1444 هـ   25 ستمبر 2022 عيسوى 9:08 pm کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن (28 صفر) سنہ 11 ہجری کو محمد بن عبد اللہ، خاتم النبیین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 63 سال کی عمر میں شہید ہوگئے ۔
مین مینو

2022-09-09   65

نبی اکرم ﷺ کے جانشین امام و خلیفہ کی بنیادی ذمہ داریاں

جب ہم لفظ امام پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ  قبل از اسلام  کے قدیم عرب باشندے اور  قرآن  کریم نے اس لفظ کا اس کے مصادیق میں استعمال کیا ہے۔جب ہم ان مصادیق پر غو کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ اس لفظ کے کئی مصادیق ہیں اور یہ سب کے لیے مشترک طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے معانی میں سے قیادت کرنا،راستہ دکھانا  اور مدد کرنے کے ہیں جس میں بنیادی طور پر کسی چیز کو اس طرح سے  حرکت دینا کہ وہ اپنے منزل مقصود تک پہنچ جائے جس تک اسے پہنچنا چاہیے۔

ہم اپنی بحث کو فقط اپنی موضوع تک محدود رکھتے ہیں ہمارا موضوع یہ تھا کہ جو نبی اکرمﷺ کا نائب او ران کا جانشین ہو گا اس  کیا دائرہ کار ہے اور اس  کے لیے ضروری قرار دیا گیا وظیفہ کیا ہے؟۔دوسرے الفاظ میں کہیں تو اس امام میں   کیا صلاحیتیں ہونی چاہیں جو نبی اکرمﷺ کا جانشین بن جائے گا۔اس سے بھی واضح کہا جائے تو کون نبی اکرمﷺ کا قائم مقام ہو گا؟

اس بحث میں داخل ہونےسے پہلے اگر اس کے تاریخی پس منظر میں غور و فکر کر لیں تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ  اس معاملے میں امت کے درمیان دو آراء پائی جاتی ہیں۔

پہلی رائے یہ ہے کہ امام رسولﷺ کا خلیفہ اور جانشین ہوتا ہےاس نے نبی اکرمﷺ کی امت کو سنبھالنا اور امت کی مصلحتوں کی حفاظت کرنی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ اس بات کا بھی ذمہ دار ہونا ہے کہ نبی اکرمﷺ جو تعلیمات لے کر آئے ہیں اس کی جزئیات کے سمجھنے والا ہو یعنی اس نے ولایت دینی کو بھی سنبھالنا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ نبی اکرمﷺ کا جانشین امور رسالت کو سب سے زیادہ جاننےو الا ہو اور اس کا تفصیلی علم رکھتا ہو۔یہ اس وقت ممکن ہے جب یہ امام اور نبی کا یہ جانشین پرودگار کی طرف سے معین ہو اور نبی اکرمﷺ نے اس کا واضح الفاظ میں اعلان کر دیا ہو۔اس قول کے قائلین کے مطابق ایسے میں اس امام کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہو گی اور اس کی نافرمانی شرعا حرام ہو گی۔جو لوگ اس نظریہ کے حامل ہیں وہ قول و فعل میں اس نقطہ نظر کو اپناتے ہیں، انہوں نے پوری تاریخ میں ہر اس شخص کو عملی طور پر رد کیا ہے جس نے قوم کی قیادت کا دعوی  کیا اور ان  شرائط کو  پورانہیں کیا۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ "امام" کا استعمال   دوسروں کے مقابلہ  میں زیادہ کرتے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں آج دنیا  مذہب اہلبیتؑ کے پیروکار اور شیعہ کے نام سے جانتی ہے۔شیعہ ائمہ کے فرامین کی اطاعت و پیروی کرتے ہیں اور اس معاملے میں شیعہ کے دیگر کئی مکاتب جیسے معتزلہ سے یہی اختلاف ہے۔

دوسری رائے یہ ہے کہ رسولﷺ کے خلیفہ کا کام امت کے مصالح کا خیال رکھنا ہے  او اس کے ساتھ ساتھ وہ امت اور افراد کے درمیان دین  کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہے یعنی دینی قیادت بھی اس کے کاندھوں پر ہو گی۔کسی کا یہ عقیدہ نہیں کہ جسے خلفیہ بنایا جا رہا ہے وہ سب سے زیادہ اعلم ہو اور نبی اکرمﷺ کی ذمہ داریوں کو سب سے زیادہ سمجھنے والا ہو۔اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اسے اللہ تعالی کی طرف سے منتخب ہوا ہونا بھی ضروری نہیں مانتے۔بلکہ ان کی رائے یہ ہے کہ لوگ اپنے درمیان سے کسی کو خلیفہ بنا لیتے ہیں۔خلیفہ کے بنانے کا یہ عمل مشورے کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے اس رائے کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ امام کی سیاسی اور دینی امور میں اطاعت فرض ہے اور اس کی اطاعت سے نکلنا گناہ ہے۔یہ لوگ اپنی اصطلاح میں امام  کے لیے لفظ خلیفہ کا استعمال کرتے ہیں۔انہیں معاشرے میں اہل سنت و الجماعت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہم اس قول کے قائلین بعض بڑے اہل علم کی رائے انہی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔ابن فورک  لکھا ہے جس میں اشعری عقیدے کی وضاحت ہوتی ہے اشعری کہتے ہیں خلافت اصل میں نبی اکرمﷺ کی جگہ بیٹھنا ہے احکام کو نافذ کرنے اور حدود کے قائم کرنے کے لیے،خراج اکٹھا کرنے کے لیے،مال کی حفاظت کے لیے،مظلوم کی مدد کے لیے ،ظالموں کو ظلم سے روکنے کے لیے اور اس کے علاوہ بھی ان امور سے روکنے کے لیے جو شریعت کے خلاف ہوں۔یہ خلیفہ امت کا ایک فرد ہو گا اور وہ کتاب و سنت میں دیے گئے حقوق کو ادا کرے گا اور اس پر امت کا اتفاق ہوگا،جس پر عقل اور قیاس سمیت استنباط کے اصول دلالت کریں گے۔ (مجرّد مقالات الشيخ أبي الحسن الأشعري، محمد بن الحسن بن فورَك، ص 181)

القاضي عضد الدِّين الإيجي کہتے ہیں انہی کے الفاظ میں بہتر ہے یوں کہا جائےیہ نبی اکرﷺ کی جگہ  لینا ہے دین کو قائم کرنے  کے لیے  اور اس کی اتباع کرنا سارے امت کے لیے ضروری ہے۔ المواقف في علم الكلام، عبد الرحمان بن أحمد  الإيجي، ص 395

ابن خلدون نے مقدمہ میں اس پر بحث کی ہے ہم اسی کے الفاظ میں اختصار سے ذکر کر دیتے ہیں۔یہ خلافت در حقیقت دینی اور اور  دنیا کے سیاسی معاملات میں صاحب شریعت کا نائب ہونا ہے۔اسے سمجھیں ہم اس پر بعد میں بھی آنے والے مباحث میں اس پر تفصیل سے لکھیں گے۔اس  سے چند سطریں بعد  ابن خلدون لکھتے ہیں ہم نے خلافت کی حقیقت کو بیان کر دیا ہے کہ یہ دراصل صاحب شریعت کی دین کی حفاظت اور دنیا کی دین کے مطابق سیاست میں نیابت کو کہتے ہیں اسی کو خلیفہ،امام اور بعد والوں نے سلطان کا نام دیا ہے جب اس میں بہت زیادہ لوگ حکمران بن گئے ،ان میں بیعت کی شرائط نہیں پائی جاتی تھیں اور ہر غلبہ اختیار کر لینے والی کی بیعت کی جانے لگی۔ مقدمة ابن خلدون، عبد الرحمان بن محمد، ج 1، ص 365-366)

ان پیش کردہ مطالب پر غور و فکر کیا جائے تو یہ بات بہت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ امامت و خلافت کو سیاسی منصب میں محدود کرنے کی سعی کرتے ہیں  ۔ان کا تصور یہ ہے کہ امامت و خلافت ایسا سیاسی قیادت  کا منصب ہے جس کی یہ حیثیت اس کی دینی تشخص سے بڑی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ خلافت و امامت میں اسلام کے علم کی شرط نہیں  رکھتے اور نہ ہی یہ اس بات کو ضروری قرار دیتے ہیں کہ جو بھی امام و خلیفہ ہو وہ صاحب شریعت کی طرف سے ہونا چاہیے۔

اسی مناسبت سے، ان حدود کو متعین کرنے کے لیے جو عمومی طور پر امامت کے مقام کو متعین کرتی ہیں، اور اس طرح امام کے عہدے کےوظائف کو متعین کرتی ہیں، ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریاں کو جاننا ہو گا جو امام کو معین کرتے ہیں تاکہ ان کے دنیا سے جانے کے بعد وہ ان امور معینہ کو انجام دے سکیں۔

درست بات یہ ہے کہ اگر ہم امام اور خلیفہ کی دونوں طرف کی تعریفوں پر غور کریں تو یہ بات سامناے آ جائے گی کہ یہ ایک دوسرے سے کافی ملتی جلتی  بھی ہیں لیکن جب ہم اس کی تطبیق کی طرف جائیں گے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔دونوں فریق جب عملی طور پر امام کی بات کرتے ہیں تو ہر ایک کا تصور الگ ہو جاتا ہے اور کسی واضح اور مشترکہ تعریف کا امکان نہیں رہتا کہ جس کی روشنی میں امام کے وظائف کو آسانی سے بیان کر سکیں۔اس کے بعد میں امت اور امام کے تعلق کو بیان کیا جائے وہ امت جو امام کی پیروی کرنا چاہتی ہے۔

اگر ہم ان وظائف اور ذمہ داریوں کو شمار کرنا چاہیں جو اللہ تعالی نے نبی اکرمﷺ کو دی ہیں اور جن پر اکثر امت کا اتفاق ہے تو ہم ان کی دو قسمیں پاتے ہیں:

پہلی قسم یہ ہے کہ  نبی ﷺ کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ اللہ تعالی سے پیغام لیں اور اسے لوگوں تک پہنچا دیں اور اس میں پوری طاقت اور تمام امکانات سے استفادہ کریں۔اس سے پھر آگے کافی ساری ذمہ داریاں متفرع ہوتی ہیں۔یہ ذمہ داری نبی اکرمﷺ سے پوری کوشش اور  تمام تر صلاحیت کو بروکار لانے کا تقاضا کرتی ہےجن کے ذریعے  اللہ کا یہ پیغام لوگوں تک پہنچایا جائے۔یہ بات اس  کا تقاضا کرتی ہے کہ نبی اکرمﷺ کو ان تمام تفاصیل کا علم ہوجو رسالت کے لیے ضروری ہیں اور جن کے پہنچانے کی ذمہ داری آپﷺ کو دی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے آپﷺ کو کچھ خاص صفات سے نوازا ہے جنہیں صفات کمالیہ کہا جاتا ہے۔

یہ بات  واضح ہے کہ اسلام کا پیغام ایسا پیغام ہے جو فرد کو منظم کرنے کا عملی  نظام رکھتا ہے۔اسی طرح اس پیغام کا دوسرا حصہ وہ ہے جو امت کو منظم کرنے اور انہیں حرکت میں لانے کا نظام دیتا ہے۔نبی ﷺ کی ذمہ داری بھی دو طرح سے تربیت کرنے کی ہے ایک انفرادی طور پر اور دوسری اجتماعی طور پر منظم کرنا ۔جب ہم سیرت طیبہ  کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات معلوم پڑتی ہے کہ  عملی طور پر آپﷺ نے  انسان کی ان امور میں مکمل رہنمائی کی جو انسانی کو انفرادی طور پر منظم کرتے ہیں۔اسی طرح ہجرت مدینہ کے بعد آپﷺ نے ایک ریاست قائم  کی جس میں آپ ﷺ نے انسان کو انفرادی اور اجتماعی ہر دو طرح سے منظم فرمایا۔آپ ﷺ وہ عظیم قائد تھے جنہوں نے انفردی اور اجتماعی تربیت کی بنیادوں کو قائم فرمایا۔

جب ہم غور و فکر کریں تو اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ اللہ سے احکامات کو لینا اور  اور لوگوں کو پہنچانا یہ نبی اکرمﷺ پر ختم ہو چکا ہے۔ نبی کی خلافت کے حوالے سے امت میں جو دو آراء میں موجود ہیں ہر رائے والا اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرمﷺ پر اللہ کی طرف سے احکامات آنے والا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے اور یہ خلیفہ یا امام کی ذمہ داری نہیں ہے۔کوئی بھی ایساعالم ایسا نہیں ہے جو  کہے کہ اب بھی ایسا ہوتا ہے قرآن مجیدمیں اللہ تعالی نے فرمایا دیا:

((الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا))(المائدة ـ3)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

اس آیت مجیدہ میں اللہ تعالی نے یہ واضح کر دیا کہ  اس نے اپنی نعمتوں کو تمام کر دیا ہے ،دین کو مکمل کر دیا ہے اور  یہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنا وظیفہ  خوش اسلوبی سے بیان کر دیا ہے۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ سارا امر تبلیغ اللہ کی نگرانی میں انجام پایا۔

جہاں تک دوسری قسم کا تعلق ہے اس  کے مطابق  نبی ﷺ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کو بیان کریں ان جزئیات سے آگاہ کریں اور ان کی تشریح کریں ۔اس کے ساتھ ساتے وہ جو کچھ لوگوں کو بتائیں اس کی عملی طور پر بھی رہنمائی کریں۔یہ رہنمائی اور یہ توضیح کرنا  صرف اقوال کے ذریعے نظریاتی طور پر ہو یا عمل کر کے احکام کو بتانا ہو۔امامت و خلافت کی دونوں تعبیروں کے ماننے والوں کے مطابق احکام کا بیان کرنا اور ان کی تشریح و توضیح یہ نبی کے جانشین خلیفہ یا امام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور امت کی رہنمائی کرے۔یہ امام کی ہر تعریف کی  روشنی میں ذمہ داری ہے چاہے امام سیاسی  رہنمائی  کے معنی میں ہو یا امام دینی رہنما کے معنی ہو۔جب ہم عملی طور پر اس کی بات کریں گے دو دوسرے قول کے قائلین  امام یا خلیفہ کے لیے  اس رہنمائی کو ضروری خیال نہیں کرتے۔وہ ان شرائط کو خلیفہ اور امام کے لیے ضروری خیال نہیں کرتے جن کی بنیاد پر تربیت کا یہ عمل وقوع پذیر ہونا ہے۔جیسے وہ خلیفہ کے لیے  اعلم ہونے اور علوم جو نبوت کی میراث ہیں ان کو خلیفہ کے لیے ضروری خیال نہیں کرتے۔

اس طرح  خلافت کی دونوں تعریفوں میں پہلا فرق ظاہر ہو جاتاہے جو کہ امام کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے اور یہ ایک عملی فرق ہے۔جو شخص بھی خلیفہ بننا چاہتا ہے یہ فرق اس کی شرائط پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے بہت سے عملی نتائج ہیں۔جب خلیفہ میں عالم ہونے کی شرط ہی نہیں ہے تو پہلی تعریف کے قائلین ایسے  شخص کو بطور خلیفہ واجب الاطاعت تسلیم نہیں کرتے۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ کی رحلت کے بعد بہت سے لوگوں نے اس منصب کا دعوی کیا مگر انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا گیا کیونکہ ان میں یہ شرائط نہیں پائی جاتی تھیں۔اس وجہ سے   دوسری تعریف والوں نے لاکھوں لوگوں کو اس بات پر قتل کیا  یوں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ خلافت کی تعریف کے عملی اثرات ہیں۔

خلافت کی ان دونوں تعریفوں میں دوسرا فرق  یہ ہے کہ خلیفہ یا امام کی ذمہ داریوںمیں بھی فرق  آ جاتا ہے دوسری تعریف کی رو سے خلیفہ  اس امت کی قیادت فقط اور فقط سیاسی امور میں کرے گا  کیونکہ اس میں انہی امور میں قیادت کی صلاحیت ہو گی اور وہ مذہبی امور میں قیادت نہیں کرے گا حالانکہ دیکھا جائے تو سیاسی قیادت بھی دینی قیادت کی بنیاد پر ہی کھڑی ہوتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نبی کی خلافت  ہے جس کی بنیاد ان کے پیغام میں ہے ۔یہ لوگ امام کے اللہ کی طرف سے منصوص ہونے کی بھی  نفی کرتے ہیں  اسی طرح یہ لوگ  خلیفہ میں اپنے عصر کے تمام لوگوں سے زیادہ صاحب علم ہونے کی بھی نفی کرتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں ہے۔

جب ہم دوسرے قول کے قائلیں کی رائے میں غور و فکر کریں گے تو درست بات معلوم ہو جائے گی۔اسی طرح ہم یہ ملاحظہ کریں گے  کہ مفہوم خلافت و امامت میں جو فرق اور اس کے افراد میں تطبیق کا جو مسئلہ دوسری تعریف کے قائلین کو آتاہے اس  کی وجہ سے خلافت و امامت کے دعویداروں میں تعارض ہو جاتا ہے اور  اسلامی تاریخ میں اس کے بہت سے واقعات ملاحظہ کرتے ہیں۔

وہ لوگ جنہوں نے خلافت کا دوسرا معنی کیا ہے وہ ان شرائط کو ضروری قرار نہیں دیتے جو نبی اکرمﷺ کے جانشین اور خلیفہ کے لیے ہونا ضروری ہیں اور عقل جن کا تقاضا کرتی ہے کہ جو بھی نبی کا جانشین ہو اس میں یہ خصوصیات ہونی چاہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض اوقات ایسی صورتحال سے دوچار ہوئے جو قیادت اور خلافت کے تصور کے تقاضوں اور شرائط  سےمتضاد تھیں۔اس تضاد کی وجہ سے انہوں نے نبی اکرمﷺ کے جانشین کے تصور کو ہی تبدیل کر دیا۔انہوں نے خلیفہ کےلیے اعلم ہونے کی شرط کا ہی انکار کر دیا۔اصل بات  یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کا حق ہے کہ وہ جسے چاہے زمین پر خلیفہ اور جانشین نامزد کرے۔جب خلیفہ کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی گئی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی فاسق و فاجر حکمران بن کر خلافت کا عہدہ سنبھال لے اور اس کی اطاعت کو شرعی طور پر لازم کر دیا جائے۔ابن خلدون کا قول اسی طرف اشارہ ہے وہ کہتا ہے کہ خلیفہ کو متاخرین نے سلطان کا نام دیا ہے کیونکہ اس میں کوئی خصوصیات ہی نہیں ہیں اور لوگ مجبور ہیں کہ اس غلبہ  حاصل کر لینےو الے کی بیعت کریں درحالانکہ اس میں شرائط ہی موجود نہیں ہیں۔خلافت کی دوسری تعبیر کے قائلین کا کوئی پختہ نظریہ نہیں ہے بلکہ جیسے ہی کہیں  خلافت و امامت قائم ہوتا دیکھتے ہیں یہ اسے مان لیتے  ہیں جیسا خلیفہ و امام غلبہ اختیا کر لے ان کے نزدیک خلیفہ کا مفہوم تبدیل کر دیا جاتا ہے۔درحالانکہ غور و فکر کیا جائے تو خلافت و امامت کا مفہوم ایسا نہیں ہے  کہ جو حالات کے تبدیل ہوتے تبدیل کر دیا جائے۔اصل یہ ہے کہ امامت و خلافت کا مفہوم ایک ثابت چیز ہے جو امام و خلیفہ بنے اسے اس مفہوم کے مطابق ہونا چاہیے نہ یہ کہ خلیفہ کو دیکھ کر امامت و خلافت کا مفہوم ہی تبدیل کر لیا جائے۔خلافت و امامت کے مفہوم کی شرائط بڑی واضح ہیں۔ہر انسانی منصب  کی شرائط متعین ہوتی اور پوری انسانی تاریخ میں یہی ہوتے آیا  ہے کہ شرائط متعین ہیں جو بھی شخص آئے وہ ان شرائط پر پورا اترے اسے یہ منصب مل جائے گا۔

خلاصہ

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ امام جو نبی اکرمﷺ کا خلیفہ بنتا ہے  اس کی ذمہ داری وہی ہے جو ہم نے دوسرے قول میں بیان کی ہے۔ ہم ابن خلدون کی تعریف میں خلاصہ کچھ یوں کر سکتے ہیں کہ یہ صاحب الشریعہ  کی نیابت میں دین کی حفاظت اور دنیا کی سیاست کے تحفظ  کا نام ہے۔اس لیے خلیفہ دنیا میں بسنے والے تمام  افراد امت کا رہنما بن جاتا ہے اور ان کی دینی اور دنیاوی امور میں رہنائی کرتا ہے۔

امامت و خلافت کے اس منصب پر قرآن مجید کی یہ آیت مجیدہ دلالت کرتی ہے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا))(النساء ـ 59)

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا۔

اس آیت مجیدہ کا ملاحظہ کریں تو پرودگار اس میں  سب مومنین کو  پکار کر  یہ حکم دے رہے ہیں  اور یہ مسئلہ کی اہمیت کی وجہ سے ہے اور اس کے بعد اللہ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے،اس کے بعد نبی اکرمﷺکی اطاعت کو فرض کیا  گیا ہے ایک بات پر غور کی ضرورت ہے  کہ اللہ  اور رسولﷺکی اطاعت کے درمیان  اطاعت  کو فرض قرار دیتے ہوئے اطیعوا کا تکرار کیا گیا ہے،جبکہ نبی اکرمﷺاور  اولی الامر کی اطاعت میں  اس کا تکرار نہیں ہے بلکہ صرف ایک بار ہی لفظ اطیعوا آیا ہے ا س سے پتہ چلتا ہے کہ نبی اکرم ﷺاور اللہ کی اطاعت میں رتبے کا فرق ہے۔اللہ اور اس کے رسول  ﷺکی اطاعت کا رتبہ الگ ہے اور اولی الامر کی اطاعت کا رتبہ الگ ہے۔نبی ﷺاور اولی الامر کے لیے ایک ہی بات اطیعوا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے  اولی الامر کی اطاعت اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت سے درجے میں فرق رکھتی ہے یہاں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ  اطاعت اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا ادامہ و  پرتو ہے اور یہ اطاعت اللہ اور رسول ﷺکے مقابلے میں نہیں ہے۔یہ اس بات کی نشاندہی بھی ہے کہ امام کی ذمہ داریاں در اصل صرف نبوت کی بعض ذمہ داریوں کا  ادامہ ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالی نے ان مسائل کو حل کرنے کا طریقہ بتایا ہے جو ممکنہ طور پر پیش آ سکتے  تھے۔اللہ نے تنازعات میں اولی الامر کا ذکر نہیں فرمایا  بلکہ اس کی اطاعت کا  حکم فرمایا۔جب امت میں تنازعات پیدا ہو جائیں  اور اجتماعی نظام  میں خلل آ رہا ہو تو جو طریقہ قرآن اور نبی اکرم ﷺنے اس کے حل کا دیا ہے اس کی دو قسمیں ہیں:

ایک تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ تنازعہ خود اس امام اور لوگوں کے درمیان ہو کہ نبی اکرمﷺ کے بعد جو امامت و ولایت کا دعویدار ہے۔

دوسرا یہ ہے کہ امت کے دو گروہوں میں تنازعہ ہو گیا  اور جب انہوں نے  اسلامی حکم کے لیے اولی الامر سے رجوع کیا جس کی اطاعت اللہ نے تمام مومنین پر فرض  کی تھی  اور اولی الامر نے  ایک حکم جاری کر دیا۔اب ولی الامر اور  ایک گروہ کے درمیان اس پر تنازع ہو گیا اور ایک گروہ نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔

اب یہاں پر جب لوگوں میں  اس اختلاف کو جو تنازع کی صورت اختیار کرنے کی حد تک پہنچ سکتا ہے  اسے ختم کرنا ہو گا۔جب تنازع پیدا ہو گیا ہے تو اس صورت میں الاولی الامر  لوگوں کے درمیان اللہ کےحکم اور نبی اکرم ﷺکے فرمان کی روشنی میں فیصلہ کرگے۔

حقیقی اولی الامر ہوتا ہی وہی ہے جو اللہ کے احکامات کے مطابق امت کے درمیان فیصلے کرتا ہے۔اس پر یہ فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے احکامات کی روشنی میں فیصلے کرے۔بعض لوگ  شک کرتے تھے اور نبی اکرم ﷺسے یہ سوال کیا کرتے تھے کہ  کیا یہ آپﷺ کا  حکم ہے  یا اللہ کا حکم ہے؟ان کے شک کے بعد اللہ نے قرآن مجید میں بہت سی آیات میں اپنی اور اپنے نبیﷺ کی اطاعت کو ضروری قرار دیا۔اس لیے اولی الامر کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام امور کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے فرمان کی روشنی میں انجام دے۔حضرت علیؑ نے خوارج اور ان تمام لوگوں کے ساتھ جو آپؑ کے خلاف نکلے اسی  کے مطابق عمل کیا۔

مذکورہ آیت کے آخری حصے میں اللہ تعالی یہ  بتاتا ہے کہ اس پر عمل کرنا تمہارے لیے بھلائی اور خیر کا باعث ہے:  

((ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا))

بھلائی اسی میں ہے اور انجام بھی اسی کا زیادہ بہتر ہے۔

یعنی جب لوگوں میں جھگڑا ہو جائے تو  اس طریقہ کار کو فالو کرکے اسے ختم کرنے میں ہی امت کی بھلائی ہے۔

بحث زیادہ پھیل نہ جائے اس لیے ہم اسے یہیں پر ختم  کرتے ہیں اور اسی کو کافی سمجھتے ہیں ورنہ یہاں پر بہت سی آیات کے ذریعے بحث ہو سکتی تھی اور اس موضوع پر تمام  امت مسلمہ کے پاس بہت سی احادیث بھی ہیں جن سے استفادہ ہو سکتا تھا۔

اب ہم اصل  بحث کی طرف آتے ہیں  اس طرح کی ذمہ داریاں جو امت کے سیاسی اور اجتماعی  امور کو چلانے کے لیے اہم   ہیں ان  کو نبی رحمتﷺ کی تعلیمات کے مطابق چلانا  ہے۔اسی طرح یہ دینی رہنمائی اور تمام مسلمانوں  کی عقلا اور شرعی نصوص سے ثابت ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے شخص کو امامت  و خلافت کی ذمہ داری دیں جو ان کی شرائط پر پورا اترتا ہو۔اس کی تفصیلات بڑی کتب میں موجود ہیں کہ اسے سب سے متقی،سب سے بڑا منصف  ہونا چاہیے  تاکہ وہ تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں فیصلے کر سکے۔یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ احکام دین کو سمجھنے والا ہو تاکہ ان کا نفاذ کر سکے۔یہ وہ  ذمہ داریاں ہیں جو دراصل نبیﷺ کی تھیں اور آپ کی غیر موجودگی میں اس خلیفہ یا امام کی ہوں گی جو آپ کا نائب ہو گا۔وہی عملی طور پر امت میں  تعلیمات رسالت کو عام کرے گا۔  

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018