28 صفر 1444 هـ   25 ستمبر 2022 عيسوى 8:14 pm کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن (28 صفر) سنہ 11 ہجری کو محمد بن عبد اللہ، خاتم النبیین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 63 سال کی عمر میں شہید ہوگئے ۔
مین مینو

2022-08-29   56

قرآن کریم کی تعریف

قرآن کو اللہ تعالی نے فرشتہ وحی حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ پر نازل فرمایا۔مسلمان قرآن کو مقدس ترین کتاب سمجھتے ہیں جس کے تمام الفاظ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کیے گئے ہیں اوراس میں درج تمام احکام اللہ تعالی کی طرف سے  آئے ہیں۔قرآن مجید ہر طرح کی تحریف سے پاک ہے۔ نبی اکرمﷺ بھی اس میں ایک لفظ کی کمی بیشی نہیں کر سکتے، اسی طرح دنیا کی کوئی مخلوق بھی اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کر سکتی۔قرآن مجید اللہ تعالی نے آسمانوں سے اپنے نبی حضرت محمدﷺ پر نازل فرمایا تاکہ آپﷺ اس کے پیغام کو تمام انسانیت تک پہنچائیں۔قرآن ہر ایمان لانے والے کے لیے مصدر اول کی حیثیت رکھتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی ہدایت کا انتظام کیا ہے۔

قرآن مجید کی انفرادیت اور اس کا ایک امتیاز یہ ہے کہ اس کے تمام الفاظ اور اس کے تمام احکامات اللہ تعالی کی طرف سے ہیں اور اس میں کسی انسان کو کوئی دخالت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی انسان اس میں کسی قسم کی کوئی کمی بیشی کر سکتا ہے۔اس  میں تمام انسانوں کی حیثیت فقط اور فقط پہنچانے والے کی ہے۔لفظ قرآن کا  لغوی یا اصطلاحی اطلاق کیا ہے ؟مسلمان اسے کس میں استعمال کرتے ہیں؟کبھی اس سے خاص لفظ مراد لیا جاتا ہے اور کبھی پوری توجہ معنی پر ہوتی ہے اور کبھی اس سے مراد لفظ اور معنی دونوں ہوتے ہیں۔

قرآن مجید میں یہ حکم واضح طورپر بیان کیا گیا ہے کہ اسے بغیروضو کے چھو نہیں سکتے یہ الفاظ سے تعلق رکھتا ہے اس کا معانی سے تعلق نہیں ہے کیونکہ معانی کو اس طرح ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔قرآن مجید کی آیات میں جو معانی بیان ہوئے ہیں ان کے مطابق عمل کرنے کا تعلق  معانی سے ہے الفاظ سے نہیں ہے کیونکہ حکم معنی سے متعلق ہوتا ہے لفظ سے متعلق نہیں ہوتا معانی الفاظ کے بعد آتے ہیں۔بعض احکام الفاظ اور معانی دونوں سے متعلق ہوتے ہیں جیسے اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اس میں الفاظ اور معانی دونوں شامل ہیں کسی ایک پر اکتفا نہیں ہوگا۔

قرآن کے لغوی اور اصطلاحی معانی

قرآن مجید کی اصطلاحی تعریف کو بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اس کی لغوی تعریف کو بیان کریں اور اس کے لفظی اشتقاق کی وضاحت کریں۔مسلمانوں کے درمیان اس لفظ کی ماہیت میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ یہ کسی سے مشتق ہے یا اس کو اسی طرح وضع کیا گیاہے؟ اس کے جواب میں دو قول سامنے آتے ہیں:

پہلا قول یہ ہے کہ لفظ قرآن بغیر کسی اشتقاق کے ہے اوراللہ تعالی کے کلام پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جیسے الفاظ سے لوگوں کے نام رکھ دیے جاتے ہیں بالکل اسی طرح لفظ یہاں مرتجل طور پر استعمال ہو رہا ہے ۔یہ قول امام شافعی اور دیگر علما کا ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ لفظ قرآن مشتق ہے اور اس کی اصل اورلفظ ہے۔جولوگ اسے مشتق سمجھتے ہیں ان کی رائے اس میں منقسم ہے کہ اس کی اصل کون سا لفط ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اس کی اصل «قَرَنْتُ الشيءَ بالشيءِ» أي ضممته إليه ایک چیز کو دوسری کے ساتھ ملانا ہے یعنی شامل کرنا ہے۔یہ معنی اس طرح قرآن کے ساتھ سازگارہے کہ آیات اور سورتیں باہمی طور پر ایک دوسری سے ملی ہوئی ہیں۔اس قول کی نسبت ابی الحشن اشعری کی طرف دی گئی ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس کی اصل قرائن ہے  کیونکہ بعض آیات بعض آیات کی تصدیق کرتی ہیں اس لیے اس کو اس سے اخذ کیا گیاہے۔یہ فراء اور علما کی ایک جماعت کا قول ہے۔تیسرا قول یہ ہے کہ اس کی اصل قرء ہے جس کے معنی جمع کے ہیں۔جیسے کہا جاتا ہے قَرَأت الماء في الحوض یعنی  میں نے پانی حوض میں جمع کیایہ فعلان کے وزن پر وصف ہے۔یہ مشہور نحوی زجاج اور علما کی ایک جماعت کا قول ہے۔ایک رائے یہ ہے کہ اس کی اصل القِرَاءة ہے عفران کے وزن پر مہموز۔یہ قول ابی الحسن لحیاتی اور ایک جماعت کا قول ہے۔

مستشرقین نے ایک عجیب بات کی ہے کہ یہ سریانی زبان کے لفظ «قرنايا» سے ہے جس کے معنی بائبل کو پڑھنا یا پڑھانا کے ہیں۔انہوں ایسا اس لیے کہا کہ اس میں بول چال کے ایک سا ہونے اور اور سریانی زبان کے عربی سے پہلے ہونے اور قریب ہونے سے استفادہ کیا گیاہے۔مستشرقین نے اس وقت عربی اور سریانی میں موجود جغرافیائی فرق کو نظرانداز کیا ہے۔بولنے میں قریب ہونا ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتا۔عربی اور سریانی ایک قبیل کی زبانیں ہیں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ زبان وہی جس طرح اسے اہل زبان بولتے ہیں۔آج جس زبان کو عرب بولتے ہیں یہ ان عربوں کی زبان ہے جو زمانہ قدیم میں عرب میں آباد تھے باالخصوص جنوب سے  شمال عرب میں ۔پھر ان لوگوں نے شمال جزیرہ عربی میں وسعت اختیار کر لی اور یہ کنعانی ہی تھے جنہوں نے نبی اکرمﷺ کے آنے سے پہلے شمالی افریقہ تک وسعت اختیار کر لی تھی۔ان کو کارٹگینیئن کہا جاتا ہے۔اس لیے مستشرقین کی یہ بات  دور کی کوڈی لانے کے مترادف ہے۔

یہاں ہماری بحث فقط اور فقط قرآن مجید کے لفظی معنی تک محدود ہے جس کے ذریعے ہم اس کے اصطلاحی معنی بیان کرنا چاہتے ہیں۔ہمارا مقصوداصلی قرآن کا اصطلاحی معنی بیان کرنا ہے اس لیے ہم اس کے اشتقاق او رعدم اشتقاق کی بحث میں نہیں پڑتے اور نہ ہی اس بحث میں پڑتے ہیں کہ ان معانی میں سے کون سامعنی  ترجیح رکھتا ہے۔ہم قرآن مجید کے اصطلاحی معنی کی طرف جاتے ہیں۔جو کچھ ذکر ہوا اس کی روشنی میں لفظ قرآن  کا اطلاق تین امور پر ہوتا ہے:

پہلا امر :قرآن سے مراد فقط اس کے الفاظ ہوں اس کا معنی مراد نہ ہو جیسا کہ  قرآن کو صرف پاک لوگوں کے چھونے کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے۔

دوسرا امر:اس سے مراد فقط معنی ہے الفاظ مراد نہیں ہیں قرآن پڑھنے  ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے۔

تیسرا امر:اس سے مراد الفاظ اور معنی دونوں ہیں جیسے قرآن اللہ کا کلام ہے۔

اس تمام کی روشنی میں قرآن مجید کی ایک جامع تعریف یوں کی جا سکتی ہےقرآن سے مراد وہ  تمام الفاظ و معانی ہیں جو  سوروں میں موجود ہیں۔جن کا آغاز سورہ مبارکہ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام سورۃ مبارکہ الناس پر ہوتا ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018