14 ربيع الاول 1443 هـ   20 اکتوبر 2021 عيسوى 1:24 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2021-09-20   172

انبیاء کے جانشین

ہم یہ بات انبیاء کی سیرت سے جانتے ہیں کہ زمانے کے گزرنے اور انبیاء کی رسالت کی تکمیل پر جب ان انبیاء کی اپنے رب سے ملاقات کا وقت آن پہنچا تو ان تمام انبیاء نے دین کی حفاظت اور مومنین کی ہدایت کے لیے کسی نا کسی کو اپنا جانشین بنایا۔یہ گزرے زمانے میں تمام انبیاء کی سیرت رہی ہے اورروایات سے پہلے عقل اسے ضروری قرار دیتی ہے۔ہر صاحب اختیار بادشاہ ہو یا رئیس آج کے زمانے میں بھی جب وہ کہیں جانا چاہتا ہے جیسے سفر،جنگ وغیرہ پر تو اپنے بعد امور کی انجام دہی کے لیے نائب،وصی یا ولی عہد نامزد کرتا ہے جو اس کے بعد حکومت کے امور کو انجام دیتا ہے اوریہ ضروری ہے کہ اس وصی میں ان امور کو انجام دینے کی تمام صلاحیتیں ہونی چاہیں تاکہ اس کی واپسی تک یہ قائمقام تمام امور ریاست کو انجام دے سکے۔یہ تمام ممالک اور اقوام میں رائج طریقہ ہے یہاں تک کہ قبیلہ اور خاندان میں بھی اسی پر عمل ہوتا ہے۔

پس یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات ممکن ہے کہ ایک نبی ؑ اس دنیا سے تشریف لے جائے اور وہ کسی کو اپنا خلیفہ بنا کر نہ جائے؟ کیا آسمانی تعلیمات کو آگے پہنچانے سے بہتر کوئی اور اہم ذمہ داری ہو سکتی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  انجام دے رہے تھے۔

جب حضرت آدمؑ کی موت کا وقت قریب آگیا تو اللہ نے آپؑ کی طرف وحی فرمائی اے آدم میں تمہیں موت دوں گا اور تمہاری روح کو اپنی طرف بلا لوں گا پس تم اپنے سب سے نیک بیٹے کو وصی بنا دو اور انہیں جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے وہ اسے دے دو ۔شیث کی وصیت کرو،پس اسے ان اسماء اور اسم اعظم کا علم دے دو،میں نہیں چاہتا کہ میری زمین ایسے عالم سے خالی ہو جائے جو میرے علم کی تعلیم دے ،میرے حکم کے مطابق فیصلے کرے اور میری مخلوق پر حجت ہو۔

 حضرت آدم ؑ نے اپنے تمام بچے بچیوں کو جمع کیا اور ان کے لیے حضرت شیثؑ کو اپنا وصی بنایا،حضرت آدم ؑ نے فرمایا:اس کی بات کو سنو،اس کے حکم کو مانو۔پھر حضرت آدمؑ نے تابوت بنانے کا حکم دیاجس میں اپنا علم ،اسماء اور وصیت رکھی اور اسے حضرت شیث ؑ کے حوالے کر دیا۔جب حضرت آدمؑ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت شیث ؑ سے کہا اپنے بیٹوں میں سے سب سے بہترین کو وصی بنانا اور یہ تابوت اس کے حوالے کر دینا ۔اس طرح وصی بنانے کا طریقہ حضرت آدمؑ سے چل پڑا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا۔

حضرت آدم کے ؑ وصی حضرت شیثؑ تھے،حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے سام کو،حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کو،حضرت موسیؑ نے حضرت یوشع بن نونؑ کو،حضرت داود ؑ نے حضرت سلیمانؑ کو،حضرت سلیمانؑ نے آصف بن برخیاؑ ،حضرت عیسیؑ نے حضرت شمعون اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی بن ابی طالب ؑ کو اپنا وصی بنایا جو سب انبیاء کے سردار کے وصی ہیں اور سب اوصیاء سے افضل ہیں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018