15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 1:01 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | اخلاق اور اقدارِ اسلامی |  توبہ: خدا کی قسم توبہ تو صرف اہل ایمان کے لیے ہے
2020-11-06   112

توبہ: خدا کی قسم توبہ تو صرف اہل ایمان کے لیے ہے

توبہ گناہوں کے ترک کرنے اور ان سے اس طرح جان چھڑانے کا نام ہے کہ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا مصمم ارادہ کیا جائے۔یہ دینی اور اخلاقی مفاہیم میں سے ہے۔اصولی طور پر ہم اس کے بارے میں زیادہ بحث کر سکتے ہیں۔

تمام ادیان آسمانی بلکہ ہر مثبت فکر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان برے افعال سے توبہ کرے کیونکہ توبہ کرنا اسے بہتر بناتا ہے۔ یہ اچھائی کی طرف آگے بڑھنے کی تربیت ہے۔اس سے انسان کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے نفس کا خود محاسبہ کرے اور جو بھی غلطیاں اس سے سرزد ہوئی ہیں ان کا اعادہ نہ ہو۔

توبہ اخلاقی نظام کی بنیاد ہے ،بلکہ اخلاقی نظام کے چلانے والی ہے،اگر توبہ نہ ہو تو انسان کے اعمال بے اثر ہو جائیں گے۔اسی لیے قرآن مجید نے توبہ کو وہ اہمیت دی ہے جس کی یہ حقدار تھی توبہ کا موازنہ بڑی اخلاقی اقدار سے کیا جاتا ہے ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا))(سورة النساء ـ 64)

اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو اگر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پاتے۔

اللہ جل شانہ  قرآن میں فرماتا ہے:((إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا))(سورة النساء ـ 146)

البتہ ان میں سے جو لوگ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں اور اللہ سے متمسک رہیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کریں تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب مومنوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

سورہ ھود میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ))(سورة هود ـ3)

اور یہ کہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کے آگے توبہ کرو وہ تمہیں مقررہ مدت تک (دنیا میں) اچھی متاع زندگی فراہم کرے گا اور ہر احسان کوش کو اس کی احسان کوشی کا صلہ دے گا اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے))وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢ ابِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (((سورة الأنعام ـ 54)

ور جب آپ کے پاس ہماری آیات پر ایمان لانے والے لوگ آجائیں تو ان سے کہیے: سلام علیکم تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ تم میں سے جو نادانی سے کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

قرآن مجیدمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:))اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا (70) وَ مَنۡ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا (71))(سورة الفرقان 70 ـ 71).

مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل انجام دیا تو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے اور اللہ تو بڑا غفور رحیم ہے۔ اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل انجام دیتا ہے تو وہ اللہ کی طرف حقیقی طور پر رجوع کرتا ہے۔

اسی طرح کی بہت سی قرآنی آیات ہیں جو توبہ کی اہمیت اورانسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے اہم مقام کو واضح کرتی ہیں۔نبی اکرمﷺ کی احادیث میں اس کی مزید اہمیت بیان ہوئی ہے احادیث نے عملی طور پر توبہ کو بتایا ہے۔صحابہ کہتے ہیں آپﷺ نے اس کی عملی تطبیق بتائی ہے نبی اکرمﷺ سے منقول ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نفاق سے ڈرتے ہیں، آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ تم  اس سے کیوں ڈرتے ہو؟تو انہوں نے کہا جب ہم آپ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں آپ ہمیں یاددہانی کراتے ہیں، ہمیں رغبت دلاتے ہیں جس سے ہم دنیا کو بھول جاتے ہیں اور ایسے ہو جاتا ہے کہ ہم جنت و جہنم کو دیکھ رہے ہوں۔جب ہم آپ ﷺ کی محفل سے نکلتے ہیں اور گھروں میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی اولاد کی خوشبو محسوس کرتے ہیں اور اپنے اہل و عیال کو دیکھتے ہیں تو ہماری حالت اس حالت سے تبدیل ہو جاتی ہے جو آپﷺ کے پاس ہوتی تھی۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم پر وہ حالت طاری ہی نہ ہوئی تھی، کیا آپﷺ کو لگتا ہے کہ یہ نفاق ہے؟ آپﷺ نے فرمایاہرگز نہیں،بلکہ یہ  شیطان کی چالیں ہیں جو تمہیں دنیا کی طرف رغبت دلاتا ہے۔آپﷺ نے فرمایا خدا کی قسم اگر تم اسی حالت پر باقی رہتے جس کا تم نے بتایا ہے تو  تم فرشتوں سے ہاتھ ملاتے اور پانی پر چلتے۔اگر تم گناہ نہ کرتے اور مغفرت  طلب نہ کرتے کہ اللہ معاف کر دے تو اللہ تمہاری جگہ اور مخلوق کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی اور مغفرت طلب کرتی اور اللہ انہیں معاف کر دیتا ۔مومن توبہ سے خوش ہوتا ہے۔

نبی اکرمﷺ نے توبہ کی ترغیب دی ہےاس سے پہلے کہ کوئی رکاوٹ آجائے توبہ کرنی چاہیے۔اس کیفیت کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ کیسے توبہ کی جائےنبی اکرمﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب سے توبہ کرنے والے کے بارے میں سوال کرتے ہوا کہا کیا تم جانتے ہو توبہ کرنے والا کون ہے؟ اصحاب نے کہا ہم نہیں جانتے،آپﷺ نے فرمایا:اگر کوئی توبہ کرے اور اس نے مقابل کو راضی نہیں کیا تو وہ تائب نہیں ہے،وہ شخص جس نے توبہ کی اور اپنی محفل اور اپنے کھانے کو تبدیل نہ کیا وہ بھی تائب نہیں ہے،جس نے توبہ کی اور اپنے دوستوں کو تبدیل نہ کیا وہ بھی تائب نہیں ہے،جس نے توبہ کی اور اپنا لباس تبدیل نہ کیا وہ بھی تائب نہیں ہے،وہ توبہ کرنے والا جس نے اپنا بستر اور تکیہ تبدیل نہیں کیا وہ بھی تائب نہیں ہے،وہ توبہ کرنے والا جس کا دل کشادہ نہ ہوا اور سخاوت نہ کی وہ بھی تائب نہیں ہے،جو توبہ کرنے والا امیدیں کم نہیں کرتا  اور اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا وہ تائب نہیں ہے،جوتوبہ کرنے والا اپنے سامنے فضل کا اظہار نہیں کرتا وہ تائب نہیں ہے۔جو ان خصوصیات کو پیدا کر لیتا ہے حقیقی توبہ کرنےو الا وہی ہے۔

ان تمام کے ذریعے در اصل توبہ کرنے والا اس گناہ سے پلٹ آتا ہے،توبہ ایک عظیم کام ہے اسی لیے توبہ کرنے والے سے اللہ تعالی محبت کرتا ہے۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "ليس شي‌ء أحب الى اللّه من مؤمن تائب أو مؤمنة تائبة"

اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین وہ مومن اور مومنہ ہیں جو توبہ کر چکے ہوتے ہیں۔

استغفار توبہ کی اقسام میں سے ایک قسم ہے،حضرت علیؑ نے ایک شخص سے سوال کیا تھا جس نے آپؑ کی محفل میں استغفار کی تھی کیا تم جانتے ہو استغفار کیا ہے؟ استغفار علیین کا درجہ ہے،اس کا اطلاق چھ معانی پر ہوتا ہے۔ ۱۔جو گذر گیا اس پر پچھتاوا۔ ۲۔اس بات کا پختہ عزم کہ اس کی طرف کبھی بھی نہیں پلٹوں گا۔۳۔تمام مخلوق کے حقوق کو ادا کرنا یہاں تک کہ موت آ جائے ۔ ۴۔ہر فرض کو ادا کرنا اور جس جس کا حق ضایع کیا ہے اس کو پورا کرنا۔ ۵۔اس گوشت کو جو حرام کمائی کھانے کے نیتجے میں بنا ہے وہ اس غم کے نیجے میں ختم ہو جائے اور اس کی جگہ نیا گوشت جم جائے۔۶۔جسم  اسی طرح اطاعت کا درد سہے جیسے اس نے نافرمانی کا مزا چکھا تھا جب یہ سب ہو جائے تو اس وقت  تم کہو استغفراللہ

نبی اکرمﷺ کی اہلبیتؑ نے  توبہ کی تجدید پر تاکید کی ہے اور ہمیشہ ایسا کرتے رہنے کا کہا ہے قول و فعل سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔امام باقرؑ سے ہے آپؑ نے محمد بن مسلم سے کہا ،اے محمد بن مسلم مومن جب گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو بخش دیے جاتے ہیں،مومن کے اعمال توبہ اور مغفرت کے بعد نئے سرے سے شروع ہوتے ہیں،خدا کی قسم یہ فقط اہل ایمان کے لیے ہے۔محمد بن مسلم نے پوچھا اگر کوئی توبہ اور مغفرت کے بعد دوبارہ گناہ کرے اور دوبارہ  توبہ کرے ؟امام ؑ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:اے محمد بن مسلمؒ کیا تم اس مومن کو دیکھتے ہوئے کہ پشیمان ہے،اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ ایسے مومن کی توبہ کیسے قبول نہیں کرے گا؟محمد بن مسلمؒ نے سوال کیا کہ اگر وہ عمل مسلسل دہراتا ہے گناہ کرتا ہے توبہ کرتاہے اور استغفار کرتا ہے؟ امام ؑ نے فرمایا جب بھی مومن توبہ و استغفار کرتا ہے خدا اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور اس کی مغفرت کرتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے اور توبہ کو قبول کرتا ہے،گناہوں کو معاف کرتا ہے خبر دار جو کبھی کسی مومن کو اللہ کی رحمت سے مایوس کیا۔

توبہ کی قیمت کیا ہے؟ اس بارے میں حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:جب کوئی انسان توبہ نصوح کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس  کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرتا ہے۔کسی نے سوال کیاکہ اللہ تعالی کیسے پردہ پوشی کرتا ہے؟اللہ تعالی ان تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو اس نے لکھے ہوتے ہیں پھر اللہ جوارح کو وحی کرتا ہے کہ اس کے گناہوں کو چھپا دو،پھر اس زمین کو وحی کرتا ہے جہاں یہ عمل شنیع ہوا ہوتا ہے کہ اس  کو چھپا لو،جب اللہ اس سے ملے گا اور جب ملے  گا  کوئی چیز بھی اس کے گناہ پر گواہی دینے والی نہیں ہو گا۔

امام رضاؑ اپنے جد نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"التائب من الذنب كمن لا ذنب له"

گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے گناہ انجام ہی نہیں دیا۔

توبہ کرنے والے کے لیے اللہ تعالی کے ہاں بڑا ثواب ہے ایسا ثواب کہ اس جیسا کوئی ثواب نہیں ہے۔امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے توبہ کرنے والوں کو تین خصوصیات عطا کی ہیں اگر تمام آسمان و زمین والوں کو ان میں سے ایک خصلت بھی دی جاتی تو یہ کامیاب ہو جاتے۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے))اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ(((سورة البقرة ـ 222)

ے شک خدا توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

جس سے اللہ تعالی محبت کرتا ہے اسے عذاب نہیں دیتا اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَ مَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّ عِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَ قِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ۷ رَبَّنَا وَ اَدۡخِلۡہُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِۣ الَّتِیۡ وَعَدۡتَّہُمۡ وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ۸ وَ قِہِمُ السَّیِّاٰتِ ؕ وَ مَنۡ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ (سورہ غافر ۷،۸،۹)

جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو (فرشتے) اس کے اردگرد ہیں سب اپنے رب کی ثناء کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور اس پر ایمان لائے ہیں اور ایمان والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے پس ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے اور انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔۷ ہمارے رب! انہیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے باپ دادا اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں انہیں بھی، تو یقینا بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔۸ اور انہیں برائیوں سے بچا اور جسے تو نے اس روز برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحم فرمایا اور یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ الَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لَا یَزۡنُوۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ یَلۡقَ اَثَامًا۶۸ یُّضٰعَفۡ لَہُ الۡعَذَابُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ یَخۡلُدۡ فِیۡہٖ مُہَانًا ۶۹ اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ۷۰ (الفرقان ۶۸،۶۹،۷۰)

اور یہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنا کر نہیں پکارتے اور جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر جائز طریقہ سے اور زنا کا ارتکاب (بھی) نہیں کرتے اور جو ایسا کام کرے گا وہ اپنے گناہ میں مبتلا ہو گا۔۶۸  قیامت کے دن اس کا عذاب دوگنا ہو جائے گا اور اسے اس عذاب میں ذلت کے ساتھ ہمیشہ رہنا ہو گا ۔ ۶۹  مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل انجام دیا تو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے اور اللہ تو بڑا غفور رحیم ہے۔۷۰

اس کی روشنی میں توبہ در اصل خدا کی طرف پلٹنے کی چابی کو کہتے ہیں،یہ اللہ کی طرف جانے کا دروازہ ہے اور نفس لوامہ کو سنوارنے کا نقطہ آغاز ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018