
| مقالات | اخلاق: انسان کی شناخت اور اس کے وجود کا مقصد

اخلاق: انسان کی شناخت اور اس کے وجود کا مقصد
الشيخ معتصم السيد أحمد
اخلاق کے میدان میں بے شمار سوالات ایسے ہیں کہ جن میں غور کرنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ شعبہ اپنی نوعیت میں لامحدود ہے اور اس کی گتھیاں کبھی ختم نہیں والی نہیں ہیں ۔ لیکن اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح یہ ہوتا ہے کہ ان سوالات کی جڑیں محدود ہیں، اور ان کا تنوع دراصل ان مختلف حالات، مقاصد اور سیاق و سباق کی بنا پر ہے جن میں یہ سوالات سامنے آتے ہیں۔ اخلاقی سوالات، خواہ ان کی صورتیں کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں، اپنی اصل میں چند بڑے بنیادی سوالات کی طرف لوٹتے ہیں مثلا اخلاق کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ مستقل ہیں یا تغیر پذیر؟ اور کیا یہ انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں یا محض ایک فکری آرائش ہیں جن کے بغیر بھی زندگی بسر کی جا سکتی ہے؟ اور ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش سے پہلے، ضروری ہے کہ ہم صحیح نقطۂ آغاز پر رک کر اسے سمجھنے کی کوشش کریں ، اور وہ نقطہ آغاز انسان کی حقیقت کو حقیقی طور پر پہچاننا ہے۔اخلاق کوئی ایسی مجرد سوچ نہیں جو خلا میں معلق ہو، اور نہ ہی یہ انسانی حقیقت سے کٹی ہوئی کوئی الگ چیز ہے، بلکہ یہ ایک ایسی قدر ہے جو اپنا معنی صرف اسی وقت پاتی ہے جب وہ انسان کے وجود کےساتھ مربوط ہو جائے ۔
اسی لیے اخلاق پر کوئی بھی گفتگو اگر انسان کی حقیقت کے فہم سے شروع نہ ہو، تو وہ ہمیشہ نامکمل رہے گی، یا پھر محض ایک نظریاتی بحث ہوگی جو اصل مسئلے کی جڑ کو چھو نہیں پائے گی۔ انسان اپنی گہرائی میں دوہری صلاحیت کا حامل وجود ہے: خیر کے خزانے بھی اس کے اندر پوشیدہ ہیں اور شر کے صلاحیت بھی۔یہ دوہرا پن تخلیق کا نقص نہیں، بلکہ امتحان کی شرط اور اختیار کا معنی ہے۔ جب خیر کی قوتیں بیدار ہوں تو اس کے اعمال و رویّوں میں بھلائی ظاہر ہوتی ہے، اور جب شر کے عناصر ابھریں تو برائی اپنی تمام صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
انسان اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اس میدان میں آزمائش سے گزرے، دو راستوں کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرے، ایسے دو راستے جنہیں وہ بیک وقت جانتا بھی ہے، محسوس بھی کرتا ہے اور ان سے متاثر بھی ہوتا ہے۔ وہ خیر کو پہچانتا ہے، اس کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس کی آرزو کرتا ہے؛ اسی طرح وہ شر کو بھی جانتا ہے، اور اپنی خواہشات و خودغرضی کی تسکین کے لیے اس کی طرف رخ بھی کر سکتا ہے۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خیر کی طرف اس کا میلان عشق، قربانی اور شہادت کی حد تک پہنچ جاتا ہے، اور کبھی شر کی طرف اس کا جھکاؤ بھی عشق کی صورت اختیار کر لیتا ہے، مگر یہ ایک تباہ کن عشق ہوتا ہے جو بالآخر اسے معنوی یا مادی خودکشی تک لے جاتا ہے۔
تاہم یہ دوہری صلاحیت خلا میں کام نہیں کرتی، بلکہ یہ صلاحیت اس ماحول اورمعاشرتی و ثقافتی حالات سے متاثر ہوتی ہے جن میں انسان زندگی گزارتا ہے۔
اس کے باوجود، انسان محض ایک ایسا وجود نہیں جو ان حالات کے زیرِ اثرہی رہے، بلکہ وہ ان میں ایک فعال کردار بھی ادا کرتا ہے۔ وہ چاہے تو ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، اور چاہے تو ان کا مقابلہ کرے اور ان کے مسلط کردہ راستے کے برعکس اپنا راستہ متعین کرکے اس پر چل پڑے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی ارادے کی مرکزیت نمایاں ہوتی ہے؛ کیونکہ انسان کا ارادہ ہی اس کے رجحانات اور انتخاب پر قابو رکھتا ہے، اور اسی کے ذریعے وہ حالات پر غالب آ سکتا ہے یا ان کے سامنے جھک سکتا ہے۔
لیکن یہ سب کچھ اس وقت تک قابلِ فہم و ادراک نہیں ہو سکتا جب تک ہم ان فطری واخلاقی ببنیادوں کے وجود کو تسلیم نہ کریں، جو انتخاب کی راہیں فراہم کرتی ہیں۔اگر انسان کے باطن میں کوئی ایسا معیار نہ ہو جو تجربے سے پہلے موجود ہو، تو پھر نہ ذمہ داری کا تصور ممکن ہوتا، نہ محاسبے کا، اور نہ ہی حقیقی انتخاب کا۔ یہی نقطہ ہمیں ایک بنیادی اصول کی طرف لے جاتا ہےکہ ہر انسان اپنی فطرت میں اخلاقی قواعد پر ایمان رکھنے والا ہے، جو اپنی حقیقت میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہوتے، اور نہ ہی ماحول یا ثقافتوں کے بدلنے سے بدلتے ہیں۔ پس وہ انسان جو نیک ماحول میں زندگی گزارتا ہے، اپنی فطرت میں اس انسان سے مختلف نہیں جو بگڑے ہوئے ماحول میں پرورش پاتا ہے۔
اسی طرح وہ شخص جو دینی معاشرے میں پروان چڑھا ہے، اپنی اصل فطرت میں اس شخص سے مختلف نہیں جو لادینی معاشرے میں نشوونما پاتا ہے۔ فطرت ایک ہی ہے، اگرچہ اثرات اور محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔اسی بنیاد پر دلیل تمام انسانوں پر قائم ہو جاتی ہے؛ کیونکہ روزِ حساب کوئی انسان حالات، لالچ یا دباؤ کو بہانہ نہیں بنا سکتا، اس لیے کہ اس کے اندر ودیعت کردہ اخلاقی اصل کبھی بھی اس کی زندگی کے کسی مرحلے میں اس سے غائب نہیں رہی۔
یہی فطری قواعد ہیں جنہیں ہم اخلاق، فضائل یا مناقب کہتے ہیں، اور یہ تمام انسانوں کے درمیان مشترک سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ بالکل ویسے ہی ہیں جیسے حیاتیاتی مشترکات، مثلاً اعضا کے افعال اور صحت کے عمومی اصول۔ انسان کی صحت کو قائم رکھنے والا علم ایک ہی ہے، اگرچہ بعض جزوی تفصیلات ماحول کے فرق سے بدل سکتی ہیں۔اخلاق بھی اسی طرح ہیں کہ ان کی بنیاد ایک ہی ہے، اگرچہ ان کے بعض عملی مظاہر مختلف ہو سکتے ہیں۔ اور چاہے زندگی کتنی ہی ترقی کرے، یا رسم و رواج اور عادات کتنی ہی بدل جائیں، انسان کی شناخت اور اس کی اصل حقیقت ایک ہی رہتی ہے، جس میں کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
انسان، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر زمان و مکان میں، عدل کو محبوب رکھتا ہے اور ظلم کو ناپسند کرتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ تمام اقوام، اپنی تہذیبوں اور ثقافتوں کے اختلاف کے باوجود، چوری کو برا عمل سمجھتی ہیں، جھوٹ کو مذموم رویہ قرار دیتی ہیں، اور خیانت کو رذیلہ گردانتی ہیں۔اگرچہ دلائل مختلف ہو سکتے ہیں، اور طرزِ عمل رنگ بدل سکتا ہے، لیکن عقلاء کی نظر میں اصل اصول ہمیشہ ثابت رہتے ہیں ۔
یہ درست ہے کہ بعض افراد کی فطرت اس حد تک آلودہ ہو جاتی ہے کہ وہ برائی کو اچھائی اور اچھائی کو برائی سمجھنے لگتے ہیں، لیکن یہاں گفتگو ان انفرادی اور شاذ مثالوں کے بارے میں نہیں، بلکہ اس عمومی اصول کے بارے میں ہے جس پر پوری انسانیت، عقلاء کی جماعت کے طور پر، متفق ہے۔اور اس سیاق میں انسان کو حیوان سے ممتاز کرنے والی چیز اس کی ارادہ و اختیار کی صلاحیت ہے۔ حیوان بعض مخصوص رویوں کی پیروی کرتے ہیں ، اور کبھی ایسا سلوک بھی ظاہر کرتے ہیں جو بظاہر منظم یا مرتب دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ یہ سب کچھ محض غریزے کے تحت کرتے ہیں، شعور کے تحت نہیں۔
جبکہ انسان کا انتخاب اس وقت تک حقیقی انتخاب نہیں کہلا سکتا جب تک وہ جانچنے اور فرق کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔اسی لیے علم فطرت کے عمل کا بنیادی شرط ہے؛ کیونکہ فطرت اگر علم سے خالی ہو تو محض غریزه بن جاتی ہے، لیکن جب فطرت شعور کے ساتھ ہو تو وہی ذمہ دار اخلاقی رویہ پیدا کرتی ہے۔انسان کا فطری اصولوں سے بغاوت کرنا دوسروں کو ہی نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ سب سے پہلے خود انسان کو نقصان دیتا ہے۔الہی نظریہ وجود کے مطابق اللہ نے مخلوق کو اس حال میں پیدا کیا کہ اللہ ان سے بے نیاز ہے؛ اس نے ان سے اطاعت اس لیے نہیں چاہی کہ اپنے کسی نقص کو پورا کرے، اور نہ ہی عبادت اس لیے چاہی کہ اپنے لیے کوئی فائدہ حاصل کرے۔
بلکہ اس نے اقدار، احکام اور ممانعتوں کو انسان کی اصلاح اور اس کی سعادت کا راستہ بنایا۔حقیقی خوشی وقتی منافع یا فوری لذتوں میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ انسان اپنی انسانیت کو پائے اور اپنے گہرے اقدار کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارے۔
آخرکار انسان کی قدر و قیمت اس کے پاس موجود اشیاء سے نہیں، بلکہ ان اقدار سے ہے جو وہ اپنے اندر سنبھالے ہوئے ہے۔اخلاق، دراصل، انسان کی عمومی اور خصوصی بھلائی تک پہنچنے کا سب سے سیدھا اور محفوظ راستہ ہیں۔یہ بالکل اُن اصولوں کی مانند ہیں جو صحت کو قائم رکھتے ہیں؛ جس طرح صحت کے ضابطوں کی خلاف ورزی فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، اسی طرح اخلاقی اصولوں کی پامالی بھی اتنے ہی مہلک نتائج پیدا کرتی ہے۔انسانی تعلقات میں اخلاقیات کی پاسداری نہ کرنا، خصوصاً مرد و زن کے تعلق میں، اپنی تباہ کاری میں کسی طور صحت و صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی سے کم نہیں ہے ۔جس طرح صحت کے میدان میں بے احتیاطی وباؤں کے پھیلنے کا باعث بنتی ہے، اسی طرح اخلاقی بے ترتیبی انحرافات، نفسیاتی امراض اور سماجی بگاڑ کو جنم دیتی ہے۔ اور گزشتہ چند دہائیوں میں انسانیت نے اس کے نہایت واضح اور عبرت انگیز نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔وسیع تر سماجی سطح پر، خصوصاً عدل کے میدان میں، اخلاقی توازن کا بگڑ جانا، معاشروں کے شیرازہ کو بکھیر دیتا ہے اور انہیں زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
جب دولت چند افراد کے ہاتھوں میں سمٹ جائے اور محروم لوگوں کو اس سے کوئی حصہ نہ ملے، تو عدل کا ترازو بگڑ جاتا ہے اور بغاوت و انتشار کے اسباب ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت میں خرابی کا اصل سبب غریب نہیں ہوتے، بلکہ وہ خوشحال طبقہ ہوتا ہے جو اخلاقی ذمہ داریوں کی حدود کا پاس نہیں کرتا۔ یہ اصول صرف افراد پر ہی نہیں، بلکہ خاندانوں، معاشروں اور ریاستوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔
یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ اخلاق کوئی ایسا اختیار نہیں جسے ترک کیا جا سکے، اور نہ ہی یہ ایسا دائرہ ہے جس میں التزام اور انکار کے درمیان کوئی درمیانی راستہ ہو۔جس طرح صحت اور بیماری کے درمیان کوئی درمیانی حالت نہیں، اسی طرح اخلاق اور ضدِ اخلاق کے درمیان بھی کوئی درمیانی صورت موجود نہیں۔اخلاق ایک اصیل حقیقت ہیں، جن کے بغیر انسانی زندگی سیدھی اور درست نہیں ہو سکتی۔ یہ محض نعرے یا نصیحتیں نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہیں۔ جس طرح جسم روح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح انسان کا تہذیبی سفر بھی اخلاق کے بغیر جاری نہیں رہ سکتا۔اخلاق انسانی تمدن کی روح اور تہذیب کی بنیاد ہیں۔ وہ معاشرے جو اپنی اخلاقی سمت کھو دیتے ہیں، خواہ وہ مادی ترقی میں کتنی ہی آگے کیوں نہ ہوں، ان کا انجام بکھراؤ اور زوال ہی ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، اخلاقی معاشرہ وہ ہے جو اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی داخلی صلاحیت رکھتا ہے، اور ہر اس چیز کو خارج کر دیتا ہے جو اس کے یکجہتی و اتحاد کو خطرے میں ڈالے، بالکل اسی طرح جیسے زندہ جسم فاسد خلیوں کو خارج کر دیتا ہے۔تاہم اخلاق ہر قسم کے ماحول میں پروان نہیں چڑھتے۔ یہ ایک پاکیزہ بیج ہیں جنہیں نشوونما کے لیے زرخیز زمین درکار ہوتی ہے۔اسی لیے اخلاق پر گفتگو اس وقت تک کافی نہیں جب تک ایسے حالات فراہم نہ کیے جائیں جو خیر کی صلاحیتوں کو ابھاریں اور شر کی قوتوں کو دبائیں۔جب سماجی، ثقافتی اور معاشی ماحول درست بنیادوں پر قائم ہو، تو اخلاقی التزام قاعدہ بن جاتا ہے اور انحراف استثناء۔ حتیٰ کہ کمزور نفوس بھی اپنے انحراف کے لیے کافی جواز تلاش نہیں کر پاتے۔
یوں واضح ہوتا ہے کہ اخلاق کوئی ثانوی یا تکمیلی امر نہیں، بلکہ وہ انسان کا جوہر، اس کے وجود کا معنی، اور اس کی بقا کی شرط ہیں، فرد کی حیثیت سے بھی، معاشرے کی حیثیت سے بھی، اور تہذیب کی حیثیت سے بھی۔


