

مذہبی اقتدار: یورپ کے تجربے اوراسلام کے نقطۂ نظر سے
شیخ معتصم السید احمد
معاصر فکری مباحث میں عموماً مذہبی اقتدار کے تصور کو مسلمانوں کی پسماندگی کی تشریح کے لیے ایک آسان اور فوری توضیحی فریم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور اسے وہ بنیادی رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے جس نے اسلامی معاشروں میں عقل و علم کی فکری پیش رفت کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس استدلال میں یورپی تاریخی تجربے کو ایک فیصلہ کن اور حتمی نمونہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جہاں ایک بالادست کلیسائی نظام، سائنس کے ساتھ اس کا تصادم، پادری نظام کا انہدام، اور اس کے بعد جدیدیت کا ظہور دکھایا جاتا ہے۔ اسی بیانیے کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ عالمِ اسلام کا اصل بحران کسی مماثل مذہبی بالادستی یا مذہبی طبقاتی نظام کو توڑنے میں ناکامی ہے، اور یہ کہ نجات کی واحد راہ علماۓ دین کے سماجی کردار کو محدود کرنے اور انہیں میدانِ عمل سے بے دخل کرنے میں مضمر ہے۔
اگرچہ یہ زاویۂ نظر اپنی سادگی اور آسان فہمی کے باعث وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا ہے اور بظاہر ایک توضیحی قوت بھی رکھتا ہے، تاہم اپنی فکری گہرائی میں یہ شدید سادہ کاری پر مبنی ہے؛ کیونکہ یہ ایک مخصوص تاریخی اور تہذیبی تجربے کو اس کے اصل سیاق و سباق سے جدا کر کے ایک ایسے معاشرتی و فکری تناظر پر منطبق کر دیتا ہے جو اپنی ساخت، پیدائش اور ارتقائی منطق میں اس سے بنیادی طور پر مختلف ہے
یورپی تاریخی تجربے میں پادریت محض علماۓ دین یا مذہبی مراجع کی موجودگی تک محدود نہ تھی، بلکہ ایک مکمل، منظم اور ہمہ گیر ادارہ تھی، جو بیک وقت روحانی اور زمانی اقتدار کی حامل تھی۔ اس ادارے نے مقدس نص کی تعبیر پر عملی اجارہ داری قائم کر رکھی تھی، نجات کے تصور اور اس تک رسائی کو اپنے اختیار میں لے رکھا تھا، مغفرت عطا کرنے یا اسے سلب کرنے کا حق اپنے لیے محفوظ سمجھتا تھا، اور یوں فرد کے ضمیر سے لے کر اجتماعی شعور تک پر اپنی ہمہ پہلو سرپرستی مسلط کیے ہوئے تھا۔پادریت محض ایک مذہبی قوت نہیں رہی تھی، بلکہ وہ سیاسی، سماجی اور معاشی سطحوں پر بھی ایک طاقتور فاعل کی حیثیت اختیار کر چکی تھی؛ اس کے پاس جبر و ردع کے مؤثر وسائل موجود تھے، اور وہ یہ طے کرنے کی پوزیشن میں تھی کہ کن افکار کو قابلِ قبول سمجھا جائے اور کن خیالات کو ایمان سے انحراف قرار دیا جائے۔
چنانچہ سائنس کے ساتھ اس کا تصادم کسی اتفاقی یا عارضی کشمکش کا نتیجہ نہیں تھا، نہ ہی اس بنیاد پر تھا کہ سائنس بذات خود مذہب کا دشمن ہے، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ سائنسی انکشافات اور نئی معرفتیں اس اقتدار کی فکری اور کونیاتی اساس کو براہِ راست چیلنج کر رہی تھیں۔
اس پس منظر میں علما اور اہلِ فکر پر ڈھائے جانے والے مظالم نہ تو محض اتفاقی واقعات تھے اور نہ ہی کسی فرد یا گروہ کی عارضی لغزشوں کا نتیجہ تھا، بلکہ وہ ایک ایسی بند اور خود محافظ مذہبی ساخت کی ناگزیر پیداوار تھے جو ہر نئی دریافت کو اپنی اتھارٹی اور شریعت کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کرتی تھی۔ تفتیشی عدالتوں کا قیام، مفکرین اور اہلِ علم کی منظم تعاقب، اور آزاد تحقیق و فکری جستجو کو جرم کے زمرے میں لانا محض اخلاقی انحرافات یا تاریخی بے قاعدگیاں نہیں تھیں، بلکہ ایک ہمہ گیر فکری منظومے کے فطری مظاہر تھے جو علمی اختلاف کو دینی انحراف کے مترادف سمجھتا تھا۔ بعد ازاں جب کلیسائی اقتدار کا دائرہ سکڑنے لگا تو یہ تبدیلی محض اس سبب سے واقع نہ ہوئی کہ “علم نے غلبہ حاصل کر لیا”، بلکہ اس لیے کہ فکر، معیشت اور سیاست کی پوری ساخت ازسرِ نو تشکیل پا چکی تھی، اور انسان، معرفت اور کائنات کے مابین تعلق کی اساسات ایک نئے فکری افق پر استوار ہو چکی تھیں۔
تاہم اسی تاریخی تجربے کو اس کی تمام فکری اور معنوی پیچیدگیوں کے ساتھ اسلامی تناظر پر منطبق کرنا ابتدا ہی سے شدید خلطِ مبحث کو جنم دیتا ہے۔ اسلام اپنے تاسیسی نصوص میں انسان اور اس کے رب کے درمیان کسی وجودی یا نجاتی واسطے کے تصور کو نہ تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی کسی ایسی بند مذہبی طبقاتی ساخت کی بنیاد رکھتا ہے جو نجات پر اجارہ داری قائم کرے یا مغفرت عطا کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے۔ بندے اور رب کے درمیان تعلق براہِ راست ہے، جو فردی ذمہ داری، خوداحتسابی اور آزاد ارادے پر قائم ہے، نہ کہ کسی ادارہ جاتی سرپرستی یا مذہبی وصایت پر۔مزید یہ کہ دینی نص نے فہم اور معنی کے دروازے بند نہیں کیے، بلکہ اجتہاد، تدبر اور غور و فکر کے لیے انہیں کھلا رکھا ہے، اور عقل کو فہمِ دین میں ایک لازمی شریک کے طور پر تسلیم کیا ہے، نہ کہ اسے وحی کے مقابل یا اس کا حریف قرار دیا جائے۔
آج جنہیں علماے دین کہا جاتا ہے، وہ اصولی اعتبار سے اقتدار کے نہیں بلکہ علم کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کا بنیادی منصب تشریع یا جبر نہیں، بلکہ توضیح، بیان اور رہنمائی ہے، نہ کہ وصایت یا بالادستی کا نفاذ۔ اسلامی فکری ساخت میں انہیں معاشرے پر کوئی ایسی لازمی یا فوقی اتھارٹی تفویض نہیں کی گئی جو افراد کے ضمیروں کو مقید کرے یا ان کے اختیارات سلب کرے۔ عالم، اسلامی تصور کے مطابق، بندے اور اس کے رب کے درمیان کوئی واسطہ نہیں، بلکہ نص کا شارح، اس کے فہم میں مجتہد، خطا و صواب کے امکان کا حامل، اور علمی نقد و نظرثانی کے لیے ہمیشہ کھلا ایک انسانی فاعل ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بعض تاریخی اور سماجی سیاق میں علم طاقت کا ذریعہ بن جاتا ہے، کچھ علما سیاسی یا سماجی اقتدار کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں، اور بعض مواقع پر فتویٰ کو کسی مخصوص صورتِ حال کے تحفظ یا موجودہ ظلم کے جواز کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے؛ تاہم یہ طرزِ عمل نہ تو دین کی اصل ساخت کا ترجمان ہے اور نہ ہی اس کے جوہر کی نمائندگی کرتا ہے، بلکہ یہ علم کے انسانی استعمال میں پیدا ہونے والے انحرافات ہیں۔ اور ایسے انحرافات محض مذہبی میدان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ہر اس شعبے میں نمودار ہوتے ہیں جہاں علم اقتدار کے آلے میں تبدیل ہو جائے۔
یہ حقیقت بھی گہری توجہ کی متقاضی ہے کہ اسلامی تاریخ کے عروجی مراحل میں دین اور علم کے مابین کسی ہمہ گیر، ساختی یا ادارہ جاتی تصادم کا تصور سرے سے موجود نہیں تھا۔ فقہا، فلاسفہ، اطبا اور اہلِ فلکیات ایک ہی مشترک علمی افق میں سرگرمِ عمل تھے، جہاں معرفت کو محض نظری جستجو نہیں بلکہ کائنات کے سنن کی تفہیم اور زمین کی آبادکاری و تہذیبی تعمیر کا بنیادی وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔ تاریخی تجربے میں یہ مثالیں نہایت نادر ہیں کہ کسی سائنسی یا تحقیقی سرگرمی کو صرف اس بنیاد پر معطل یا ممنوع قرار دیا گیا ہو کہ وہ کسی قطعی دینی نص سے متصادم ہے، یا یہ کہ اہلِ علم کی منظم سرکوبی کے لیے کوئی مستقل مذہبی ادارہ تشکیل دیا گیا ہو۔ اس وضاحت کا مقصد یہ نہیں کہ اسلامی تاریخ کو ایک مثالی یا ہر طرح کی کشمکش سے منزہ قرار دیا جائے، بلکہ یہ بتانا ہے کہ یہاں کشیدگی، جہاں بھی پیدا ہوئی، وہ نہ تو فکری و سماجی ساخت میں پیوست تھی اور نہ ہی کسی ادارہ جاتی نظام کا لازمی تقاضا، جیسا کہ کلیسائی تجربے میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
چنانچہ مسلمانوں کی پسماندگی کو محض اس نکتے تک محدود کر دینا کہ وہ کسی مفروضہ مذہبی بالادستی کو محدود نہ کر سکے، حقیقت کی سنجیدہ توضیح سے زیادہ اس سے پہلو تہی کے مترادف ہے۔ فی الواقع مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا، ہمہ جہتی اور پیچیدہ ہے۔ اس کی جڑیں تنقیدی عقل کی معطلی، نص کے انسانی فہم کو تقدیس کے مرتبے پر فائز کر دینے، تراث کو ایک متحرک اور قابلِ تجاوز تاریخی تجربے کے بجائے ماورائے زمانہ اتھارٹی میں تبدیل کر دینے، معرفت کے عملی واقعیت سے منقطع ہو جانے، سیاسی ارادے کی کمزوری، اور ایک جامع و مربوط تہذیبی منصوبے کے فقدان میں پیوست ہیں۔ یہی عناصر باہم مل کر فکری و تمدنی جمود کی فضا پیدا کرتے ہیں، نہ کہ محض علماے دین کی موجودگی یا مذہبی خطاب کا میدانِ عام میں جاری رہنا۔
مزید برآں، دین یا علما کو پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہرا دینا دراصل معاشرے کے لیے ایک سہل اور تسکین بخش نفسیاتی راستہ فراہم کرتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں دیگر تمام فریق اپنی اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں سے عملاً بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ جب پورے بحران کو محض "رجالِ دین" کے کردار تک محدود کر دیا جاتا ہے تو سیاست دان اپنی سیاسی ناکامیوں سے، دانش ور اپنی فکری بے اثری سے، تعلیمی نظام اپنی ساختی کمزوریوں سے، اور معاشی ڈھانچہ اپنی داخلی خرابیوں سے آسانی کے ساتھ دامن چھڑا لیتا ہے۔ حالانکہ نہ کسی معاشرتی عروج کی تشکیل کسی ایک طبقے کی کوششوں کا حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی کسی تمدنی زوال کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد کی جا سکتی ہے۔ معاشرہ اپنی مجموعی حالت کا خود شریکِ کار ہوتا ہے، اور اس میں تمام طبقے اور تخصصات برابر کے ذمہ دار ہوتے ہیں: دانش ور، سیاست دان، ماہرِ معیشت، مربی، اور اسی طرح عالمِ دین بھی۔
اسی بنا پر یورپی فکری بیانیے کی محض نقالی، اور یہ مفروضہ کہ نجات کا راستہ کلیسائی تجربے کی طرح “علماے دین کو محدود کرنے” میں مضمر ہے، کسی حقیقی حل کی نشان دہی نہیں کرتا، بلکہ اس بات کا غماز ہے کہ ہم اسلامی تجربے کے اندر سے ایک سنجیدہ اور بامعنی تشخیص پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کسی مفروضہ پادریت یا مذہبی بالادستی کے بالمقابل ایک سطحی اور غیر مربوط سیکولرزم کو کھڑا کر دیا جائے، یا فکری کشمکش کو مصنوعی طور پر دین اور جدیدیت کے درمیان تصادم کی صورت دے دی جائے؛ بلکہ اصل اور بنیادی ضرورت اس بات کی ہے کہ نص اور عقل، اقدار اور واقعیت، اور معرفت اور اجتماعی ذمہ داری کے مابین تعلق کو ازسرِ نو فکری بنیادوں پر استوار کیا جائے۔
آخرکار، نشاۃ ثانیہ نہ تو دین کی نفی سے جنم لیتی ہے اور نہ علما کے ساتھ مخاصمت سے، بلکہ اجتہادی عقل کی بحالی، مقدس کو اس کے انسانی اور تاریخی استعمالات سے امتیاز کے ساتھ الگ کرنے، اور اس گہرے شعور سے ظہور پذیر ہوتی ہے کہ دین اپنے جوہر میں ایک اخلاقی اور معرفتی توانائی ہے۔ جو درست فہم، فکری انجماد سے آزادی، اور عملی ذمہ داری کے ساتھ جڑ کر ترقی اور تمدنی احیا کا محرک بن سکتی ہے، نہ کہ اس کی راہ میں رکاوٹ۔ مسئلہ کبھی دین بذاتِ خود نہیں رہا، بلکہ اس کی قرأت اور تفہیم کے منہج میں رہا ہے؛ اور مسئلہ علما کی موجودگی نہیں، بلکہ اس جامع تہذیبی منصوبے کی عدم موجودگی ہے جو ہر علم کو اس کے مناسب مقام پر رکھے، اور ہر سماجی فاعل کو اس کا حقیقی کردار اور اخلاقی ذمہ داری واپس دلائے۔


