16 شعبان 1447 هـ   4 فروری 2026 عيسوى 4:16 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2026-02-01   47

انسان اور فکری گمراہی: عدمیت سے سوفسطائیت تک

الشيخ معتصم السيد حمد

انسانی تاریخ میں فکری کشمکش کو اکثر دین اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت میں یہ ٹکراؤ انسان اور کائنات کو سمجھنے کے دو مختلف نقطۂ نظر کے درمیان رہا ہے۔ ایک نقطۂ نظر یہ مانتا ہے کہ سچائی کو جانا جا سکتا ہے، زندگی کا کوئی معنی ہے اور انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہےجبکہ دوسرا نقطۂ نظر علم ہی کو مشکوک بنا دیتا ہے یا وجود کو کسی مقصد سے خالی سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے سوفسطائیت اور عدمیت جیسے رجحانات خطرناک بن جاتے ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ صرف پرانے فلسفیانہ مکتبِ فکر ہیں بلکہ اس لیے کہ یہ سوچ کے ایسے انداز ہیں جو ہر دور میں دوبارہ ابھر آتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انسان اپنی فکری یا اخلاقی سمت کھو بیٹھتا ہے۔

سوفسطائیت اپنی اصل میں چند نظریات پر عارضی شک کا نام نہیں بلکہ یہ خود حقیقت کے تصور پر ایک بنیادی اعتراض ہے۔ یہ کسی ایک غلطی کی نفی نہیں کرتی بلکہ درست اور غلط کے معیار ہی کو ختم کر دیتی ہے اور سچ کو نسبتی بنا دیتی ہے جو زبان، مفاد اور قائل کرنے کی صلاحیت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال اہم نہیں رہتا کہ حق کیا ہےبلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ اپنی بات کو بہتر انداز میں کون بیچ سکتا ہے۔ یوں علم سچ کی تلاش کی بجائے محض الفاظ کا کھیل بن جاتا ہے اور عقل حقیقت کو ظاہر کرنے کی بجائے صرف جواز پیدا کرنے کا ذریعہ رہ جاتی ہے۔

عدمیت اس فکری راستے کی سب سے تاریک صورت ہےکیونکہ یہ صرف علم اور یقین کو نہیں گراتی بلکہ خود معنی کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ عدمیت یہ نہیں کہتی کہ ہم حقیقت کو جان نہیں سکتےبلکہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اگر ہم جان بھی لیں تو اس علم کی کوئی قدر نہیں اور نہ ہی ہمارے کسی عمل کا کوئی مقصد ہے۔ اس کے مطابق دنیا بے ہدف ہے، وجود بے معنی ہے اور اقدار محض تاریخی وہم ہیں جو انسانوں نے خود گھڑ لیے اور پھر انہی پر یقین بھی کر لیا۔ اس سوچ کے تحت انسان ایک ایسے وجود میں بدل جاتا ہے جو خلا میں معلق ہے جس کے پاس نہ امید کی کوئی ٹھوس وجہ ہوتی ہے اور نہ ہی اخلاقی پابندی کی کوئی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔

ان دونوں رجحانات کے مقابلے میں اسلام ایک بالکل مختلف اور بنیادی طور پر جداگانہ فکر پیش کرتا ہے۔ یہ نہ تو فکری جبر پر قائم ہے اور نہ ہی عقل کو معطل کرتا ہے بلکہ علم ، معنی ، آزادی اور ذمہ داری کے درمیان تعلق کو ازسرِنو استوار کرتا ہے۔ اسلام سوال کو رد کرنے کی بجائے اسے درست ترتیب دیتا ہےاور شک سے بھاگنے کی بجائے اسے اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآن کا اسلوب اندھی تقلید پر مبنی نہیں بلکہ عقل کو متوجہ کرنے والا، غور و فکر پر اُکسانے والا اور علم کو عمل اور سمجھ بوجھ کو اخلاقیات سے جوڑنے والا خطاب ہے۔

اسلام سوفسطائیت کو جڑ سے رد کرتا ہے،کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ انسان کے لیے معرفت حاصل کرنا ممکن ہے اور ایک معروضی حقیقت موجود ہے جس تک انسانی عقل رہنمائی پا سکتی ہے، چاہے وہ اسے پوری طرح محیط نہ ہوسکے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں حقیقت کوئی لسانی فریب یا من مانا تصور نہیں بلکہ خود وجود کی حقیقت سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے سچ اور جھوٹ، عدل اور ظلم اور خیر و شر محض نسبتی نام نہیں بلکہ حقیقی امور ہیں جن کے اثرات فرد کی شخصیت، معاشرے کی ساخت اور تاریخ کے دھارے میں واضح طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

اسی کے ساتھ اسلام کسی سادہ لوح فکر میں بھی نہیں پڑتا۔ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ انسان خطا سے پاک ہے یا انسانی علم مطلق اور کامل ہے لیکن وہ علم کی محدودیت اور اس کے سرے سے انکار میں اور فہم کی نسبیت اور حقیقت کو مٹا دینے کے درمیان واضح فرق قائم کرتا ہے۔ اسلام میں عقل کو ہدایت کا ذریعہ سمجھا گیا ہے نہ کہ فریب یا چالاکی کا آلہ بنایا گیا ہے۔انسان کی ذمہ داری اسی بنیاد پر قائم ہوتی ہے کہ وہ سمجھنے، پرکھنے اور درست و غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عدمیت کے مقابلے میں اسلام ایک ایسے تصور کو پیش کرتا ہے جسے بجا طور انسانی مقصد یا ہدف کہا جا سکتا ہے۔ اسلام صرف خدا کے وجود کو ایک مابعد الطبیعی حقیقت کے طور پر ثابت کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس وجود کو انسانی زندگی کے ہدف سے جوڑ دیتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں انسان کوئی فاضل یا غیر ضروری مخلوق نہیں، نہ ہی کائنات میں پیش آنے والا کوئی بے مقصد حادثہ ہے بلکہ وہ ایک ذمہ دار مخلوق ہے جس کی ایک ذمہ داری، ایک کردار اور ایک متعین راستہ ہے۔ اسی مفہوم میں زندگی عبث نہیں بلکہ ایک امتحان ہے اور بے ترتیبی نہیں بلکہ انتخاب اور ذمہ داری کا ایک کھلا میدان ہے۔

اسلام میں ہدف اور مقصد نہ تو زبردستی باہر سے مسلط کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے فرد کی خواہشات کے حوالے کر دیا جاتا ہے بلکہ یہ فطرت اور وحی کے باہمی امتزاج سے جنم لیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق انسان اپنے اندر اقدار پر ایمان رکھنے کی ایک فطری صلاحیت رکھتا ہے مگر اسے صحیح رخ دکھانے کے لیے ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے معیار کی بھی جو ان اقدار کے درست اطلاق کو متوازن رکھے۔ اسی بنیاد پر اسلام میں اخلاقیات کو کسی بدلتے ہوئے سماجی معاہدے کے طور پر نہیں بلکہ خود وجود کے معنی کا تسلسل اور اظہار سمجھا جاتا ہے۔

یہی بات اسلام کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ درد اور تکلیف کا انکار کیے بغیر عدمیت کا سامنا کر سکے۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ دنیا کامل ہے اور نہ ہی وہ شر کے وجود سے انکار کرتا ہے مگر وہ وجود کو محض شر تک محدود کرنے یا درد کو زندگی کے بے معنی ہونے کی دلیل بنانے کو رد کرتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں تکلیف معنی کی نفی نہیں بلکہ اس کا امتحان ہےاور یہ فوری لمحے میں عدل کی عدم موجودگی کی علامت نہیں بلکہ ایک وسیع تر سفر کا حصہ ہے، جس میں عدل اپنی مکمل صورت میں انجام اور نتائج کے مرحلے پر ظاہر ہوتا ہے۔

اسلام آزادی کا ایک متوازن تصور پیش کرتا ہے جو سوفسطائی آزادی سے مختلف ہے جو آخرکار بے ترتیبی میں ختم ہو جاتی ہے اور عدمیت کی آزادی سے بھی مختلف ہے جو بالآخر بے پروائی میں بدل جاتی ہے۔ اسلام میں آزادی ذمہ داری سے جڑی ہوئی ہے، انتخاب حساب و کتاب کے ساتھ مربوط ہے اور انسانی وقار اخلاقی التزام سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اسی مفہوم میں انسان اس وقت آزاد ہے جب وہ جو کچھ کرتا ہے اسے سمجھتا ہو اور جانتا ہو کہ وہ کیوں کر رہا ہے نہ کہ صرف اپنی مرضی سے عمل کرتا ہو۔

تمدنی تناظر میں یہ فرق واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ وہ معاشرے جو سوفسطائی سوچ اپناتے ہیں، اعتماد کی کمزوری کی طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ حقیقت نسبتی ہو جاتی ہے اور بیان محض تسلط کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ معاشرے جو عدمیت کو اندر سے قبول کرتے ہیں اندرونی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ اقدار اپنا معنی کھو دیتی ہیں اور اخلاقی تعلقات عارضی مفاد تک محدود ہو جاتے ہیں۔ جبکہ وہ معاشرے جو معنی خیز اخلاقی وژن پر قائم ہیں، زیادہ مضبوط اور مستحکم رہتے ہیں کیونکہ ان کی یکجہتی صرف طاقت پر نہیں بلکہ مشترکہ یقین پر مبنی ہوتی ہے کہ اخلاقی التزام کی پابندی کا حقیقی فائدہ ہے۔

اب  کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کی اہمیت صرف اس میں نہیں کہ یہ ایک رسوماتی مذہب  ہے بلکہ اس میں بھی ہے کہ یہ ایک ایسا فکری اور اخلاقی فریم ورک فراہم کرتا ہے جو انسانیت کو محفوظ رکھتا ہے۔ اسلام سوفسطائیت کے مقابلے میں حقیقت کے امکان کو ثابت کرتا ہےاور عدمیت کے مقابلے میں زندگی کو معنی عطا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا متبادل پیش کرتا ہے جو عقل کو ختم یا خالی نہیں کرتا اور نہ ہی اقدار کو مجرد طور پر مقدس بنا دیتا ہےبلکہ انہیں انسان کی حقیقی زندگی سے جوڑ دیتا ہے۔

ایسی دنیا میں جہاں شک اور عدمیت کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، معاصر انسان کا بحران معلومات کی کمی کا نہیں بلکہ معنی کے فقدان کا ہے۔ اسی لیے ایک ایسا مذہبی اور فکری پیغام ضروری ہے جو علم کو قدر کے ساتھ، عقل کو ذمہ داری کے ساتھ اور آزادی کو مقصد کے ساتھ جوڑ دے۔ یہی کچھ اسلام پیش کرتا ہے، جب اسے صرف قوانین کے نظام کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت کے ایک منصوبےکے طور پر سمجھا جائے اور جب اسے صرف زمانے کے سوالات کے ردعمل کی بجائے انسان اور کائنات کے بارے میں ایک جامع وژن کے طور پر دیکھا جائے۔

اسلام عقل کا دشمن نہیں اور نہ ہی اس کا متبادل ہے بلکہ وہ وہ فریم ورک ہے جو عقل کو اس کا وسیع ترین افق عطا کرتا ہے اور انسان کو ایک معقول وجہ دیتا ہے کہ وہ حقیقتاً انسان بن سکے۔


جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018