16 شعبان 1447 هـ   4 فروری 2026 عيسوى 4:17 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2026-01-31   36

قرآن کریم انسان کی کمزوری کی یاد دہانی کیوں کراتا ہے؟ ایک جائزہ

شیخ مصطفیٰ الحجری

قرآنی تعلیمات انسان کے بارے میں بالکل مختلف موقف پیش کرتی ہیں، جو جدید الحادی فکر اور اس فلسفیانہ تصور کی صریحا خلاف ہے اس فکر کے مطابق انسان خود کو ہر شے کا محور، کائنات کا مرکز، اقدار کا معیار، اور قوانین و اصولوں کا ماخذ سمجھتا ہے۔جبکہ اس کے برعکس قرآنِ کریم ابتدا ہی سے اس خود ساختہ تصور کو باطل ٹھہراتا ہے اور انسان کو اس کی حقیقی وجودی حیثیت کی طرف توجہ دلاتاہے۔ وہ انسان کو اس کی اصل حقیقت، اس کی کمزوری اور اس کی ناپائیداری کی یاد دہانی کراتا ہے، اور واضح کرتا ہے کہ جب انسان وحی سے کٹ جاتا ہے تو لازماً گمراہی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔یہیں سے ہم اس حقیقت کو واضح طور پر محسوس کرتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں لفظ انسان عموماً کسی نہ کسی کمی یا کمزوری کے بیان کے ساتھ ہی آیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا﴾  النساء: ۲۸

اللہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے، اور انسان کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے۔

اور فرمایا:

﴿وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا﴾ یونس: ۱۲

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، خواہ لیٹا ہوا ہو یا بیٹھا ہوا۔

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ﴾ ابراہیم: ۳۴

بے شک انسان بڑا ہی ظلم کرنے والا، بڑا ہی ناشکرا ہے۔

اور ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا﴾ الإسراء: ۱۱ اور انسان جلدباز واقع ہوا ہے۔

انسان کے بارے میں قرآن کریم  کا یہ خطاب اور اسلوب  اس کی قدر و منزلت کو گھٹانے کے لیے نہیں، بلکہ اس خود ساختہ دعوۂ کمال کو رد کرنے کے لیے ہے جس پر جدید الحاد کی فکری بنیاد قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الحاد محض خدا کے انکار کا نام نہیں، بلکہ یہ الوہیت کو خود انسان کی شکل میں دوبارہ قائم کرنے کا ایک طریقہ  بھی ہےکہ انسان جب کسی بالاتر اور اعلیٰ ارادے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ خدا کے تصور سے آزاد نہیں ہو جاتا، بلکہ اس کی وہ کبھی عقل کو، کبھی خواہش کو، کبھی طاقت کو، کبھی ریاست کو، اور کبھی خود اپنی ذات کو معبود سمجھتے ہوئے گویا اپنےلئے بت تراش لیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں یوں بیان کیا ہے:

﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ (الجاثیہ: 23

کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش ہی کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟

تاریخ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ انسان کا کسی کو معبود بنا لینا یا کسی کے سامنے جھک جانا کوئی عارضی یا وقتی رجحان نہیں، بلکہ یہ  ایک قدیم اور گہری جڑیں رکھنے والی روش ہے۔حالانکہ  انسانیت اپنی ابتدائی حالت میں توحید پر قائم ایک ہی امت تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ البقرۃ: 213

تمام لوگ ایک ہی امت تھے۔

پھر انحراف اس وقت شروع ہوا جب انسان اللہ تعالی کا بندہ بننے کی بجائے خود تقدیس کا مرکز بننے لگا۔ چنانچہ وادیٔ دجلہ و فرات اور قدیم مصر کی تہذیبوں میں بادشاہوں کو خدائی صفات سے متصف کیا گیا، حاکم کے نام پر معبد خانے تعمیر ہوئے اور وہاں، نذریں اور قربانیاں پیش کی گئیں، اور یوں انسان  کواللہ تعالی کے سوا معبود بنا لیا گیا۔

معاصر الحادی فکر اسی نمونے کو نئے اسلوب اور مختلف انداز میں دوبارہ زندہ کرتا ہے؛ وہ انسان کو (نعوذ باللہ) خدا کی جگہ بٹھا دیتا ہے، اور اسے اقدار کا قانون ساز، حقیقت کا فیصلہ کرنے والا، اور زندگی و موت پر مطلق اختیار رکھنے والا حاکم قرار دیتا ہے۔لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جیسا کہ بیسویں اور اکیسویں صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ انسان کو ہی سب کچھ سمجھنے کا انجام انسان کی آزادی  کا سبب نہیں بنا، بلکہ وہ اس طریقے کو اپنا کر ایک درندہ صفت مخلوق میں بدلتا چلا گیا؛ ایسی مخلوق جس کے نام پر جنگوں کو جائز قرار دیا گیا، نسل کشیاں کی گئیں، اور استبداد مسلط کیا گیااور یہ سب کچھ خود  انسان  ہی کے نام پر ہوا۔ جیسا کہ قومِ نوحؑ کی داستان اس انحراف کے پسِ منظر میں کارفرما نفسیاتی طریقۂ کار کو واضح کرتی ہے، کیونکہ شرک کا آغاز پتھر کی عبادت سے نہیں ہوا، بلکہ انسان کی تقدیس سے ہوا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ نوح: ۲۳

اور انہوں نے کہا: ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا، اور نہ ودّ کو چھوڑنا، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔

یہ دراصل  ان نیک اور صالح انسانوں کے نام تھے، جو وقت گزرنے کے ساتھ بتدریج ایسے معبودوں میں بدل گئے جن کی عبادت کی جانے لگی، اور لوگ ان کے نظریات کو حرف آخر سمجھنے لگے۔واضح رہے کہ  یہی وہ راستہ ہے جس پر جدید الحادی فکر کے حامل لوگ بھی چلتے ہیں، جب وہ مفکرین اور نظریات کو ایسی مقدس ہستیوں اور تصورات میں بدل دیتے ہیں جن پر سوال اٹھانا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

یہیں سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآنی تصور میں توحید محض ایک غیبی عقیدہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی ضرورت ہے؛ کیونکہ وہ انسان کے ہاتھوں انسان پر ہونے والے ظلم کا سدِّباب کرتی ہے، اور طاقت، عقل یا خواہش کو معبود بننے سے روکتی ہے۔ قرآنِ کریم جب انسان کو اس کی ذہنی اور فکری الوہیت کے وہمی تخت سے اتارتا ہے تو اس کی تحقیر نہیں کرتا، بلکہ اسے اس کی اپنی ذات کے شر سے محفوظ کرتا ہے، اور اسے اس کے حقیقی مقام پر واپس لے آتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک ذمہ دار بندہ نہ کہ ایسا خودساختہ معبود جو اپنی نام نہاد آزادی کے نام پر دنیا کو تباہ کر دے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018