

دورِ حاضرمیں حقیقی کردار کے مقابل سستی شہرت کے حامل کردار
الشيخ معتصم السيد احمد
انسان کی شخصیت کسی خلا میں تشکیل نہیں پاتی، اور نہ ہی اس کی فکری و عملی نشوونما اُن نمونوں سے کٹ کر ممکن ہے جو اس کے ماحول میں رائج ہوتے ہیں۔ انسان اپنے شعوری اعتقادات کو باقاعدہ اور منظم صورت دینے سے بہت پہلے، شعوری یا لاشعوری طور پر اُن رویّوں اور طرزِ ہائے عمل سے متاثر ہو چکا ہوتا ہے جو اس کے سامنے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یوں رفتہ رفتہ وہ بعض افراد اور کرداروں کو اپنے شعور و لاشعور میں "نمونۂ عمل" کے طور پر قبول کر لیتا ہے، اور یہی نمونے اس کی سوچ، ترجیحات اور عملی سمت کا تعین کرنے لگتے ہیں۔اسی لیے نمونہ عمل قرار پانے یا رول ماڈل ہونے کا سوال محض ایک ضمنی اخلاقی بحث نہیں، اور نہ ہی کوئی ایسا سطحی موضوع ہے جسے نظرانداز کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک ایسا بنیادی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے شعور کی تشکیل سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اور اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ اقدار کس طرح مجرد تصورات کی سطح سے نکل کر عملی رویّوں اور اجتماعی طرزِ حیات کی صورت اختیار کرتی ہیں۔
معاشروں کی تربیت محض مجرد اصولوں، نظریاتی ضابطوں یا تجریدی اقدار کے سہارے ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس کی حقیقی تشکیل زندہ، متحرک اور قابلِ مشاہدہ نمونوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ انسان محض وہ نہیں سیکھتا جو اسے زبانی طور پر سکھایا جاتا ہے، بلکہ وہ اپنے وجدان سے ہی اخذ کرتا ہے جسے وہ اپنے سامنے مجسّم صورت میں دیکھتا ہے؛ چنانچہ اس کے فکری و اخلاقی معیارات تنہا اور منقطع متون سے نہیں، بلکہ عملی ریوں، محسوسات اور روزمرہ حقیقت سے تشکیل پاتے ہیں۔اسی بنیاد پر جب ہم اقدار کے بحران، رویّوں کے انحراف، یا نئی نسلوں میں معیارات کی دو رُخی اور داخلی تضاد کا تجزیہ کرتے ہیں، تو سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ اور دیانت دار انہ سوال یہ نہیں ہوتا کہ ہم کیا تعلیم دے رہے ہیں؟ بلکہ حقیقت پر مبنی، زیادہ گہرا اور فیصلہ کن سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم کس شخصیت اور کس طرزِ عمل کو نمونۂ عمل اور قابلِ تقلید مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں؟
عصرِ حاضر کا بنیادی مسئلہ رول ماڈل کی کمی نہیں، بلکہ اس کے مفہوم میں واقع ہونے والا گہرا بگاڑ اور اس میں کی جانے والی تحریف ہے۔ کسی کو نمونۂ عمل بنانے کی انسانی حس ناپید نہیں ہوئی، بلکہ اپنی اصل معنویت سے ہٹ کر ایک نئی صورت اختیار کر چکی ہے؛ اب وہ نہ تو اخلاقی گہرائی کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے اور نہ ہی اقدار اور عملی رویّوں کے باہمی تال میل سے، بلکہ اسے اب شہرت اور توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت کی منطق کے مطابق ازسرِ نو مرتب کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً اقدار کے نظام میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ہے، اور "نمونۂ عمل" کا تصور بتدریج پس منظر میں چلا گیا ہے، اور اس کی جگہ "خودنمائی" نے لے لی ہے؛ یوں وہ انسان جو کردار، استقامت اور اخلاقی برتری کی بنا پر قابلِ تقلید تھا، اب ایک ایسی شخصیت میں بدل چکا ہے جو بصری اور ابلاغی وسائل کے ذریعے محض دکھاوے اور مصرف کے دائرے میں گردش کرتی ہے۔
اس سیاق میں ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے نیٹ ورک اب محض تصاویر کے ناقل نہیں رہے، بلکہ اب وہ عملاً وہ کسی خاص نمونہ عمل سے انسان کو متاثر کرنے والے ایک منظم نطام کی صورت اختیار کرچکے ہیں چنانچہ اب یہ ذرائع شخصیات کو پیدا کرتے ہیں، انہیں بار بار دیکھاتے اور جتلاتے ہیں، ان کی موجودگی کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، اور پھر اجتماعی شعور، بالخصوص نوجوان نسل کے شعور، کو کسی سنجیدہ سوال یا تنقیدی محاسبے کے بغیر ان کے ساتھ ہم آہنگ اور مماثل ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ایسے میں ان شخصیات کی منجملہ اقدار، ان کے کردار، ان کے طرزِ زندگی، اور ان کے تربیتی و اخلاقی اثرات کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا؛ بلکہ محض یہ بات کافی سمجھی جاتی ہے کہ وہ بازار اور منڈی کے طے کردہ پیمانوں کے مطابق “کامیاب” ہوں، تاکہ انہیں نمونۂ عمل ہونے کی سماجی، ثقافتی اور اخلاقی حیثیت عطا کر دی جائے۔
پس یہی اصل المیہ ہے کہ جب کامیابی کو اپنے معنوی سیاق سے الگ کر دیا جائے تو یہ ایک خالی اور بے اثر قدر میں بدل جاتی ہے۔ اور جب شہرت کو اس کی اخلاقی بنیادوں سے الگ کر دیا جائے، تو یہ ایک نرم مگر طاقتور اثر بن جاتی ہے جو شعور کی تشکیل نو کو بلا مزاحمت آگے بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح، جب نمونۂ عمل بننے والے وصف کو محض جزوی کامیابی یا شور و ہنگامہ خیز لوازم تک محدود کر دیا جائے، تو یہ اب ایک تعمیری وسیلہ نہیں رہتی بلکہ بگاڑ اور مسخ شدہ قوت میں بدل جاتی ہے۔نمونوں کے مصنوعی اور تیار شدہ ماڈل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کے لیے ایک نامکمل اور ٹوٹی پھوٹی مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ طاقت کو بغیر ذمہ داری کے دکھاتے ہیں، آزادی کو بغیر کسی التزام کے پیش کرتے ہیں، اور کامیابی کو اخلاقی قیمت کے بغیر ظاہر کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایک مبہم اور بے ربط و بے ہنگم شعور پروان چڑھتا ہے، جو قدر و قیمت کو صرف ظاہری دکھاوے سے جوڑتا ہے، خودی کو سطحی اور محدود تقابل کے ترازو سے ناپتا ہے، اور اسطرح اخلاقی سوالات کی جگہ مقبولیت اور شہرت کے معیار لے لیتے ہیں۔جب یہ ماڈل معاشرتی سطح پر مضبوط ہو جائے، تو یہ امر حیران کن نہیں کہ ایک ایسی نسل وجود میں آئے جو علم و آگاہی میں وسیع لیکن اقدار میں کمزور، آسانی سے متاثر ہونے والی، اور حقیقت اور فریب کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت سے نابلد ہو۔
اس کے برعکس، جب ہم انسانی اور دینی میراث کو محض ایک مقدس ماضی کے طور پر نہیں بلکہ انسانی تجربے اور عملی بصیرت کا خزانہ سمجھ کر دیکھتے ہیں، تو نمونہ عمل بنے والی شخصیت کے تصور میں ایک بنیادی اور گہری بصیرت آشکار ہوتی ہے۔ یہاں نمونہ عمل بنے والی شخصیت نہ تو کوئی دور از حقیقت مثالی تصویر ہے، اور نہ ہی کوئی افسانوی ہیرو جو زندگی کے تقاضوں سے ماورا ہو۔ بلکہ یہ وہ انسان ہے جس نے اقدار کو اپنی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو میں عملی طور پر جیا، تضادات اور مشکلات کا سامنا کیا، اور زندگی کے چیلنجز کے باوجود اپنی اخلاقی رہنمائی اور حقیقی زندگی کے اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
اسلامی نقطہ نظر میں نمونہ عمل بنے والی شخصیت کو صرف ایک استثنائی موقف کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے ایک مکمل اور متوازن طرزِ حیات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے زور جزوی یا محدود بہادری پر نہیں، بلکہ "الأسوة الحسنة" یعنی اس نمونے پر ہے جس کی تقلید عام حالات میں بھی کی جا سکتی ہے، نہ کہ صرف غیر معمولی یا انتہائی لمحات میں، اور جو زندگی کے ہر لمحے میں رہنمائی فراہم کرے، نہ کہ صرف موت یا تاریخی عظیم واقعات کے وقت۔
انسان کو صرف اس شخص کی ضرورت نہیں جو اسے سکھائے کہ کسی فیصلہ کن لمحے میں ظلم کا مقابلہ کیسے کیا جائے، بلکہ اسے اس کی بھی ضرورت ہے جو اسے سکھائے کہ زندگی کے عام حالات میں کس طرح وقار کے ساتھ جییا جائے، اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات میں اپنے اقدار اور اصولوں کو کس طرح قائم رکھا جائے۔
یہیں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نمونہ یا کردار کو صرف ایک فیصلہ کن لمحے یا آخری منظر تک محدود کر دینا ایک منہجی اور فکری غلطی ہے۔ کسی بھی چیز کی اہمیت کسی آخری لمحے میں جنم نہیں لیتی، بلکہ یہ ایک طویل اور مسلسل عمل کے ذریعے وجود میں آتی ہے، جس میں داخلی ہم آہنگی، اخلاقی پختگی، اور مستقل مزاجی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انسانی تجربات میں سب سے حیران کن بات صرف قربانی کا لمحہ نہیں، بلکہ وہ مستقل راستہ ہے جو اس تک لے گیا، اس کے گرد گھری اخلاقیات، اور اندرونی شعور و عملی رویوں کے درمیان گہرا ہم آہنگی ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی سیرت پر جب ہم حقیقت پسندانہ نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کی شخصیت محض سطحی بہادری یا ظاہری جرات سے کہیں بلند ہے۔ حسین ابن علیؑ اس لیے آئیڈیل نہیں کہ انہوں نے ظلم کے سامنے ڈٹ کر موقف اختیار کیا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اصولوں کو اپنی ذات کا حصہ بنایا اور عملی زندگی میں ان اقدار کو مجسم کر دکھایا۔ آپؑ کا قیام کسی عارضی جوش یا جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ صداقت، باطنی شعور اور اخلاقی ذمہ داری کے مسلسل سفر کا منطقی انجام تھا، جو آپؑ کے نظریے اور عمل کے عین مطابق تھا۔
سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ نمونہ عمل بنے والی شخصیت انسان کو اس کی انسانی فطرت اور عملی زندگی سے جدا نہیں کرتی، بلکہ اسی زندگی کے اندر رہتے ہوئے اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ حسینؑ کی شخصیت میں قوت اور رحمت، قیادت اور شفقت، اصولی مضبوطی اور جذباتی سچائی کے درمیان کوئی تصادم نہیں بلکہ ایک بامعنی توازن پایا جاتا ہے۔ وہ جس طرح گھریلو ماحول میں اپنے کردار کے ذریعے قابلِ تقلید ہیں، اسی طرح سماجی اور عملی میدان میں بھی اعلیٰ نمونہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ تعلقات میں بھی ان کی ذات رہنمائی کا سرچشمہ ہے اور ظلم و اقتدار کے سامنے حق کے مؤقف میں بھی وہی اخلاقی بصیرت جھلکتی ہے۔ روزمرہ زندگی کی سادہ اور معمولی سرگرمیوں میں بھی وہ اقدار کو زندہ رکھتے ہیں اور بڑے، فیصلہ کن لمحات میں بھی انہی اقدار پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ یہی جامعیت اس نمونہ عمل بنے والی شخصیت کو محض ایک تقدیس یافتہ علامت نہیں بلکہ ایک زندہ، قابلِ عمل اور بامعنی نمونۂ حیات بنا دیتی ہے، جس کی پیروی نہ صرف ممکن ہے بلکہ انسانی زندگی کو مقصد اور سمت بھی عطا کرتی ہے۔
وہ معاشرہ جو انسان کے سامنے یا تو ادھوری اور سطحی نمونہ عمل بنے والی شخصیت رکھتا ہے، یا محض جذباتی جوش سے بھرپور ایسی علامتیں پیش کرتا ہے جن میں انسانی گہرائی اور عملی بصیرت کا فقدان ہو، درحقیقت ایک منتشر اور بحران زدہ شعور کی تشکیل کا سامان کرتا ہے۔ ایسے نمونے انسان کو وقتی ہیجان تو فراہم کرتے ہیں، مگر فکری استحکام اور عملی رہنمائی دینے سے قاصر رہتے ہیں۔
اس کے برعکس، وہ معاشرہ جو نمونہ عمل بنے والی شخصیت کو فکر اور عمل کے درمیان ہم آہنگی، تسلسل اور عملی مطابقت کے طور پر ازسرِنو متعین کرتا ہے، اپنے افراد کو انتخاب کے لیے ایک واضح، معتبر اور قابلِ اعتماد معیار عطا کرتا ہے۔ یہ معیار نہ تو پیروکاروں کی کثرت سے متعین ہوتا ہے، نہ ظاہری جلوہ گری، تشہیر یا سطحی شہرت سے؛ بلکہ اس بنیادی سوال پر پرکھا جاتا ہے کہ آیا یہ نمونہ اقدار کو محض بیان کرنے کے بجائے انہیں حقیقی زندگی میں منتقل کرنے اور عملی صورت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
اسی لیے آج نمونہ عمل بنے والی شخصیت کے تصور کو دوبارہ مرکزی اور معتبر مقام دینا محض ایک فکری مشغلہ یا ذوقی ترجیح نہیں، بلکہ ایک گہری وجودی ضرورت بن چکا ہے۔ معاصر انسان کو جس معنوی مغالطے کا سامنا ہے، وہ معلومات کی قلت کا نتیجہ نہیں، بلکہ سچی، زندہ اور قابلِ تقلید مثال کی عدم موجودگی کا اظہار ہے۔ انسان بہت کچھ جانتا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ وہ خود کون ہے۔ وہ روزانہ ہزاروں تصاویر دیکھتا ہے، مگر ایسی کوئی شخصیت نہیں پاتا جو تقلید کے قابل ہو۔ وہ بے شمار اخلاقی خطابات سنتا ہے، مگر کوئی ایسی عملی ہستی نظر نہیں آتی جو ان اقدار کو اپنے کردار اور عمل میں حقیقی طور پر مجسم کرتی ہو۔
شعور کو جھوٹے اور سطحی نمونہ عمل بنے والی شخصیت کی گرفت سے آزاد کرنا نہ جبر و پابندی کے ذریعے ممکن ہے، نہ خوف اور دھمکی کے ذریعے۔ اس کا واحد مؤثر راستہ حقیقی متبادل کی تخلیق اور زندہ، معتبر نمونوں کی پیشکش ہے۔ انسان کسی نمونۂ تقلید سے اس وقت تک دستبردار نہیں ہوتا جب تک اسے کوئی ایسا ماڈل میسر نہ آ جائے جو زیادہ سچا، زیادہ عمیق اور اس کی فطری انسانی ساخت اور اخلاقی اقدار سے مکمل ہم آہنگ ہو۔ جب عظیم دینی اور انسانی شخصیات کو دور کے افسانوی کرداروں یا محض تاریخی نشانات کے بجائے عملی زندگی کے رہنما اصولوں اور قابلِ عمل نمونوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو نمونہ عمل بنے والی شخصیت محض ایک ثقافتی ورثہ یا رسمی حوالہ نہیں رہتی، بلکہ ایک تخلیقی اور تعمیری قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو شعور کو بیدار اور عمل کو بامقصد بنا دیتی ہے۔
اس تناظر میں تقلید اور پیروی ایک باشعور، باوقار اور ذمہ دارانہ عمل بن جاتی ہے، نہ کہ اندھی نقالی؛ اور ایک گہرا اخلاقی انتخاب قرار پاتی ہے، نہ کہ محض نفسیاتی جھکاؤ یا سماجی دباؤ کا نتیجہ۔ صحیح نمونہ عمل بنے والی شخصیت انسان کو اپنی حقیقی شناخت تک رسائی عطا کرتی ہے، تاکہ وہ دوسروں کی مسخ شدہ اور سطحی نقل بننے کے بجائے خود اپنے وجود کی سچائی کو دریافت کر سکے۔جب نمونہ عمل بنے والی شخصیت کو اس فکری بصیرت اور ہمہ گیر تناظر کے ساتھ ازسرِنو زندہ کیا جاتا ہے، تو معاشرہ اپنی اخلاقی سمت، اقداری بوصلة اور معیارِ عمل کو دوبارہ حاصل کر لیتا ہے، اور ایسا متحد، متوازن اور بیدار شعور جنم لیتا ہے جو بخوبی پہچان سکتا ہے کہ شہرت اور معنی میں کیا فرق ہے، تصویر اور حقیقت میں کہاں حدِ فاصل قائم ہوتی ہے، اور فریب کے پردوں کے پیچھے چھپی انسانی سچائی کیا ہے۔


