

ولایت، سکون ِ قلب کا اخلاقی راستہ
الشيخ معتصم السيد أحمد
قرآنِ کریم سکون اور امن کے بارے میں ایک اعلیٰ مفہوم پیش کرتا ہے۔ قرآن انہیں حالات کے خاتمے یا سازگار معاشرتی و مادی حالات سے نہیں جوڑتا، بلکہ انہیں ایک اعلیٰ اخلاقی اور روحانی حالت کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ قرآن میں بیان کردہ اصول حالات کے تابع نہیں ہیں اور نہ ہی کسی غیر معمولی موقع یا مخصوص صورتوں تک محدود ہیں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ سورہ یونس ۶۲
سنو!جو اولیاء اللہ ہیں انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔
یہ آیت مجیدہ خوف اور غم جیسے جذبات کا انکار نہیں کرتی کیونکہ یہ تو انسان کی فطری اور وقتی کیفیات ہیں بلکہ یہ اس سے کہیں گہری حالت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ یہ حالت اس بات سے جڑی ہے کہ انسان دنیا کو کس نظر سے دیکھتا ہے، اس میں اپنے لیے کون سا مقام اختیار کرتا ہے اور کن بنیادوں پر وہ پیش آنے والے واقعات کو سمجھتا اور انجام کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے؟
خوف اور غم انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ عام ہیں اور اکثر ایک خاص طرزِ فکر کا نتیجہ ہوتے ہیں جس میں زندگی کو مسلسل خطرے کی حالت میں دیکھا جاتا ہے اور انسان اس بات سے پریشان رہتا ہے کہ کہیں وہ اپنی کسی چیز یا کسی خواہش کو کھو نہ دے۔ جتنا زیادہ انسان فانی اور محدود چیزوں سے دل لگاتا ہے، اتنا ہی اس کے ضایع ہو جانے کا خوف بڑھتا ہےاور جب واقعی ایسا ہو جائے تو غم بھی شدید ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اولیائے اللہ کے بارے میں خوف اور غم کی نفی کو اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان کا اللہ سے، دنیا سے اور خود اپنے آپ سے تعلق ایک ساتھ ازسرِنو قائم کیا جاتا ہے۔
اس تناظر میں ولایت کو کسی پراسرار غیبی کیفیت یا دعوے کے ذریعے حاصل ہونے والے خاص مرتبے کے طور پر نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ایک طویل اخلاقی اور فکری سفر کا فطری نتیجہ ہوتی ہے، جو انسان کو اس کے ایمان اور عملی زندگی کے درمیان اندرونی ہم آہنگی تک لے جاتا ہے۔ ولیِّ اللہ وہ ہوتا ہے جس کے عقیدہ اور عمل میں تضاد باقی نہیں رہتا اور جس کی فکر اور فیصلوں کے درمیان کوئی دوری نہیں ہوتی۔ جب یہ تضاد ختم ہو جاتا ہے تو وجودی بےچینی کے بہت سے اسباب بھی خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
یہاں اس قول کی معنویت واضح ہو جاتی ہے کہ(تخلّقوا بأخلاق الله) اللہ کے اخلاق اختیار کرو۔یہاں اخلاق اپنانے سے مراد کوئی مبہم صوفیانہ دعوت یا محض وعظ و نصیحت نہیں بلکہ ایک واضح اور مضبوط اخلاقی راستے کی بنیاد رکھنا ہے۔ قرآنی تصور کے مطابق اللہ تعالیٰ اعلیٰ اور جامع اقدار کا سرچشمہ ہےاور انسان سے یہ مطالبہ نہیں کہ وہ ان اقدار کا دعویٰ کرےبلکہ یہ کہ اپنی انسانی حدود کے اندر رہتے ہوئے ان میں سے جو ممکن ہو اسے عملی شکل دے۔ چنانچہ جس طرح اللہ کریم ہے، اسی طرح انسان سے بھی سخاوت کا تقاضا کیا گیا ہے، نہ صرف اس لیے کہ سخاوت ایک پسندیدہ سماجی رویہ ہےبلکہ اس لیے بھی کہ یہ بخل کی غلامی اور کمی کے خوف سے آزادی کا اظہار ہے۔ جس طرح اللہ علیم ہے، اسی طرح انسان سے علم حاصل کرنے کی کوشش مطلوب ہے کیونکہ جہالت تنگ نظری، تعصب اور ذہنی بےچینی کے اہم اسباب میں سے ایک ہے۔
یہ اخلاق اپنانا کسی حد اور ضابطے کے بغیر نہیں ہےکیونکہ نہ اللہ کی ہر صفت ایسی ہے جس کی انسان پیروی کر سکے اور نہ ہر مفہوم کو براہِ راست انسان پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جبر اور تکبر جیسی صفات ایسی نہیں ہیں جنہیں انسان اختیار کرے یا دعویٰ کرے، اس لیے کہ حقیقی معنی میں متکبر صرف اللہ ہےیعنی وہی کامل اور ہر طرح سے بےنیاز ہے۔ انسان جب لوگوں کے سامنے تکبر کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی وجودی حد سے تجاوز کرتا ہے اور اس کا یہ تکبر طاقت کی علامت نہیں بلکہ اس کی کمزوری اور ناپائیداری کا اظہار بن جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تکبر کے تمام مظاہر بالکل ناقابل قبول ہیں۔ خودپسندانہ تکبر اور اس تکبر کے درمیان جو احادیث میں آیا ہے اسلامی اخلاقی منطق فرق کرتی ہے: التكبر على المتكبر عبادة متکبر پر تکبر کرنا عبادت ہے۔
اس صورت میں تکبر کا مقصد بلند دعویٰ کرنا یا دوسروں کو حقیر سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک اخلاقی موقف ہے جو جھوٹی سرداری کی منطق کو توڑنے اور متکبر کو یہ موقع نہ دینے کے لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنے غرور کو دوسروں کو ذلیل کرنے کے لیے استعمال کرے۔ یہ خود پسندی یا انا کی بڑھی ہوئی حالت کا اظہار نہیں بلکہ انسانی وقار کی حفاظت اور غلط اخلاقی رویوں کو روکنے کا طریقہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی رویے کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت معیار ظاہری شکل نہیں بلکہ اس کی وجوہات اور اخلاقی افادیت ہے۔ مذموم تکبر وہ ہے جو خود کو برتر سمجھنے کے فریب سے پیدا ہوتا ہےجبکہ متکبر کے سامنے درست تکبر دراصل حق کے سامنے شعوری عاجزی اور اقدار کے بگاڑ کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ جیسا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: (التكبر على المتكبرين هو التواضع بعينه) متکبرین پر تکبر کرنا خود عاجزی ہے۔
یہ باریک فرق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کونسی صفات کی تقلید جائز ہے اور کونسی کو انسان صرف اپنے عملی حدود میں اپنا سکتا ہے۔ یہ اسلامی نقطۂ نظر انسان کی گہری سمجھ کو واضح کرتا ہے: انسان محدود ہے اور اسے کمالِ اخلاقی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ وجودی برتری حاصل کرنے کی۔
اسی تناظر میں زمین پر اولیاء اللہ کو اس باریک توازن کے زندہ نمونوں کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ درد یا مشکلات سے معصوم نہیں ہیں اور نہ ہی حقیقت سے الگ ہیں لیکن ان میں یہ خاص صلاحیت موجود ہے کہ وہ اقدار کو عملی شکل میں ڈھال سکیں اور اصولوں کو روزمرہ کے عمل میں تبدیل کر سکیں۔ اسی لیے جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ سے ان کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فضائل کو الگ الگ بیان کرنے کی بجائے ایک جامع جملے میں جواب دیا: كان خلقه القرآن۔
یعنی نبی کے لیے قرآن صرف پڑھنے کے لیے نص نہیں تھا بلکہ ان کی روزمرہ زندگی کے ہر عمل میں عملی رہنمائی اور اخلاقی معیار کا ذریعہ تھا۔ یہ فہم رہنما کے تصور کو محض ظاہری تعظیم سے آزاد کرتا ہے اور اسے اس کے اصل معنی میں واپس لے آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لیے رہنما نہیں تھے کہ ان میں غیر معمولی صفات موجود تھیں بلکہ اس لیے کہ انہوں نے جن اقدار کی تبلیغ کی ن اقدار کو عملی طور پر اپنایا۔ یہی چیز ان کی پیروی کو ممکن بناتی ہےنہ کہ ان کے برابر ہونے کے معنی میں بلکہ اپنی انسانی صلاحیتوں کی حد میں رہ کر اس معنی میں کہ انسان اسی سمت میں چل سکتا ہے۔
یہ اخلاقی تسلسل امام علی علیہ السلام کی سیرت اور اہل بیت علیہم السلام کے عمومی راستے میں واضح طور پر نظر آتا ہے جو محض تاریخی شخصیات نہیں بلکہ عملی نمونے ہیں جن کے ذریعے وہ اقدار عملی زندگی میں مجسم کی گئیں جو اللہ نے انسان کے لیے چاہیں۔ ان کی زندگی صرف الگ تھلگ غیر معمولی لمحات یا عارضی علامتی مواقع پر مبنی نہیں تھی بلکہ یہ مسلسل شعوری انتخاب کا سلسلہ تھی جو انسان کی بندگی کے معنی، اس کی حدوداور زمین پر اخلاقی ذمہ داری کو گہرائی سے سمجھنے کا عکاس ہے۔
امام علی علیہ السلام سیاسی پوزیشن پر ہوں یا ذاتی زندگی میں، اقدار کو محض نعرے یا دعووں کے طور پر نہیں اپنایابلکہ انہیں عملی ذمہ داری کے طور پر سمجھا جو حالات کے بدلنے سے ختم نہیں ہوتیں۔ ان کا عدل محض نظری بیان نہیں بلکہ روزمرہ کی عملی زندگی میں جاری تھا، ان کا زہد دنیا سے کنارہ کشی نہیں بلکہ دنیا کی گرفت سے آزادی تھا اور ان کی شجاعت بے سوچ چھلانگ نہیں بلکہ ذمہ داری کا شعور تھی۔ اسی بنیاد پر ان کے بعد آنے والے ائمہ بھی اسی ماڈل کا تسلسل تھے، جنہوں نے اخلاقی پیغام کے جوہر کو برقرار رکھا حالانکہ مواقع اور حالات مختلف تھے۔
جو چیز مختلف ادوار اور تجربات کے باوجود ان ائمہ کی سیرت کو متحد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ولایت کو کسی علیحدہ حیثیت یا محض سیاسی کامیابی یا ظاہری فتح سے نہیں جوڑا بلکہ اسے مشکل ترین حالات میں اقدار پر ثابت قدم رہنے کے ساتھ مربوط رکھا۔ ان کی ولایت اللہ کے لیے ان کی نمازوں، لوگوں کے ساتھ برتاؤ، خلافت کے انتظام اور اصولی موقف اور ذاتی جذبات میں تمیز کی صلاحیت میں واضح تھی۔ اسی لیے ان کے تجربات کو صرف بڑے واقعات تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں ایک مکمل اخلاقی منصوبے کے طور پر سمجھنا چاہیے جو انسان کے لیے عملی نمونہ پیش کرتا ہے کہ اخلاقی اوصاف کو کیسے اپنانا ہے نہ کہ صرف دعویٰ کرنا۔
امام علی اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت ولایت کو ایک شعوری اخلاقی ذمہ داری کے طور پر سمجھنے کا معیار بن جاتی ہےیہ کوئی غیبی مقام نہیں جو حقیقت سے الگ ہو اور نہ کوئی صفت جو محض نسب یا تعلق سے حاصل کی جائےبلکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو علم، انتخاب اور اللہ اور انسانوں کے سامنے ذمہ داری قبول کرنے کے ذریعے تعمیر کیا جاتا ہے۔ اس معنی میں اولیائے اللہ درد سے الگ زندگی نہیں گزارتے لیکن وہ اس میں شکست خوردہ نہیں ہوتے۔ وہ حقیقت کا سامنا کرنے سے آزاد نہیں لیکن حقیقت میں اپنی رہنمائی کھو نہیں بیٹھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی خوف دنیا کی کمی سے نہیں بلکہ معنی کے کھونے سے ہےاور حقیقی غم اس پر نہیں جو گزر گیا بلکہ اس پر ہے جو انسان اپنی زندگی میں اقدار کو ضائع کر دیتا ہے۔
جب قرآن کہتا ہے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں
تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی زندگی بلا آزمائش ہوگی بلکہ یہ کہ
ان کی زندگی ضائع نہیں ہوگی۔ ایک ایسی زندگی جس میں آزمائش راستے کا
حصہ ہے نہ کہ بے مقصدیت کی علامت ہے۔ یہی وہ اطمنان ہے جو خریدا
نہیں جا سکتا اور باہر سے لایا نہیں جا سکتا بلکہ یہ اندر سے تعمیر
ہوتاہے اخلاقی تربیت، شعوراور ذمہ داری بھرپور ایک لمبا سفر طے کرنا
پڑتا ہے۔


