11 شعبان 1447 هـ   29 جنوری 2026 عيسوى 12:55 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2026-01-28   26

دکھ، درد اور مصیبت کا فلسفہ: دنیا کے دکھ اور آخرت کی امید کے تناظر میں

الشيخ معتصم السيد أحمد

بظاہر درد وہ انسانی تجربہ ہے جس میں تمام انسان سب سے زیادہ مشترک ہیں، خواہ ان کے عقائد مختلف ہوں، ثقافتیں جدا جدا ہوں، اور زندگی کے بارے میں ان کے تصورات ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اس کے باوجود کوئی انسان ایسا نہیں جو اس دنیا میں زندگی بسر کرے اور کسی نہ کسی مرحلے پر جدائی، دکھ، خوف، ناکامی، اضطراب یا بے بسی کے احساس سے دوچار نہ ہو۔اسی لئے یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ درد موجود ہے یا نہیں، بلکہ  سوال یہ ہے کہ درد کا مفہوم کیا ہے، اسے کس طرح سمجھا جائے، اور کائنات کے مجموعی تصورِ وجود میں اسے کس مقام پر رکھا جائے۔ تو کیا درد زندگی کی بے معنویت کی علامت ہے؟ یا وہ کسی گہرے اور دقیق نظام کا حصہ ہے جس کی حیثیت محض لمحاتی تکلیف سے کہیں آگے ہے؟ اور کیا  مصیبت محرومی کی دلیل ہے؟ یا  کوئی معنی خیز امتحان ہے؟ یا ایسا موڑ ہے جو انسان کے باطن میں موجود ایمان کی حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے؟

اسی لیے قرآنی خطاب نہ تو درد کی نفی کرتا ہے اور نہ ہی ایسی زندگی کا وعدہ کرتا ہے جو ہر طرح کی اذیت سے پاک ہو، بلکہ قرآنِ کریم انسان کو اس بنیادی فرق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ کون دنیا ہی کے افق میں قید رہ کر تکلیف سہتا ہے، اور کون اپنے باطن میں اس سے ماورا امید کو زندہ رکھ کر دکھ اور مشقت کو برداشت کرتا ہے۔

اسی تناظر میں قرآن کریم  انسان کو ایک نہایت باریک صورت حال کے رو برو رکھتا ہے، جب وہ فرماتا ہے:

﴿إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ، وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ، وَكَانَ اللَّهُ عَلِيماً حَكِيماً﴾

اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو وہ بھی اسی طرح تکلیف اٹھا رہے ہیں جیسے تم اٹھا رہے ہو، مگر تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔

پس  قرآنی منطق کے مطابق درد محرومی کی دلیل نہیں ہے، اور نہ ہی وجود کی بے معنویت کی علامت ہے، بلکہ وہ زندگی کا ایک حصہ ہے، انسان کا امتحان ہے، اور ایک ایسا دو راہا ہے جہاں سے وجود کو الہی زاویہ نگاہ سے دیکھنے والا شخص ، اس شخص سے جدا ہو جاتا ہے کہ جو اسے اپنے محدود زاویہ نظر سے دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ چنانچہ قرآن انسان کو مکمل سکون و راحت کے فریب سے مخاطب نہیں کرتا، بلکہ اسے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ درد تمام انسانوں کے درمیان مشترک ہے۔

﴿فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ﴾

پس وہ بھی اسی طرح تکلیف اٹھاتے ہیں جیسے تم اٹھاتے ہو۔

یہی  ایک جملہ ہی بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کافی ہے۔

مومن ہو یا غیر مومن، نیک ہو یا بد، سب ہی درد کا ذائقہ چکھتے ہیں، اور سب کو کسی نہ کسی صورت میں نقصان، بیماری، اضطراب اور خوف کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس باب میں زندگی کسی کے ساتھ کوئی امتیاز روا نہیں رکھتی۔ حقیقی فرق درد کے ہونے یا نہ ہونے میں نہیں، بلکہ اس مفہوم میں ہے جو سہنے والا اس درد کو دیتا ہے، اور اس سمت میں ہے جس سےوہ اس درد کو جوڑتا ہے ۔جو شخص زندگی کو خدا سے منقطع، صرف انہی محدود سالوں میں منحصر سمجھتا ہے، اس کے نزدیک درد سراسر ظلم اور بے تلافی ضیاع بن جاتا ہے۔ ہر خسارہ آخری شمار ہوتا ہے، اور ہر دکھ کو وہ زندگی کا دشمن سمجھتا ہے۔لیکن جو شخص زندگی کو ایک تسلسل کے طور پر دیکھتا ہے، اور دنیا کو قیام گاہ نہیں بلکہ گزرگاہ سمجھتا ہے، اس کے نزدیک درد ایک مرحلہ بن جاتا ہے، انجام نہیں، اور ایک امتحان بن جاتا ہے، عبث نہیں۔

یہیں وہ فرق نمایاں ہے جس کی طرف آیت نے اشارہ کیا ہے:

﴿وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ﴾

تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔

رجاء (امید) کوئی سادہ نفسیاتی کیفیت نہیں، اور نہ ہی کوئی وقتی جذباتی ہیجان ہے، بلکہ یہ ایک مکمل علمی اور اخلاقی ساخت ہے۔ اللہ سے امید رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان لمحے کی حدود سے آگے دیکھے، اور کسی واقعے کو محض اس کے فوری حال سے نہیں بلکہ اس کے انجام اور مستقبل کے تناظر میں پرکھے۔

پس مومن جب تکلیف میں ہوتا ہے تو وہ  یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اسے درد محسوس نہیں ہوتا، اور نہ وہ جھوٹی مضبوطی کا مظاہرہ کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے درد کو تسلیم کرتا ہے، مگر اپنی پوری ہستی کو اسی میں محدود نہیں کر لیتا۔وہ جانتا ہے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ کہیں زیادہ عظیم ہے، اور جو آج اس سے لیا جا رہا ہے وہ کل پورا کر دیا جائے گا، اور یہ کہ الٰہی عدل کو نہ کسی ایک منظر سے ناپا جا سکتا ہے اور نہ ہی وقت کے کسی ایک لمحے سے۔ اسی لیے آیت صاف طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ درد ایک ہے، مگر امید مختلف ہے۔ وہ بھی اسی طرح تکلیف اٹھاتے ہیں جیسے تم اٹھاتے ہو، لیکن وہ اس کی امید نہیں رکھتے جو تم رکھتے ہو۔

غیر مومن جب آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے پاس اس دنیا کے سوا کچھ نہیں ہوتا، پس جب یہ دنیا اس پر تنگ ہو جاتی ہے تو اس کا پورا افق بھی تنگ ہو جاتا ہے۔جبکہ مومن کے نزدیک دنیا محض سفر کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے؛ اگر یہ تنگ بھی ہو جائے تو معنی منہدم نہیں ہوتا، اور امید ختم نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اپنے پورے انجام کو اسی سے وابستہ نہیں کرتا۔

یہیں سے ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن اسی دنیا کو حتمی مقصد کے طور پر کیوں نہیں دیکھتا۔ قرآنی منطق میں دنیا ایک ذمہ داری (وظیفہ) ہے، غایت نہیں۔ عمل کی جگہ ہے، جزا وسزا کی نہیں۔یہ ایک کھیتی ہے، فصل کا گودام نہیں۔ اور جو شخص اس حقیقت کو سمجھنے میں غلطی کرتا ہے، وہ پہلی ہی آزمائش پر ٹوٹ جاتا ہے، اور پہلے ہی خسارے پر محرومی کا احساس کرنے لگتا ہے، کیونکہ اس نے اپنی توقعات ایک غلط بنیاد پر قائم کی ہوتی ہیں۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسان کو نہ عبث پیدا کیا، اور نہ ہی اسے اس دنیا میں بے معنی طور پر چھوڑ دیا۔بلکہ اس نے انسان کو پیدا کرنے سے پہلے اس کے وجود کے اسباب فراہم کیے، اس کے لیے زمین ہموار کی، زندگی کے وسائل پیدا کیے، پھر اسے وجود عطا کیا جبکہ وہ ہر اس چیز سے محروم ہوا تھا جس کی اسے بقا کے لیے ضرورت تھی۔یہ ترتیب ہی انسان کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اس کا وجود محض اتفاق نہیں، اور اس کی زندگی کائنات کے حساب میں کوئی غلطی نہیں۔اس سب کے باوجود اللہ نے اس دنیا کو کہانی کا آخری باب نہیں بنایا، بلکہ اسے تمہید، آزمائش، اور اس کے بعد آنے والی زندگی کے لیے تیاری قرار دیا۔ اور جو شخص اس نکتے کو سمجھنے میں غلطی کرتا ہے، وہ درد کو وجود کی ساخت کا حصہ سمجھنے کے بجائے، وجود کے لیے ایک رسوائی تصور کرتا ہے وہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ زندگی محض راحت و سکون سے عبارت کیوں نہیں، اور دنیا سے انسان کی تکلیف کو کلی طور پر کیوں ختم نہیں کر دیا جاتا؟ مگر وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ آزمائش کے بغیر زندگی اپنا معنی کھو دیتی ہے، اور امتحان کے بغیر نہ انسان پختہ ہوتا ہے، نہ خود کو پہچان پاتا ہے، اور نہ ہی اس کے اندر وہ اقدار نمایاں ہو پاتی ہیں جن کا وہ دعوے کے ساتھ اظہار کرتا ہے۔ اور چونکہ یہ راستہ آسان نہیں، اور نہ ہی خطرات سے خالی ہے، اس لیے اللہ نے رہنما بھیجے۔انبیاء اس لیے نہیں آئے کہ لوگوں کو ایک آرام دہ زندگی دیں، بلکہ اس لیے آئے کہ انہیں معنی خیز زندگی عطا کریں۔انہوں نے اپنے پیروکاروں سے درد کے ختم ہو جانے کا وعدہ نہیں ، بلکہ درد کے وسیع تر افق سے آشنائی کا راستہ دکھایا، اور نفع و نقصان کے ایک دوسرے پیمانے کا تعارف کرایا۔

یہیں سے ہم سمجھتے ہیں کہ خود انبیاء کی زندگیاں کیوں آزمائشوں سے بھری ہوئیں تھیں، اور وہ کیوں درد و غم سے دور نہیں تھے، بلکہ یوں کہنا بے جانہ ہوگا کہ انبیا خود درد الم کے  کے محور و مرکز رہے ۔ رسولِ اکرم ﷺ کا مبعوث ہونا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک عظیم وجودی نعمت تھا ، اسی کے ذریعے اللہ نے انسان کو گمراہی سے نکالا، اور بے سمت زندگی سے نجات دی۔ قرآن صرف یہ بتانے نہیں آیا کہ ہم کیسے کھائیں اور کیسے پئیں، بلکہ اس لیے آیا کہ ہمارے تعلق کو وجود سے، درد سے، امید سے اور انجام سے ازسرِ نو ترتیب دے۔

﴿يُزَكِّيهِمْ﴾سے پہلے ﴿يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ﴾ 

کیونکہ نفس کی تطہیر ہی انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معنی کو اٹھا سکے اور راستے کی مشقت کو برداشت کر سکے۔

اور رسولِ خدا ﷺ محض نصوص پہنچانے والے نہیں تھے، بلکہ صبر اور استقامت کے عملی پیکر تھے۔انہوں نے درد کو جیا، جدائی کو چکھا، اذیتیں برداشت کیں، مگر اپنی تکلیف کو وجود پر شکوہ نہیں بنایا، بلکہ اسے ایک پیغام میں ڈھال دیا۔اور آپؐ کے بعد آپ کے اہلِ بیتؑ نے بھی اسی راہ پر چل کر دکھایا، نہ بطور مظلومین کے، بلکہ اس حیثیت سے کہ جب درد کو خدا سے جوڑ دیا جائے تو وہ کمزوری نہیں، طاقت بن جاتا ہے۔ اسی لیے جب مومن تکلیف میں ہوتا ہے تو وہ خود کو چھوڑا ہوا محسوس نہیں کرتا، اور نہ ہی اس راستے میں خود کو تنہا سمجھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ درد صرف اسی کے ساتھ خاص نہیں، اور دوسرے بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ اس کا درد آسمان سے جڑا ہوتا ہے، جبکہ دوسروں کا درد اس سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔ایک درد سہتے ہوئے آگے بڑھتا ہے، اور دوسرا درد سہتے ہوئے ایک بے حاصل دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایک اپنے درد میں گہرے معنی کی طرف بڑھنے کا قدم دیکھتا ہے، اور دوسرا اس میں محض ایک نئی خسارت کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔

اسی تناظر میں یہ آیتِ کریمہ تسلی اور شعور دونوں کا ایک ساتھ پیغام بن جاتی ہے۔تسلی اس لیے کہ وہ مومن سے کہتی ہےکہ تم درد میں اکیلے نہیں ہو۔اور شعور اس لیے کہ وہ اسے یاد دلاتی ہے کہ اس کی اصل برتری درد کے نہ ہونے میں نہیں، بلکہ امید کے ہونے میں ہے۔ وہ امید جسے نہ بیماری مٹا سکتی ہے، نہ خسارہ اسے ختم کرسکتا ہے، اور نہ ہی راستے کی سختی بجھا اس کے شعلے کو بجھا سکتی ہے۔ یوں سوال یہ نہیں رہتا کہ ہم کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں؟ بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ ہم کس طرح تکلیف اٹھاتے ہیں؟ اور تکلیف میں ہم کس سمت رخ کرتے ہیں؟ اللہ کی طرف، یا اس سے دور؟ یہیں آ کر درد کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے، اور اس راہ میں انسان کی جگہ واضح ہوتی ہے۔کیونکہ امید کے بغیر درد محض عذاب ہے،اور امید کے ساتھ درد عبادت بن جاتا ہے، اور ان دونوں کے درمیان فاصلہ درد کی شدت سے نہیں، بلکہ معنی کی گہرائی سے ناپا جاتا ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018