

قرآ ن کا تصورِعدل: نہ مال، نہ سفارش اور نہ اثر و رسوخ
شیخ مصطفیٰ الہجری
کسی بھی معاشرے میں مال، سفارش اور طاقت کے اثر و رسوخ کا بڑھ جانا اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہاں قانون کی بالادستی کمزور ہو چکی ہے، کیونکہ جب قانون کی حکمرانی کمزوری کا شکار ہو جائے تو وہ بااثر اور طاقت رکھنے والوں کو اپنے اقتدار کے تابع کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ اور اسطرح قانون کی گرفت صرف کمزور طبقات تک محدودہوکر رہ جاتی ہے،جبکہ طاقت ور لوگ احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔اور یوں قانون ایک منصفانہ نظام کی بجائے ایک انتخابی حیلہ بن جاتا ہے، جو محض چھوٹے مجرموں کو ہی شکار کرتا ہے، جبکہ اثر و رسوخ اور طاقت ور طبقہ قانون سے بالاتر ہو جاتا ہے۔
اس طرح کی بگڑی ہوئی عدل و انصاف کی صورت حال کو قرآنِ کریم پوری شدت کے ساتھ رد کرتا ہے، اور اس کے بالمقابل ایک سخت اور بے لاگ الٰہی حاکمیت کا تصور پیش کرتا ہے، جو ان تینوں عوامل یعنی؛ مال، سفارش اور طاقت کو فیصلے کے میدان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ الٰہی عدالت کا نظام ایسی چیزوں سے پاک ہے کہ جس پر مال، سفارش یا قوت کا کوئی اثر پڑے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت (48) میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے:
﴿وَاتَّقُوا يَوْماً لا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئاً وَلا يُقْبَلُ مِنْها شَفاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْها عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ﴾.
اور اس دن سے ڈرو جب کوئی جان کسی جان کے کام نہ آئے گی، نہ اس سے سفارش قبول کی جائے گی، نہ اس سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
یہ آیت ان تمام راستوں کو بند کر دیتی ہے جن کے ذریعے انسان عموماً عدل و انصاف کو معطل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ آیت مال کے اثر کی نفی کرتی ہے، جسے لفظ (عدل) کے ذریعے بیان کیا گیا ہے ،چاہے اسے حق سے انحراف کے معنی میں لیا جائے یا فدیہ اور معاوضے کے مفہوم میں۔ اسی طرح یہ آیت سفارش کے کردار کو بھی ساقط کر دیتی ہے، اور بیک وقت طاقت اور اثر ورسوخ کی تاثیر کو بھی ختم کر دیتی ہے، جسے نصرت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آخرت میں جزا و سزا کا نظام انسانی نظاموں سے بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ دنیاوی نظام میں انسان بعض اوقات رشوت، تعلقات یا خاندانی و گروہی تعصبات کے ذریعے بچ نکلتا ہے، جب کہ الٰہی نقطۂ نظر میں قانون بلا امتیاز سب پر نافذ ہوتا ہے۔
عدل کے اس سخت اور بے لاگ نفاذ کی روشن مثال ہمیں صدرِ اسلام میں واضح طور پر نظر آتی ہے، جہاں قانون کی حاکمیت اس درجے تک پہنچی ہوئی تھی کہ اقتدار کے قریب ترین افراد بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے۔ روایت ہے کہ امیرالمؤمنین امام علیؑ کو جب یہ معلوم ہوا کہ آپؑ کی ایک صاحبزادی نے عید کے دن زینت کے لیے بیت المال سے ایک ہار عاریتاً لیا ہے، تو آپؑ نے نہایت سختی سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: اگر میری بیٹی نے یہ ہار ضمانت کے ساتھ عاریتاً نہ لیا ہوتا، تو خدا کی قسم وہ پہلی ہاشمی عورت ہوتی جس کا ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹا جاتا۔
اسی تناظر میں، جب امیرالمؤمنینؑ کو اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس کی کسی امر کی خلاف ورزی کی خبر پہنچی، تو آپؑ نے انہیں ایک خط لکھا اور نہایت سخت لہجے میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ :اللہ تعالی سے ڈرو اور ان لوگوں کا مال واپس کرو، اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اللہ نے مجھے تم پر قدرت دی تو میں اللہ کے حضور اپنی حجت پیش کر دوں گا اور تمہیں اسی تلوار سے ماروں گا جس سے میں نے جسے بھی مارا وہ جہنم میں داخل ہوا"
پھر آپؑ نے عدل کے سامنے مطلق مساوات کے اصول کو یوں واضح فرمایا: خدا کی قسم! اگر حسن اور حسینؑ بھی وہی کام کرتے جو تم نے کیا ہے، تو میرے نزدیک ان کے لیے کوئی نرمی نہ ہوتی، اور نہ ہی وہ مجھ سے کسی رعایت کے مستحق ہوتے، یہاں تک کہ میں ان سے حق وصول کر لیتا۔
اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ صدرِ اسلام کا منظرنامہ ہے اور عدل کو نافذ کرنے والے امیرالمؤمنین علیؑ ہیں۔ جو شخص اس دور میں دینی اقدار کی حقیقی حاکمیت کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ ان افراد پر غور کرے جن پر رسولِ اکرم ﷺ اور آپؑ کے قائم کردہ نظامِ عدل کی لاٹھی پڑی ایسا نظام جو نہ کسی تعلق اور قربت میں فرق کرتا تھا اور نہ ہی کسی طاقت ور اور کمزور میں۔


