

دین پر تشدد کو فروغ دینے کے الزام اور الحاد کے جرائم کی تحقیق
الشيخ مقداد الربيعي
انسانی تاریخ میں ایسا تشدد اور فکری و اخلاقی پستی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی جیسی لادینی نظریات کے ہاتھوں دیکھنے میں آئی۔نیز دین سے ہٹ کر قائم کئے گئے تمام اخلاقی مکاتب فکر ان وحشیانہ جرائم کی حقیقی طور پر مذمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں علمی حلقوں میں ایک فکری بیانیہ پھیلایا گیا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسانی تاریخ میں پائے جانے والے تمام تباہ کاریوں اور جنگوں کی اصل وجہ دین ہے۔ حالانکہ حقیقت وہی ہے جس کی تصریح انگریز مصنفہ کارین آرمسٹرانگ نے کی ہے۔ وہ کہتی ہیں:"انسانی معاشروں میں بہت سے عوامل ایسے رہے ہیں جنہوں نے دین کو، جو دراصل رحم اور عدل جیسے اقدار کی دعوت دیتا ہے، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، اور اکثر اوقات اسے تشدد سے آلودہ کر دیا۔ تاہم اسی کے ساتھ ساتھ، یہ بھی حقیقت ہے کہ دین ہمیشہ ریاستی تشدد، خواہ وہ قانونی ہو یا مادی، کے خلاف ایک مسلسل چیلنج بھی بنتا رہا ہے، اور تشدد کے اس ناگزیر دائرے کے کسی متبادل کی تلاش کی دائمی کوشش بھی کرتا رہا ہے، یا کم از کم اس کی شدت کو کم کرنے کی سعی دین کا مطمع نظر رہا ہے ۔ سیکولرزم نے ریاست کی خطاؤں کا بوجھ دین کے سر ڈال دیا، حالانکہ سیکولر نظریاتی نظام بھی اپنے مذہبی پیش روؤں سے کسی طور کم تشدد پسند نہیں رہے۔(کتاب: حقول الدم ، ترجمہ: اسامہ غاوجی، ص 10)
اسی تناظر میں جان مورال ان جنگوں کو اُن سیاسی عوامل کی طرف منسوب کرتے ہیں جنہوں نے دین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اور اسے تشدد، توسیع پسندی اور قبضے کا ذریعہ بنا لیا۔ وہ لکھتے ہیں:
"اگر ہمیں دین کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے تو لازم ہے کہ ہم دین کو ان دیگر عوامل سے الگ کر کے واضح کریں، اور یہ ثابت کریں کہ دین ان عوامل کے مقابلے میں تشدد کو زیادہ ابھارنے والا عنصر ہے۔ ان دعوؤں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ تمام محققین جو یہ کہتے ہیں کہ دین بذاتِ خود خاص طور پر تشدد پسند ہے، ان کے پاس دین کی کوئی ایسی واضح تعریف موجود نہیں جو اسے دیگر سماجی مظاہر، بالخصوص سیاست، سے امتیاز کے ساتھ جدا کر سکے۔ اور جب تک ایسا امتیاز قائم نہ ہو، یہ واضح ہی نہیں ہوتا کہ یہ محققین آخر کس چیز کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں" (کتاب: مذاہب کے بارے میں پچاس مشہور خرافات، ترجمہ: فائقہ جرجیس حنا، ص 53)
حقیقت یہ ہے کہ یہ الزام زیادہ مناسب طور پر الحاد اور اُن سیاسی نظاموں پر عائد ہونا چاہیے جنہوں نے اسے اختیار کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ انسانیت صدیوں سے ان شرور اور جنگوں کے بوجھ تلے دبی رہی ہے جو مبینہ طور پر ادیان کی پیدا کردہ ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت نے دین کو ترک کرنے کے بعد واقعی نجات حاصل کر لی؟!
چنانچہ آج جسے "الحاد جدید" کہا جاتا ہے، اس نے جس نفرت انگیز بیانیے کو اپنایا ہے، وہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس فکر کے مطابق مؤمن کو خوف کا منبع اور عدمِ تحفظ کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
کرسٹوفر ہچنز کہتا ہے کہ "جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اور جب تم انہیں پڑھ رہے ہو، اسی دوران مختلف طریقوں سے ایمان رکھنے والے لوگ تمہیں اور مجھے، اور انسانیت کی ہر اس قابلِ قدر کامیابی کو ، جن کا تم نے ذکر کیا ، تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دین ہر چیز کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ یقیناً ایسے متعدد طریقے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین نہ صرف اخلاقی حس سے محروم ہے، بلکہ وہ اخلاقی فساد کو باقاعدہ طور پر فروغ دیتا ہے" (کتاب: ملیشیاۓ الحاد، عبد اللہ بن صالح العجیری، ص 44)
اسی طرح سام ہیرس اس بات پر زور دیتا ہے کہ دین پر یقین رکھنے والوں کو قتل کرنا ایک اخلاقی عمل ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ خوف کا سرچشمہ ہیں۔ وہ کہتا ہے: "بعض مسائل اس قدر خطرناک ہوتے ہیں کہ ان پر یقین رکھنے والوں کو قتل کرنا اخلاقی طور پر درست ہو سکتا ہے۔ یہ بات عجیب یا غیر معمولی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن درحقیقت یہ اس دنیا کی حقیقت کا انکشاف ہے جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بعض عقائد اپنے ماننے والوں کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ ان سے معقول اور صحت مند ذرائعِ ابلاغ و اقناع کے ذریعے بات کرنا ممکن نہیں رہتا، جبکہ یہی عقائد انہیں دوسروں کے خلاف تشدد پر بھی آمادہ کرتے ہیں" (بحوالہ: کتاب الإخلاد إلى الأرض، ص 138)
بلکہ معاملہ یہاں تک جا پہنچا کہ اس نے دہشت گردی سے بچنے کے نام پر ایٹمی بم گرانے اور لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے کی صریح دعوت دی۔ (حوالہ: ماخذ سابق )
یہ افکار محض کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں رہے، بلکہ ہماری معاصر دنیا میں ملحد حکمرانوں کے ہاتھوں ان پر عملاً عمل درآمد بھی کیا گیا۔ تاریخ پر ذرا سی نظر سے ان اطلاقات کی ایک طویل فہرست سامنے آ سکتی ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
روسی ماہر تاریخ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر مارٹن مالیہ اس سیاہ تاریخ کو یوں بیان کرتے ہیں کہ "حقیقت پسندانہ کمیونسٹ منہج نے انسانی زاویۂ نگاہ کو اپنی ترجیحات میں سب سے آخر میں رکھا، اور یہی بات اس کرۂ ارض کے سینے پر ایک حقیقی المیہ بن گئی۔ جب ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کو، جو مختلف اندازوں کے مطابق ۸۵ ملین سے ۱۰۰ ملین کے درمیان ہے، سامنے رکھا جائے، تو کمیونزم، ان دونوں اعداد و شمار کے مطابق، انسانی تاریخ میں سیاسی قتلِ عام کی سب سے بڑی مثال پیش کرتا ہے" (حوالہ: ماخد سابق، ص 141)
بلکہ نظریۂ ارتقاء کو بھی دنیا میں پیش آنے والے بہت سے المیوں اور تشدد کی ایک بنیادی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور اس بات کے ذکر سے ہماری مراد خود نظریے پر الزام عائد کرنا نہیں، بلکہ ان انتہاپسندتفسیروں پر تنقید ہے جنہیں نظریۂ ارتقاء نے غذا فراہم کی اور جنہیں ایسی نام نہاد سائنسی بنیادیں مہیا کیں جو ان کے رجحانات کی تائید کرتی تھیں۔
ایڈولف ہٹلر کے دور میں دنیا نے جو تشدد دیکھا، وہ درحقیقت نظریۂ ارتقاء اور جرمن نسل کی برتری کے تصور کا عملی مظہر تھا، جہاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انسانی نسلیں متعدد ہیں، ان میں سے بعض ترقی یافتہ ہیں اور بعض پسماندہ ،اور یہ سب ایک سائنسی حقیقت ہے۔ بلکہ اس سوچ کے مطابق مضبوط نسلوں کے لیے میدان خالی کرنے کی خاطر کمزور نسلوں کا خاتمہ ناگزیر قرار دیا گیا۔
ہنگری کے مارکسی فلسفی جارج لوکاچ انیسویں صدی کے یورپ میں رائج فکری رجحانات کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"نسل پرستی کو رجعتی قوتوں کی غالب نظریاتی شکل بننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنا جاگیردارانہ لبادہ اتار دے اور جدید سائنسی فکر کی صورت اختیار کرے۔ یہاں معاملہ محض ظاہری تبدیلی کا نہیں، بلکہ نئی نسلی نظریے کے طبقاتی کردار میں ایک بنیادی تبدیلی کا ہے۔ اپنی جدید شکل میں یہ نظریہ جعلی حیاتیاتی دلائل کے ذریعے طبقاتی مراعات کے دفاع کے لیے وقف ہو چکا تھا۔ اب مسئلہ صرف روایتی اشرافیہ کے زوال کا نہیں رہا تھا، بلکہ دیگر اقوام کے مقابلے میں یورپی نسلوں کی برتری، اور بالخصوص دیگر یورپی اقوام کے مقابلے میں جرمن اقوام ، خاص طور پر جرمن قوم، کی بالادستی (یعنی جرمن تسلط کی نظریاتی بنیاد) بن چکی تھی۔" (کتاب: تحطیمِ عقل، ترجمہ: الیاس مرقص، جلد 4، ص 72)
اور یہی تسلسل بیسویں صدی میں ڈونلڈ اسٹرومبرگ بھی واضح کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے:"داروِنی روح، جو اس تصور پر قائم ہے کہ جدوجہد اور مسابقت ہی زندگی کے بنیادی قوانین ہیں، سیاست دانوں کے اقوال و افعال کا سب سے بڑا سرچشمہ رہی ہے۔" (کتاب: تاریخِ فکرِ یورپِ جدید، ص 429)
اسی طرح جرمن جنرل فریڈرک فون برنہارڈی اپنی کتاب "جرمنی اور آنے والی جنگ کے بارے میں کہتا ہے کہ "بقا کے لیے جدوجہد، قانونِ حیات کے تحت ہر صحت مند ارتقاء کی بنیاد ہے؛ لہٰذا جنگ ایک ناگزیر حیاتیاتی ضرورت ہے۔"
اسی نسلی رجحان سے, جو خالصتاً ارتقائی اسباب، خصوصاً قانونِ انتخابِ فطری پر مبنی تھا اور دارون کی تحریروں سے گہرے طور پر متاثر تھا، ہٹلر کے جرائم کی باگ ڈور کھلی، جو اس نے داروِنیت کے نام پر انجام دیے۔ چنانچہ: جرمن آمر جس واحد فلسفے کا قائل تھا وہ ایک نہایت سطحی اور سخت گیر داروِنی فلسفہ تھا۔ ہٹلر محض طاقت پر ایمان نہیں رکھتا تھا، بلکہ اس کا خیال تھا کہ مریضوں اور زخمیوں کو قتل کرنا، اور پوری پوری قوموں کا صفایا کرنا واجب ہے، کیونکہ وہ حیاتیاتی اعتبار سے دوسروں کے مقابلے میں کم تر اور کم صلاحیت کی حامل ہیں۔" (کتاب: تاریخِ فکرِ یورپِ جدید، ڈونلڈ اسٹرومبرگ، ص 429)
یہاں ایک نہایت اہم اور فوری سوال جنم لیتا ہے کہ اگر نظریۂ ارتقاء اس نوعیت کے جرائم کی طرف لے جاتا ہے، تو پھر تشدد کو جنم دینے کا واحد ملزم ہمیشہ دین ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟
اس سوال کا جواب ڈاکٹر ولیم کیوانو دیتے ہوئے کہتا ہے کہ"یہ دلیل کہ دین تشدد کا سبب بنتا ہے، اس لیے مقبول ہے کہ اس کے ذریعے بعض خاص قسم کے تشدد کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بعض دیگر اقسام کے تشدد کو، خصوصاً وہ جو مغربی سیکولر نظریات کے نام پر کیے جاتے ہیں ،انہیں جائز اور مشروع بنا دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ "مذہبی تشدد" کے افسانے نے جدید ریاست کی بنیاد رکھنے والی فکری داستانوں کی تشکیل میں ایک طویل عرصے تک اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اگر ہم واقعی اس ناکامی کو سمجھنے کے خواہاں ہیں، تو ہمیں خود اسی ‘مذہبی تشدد کے افسانے’ پر سوال کرنا ہوگا، جس پر یہ عسکری مہمات اپنی اخلاقی و نظریاتی مشروعیت قائم کرتی ہیں۔" (کتاب: تشددِ مذہب ایک مقبول افسانے کا تنقیدی جائزہ، ص 54)


