

بین الاقوامی قوانین، اعلیٰ انسانی اقدار اور عالمی امن کے دعویدار مغربی دنیا: چشم کُشا حقائق کے گرداب میں
الشيخ مصطفى الهجري
دنیانے افق عالم پر حالیہ مہینوں میں جو منظر دیکھا وہ محض عارضی سیاسی ہلچل نہیں ہے، اور نہ ہی اسے کسی غیر ذمہ دار امریکی صدر کی شخصیت تک محدود کیا جا سکتا ہے، بلکہ درحقیقت یہ مغربی تہذیبی منصوبے کی اس تاریخی حقیقت کا انکشاف ہے، جس نے صدیوں تک خود کو بین الاقوامی قانون کا محافظ، عالمی امن کا نگہبان اور انسانی اقدار کا سرچشمہ قرار دیئے رکھا۔
لیکن اب پردہ گر چکا ہے، اور حقیقت آشکار ہوچکی ہے کہ جب طاقت اقدار سے آزاد ہو جاتی ہے تو وہ کوئی مستحکم نظام قائم نہیں کرتی، بلکہ اس کے برعکس وہ ظلم کو عام کرتی ہے اور انتشار و افراتفری کی بنیاد رکھتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی نظام جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہوا وہ نہ تو کامل و اکمل تھا اور نہ ہی مکمل طور پر منصفانہ، لیکن کم از کم اس میں ظاہری حد تک قواعد و ضوابط کی پابندی موجود تھی۔ تاہم، امریکہ، جو اس نظام کا معمار تھا، سب سے پہلے وہی اسوقت اسکی خلاف ورزی کا موجب بنا جب وہ خود اس نظام کی زد میں آیا۔
ایسے میں کسی بھی ملک کے سربراہاں کا اغوا کیا جانا، ناجائز طور پر کسی بھی ملک پر جنگ مسلط کرنا ، پابندیاں عائد کرنا، خودمختار علاقوں پر قبضے کی دھمکیاں دینا، اور اتحادیوں کے ساتھ حکمرانوں جیسی زبان استعمال کرنا ،یہ سب طاقت کی برتری کی نشانی نہیں بلکہ وہ مغربی فیصلہ سازی کے مرکز میں پنہان اخلاقی زوال کی عکاسی کرتی ہے۔
ایسے میں وہ حقیقت نمایاں ہو جاتی ہے جس کی جانب قرآن کریم بار بار تنبیہ کرتا ہے:
﴿وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا﴾ (سورۃ الإسراء: 16)
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہیں تو اس کے عیش پرستوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس بستی میں فسق و فجور کا ارتکاب کرتے ہیں، تب اس بستی پر فیصلہ عذاب لازم ہو جاتا ہے پھر ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔
مغرب خاص طور پر یورپ نے امریکی بالادستی کو اس لیے قبول کیا تھا کیونکہ یہ ان کے مفاد میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی تھی، وہ ایک ایسے نظام کی حفاظت کرتی تھی جو سب کے لیے فائدہ مند تھا۔ لیکن جب امریکہ ہی باعثِ خطر بن گیا ، تو اتحادیوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ اسے عسکری طور پر روکے رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ ہی اسے قانونی طور پر جوابدہ نہیں ٹھہرا سکتے تھےیہاں تک کہ اب وہ اپنی حفاظت بھی اس کے ذریعہ نہیں کر سکتے۔
اس وقت مغرب وہی کیفیت محسوس کر رہا ہے جس کی افتاد بہت سی قومیں پہلے بھی جھیل چکی ہیں، یعنی وہ ایک ایسی طاقت سے خوفزدہ ہیں جوکسی بھی طور پر اخلاقی حدود کی پابند نہیں۔ یہ صورت حال قرآنی آیت کی اس عملی صورت کو بھی بیان کرتی ہے:
﴿وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ﴾ (سورۃ آل عمران: 140)
اور یہ ہیں وہ ایام جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں
اسی تناظر میں یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ یورپ نے شعوری طور پر یا لا شعوری طور پر امریکی قیادت سے اپنےاصولی موقف سے دوری اختیار کرنی شروع کردی ہے۔ پس اسطرح وہ ممالک جو ایران، روس اور چین کو کبھی اپنا حقیقی دشمن سمجھتے تھے، وہ بھی خود کو مجبور پائیں گے کہ وہ: نظریاتی دشمنی کے لہجہ کو نرم کریں۔ گفت و شنید کے چینل دوبارہ کھولیں۔ اقداری نعروں پر اقتصادی اور سیکورٹی کے مفادات کو مقدم رکھیں۔یہ اس لیے نہیں کہ یہ طاقتیں اب اپنے تیئن حقیقت پسندانہ طرز فکر کی غیر متوقع طور پر انہیں ایک خطرناک دشمن سے پالا پڑگیا ہے۔ چنانچہ یہ تبدیلی اخلاقی بیداری کا اظہار نہیں بلکہ امریکی انتشار کے مجسم خوف کی عکاسی ہے۔
یورپ کی کوششیں، چاہے وہ ایک آزاد فوج قائم کرنا ہو، ڈالر پر انحصار کم کرنا ہو، یا اقتصادی شراکت داریوں میں تنوع لانا ہو، یہ سب اقدامات حقیقی آزادی کی علامت نہیں بلکہ اپنے حلیف کی طاقت ہیں، تاکہ وہ ممکنہ خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ اس وقت مسئلہ صرف ہتھیار یا وسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک اقداری نظام کا بحران ہے۔ پس وہ مغرب، جس نے اپنے بین الاقوامی تعلقات کو کبھی محض مفاد کی بنیاد پر استوار کیا تھا، وہ آج طاقت کے زوال کے وقت کوئی متبادل اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ اوریہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے ان تہذیبوں کے مابین بنیادی فرق واضح ہو جاتا ہے کہ
ایک تہذیب جو اپنی قوت کی بنیاد حق پر رکھتی ہے۔
اور ایک تہذیب جو اپنا "حق" طاقت پر قائم کرتی ہے۔
کیا مغرب کی اس زوال پذیری کے بعد اس کی دوبارہ شیرازہ بندی ممکن ہے؟
اس مرحلے پر ہم مغرب کے جغرافیائی وجود کے خاتمے کا مشاہدہ نہیں کر رہے، بلکہ ہم اس کی اخلاقی مرکزیت کے زوال کو زیرِ بحث لارہے ہیں کہ آج کا مغربی انسان اپنے اداروں پر اعتماد کھو چکا ہے، اپنی اقدار کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ ہے۔ اس کے برعکس، دیگر تہذیبیں جیسے چین کی تہذیب ہے جو اگرچہ ضروری طور پر اخلاقی متبادل تو پیش نہیں کرتیں ، لیکن طاقت اور حقیقت پسندی کی منطق کے ساتھ یہ زیادہ ہم آہنگ ماڈل پیش کرتی ہیں۔
جہاں تک امتِ مسلمہ کا تعلق ہے،تو آج اسے پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ مغربی زوال کو انتقامی نگاہ سے نہ دیکھے بلکہ اسے قرآن و سنت کے تناظر میں سمجھے۔ کیونکہ تہذیبیں محض اس لیے زوال پذیر نہیں ہوتیں کہ کوئی اور طاقتور ہو گیا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے وجود کے جواز کو کھو بیٹھتی ہیں۔
اور اللہ تعالی فرماتے ہیں :
﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ سورۃ آل عمران: 139)
ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو کہ تم ہی غالب رہوگے بشرطیکہ تم مومن ہو
مغرب کے بعد کیا ہوگا۔۔۔ یہ محض خالی جگہ نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔
واضح رہے کہ مغرب کے تہذیبی ڈھانچے کے گرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی منصفانہ نظام پر مبنی دنیا خود بخود قائم ہو جائے گی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس تہذیبی تصادم پر یہ ضرورت اپنی حقیقی صورت میں منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ یہ قوموں کے لیے ایک امتحان ہے کہ کیا وہ طاقت کے نام پر ظلم کو دوبارہ پروان چڑھائیں گی، یا اپنے وجود کو حق اور عدل کی بنیاد پر استوار کریں گی؟
یاد رکھئے کہ اللہ تعالی کی سنت کسی کے حق میں رعایت نہیں رکھتی، اور جو آج درسِ عبرت نہیں لیتا، وہ تاریخ میں اگلی کہانی کا عنوان بننے والوں میں سے ہوگا۔


