

کیا دنیوی کامیابی درست عقیدے کی دلیل ہے؟
شیخ مصطفیٰ الہجری
پولس کے نام اہلِ کورنتھس کے خط میں ایک حکایت نقل ہوئی ہے جس میں ایک دیہاتی ملحد اور ایک عیسائی مؤمن کے درمیان گفتگو بیان کی گئی ہے۔ حکایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ملحد نے مؤمن کے اس توکّل پر اعتراض کیا جو وہ کھیتی باڑی اور فصل کے حصول میں اللہ پر کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ آؤ ہم دونوں ساتھ کاشت کریں، تم اللہ سے دعا کرنا اور میں نعوذ باللہ اسے گالیاں دوں، پھر دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کس کی فصل زیادہ لگتی ہے۔ حکایت کے مطابق جب اکتوبر کا مہینہ آیا تو ملحد نے نہایت بھرپور اور عمدہ پیداوار حاصل کی، اور اپنے مؤمن ساتھی کو طنزیہ انداز میں کہا: دیکھا اے احمق! اب تمہارے پاس کیا جواب ہے؟
مؤمن نے نہایت سکون اور اطمنان کے ساتھ جواب دیتےہوے کہا کہ اللہ تعالی اپنے حسابات صرف اکتوبر کے مہینے میں پورا نہیں کرتا۔
بعض لوگوں کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہو جاتا ہے کہ غیر مؤمن کی تکنیکی، معاشی اور انتظامی میدانوں میں پیش رفت اور کامیابیاں(جبکہ بہت سے مؤمنین فقر، جہالت، بیماری، ادارہ جاتی ناکامیوں اور مالی بدعنوانی جیسے مسائل سے دوچار ہوں) اللہ تعالیٰ کے عدل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ خصوصاً جب یہ بات ذہن میں راسخ ہو کہ اللہ تعالی کی رحمت و محبت کا خصوصی تعلق اہلِ ایمان کے ساتھ ہے۔
قرآنِ کریم نے اس مسئلے کو نہایت اصولی اور واضح انداز میں بیان کیا ہے:
وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَابًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِئُونَ وَزُخْرُفًا ۚ وَإِنْ كُلُّ ذَلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ۔)الزخرف: 33–35(
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ (کافر) لوگ سب ایک ہی جماعت (میں مجتمع) ہو جائیں گے تو ہم خدائے رحمن کے منکروں کے گھروں کی چھتوں اور سیڑھیوں کو جن پر وہ چڑھتے ہیں چاندی سے، اور ان کے گھروں کے دروازوں اور ان تختوں کو جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں، (چاندی) اور سونے سے بنا دیتے اور یہ سب دنیاوی متاع حیات ہے اور آخرت آپ کے رب کے ہاں اہل تقویٰ کے لیے ہے۔
چنانچہ جہاں انجیل کا متن اس اشکال کو اس بات پر زور دے کر حل کرتا ہے کہ رزق کی فراوانی یا تنگی نہ تو عقیدے کی درستی یا غلطی کی دلیل ہے اور نہ ہی لوگوں کے اعمال اور عقائد کا براہِ راست بدلہ، وہیں قرآنِ کریم اس کے علاوہ ایک نہایت اہم اصول کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مادی کامیابی کے اسباب کے معاملے میں تمام انسانوں، خواہ وہ مؤمن ہوں یا کافر، کو یکساں قرار دیا ہے۔ پس جو شخص ان اسباب کو اختیار کرتا ہے اور جن کے مہیا ہو جانے کی صورت میں، وہ کامیابی حاصل کر لیتا ہے، چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
اسی حقیقت کو علامہ طباطبائیؒ نے تفسیر المیزان میں نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ "لوگوں کے ایک امت ہونے" سے مراد یہ ہو کہ معاشِ دنیا کے اسباب کے اعتبار سے سب انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں؛ مؤمن اور کافر کے درمیان اس جہت سے کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ جو رزق کے لیے کوشش کرے اور اس کے حق میں موثر اسباب جمع ہو جائیں، وہ رزق پا لیتا ہے چاہے مؤمن ہو یا کافر؛ اور جس کے لیے وہ اسباب مجتمع نہ ہوں، وہ محروم رہتا ہے یا اس پر رزق تنگ ہو جاتا ہے، چاہے مؤمن ہو یا کافر۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ہماری یہ مشیت نہ ہوتی کہ لوگ دنیا کی ظاہری آرائش اور اسباب کے معاملے میں برابر رہیں اور ایمان و کفر کی بنیاد پر ان میں فرق نہ کیا جائے، تو ہم کافروں کے لیے (یہ دنیاوی نعمتیں خاص کر دیتے) (المیزان، ج 18، ص 101)
چنانچہ یہ بات واضح ہے کہ دنیا اپنی زینت و آرائش سمیت نہ عقیدے کی صحت کو جانچنے کا قطعی معیار ہے اور نہ بندے کے اپنے رب سے قرب کی یقینی دلیل ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی کامیابی کے اسباب ایک منظم کائناتی نظام کے تحت سب کے لیے قابلِ حصول رکھے ہیں، اور یہ سنن نہ کسی کے لیے خصوصی رعایت کرتی ہیں اور نہ کسی کے لیے استثنائی پابندی۔ جو اسباب اختیار کرے اور اس کے لیے حالات مہیا ہو جائیں، وہ دنیا میں اپنا حصہ پا لیتا ہے، اس کے ایمان یا کفر سے قطع نظر۔
البتہ حقیقی حساب اور عادلانہ جزا و سزا اس فانی دنیا کے "اکتوبر" میں نہیں، بلکہ آخرت میں ہے؛ وہیں اللہ تعالی کا کامل عدل پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگا، اور حقیقی کامیابی متقین کے لیے ثابت ہوگی۔ دنیا اور اس کی رونق محض متاعِ زائل ہے، جبکہ آخرت ہی دارالقرار اور کامل بدلے کی جگہ ہے۔


