

کیا انسان فطرتاً شر پسند ہے؟ قرآنِ کریم کی روشنی میں جائزہ اور رہنمائی
الشيخ مصفى الهجري
ایک بچھو نے دریا عبور کرنا چاہا، اس نے مینڈک سے کہا کہ وہ اسے اپنی پیٹھ پر بٹھا لے۔ مینڈک ڈر گیا اور کہنے لگا کہ مجھے خوف ہے کہ تم مجھے اپنے زہر سے ڈس لو گے۔ بچھو نے جواب دیا: اگر میں نے ایسا کیا تو ہم دونوں مر جائیں گے؛ تم زہر سے اور میں ڈوب کر۔ مینڈک نے بچھو کی بات کو معقول سمجھا اور اس کی مدد پر آمادہ ہو گیا۔جب وہ اسے لے کر پانی میں چل رہا تھا تو اچانک مینڈک نے اپنی پیٹھ پر ایک چبھن محسوس کی، اور اسے معلوم ہوا کہ بچھو نے اس سے غداری کی ہے۔ مینڈک چیخ اٹھا اور کہا اے احمق! تم نے یہ کیا کر دیا؟ اب تو ہم دونوں مر جائیں گے! بچھو نے جواب دیا: میں جانتا ہوں، مگر یہی میری فطرت ہے۔
انسانی تہذیبی ورثہ ہمیں بچھو اور مینڈک کی یہ کہانی سناتا ہے؛ یہ ایک نہایت بلیغ حکایت جو ایک گہرے اخلاقی مسئلے کو سمیٹے ہوئی ہے کہ کیا انسانی فطرت میں بھی شر کی جڑیں موجود ہیں ؟ جب بچھو نے مینڈک کو ڈسا، حالانکہ وہی مینڈک اسے دریا پار کرا رہا تھا، اور اس طرح دونوں کی ہلاکت کا سبب بنا، تو اس نے نہایت خوفناک سادگی کے ساتھ کہا کہ "میں جانتا ہوں، مگر یہی میری فطرت ہے۔
یہ بنیادی سوال ہے، کہ انسان کی حقیقت کیا ہے، اور کیا وہ اپنی اس فطرت سے آگے بڑھ سکتا ہے جو فساد کی طرف مائل ہے۔ قرآنِ کریم میں ایک منفرد اور جامع جواب دیا گیا ہے؛ ایسا جواب جو مسئلے کی تشخیص میں حقیقت پسندی رکھتا ہے اور حل پیش کرنے میں امید اور رجاء سے بھرپور ہے۔
پس قرآنِ کریم انسانی فطرت کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کرتا، بلکہ انسان کی تخلیق کے بالکل آغاز ہی سے اس کا کھلے الفاظ میں اعتراف کرتا ہے۔ خالق اور فرشتوں کے درمیان ہونے والے ایک گہرے مکالمے میں ہمیں فرشتوں کا ایک واضح سوال ملتا ہے: ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ﴾
کیا تو اس (زمین) میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا؟
یہ سوال محض استفہام نہیں، بلکہ انسان کی اس مادی حقیقت کی ایک نہایت دقیق تشخیص ہے جو غضب ا اور شہوت کی قوتوں کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔
علامہ طباطبائیؒ اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"زمینی موجود چونکہ ایک مادی موجود ہے، جو غضب اور شہوت کی قوتوں سے مرکب ہے، اور چونکہ یہ دنیا تزاحم کی جگہ ہے، محدود جہات رکھتی ہے، مزاحمتیں اس میں بکثرت پائی جاتی ہیں، اس کے مرکبات تحلیل کے مورد تحلیل میں رہتے ہیں، اور اس کے نظام و اصلاح ہمیشہ فساد اور بطلان کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں؛ لہٰذا اس میں زندگی صرف نوعی (اجتماعی) زندگی ہی کے ذریعے قائم رہ سکتی ہے، اور بقا کی تکمیل صرف اجتماع اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔ چنانچہ یہ دنیا فساد اور خونریزی سے خالی نہیں رہ سکتی۔ پس فرشتوں نے اسی نکتے سے یہ سمجھا کہ مطلوبہ خلافت زمین میں کثیر افراد اور ان کے درمیان ایک اجتماعی نظام کے بغیر ممکن نہیں، اور ایسا نظام بالآخر فساد اور خونریزی تک جا پہنچتا ہے"۔ (المیزان، ج1، ص 115)
انسانی فطرت کے بارے میں قرآن کا یہ اعتراف اس موقف سے ہم آہنگ ہے جو تاریخ کے بہت سے مفکرین اور فلسفیوں نے اختیار کیا ہے۔ انہی میں سے ایک ڈیوڈ برلنسکی ہے، جو کہتا ہے کہ: انسان ظاہر اور واضح طور پر انتہائی فاسد واقع ہوا ہے، یہاں تک کہ آسمان و زمین کے قوانین بھی اسے جرائم سے روکنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ (وہُم الشيطان.. الإلحاد ومزاعمه العلمية، ص 64)
لیکن قرآن اس باریک اور دقیق تشخیص پر رک نہیں جاتا، بلکہ اس کے بعد ایک ایسا منفرد حل پیش کرتا ہے جو کسی اور فکری نظام میں اس جامعیت کے ساتھ موجود نہیں۔
انسان میں پوشیدہ خدائی راز
فرشتوں کے سوال کے جواب میں جو الٰہی جواب آیا، وہ انسانی فطرت کی حقیقت کا انکار نہیں تھا، بلکہ اس مخلوق میں ودیعت ایک راز کی طرف اشارہ تھا: ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔یہ راز انسان کی وہ صلاحیت ہے جسے "اسماء کا علم" کہا گیا ہے؛ ایک ایسی منفرد قابلیت جو فرشتوں تک کو عطا نہیں کی گئی: ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ اور اللہ نے آدم کو تمام ناموں کا علم عطا فرمایا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انہی اسماء کے ذریعے فرشتوں کا امتحان لیا، تو وہ اس سے عاجز آگئے، جبکہ آدمؑ نے انہیں ان کے نام بتا دیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اسماء کیا ہیں جو انسانی فطرت کے اس مسئلے کا حل بن جاتے ہیں؟ کیا وہ محض ایسے الفاظ ہیں جو یاد کرلیے جائیں؟ یقیناً نہیں، کیونکہ محض لفظی علم نہ تو انسان کو بدل سکتا ہے اور نہ ہی اسے فساد سے بچا سکتا ہے۔ یہاں مراد کہیں زیادہ گہری اور ہمہ گیر معرفت ہے یعنی اسمائے الٰہی اور ان کی حقائق کی معرفت۔
اسمائے الٰہی صرف ایسے الفاظ نہیں جو ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف اشارہ کریں، بلکہ وہ وجودی حقائق ہیں جو ذاتِ متعالی اور اس کی مخلوقات کے درمیان واسطہ بنتے ہیں۔ کائنات میں ہمیں جو علم، قدرت، رحمت اور عدل دکھائی دیتا ہے وہ سب اللہ کے اسماءِ حسنیٰ کے آثار ہیں۔ چنانچہ جب ہم کائنات میں علم اور قدرت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ علم اور صاحبِ قدرت ہے، اور وہی ان کمالات کو فیض کی صورت میں عطا کرتا ہے۔ اور جب ہم جہل اور عجز کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ان سے منزہ ہے، اور وہی اپنے علم و قدرت کے ذریعے ہماری حاجت اور جہالت کو دور کرتا ہے۔اسی طرح باقی تمام صفات میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ یوں اسماءِ الٰہی وہ پُل ہیں جو ہمیں کمالِ مطلق سے جوڑ دیتے ہیں۔
السماء الحسنیٰ کے ذریعے انسانی کمال کا راستہ
اسمائے الٰہی کے بارے میں انسان کی معرفت صرف نظری علم نہیں، بلکہ یہ عملی راہ ہے جو انسان کو تبدیلی اور تکامل کی طرف لے جاتا ہے۔ جب انسان ایمان اور توحید کے راستے پر چلتا ہے اور اپنے درجات طے کرتا ہے، تو وہ اپنے غضب اور شہوانی قوتوں کو صرف فساد اور خونریزی کے لیے استعمال نہیں کرتا، بلکہ انہیں روحانی اور اخلاقی تکامل کے لیے بروئے کار لاتا ہے۔یہ تبدیلی اسمائے الٰہی کے وجودی تعلق کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ قرآن اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ اللہ کے اسمائے حسنیٰ ہیں : ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا﴾ اللہ کے ہیں بہترین نام، پس اسے ان ناموں سے پکارو۔
پس ان ناموں سے انسان کو فیض اس کے تیاری کے مطابق ملتا ہے.ہمارا جہل اللہ کے علم کے ذریعے دور ہوتا ہے، ہماری ناتوانی اس کی قدرت کے ذریعے رفع ہوتی ہے، ہماری ذلت اس کی عزت کے ذریعے رفع ہوتی ہے،اور ہماری فقر و کمی اس کے غنا و بے نیازی کے ذریعے دور ہوتی ہے۔جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ کمالِ مطلق کےسر چشمے سے مربوط ہے، اور اسے ان ناموں کے ذریعے الٰہی فیض مل سکتا ہے، تو اس کی نگاہ دنیا کا منظر ہی بدل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ﴾ (فاطر: 15) یعنی: اے لوگو! تم اللہ کی محتاج ہو اور اللہ تعالی خود بے نیاز اور تعریف کے لائق ہے۔
چنانچہ انسان کے ایمان اور نیک عمل کے مطابق، اس کی تکوینی تیاری بڑھتی ہے اور وہ اسماء کے فیض کا بڑا حصہ وصول کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا﴾ اس نے آسمان سے پانی اتارا، تو نالے اپنی اپنی گنجائش کے مطابق بہہ نکلے۔(الرعد: 17)
جیسا کہ بارش اپنی مقدار کے مطابق وادیاں بھر دیتی ہے، اسی طرح اسمائے الٰہی کا فیض بھی ہر انسان کی استعداد اور عمل کے مطابق پہنچتا ہے، جو سیکھتا ہے، اسے علم والے اسم کا زیادہ فیض ملتا ہے، جو جسمانی مشقت کرتا ہے، اسے اسمِ قویٰ کا زیادہ فیض ملتا ہے، جو طب سیکھتا ہے، وہ اسمِ شافی کا زیادہ مظہر بنتا ہے، اور اسی طرح ہر صفت اور علم میں انسان اسمائے الٰہی کے فیض کا شریک بنتا ہے۔ الٰہی اسماء ایک سطح یا زمرے میں محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ وسیع امتداد میں ترتیب پاتے ہیں۔ یہ ترتیب خاص اسماء سے عام اسماء کی طرف بڑھتی ہے، اور آخر میں اسم اعظم تک پہنچتے ہیں جو تمام اسماء کے حقائق کو سمیٹے ہوئے ہے۔
جتنا اسم زیادہ عام اور وسیع ہوگا، اس کے اثرات دنیا میں بھی اتنے زیادہ اور برکات زیادہ اور کامل ہوں گے۔ انسان کی استعداد کے مطابق اس پر فیض ہوتا ہے، اور جتنا اس کی صلاحیت بڑھتی ہے، اتنا وہ مستحق بنتا ہے کہ اسے اسم کی زیادہ وسیع وجودی وسعت سے فیض ملے اور وہ اسم اعظم کا مظہر بن جائے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہوا، قرآن میں فرمایا: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ اور (اے رسول) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔ (الأنبیاء: 107)
ہر اسم جو اسمِ رحمت کے تحت آتا ہے، وہ اس انسان کی تکمیل کی غرض کے لیے ہے، کیونکہ انسان اسی غرض کے لیے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ. إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ﴾ اور وہ ہمیشہ اختلاف میں مبتلا رہیں گے، سوائے ان کے جن پر آپ کے رب نے رحم فرمایا، اور اسی لیے اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔(هود: 118–119)
جب انسان اسمائے الٰہی، خصوصاً اسم اعظم کی حقیقی معرفت اور حقیقتی تحقق تک پہنچتا ہے، تو وہ اپنی فاسد ہونے والی فطرت کو عبور کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ تجاوز فطرت کو ختم کرنے کے ذریعے نہیں بلکہ اسے کمال کے راستے میں استعمال کرنے کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہ قوت غضب جو عام طور پر عدوان کی طرف لے جاتی ہے، حق اور عدل کے دفاع کی قوت میں بدل جاتی ہے۔ اسی طرح وہ شہوانی قوت جو فساد کی طرف مائل کرتی ہے، تعمیر اور سازندگی کی توانائی میں بدل جاتی ہے۔
قرآنِ کریم انسانی فطرت کے مسئلے پر ایک مربوط بصیرت پیش کرتا ہے:ہاں، انسان اپنی مادی فطرت کی وجہ سے فساد اور خونریزی کا امکان رکھتا ہے، لیکن اسی وقت وہ اسمائے الٰہی کے علم کے ذریعے تجاوز اور ارتقاء کا حامل بھی ہے۔ یہ علم صرف نظریہ نہیں، بلکہ ایک زندہ وجودی تعلق ہے جو انسان کو کمال مطلق کے منبع سے جوڑتا ہے۔ اس تعلق سے انسان فاسد ہونے والے مخلوق سے بدل کر ایسا خلیفہ بن جاتا ہے جس کے لیے فرشتے بھی سجدہ کرتے ہیں۔اس راہ میں انسان کی فطرت منسوخ نہیں ہوتی، بلکہ اسے ترقی دی جاتی ہے۔ اس کی تمام طاقتیں اور قوتیں تباہی کے اوزار سے بدل کر تعمیر و تکامل کے وسائل بن جاتی ہیں۔یہی در اصل بچھو اور مینڈک کی کہانی کے سوال پر قرآن کا گہرا جواب ہے۔ہاں، انسان کی فطرت ہے، لیکن وہ اس کا غلام نہیں؛ بلکہ وہ اس پر قابو پا سکتا ہے جب وہ کمالِ مطلق کے سر چشمہ فیض سے مربوط ہو جائے۔


