13 رجب 1447 هـ   2 جنوری 2026 عيسوى 3:46 am کربلا
موجودہ پروگرام
(آج کے دن) 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو مولائے کائنات، جانشینِ رسولِ خدا، حضرت امام علی علیہ السّلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔
مین مینو

2025-12-25   78

دین: مستقل اقدار اور بدلتے ہوئے تاریخی حالات

شيخ معتصم السيد أحمد

جب دین میں ثابت اور متغیر عناصر کے بارے میں سوال اٹھایا جاتا ہے، تو یہ صرف ایک نظری بحث نہیں ہوتی، بلکہ یہ سوال وحی اور انسانی زندگی، دینی متن اور عملی حقیقت، اور خدا کے مطلق ارادے او محدود اور بدلتے ہوئے انسان کے درمیان تعلق کو براہِ راست زیر بحث لاتا ہے۔

وہ دین جو کسی قسم کی اقداری پختگی اور ثابت قدمی نہ رکھے، اپنی پہچان کھو دیتا ہے، اور وہ دین جو تبدیلی کی گنجائش نہ  رکھتا ہو، وقت کے ساتھ چلنے اور تاریخ سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا متوازن نظریہ قائم کیا جائے جو یہ فرق واضح کرے کہ کن باتوں کو دین کی اصل روح اور اقدار کے طور پر ہمیشہ قائم رہنا چاہیے، اور کن باتوں میں تبدیلی کی گنجائش ہونی چاہیے تاکہ ان اقدار کو مختلف حالات اور زمانوں میں مؤثر انداز سے نافذ کیا جا سکے۔

حقائق کی بات کرنا، درحقیقت ان اعلیٰ اقدار اور عمومی اصولوں کی بات کیے بغیر ممکن نہیں، جو دین کی بنیادی روح کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہی وہ اقدار ہیں جو زمانے  کی سرحدوں کو عبور کر سکتی ہیں، اور مختلف ادوار و حالات میں اس طرح لاگو ہو سکتی ہیں کہ نہ ان کے مفہوم میں کوئی خلل آتا ہے اور نہ ہی ان کی تاثیر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، وہ جزوی تفصیلات جو کسی خاص زمانے، مقام یا سماجی پس منظر سے وابستہ ہوں، وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ایسی لچک اور پائیداری نہیں رکھتیں کہ ہر دور میں یکساں طور پر جاری رہ سکیں۔

اسی لیے جب ہم دین میں "ثابت" کو تلاش کرتے ہیں، تو وہ جزئیات یا ظاہری  صورتوں میں نہیں بلکہ اصولوں اور معانی میں ہوتا ہے۔ دین کا جوہر، اس کی معنویت، اور اس کی کلی اخلاقی بنیادیں ہی وہ عناصر ہیں جنہیں ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے، جبکہ عملی شکلیں اور تفصیلات وقت، ماحول اور ضرورت کے مطابق بدل سکتی ہیں۔

اسی پس منظر میں دین کی ثابت اقدار اور اس کے الٰہی ماخذ کے درمیان بنیادی تعلق واضح ہو جاتا ہے۔ دین اپنی گہرائی میں نہ تو کسی تاریخی حادثے کا نتیجہ ہے، اور نہ ہی یہ کسی عارضی سماجی ضرورت کا وقتی جواب؛ بلکہ دین کا تعلق ایک ایسے مطلق حق سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے جڑا ہوا ہے۔

اللہ  تعالی کے اسماءِ حُسنٰی، جو کہ غیب اور شہود، مطلق اور نسبی  امور کے درمیان ایک زندہ تعلق کا  زذریعہ ہیں،اسی تعلق کو واضح کرتے ہیں۔ چنانچہ دین کا وہ حصہ جو اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہے، وہ اس کے ثبات کی مانند ہمیشہ باقی رہتا ہے  اور وہ حصہ جو انسان سے تعلق رکھتا ہے، وہ انسان کی حالات و ضروریات کے بدلنے کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ دورُخی حقیقت کوئی تضاد نہیں، بلکہ یہی وہ راز ہے جو دین کو زندہ، متحرک اور ہر دور میں قابلِ عمل بناتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حُسنٰی دراصل اُس تعلق کو سمجھنے کے  نقطۂ آغاز کی حیثیت رکھتے ہیں، جو انسان اور خدا کے درمیان قائم ہے۔ ایک طرف یہ اسماء خدا کے تخلیقی افعال کے مظاہر ہیں، یعنی کائنات میں الٰہی فعل کی جھلکیاں، اور دوسری طرف یہ وہ اخلاقی اقدار ہیں جن کی طرف انسان کو بلایا گیا ہے اور جن کو اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے۔

مثال کے طور پر، عدل، رحمت، حکمت اور حق یہ سب نہ صرف اللہ کی صفاتِ کاملہ ہیں، بلکہ ایسی اخلاقی اقدار بھی ہیں جو انسانی کردار میں جھلک سکتی ہیں۔ یہ صفات محض الوہی اور بلند و بالا تصورات نہیں، بلکہ وہ عملی اخلاقی پیمانے ہیں جن کی طرف انسان کو اپنی استعداد کے مطابق پیش قدمی کرنی چاہیے۔

اسی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ الٰہی صفات، یعنی اسماءِ حُسنٰی، خدا کے مطلق ہونے اور انسان کے محدود ہونے کے درمیان ایک زندہ ربط پیدا کرتی ہیں۔ یہی صفات دین میں ثبات اور تغیر کے بیچ ایک معنوی پل کا کام دیتی ہیں؛ اقدار کو ثبات اس لیے حاصل ہوتا ہے کہ ان کا ماخذ خدا کی ذات ہے، جبکہ ان اقدار کے عملی نفاذ میں لچک اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ وہ انسان کی متغیر زندگی اور زمینی حالات کے مطابق بروئے کار آتی ہیں۔

جب ہم سنتِ نبوی اور ائمۂ معصومینؑ کی سنت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، تو دین میں ثبات اور تغیر کی بحث اور بھی زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ سنت کو کسی ایک جامد متن کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک زندہ اور متحرک خطابات کا مجموعہ ہے، جو مخصوص تاریخی سیاق، انسانی حالات، اور ان کے سوالات و مسائل کے ساتھ براہِ راست تعامل میں وجود میں آیا۔

اسی لیے یہاں اس بات کی بنیادی اہمیت ہے کہ ہم ان احادیث اور اقوال میں فرق کریں جو معصوم کی طرف سے قضیۂ حقیقیہ کی صورت میں بیان ہوئے، یعنی وہ جو کسی عمومی حکم یا کلی قدر کی نمائندگی کرتے ہی، اور ان اقوال یا افعال سے جو قضیۂ خارجیہ کے طور پر صادر ہوئے، یعنی کسی خاص واقعے، مخصوص فرد یا محدود حالات سے متعلق تھے۔

یہ امتیاز نہ صرف سنت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ دین کے اصل اصول اور زمانی اطلاقات کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے، جو کہ فقہ، اصول، اور دینی فکر میں اجتہادی بصیرت کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

یہ امتیاز صرف ایک علمی تفنن نہیں بلکہ دین کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ایک لازمی اصول ہے۔ اگر اس فرق کو نظرانداز کر دیا جائے تو دینی سوچ دو انتہاؤں (یعنی افراط اور تفریط)  میں بٹ جاتی ہے، اور دونوں دین کے صحیح فہم کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایک طرف وہ رویہ ہے جو سنت کے ہر قول و فعل کو حرف بہ حرف ہر دور اور ہر حالت میں لاگو کرنے کی کوشش کرتا ہے، جیسے وہ کسی مخصوص وقت یا حالات کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ ہر زمانے کے لیے یکساں ہے۔

دوسری طرف وہ تصور ہے جو سنت کو محض ایک تاریخی چیز سمجھتا ہے، اور اسے آج کے دور میں غیر مؤثر یا ناقابلِ عمل قرار دیتا ہے، صرف اس بنیاد پر کہ وہ ایک مخصوص دور میں بیان ہوئی تھی۔ یہ دونوں طرزِ فکر، اگرچہ ظاہری طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہیں، مگر دونوں دین کے توازن کو بگاڑتے ہیں۔ ایک دین کو سخت اور جامد بنا دیتا ہے، جبکہ دوسرا اسے عملی زندگی سےجدا  کر  کے صرف ماضی تک محدود کر دیتا ہے۔

اعتدال کا راستہ یہ ہے کہ سنت کو ہدایت کا ایک معتبر ماخذ تسلیم کیا جائے، مگر اس انداز سے کہ اسے اس کے تاریخی حالات کی خصوصیات سے الگ کر کے، ان عمومی اصولوں اور کلی اقدار کی روشنی میں سمجھا جائے جو دین کی بنیادی اور ثابت اساس کو تشکیل دیتی ہیں۔ سنت کا جوہر درحقیقت صرف جزوی احکام و ہدایات کا مجموعہ نہیں، بلکہ وہ ایک مکمل اور مربوط اقداری نظام کا عملی اظہار ہے۔ اگر اس اقداری نظام کو صحیح طور پر سمجھا جائے، تو اسے زمانے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر اس طور پر منطبق کیا جا سکتا ہے کہ نہ تو دین کی اصل روح پر آنچ آئے، اور نہ ہی انسان کی موجودہ ضروریات اور حالات کو نظرانداز کیا جائے۔ اس طرح نہ جمود میں پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے، نہ تفریط میں جانے کا، بلکہ سنت ایک زندہ اور متوازن رہنمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اسی تناظر میں قرآنِ کریم ثبات اور تغیر کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم فکری و مفہومی خاکہ پیش کرتا ہے، جو "محکم" اور "متشابہ" کی قرآنی اصطلاحات کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ محکم آیات ان اصولوں اور کلی اقدار کی نمائندگی کرتی ہیں جن پر دین کی پوری عمارت قائم ہے، جب کہ متشابہ آیات ان اصولوں کا مختلف حالات و واقعات پر انطباق اور اطلاق ظاہر کرتی ہیں۔ اس فہم کے مطابق متشابہ کوئی مبہم یا ناقابلِ فہم شے نہیں، بلکہ اس کی معنویت مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے، کیونکہ یہ ایک ہی اصول کی مختلف صورتوں پر لاگو ہونے کی وجہ سے کئی پہلو رکھتا ہے۔ یوں متشابہ کی کثیر دلالتیں دراصل زندگی کی کثرتِ مظاہر کے ساتھ ہم آہنگی کی علامت بن جاتی ہیں، اور دین کی جامعیت اور لچک کا مظہر بھی۔

اسی نقطۂ نظر سے اس عام رائج تفسیر پر نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے جو "محکم" کو قابلِ فہم اور "متشابہ" کو ناقابلِ فہم قرار دیتی ہے۔ یہ فہم خود قرآن کے اس بنیادی تصور سے متصادم ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ کتاب نصیحت اور تفکر کے لیے آسان بنائی گئی ہے، اور یہ کہ اس کا خطاب انسان سے ہے جو عقل و شعور رکھنے والا، غور و فکر کرنے والا مخلوق ہے۔ اگر بعض آیات کو سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے تو اس کا سبب خود نص نہیں ہوتا، بلکہ وہ سامع یا قاری کی فکری سطح اور اس کے علم و فہم کی حدود میں ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کا پیغام تمام انسانوں کے لیے ہے، تو پھر آیات کو سمجھنے کی اہلیت کی بنیاد پر کیسے درجہ بند کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ تقسیم خود انسانوں کی تفہیم کی سطحوں پر مبنی نہیں ہے، جبکہ قرآن کا خطاب تو سب کے لیے یکساں ہے؟ لہٰذا، "متشابہ" کو ابہام نہیں بلکہ تنوعِ دلالت کے طور پر سمجھنا زیادہ قرینِ فہم ہے، کیونکہ یہ آیات مختلف حالات میں اصولوں کی تطبیق کا اظہار کرتی ہیں۔

اسی مقام پر تأویل کا کردار سامنے آتا ہے، جو ایک فکری و منہجی عمل کے طور پر متشابہ کو محکم کی طرف لوٹانے، یعنی متغیر کو ثابت اصولوں سے مربوط کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ تأویل کا مطلب نص سے ہٹ جانا یا اس کے مفاہیم سے کھیلنا نہیں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ نص کے ظاہری اسلوب کے پیچھے چھپی ہوئی حکمتوں اور اقدار کو دریافت کیا جائے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو تأویل دراصل نص کی ساخت میں غور و فکر کا ایک عمل ہے، جس کا مقصد نہ تو نص کو رد کرنا ہے اور نہ غیر مؤثر بنانا، بلکہ اسے زندگی سے جوڑنا اور اس کی معنویت کو فعّال بنانا ہے۔ یوں تأویل دین کے زندہ پیغام کو زمانی اور انسانی سیاق میں بروئے کار لانے کا ایک حکیمانہ طریقہ بن جاتی ہے۔

تأویل کا کردار صرف نصوص کے پیچھے پوشیدہ حکمتوں کو دریافت کرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان حکمتوں کو حقیقت کے متغیر حالات سے مربوط کرنا اور ہر نئے سیاق کے مطابق مناسب حکم کی تشخیص کرنا بھی تأویل کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔ یہی وہ فکری و اجتہادی وسعت ہے جو دین کو ایک طرف اس کی مرجعیت اور اقداری ثبات کے ساتھ قائم رکھتی ہے، اور دوسری طرف اسے وقت کے مسلسل تغیرات کے ساتھ مؤثر تعامل کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ تاہم یہ دائرہ نسبی معرفت کا حامل ہے، کیونکہ حالات، سیاق، اور دستیاب معلومات کے بدلنے سے موضوعات کی تشخیص میں فرق آ سکتا ہے، مگر اس تبدیلی کا اثر ان اصولی اقدار پر نہیں پڑتا جن کی بنیاد پر احکام قائم کیے جاتے ہیں۔ اس طرح دین کی مرکزیت بھی محفوظ رہتی ہے اور اس کی اجتہادی لچک بھی برقرار رہتی ہے۔

اگر ہم دین میں ثبات  کے منطقی اور فکری تسلسل کو واضح انداز میں سمجھنا چاہیں، تو اسے تین باہم مربوط دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی دائرہ معرفتی نظام پر مشتمل ہے، جو انسان کی عقلی و ایمانی بصیرت، اس کے وجود، کائنات، زندگی اور مقصدِ حیات سے متعلق تصورِ کُلّی کو ترتیب دیتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کی فکری عمارت استوار ہوتی ہے، اور جس کے بغیر دین کا تصور نامکمل رہتا ہے۔ دوسری دائرہ ان اخلاقی و اقداری اصولوں پر مشتمل ہے جو اسی عقائدی تصور سے جنم لیتے ہیں، اور جو انسانی رویے اور فیصلوں کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیارات فراہم کرتے ہیں۔ یہ وہ دائمی اقدار ہیں جو انسان کی فطرت اور دین کی روح سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ تیسری دائرہ وہ ہے جو ان اقدار اور تصورات کے عملی اظہار کو محیط ہے، یعنی وہ ثقافتی، سماجی اور سلوکی نظام جو انسانی روزمرہ زندگی میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان تینوں دائروں کے درمیان گہرا باہمی ربط پایا جاتا ہے: عقیدہ اقدار کو جنم دیتا ہے، اقدار عمل کو تشکیل دیتی ہیں، اور عمل دین کی روح کو زندگی کی سطح پر متحرک بناتا ہے۔ اس طرح دین ایک مکمل اور مربوط نظام کے طور پر اپنی معنویت قائم رکھتا ہے, ایسا نظام جو فکری بنیاد، اخلاقی رہنمائی اور عملی لچک، تینوں کو ایک ساتھ جمع کرتا ہے۔

ان تینوں دائروں کے درمیان ایک فطری اور باہم مربوط تعلق موجود ہے۔ تاہم، ان میں سے پہلا اور دوسرا دائرہ، یعنی عقائدی تصور اور اقداری نظام، دین کے وہ ثابت اصول ہیں جو تغیر و تبدل سے ماورا ہوتے ہیں، جبکہ تیسرا دائرہ، یعنی انسان کا ثقافتی اور عملی طرزِ عمل، وہ دائرہ ہے جہاں تغیر واقع ہوتا ہے۔ اگرچہ انسانی ثقافت اور سلوک انہی ثابت اقدار پر استوار ہوتے ہیں، تاہم وہ خارجی حالات، زمان و مکان، اور معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی تغیرات سے اثر پذیر ہوتے ہیں۔ یہی وہ دائرہ ہے جہاں افراد اور اقوام کے درمیان نقطۂ نظر کا اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ اختلاف اقدار کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہر فرد یا معاشرہ مختلف حالات کے تحت موضوعات کی تشخیص اور مصالح و مفاسد کے تعین کو مختلف انداز میں انجام دیتا ہے۔ اس تنوع کو دین کے اندر اجتہادی تنوع کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جو اصولی یکسانیت کے ساتھ اطلاقی گوناگونی کو قبول کرتا ہے۔

اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی میں اصل اور پائیدار ثبات اُس عقلی و ایمانی بصیرت میں ہے جو اس کے عقائدی تصور سے جنم لیتی ہے، اور اُن اخلاقی اقدار میں ہے جو اس تصور کا عملی اظہار ہیں۔ جب کہ ان اقدار کا انطباق،  یعنی انہیں خارجی حالات پر لاگو کرنا ،  ایسا دائرہ ہے جو اجتہاد، تدبر اور تبدیلی کا متقاضی ہے، کیونکہ خارجی حالات اور موضوعات خود اپنی فطرت میں متغیر ہوتے ہیں۔ یہی اصولی فرق ہمیں دین کو ایک زندہ، متوازن اور لچکدار اقداری نظام کے طور پر سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے، نہ کہ محض جامد احکامی مجموعہ کے طور پر۔ اس طرح دین اپنی روحانی گہرائی، اخلاقی رہنمائی، اور زمانی سیاق سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کے ساتھ، ایک مسلسل رہنمائی فراہم کرنے والا نظام بن کر سامنے آتا ہے۔

تاہم یہ اصول کہ دین میں تغیر کا دائرہ موضوعات کی نوعیت کے مطابق متعین ہوتا ہے، ہر شعبۂ دین پر یکساں طور پر منطبق نہیں ہوتا۔ عبادات کی نوعیت، معاملات اور سماجی رویّوں سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ عبادات کسی عرف یا وقتی ضرورت سے نہیں وجود میں آتیں ، بلکہ یہ ایسے تعبّدی احکام ہیں جن کی شرعی حیثیت مخصوص نصوص کے ذریعے قطعی طور پر متعین کی گئی ہے۔ اسی لیے ان کا ثبات، ان کی تشریعی حیثیت کے ثبوت کے ساتھ  ضروری ہے، اور وہ خارجی حالات کے تغیر یا عرفی تبدل سے متاثر نہیں ہوتے۔ یہی نکتہ اسلامی قانون میں پائے جانے والے گہرے توازن کو واضح کرتا ہے، ایک طرف ایسے احکام جو بطورِ تعبّد مطلق طور پر ثابت اور مستقل ہیں، اور دوسری طرف وہ احکام جو عرف، مصلحت اور زمان و مکان کے تغیرات کے مطابق قابلِ اجتہاد اور لچکدار ہیں۔ اس حکیمانہ تقسیم کے ذریعے شریعت ایک ایسا جامع نظام پیش کرتی ہے جو نہ تو تقدس و اصولیت سے خالی ہے، اور نہ ہی انسانی زندگی کی حرکت و ارتقا سے بے تعلق۔

اس فہم کی روشنی میں یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ دین میں ثبات و تغیر کی بحث کا تعلق نہ تو خود نصوصِ دینیہ سے ہے، اور نہ ہی دین کی اصل ماہیّت سے؛ بلکہ یہ دراصل اُس منہجِ  فہم و قراءت سے وابستہ ہے جس کے ذریعے ہم دین کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب دین کو اس کی کلیاتی اقدار اور بنیادی اصولوں کی بنیاد پر دیکھا جائے، تو وہ نہ زندگی کی روانی سے  جدا ہوتا ہے، اور نہ ہی اس میں تحلیل ہو کر اپنی شناخت کودیتا ہے۔ بلکہ وہ ایک ایسا ثبات پیش کرتا ہے جو جامد نہیں، اور نہ ہی انسان پر بوجھ بنتا ہے، بلکہ اُسے رہنمائی، توازن اور معنی عطا کرتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں وحی کی گہری حکمت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے، ایسی حکمت جو ایک طرف منبعِ ہدایت میں قطعی ثبات کو محفوظ رکھتی ہے، اور دوسری طرف عملی زندگی کے میدان میں اجتہادی لچک کو ممکن بناتی ہے؛ تاکہ دین نہ تو صرف ایک تاریخی یادگار بن جائے، اور نہ ایک ایسا بند نظام جو زمان و مکان سے کٹا ہوا ہو؛ بلکہ ہر دور میں ایک زندہ، مؤثر اور متحرک پیغام کی صورت میں انسان کے لیے رشد و ہدایت کا منبع بنا رہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018