13 رجب 1447 هـ   2 جنوری 2026 عيسوى 3:50 am کربلا
موجودہ پروگرام
(آج کے دن) 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو مولائے کائنات، جانشینِ رسولِ خدا، حضرت امام علی علیہ السّلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔
مین مینو

2025-12-19   130

قوموں کے عروج و زوال کے اصول: اقوام کب عروج اور کب زوال پاتی ہیں؟

الشيخ معتصم السيد أحمد

انسانی تاریخ میں تبدیلی کا عمل ہمیشہ جاری رہا ہے جہاں قومیں ایک دوسرے کی جگہ لیتی رہتی ہیں، جیسے سال کے موسم بدلتے رہتے ہیں ایسے ہی کچھ قومیں کمزوری سے نکل کر طاقت حاصل کر لیتی ہیں اور کچھ طاقت کے عروج سے گر کر زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بعض اقوام صدیوں تک تہذیب و تمدن کا مرکز رہتی ہیں پھر وقت کے ساتھ ساتھ پس منظر میں چلی جاتی ہیں جبکہ دوسری قومیں آگے آجاتی ہیں۔یہ سب کچھ نہ تو محض اتفاق سے ہوتا ہے اور نہ صرف فوجی یا معاشی طاقت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔اس کے پیچھے کچھ مستقل اصول کارفرما ہوتے ہیں جنہیں قرآنِ کریم نے واضح طور پر بیان کیا ہے اور اس تبدیلی کو تاریخ کے انہی قوانین میں سے ایک قانون قرار دیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ) (سورہ محمد ۳۸)

اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو اللہ تمہارے بدلے اور لوگوں کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

یہ آیت کسی خاص جماعت سے خطاب نہیں کرتی بلکہ ایک ایسا دائمی قانون بیان کرتی ہے جو ہر دور میں نافذ رہتا ہےاور یہ بات واضح کرتی ہے کہ قوموں کا مقام کوئی ہمیشہ کے لیے طے شدہ تقدیر نہیں ہوتا بلکہ وہ اس بات سے وابستہ ہوتا ہے کہ وہ کتنی حد تک اُن شرائط پر قائم رہتی ہیں جو انہیں ترقی اور عروج کی حالت میں برقرار رکھتی ہیں۔

یہ تبدیلی کوئی اچانک واقعہ نہیں ہوتا جو بجلی کی کڑک کی طرح یکدم آجائے بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہوتا ہے جو ظاہر ہونے سے پہلے معاشرے کی تہوں میں تشکیل پاتا ہے۔ اس کی ابتدا عموماً کسی نئی دعوت، خیال یا اقداری نظام سے ہوتی ہے جو کسی ایسی قوم کے اندر جنم لیتا ہے جو مقصد کی تلاش میں ہوتی ہے۔ پھر اس کے گرد مختلف سوچ رکھنے والے افراد جمع ہو جاتے ہیں اور انہی ارادوں کے مجموعے سے ایک سماجی تحریک وجود میں آتی ہے جو حالات کو بدلنے کی سمت بڑھتی ہے۔ اس لیے کسی بھی قوم کی ترقی کا آغاز نہ معیشت سے ہوتا ہے نہ ہی طاقت سے ہوتا ہے بلکہ ایک ایسے خیال سے ہوتا ہے جو ہر چیز سے پہلے آتا ہے کیونکہ خیال ہی وہ چنگاری ہے جو دلوں میں تبدیلی کی خواہش کو بھڑکاتی ہے اور اس کے بغیر معاشرہ خواہ کتنا ہی مال دار یا طاقت ور کیوں نہ ہو، جمود کا شکار رہتا ہے۔

جب کوئی خیال عملی منصوبے کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو معاشرہ تبدیلی کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ اس کی ترجیحات بدلتی ہیں، کام کرنے کا جذبہ تازہ ہوتا ہے، اقداری نظام کی نئی تشکیل ہوتی ہے اور مستقبل کے لیے ذمہ داری کا شعور بڑھتا ہے۔ تب قوم ترقی کے راستے پر چلنا شروع کرتی ہے۔ یہ ترقی اکثر پرانی طاقتوں یا جمود میں مبتلا ذہنیت کی مزاحمت کا سامنا کرتی ہے، لیکن اللہ کے قانون کے مطابق زندہ خیال پرانے کمزور ڈھانچوں سے مضبوط ہوتا ہےاور جو قوم یا فرد ابتکار کی روح رکھتا ہے وہ طویل عرصے تک پسماندہ نہیں رہتا۔

دوسری طرف، جب کوئی قوم زوال کی طرف بڑھتی ہے تو ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ کوئی دشمن اچانک حملہ کر دے بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کہ بیرونی حملہ آئے اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی ہوتی ہے۔ تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ قومیں سب سے پہلے اندر سے ہارتی ہیں اور جب اجتماعی روح کمزور ہو جاتی ہے تو بیرونی زوال محض اس کا نتیجہ بن جاتا ہے۔ یہی حالت بابل کی تہذیب کی تھی جو اخلاقی اور انتظامی طور پر کمزور ہوگئی تھی اس سے پہلے کہ اس کی فوجی دیواریں گِر جائیں۔شمالی قبائل فتح کرنے سے پہلے رومی تہذیب کی بھی یہی حالت تھی جب عیش و فساد نے اسے تھکا دیا تھا۔ اندلس کی بھی یہی صورتحال تھی اس سے پہلے کہ بیرونی جنگیں اسے نگل لیں اس کی داخلی یکجہتی ٹوٹ گئی تھی۔ ان تمام مثالوں میں ایک ہی منظر بار بار دہرایا جاتا ہےکہ تبدیلی تب شروع ہوتی ہے جب قوم وہ چیزیں کھو دیتی ہے جن کی بنیاد پر وہ ترقی کرتی تھی اور جب اس کے اندر کے انسان اپنا مستقبل بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

قرآن اس زوال کو اس عمومی قانون سے جوڑتا ہے جو معاشروں کے انجام کو کنٹرول کرتا ہے:

(إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ) (سورہ رعد ۱۱)

اللہ کسی قوم کا حال یقینا اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کو برے حال سے دوچار کرنے کا ارادہ کر لے تو اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔

تبدیلی کا آغاز نفس سے ہوتا ہے اور یہ آخرکار حقیقت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر نفس کمزور یا سست ہو جائے تو سب کچھ رک جاتا ہے۔ جب لوگ اپنی ذمہ داری سے غافل ہو جائیں یا اپنے حقیقی وجود کا شعور کھو دیں، یا عیش و آرام اور جمود کے ہاتھوں پھنسنے لگیں تب سنتِ تبدیلی اپنا عمل شروع کر دیتی ہے۔ تبدیلی کسی انسانی سزا کی طرح نہیں بلکہ زندگی کے قدرتی دھارے میں ایک قدرتی تبدیلی ہے، جسے ایسے سمجھا جا سکتا ہے جیسے کسی ذمہ دار شخص کے بعد وہ شخص قیادت سنبھال لے جو اس کے لیے ضروری صفات اور صلاحیتیں رکھتا ہو۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تبدیلی کا مطلب ہمیشہ پچھلی تہذیب کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ عموماً اس کے اثرات اگلی تہذیب میں باقی رہتے ہیں۔ یونانی علوم مسلم دنیا میں منتقل ہوئے اور وہاں کی علمی بنیاد بن گئے، مسلمانوں کے علوم یورپ پہنچے اور وہاں کی جدید ترقی کی بنیاد بن گئے اور قدیم مشرق کی معلومات پوری انسانیت کا مشترکہ اثاثہ بن گئیں۔ اس طرح تبدیلی صرف قوموں کے درمیان اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ علم، اقدار اور تجربے کی منتقلی بھی ہے۔ یہ ایک تجدیدی عمل ہے جو قوموں کے درمیان کرداروں کی نئی تقسیم کرتا ہے، یہ مکمل خاتمے کی تحریک نہیں ہے۔

اس کے باوجود سوال باقی رہتا ہےکہ اگر مادی حالات یکساں ہیں تو بعض قومیں ترقی کیوں کرتی ہیں اور بعض پیچھے کیوں رہ جاتی ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ترقی صرف وسائل پر نہیں بلکہ روح پر بھی منحصر ہے۔ وہ قومیں جن میں ابتکار کی روح ہو، مضبوط اقدار ہوں اور اپنی تبدیلی کی صلاحیت پر یقین ہو، اپنی ترقی کا آغاز کر سکتی ہیں خواہ وہ غربت میں کیوں نہ ہوں۔ جبکہ وہ قومیں جو یہ روح کھو دیتی ہیں، آسانی سے گر جاتی ہیں چاہے دولت مند ہوں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کئی عظیم تہذیبیں اپنی معاشی یا فوجی طاقت کے عروج پر گر گئیں کیونکہ انہوں نے اپنی اندرونی روح کھو دی اور ساتھ ہی بقا کی صلاحیت بھی جاتی رہی۔

تبدیلی کی تاریخ کی بڑی علامات یہ ہیں کہ وہ قومیں جو اپنی بنیادی اقدار سے ہٹ جاتی ہیں، انصاف چھوڑ دیتی ہیں، ظلم میں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں یا اپنی توانائی اندرونی جھگڑوں میں ضائع کر دیتی ہیں، تہذیب کا پیغام اٹھانے کے قابل نہیں رہتیں اور ایسی صورت میں وہ قومیں جن میں بہتر استعداد ہو ان کی جگہ لے لیتی ہیں۔ یہ کوئی منفی یا غمگین نظریہ نہیں بلکہ ایک تعمیری قانون ہے جو قوموں کو ہمیشہ بہتری کی طرف حرکت دیتا ہے۔ تبدیلی کسی خاتمے کا نام نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہوتا ہے،یہ مکمل موت نہیں بلکہ ایک نئی مرحلے کی پیدائش ہے۔ یہ کائنات کے قدرتی چکروں کی طرح ہےکہ ایک موسم مرجھاتا ہے تاکہ اس کے بعد نیا موسم پھولے۔ ہر قوم اس کے لیے خود ذمہ دار ہے کہ وہ اس راستے میں کس مقام پر ہوگی: ترقی کرنے والی قوموں میں یا ان قوموں میں جو تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہیں۔

جدید دور میں ہم اس قانون کی واضح جھلکیاں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ طاقتیں جو ماضی میں محض نوآبادیاتی کالونی تھیں، آج عالمی معیشت میں سرِ فہرست ہیں اور وہ ممالک جو دنیا کے مرکز میں تھے، اندرونی خلفشار کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ وقت کی ناانصافی کی وجہ سے ہوتی ہے اور نہ قسمت کسی پر مہربان ہونے کی وجہ سے بلکہ اس لیے کہ ترقی کرنے والی قومیں اپنی اندرونی اقدار کو زندہ رکھنا جانتی ہیں اور تاریخ کے قوانین کے مطابق عمل کرتی ہیں جبکہ زوال پانے والی قومیں اپنی توانائی ضائع کرتی ہیں یا اپنے بقا کے اصولوں سے دستبردار ہو جاتی ہیں۔ اس طرح قوموں کی حرکت ایک مضبوط اور منظم نظام کا حصہ ہے جو کسی کے حق میں نہیں اور کسی کے مخالف بھی نہیں۔

آخر میں یہ کہ تبدیلی کی سنت کو سمجھنا قوم کو اپنی ذمہ داری کا گہرا شعور عطا کرتا ہے۔ یہ اسے سکھاتا ہے کہ ان کا مقام ہمیشہ قائم نہیں رہتا، ان کا مقدر کسی پتھر پر لکھا نہیں ہےاور ان کی بقا یا زوال کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ حال میں کیا انتخاب کرتے ہیں ؟نہ کہ اپنے ماضی پر تکیہ کیے رہتے ہیں۔ ہر قوم جو بقا چاہتی ہے، اسے اپنے اندر دیکھنا چاہیے قبل اس کے کہ باہر کی طرف نظر کرے، اپنی اصل ذمہ داری کو دوبارہ معلوم کرنا چاہیے قبل اس کے کہ اپنے منصوبوں کی بات کرے اور اپنے شہریوں کو پروان چڑھانا چاہیے قبل اس کے کہ اپنے شہر یا تمدن کی تعمیر کرے۔ مستقبل تحفے میں نہیں ملتا بلکہ اسے بنایا جاتا ہے اور وہ قومیں جو اپنا مستقبل نہیں بناتیں، انہیں ایسی قومیں بدل دیتی ہیں جو اسے بناتی ہیں۔

یوں قومیں ترقی کرتی ہیں اور دوسری پیچھے رہ جاتی ہیں یہ محض اتفاق یا عارضی سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایسے قوانین کے مطابق ہوتا ہے جو تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ قوانین ظاہر کرتے ہیں کہ تہذیبیں انسان کی طرح ہیں: پیدا ہوتی ہیں، بڑھتی ہیں، مستحکم ہوتی ہیں، پھر کمزور پڑتی ہیں تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے جگہ بن سکے۔ جو لوگ ان قوانین کو سمجھ لیتے ہیں ان کے پاس بقا کا موقع ہوتا ہے اور جو انہیں نظرانداز کرتے ہیں، وہ خود کو تاریخ کی حرکت سے باہر پاتے ہیں کیونکہ الٰہی قانون کبھی رکنے والا نہیں اور تبدیلی کا قانون قوموں کے ساتھ چلتا رہتا ہےیہ ایسا ہی رہے گا جب تک زمین پر زندگی ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018