

دینی فکر کا بحران۔ جب زندگی دینی تعلیمات سے دور ہو جائے
الشيخ معتصم السيد أحمد
آج کا مسلمان اندرونی طور پر ایک گہری کشمکش کا شکار ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ دین ایک ایسی ضرورت ہے جسے ترک نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ دینداری دل کے اطمینان اور کردار کی درستگی کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی وقت وہ خود کو ایک ایسے عالم میں بھٹکتا ہوا پاتا ہے جسے وہ پوری طرح سمجھ نہیں پاتا، اور اپنے آپ کو ایسی شناخت کے درمیان بٹا ہوا محسوس کرتا ہے جس سے وہ ہم آہنگ نہیں ہو پاتا۔ یہ تضاد نہ دین کی کمزوری کا نتیجہ ہے، نہ دینی نصوص کی ناکامی کا، اور نہ ہی محض جدیدیت کے غلبے سے پیدا ہوا ہے۔ اس کی اصل وجہ اس طریقۂ کار کی خرابی ہے جس کے ذریعے ہم دین کو سمجھتے ہیں، اس تصور میں بگاڑ ہے جو مسلمان ذہن نے خدا کے بارے میں قائم کر لیا ہے، اور اس طرزِ فکر میں مسئلہ ہے جس نے شریعت کو خدا تک پہنچنے کے راستے کے بجائے محض رسمی اور ظاہری اعمال کے ایک نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔یہیں سے اُس فکری بحران کی حقیقی کہانی کا آغاز ہوتا ہے جس میں آج کا مسلمان مبتلا ہے۔
قرآنی تعلیمات اپنی اصل میں انسان اور کائنات کے بارے میں ایک مکمل وژن رکھتی ہیں۔ ایسا وژن جس میں زندگی کا مرکز اللہ ہے، توحید شعور کی بنیاد ہے، شریعت نفس کی تربیت کا راستہ ہے اور عقیدہ ایک ایسا نور ہے جو فرد، معاشرے اور تہذیب کے رویّوں میں جھلکتا ہے۔ یہ وہی تعلیمات ہیں جو ہدایت کے لیے نازل ہوئی ہیں انہیں صدیوں کے دوران ایسے زاویوں سے پڑھا گیا جو اس کے اپنے نہیں تھے، ایسے طریقوں سے سمجھا گیا جو اس سے پیدا نہیں ہوئے تھے اور ایسے مسائل حل کے لیے پرکھا گیا جن کے لیے وہ نازل ہی نہیں ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ تعلیمات اور زندگی کے درمیان اور دین اور وجود کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو گیا یہاں تک کہ مسلمان اپنی زندگی کا مفہوم غیر ملکی فلسفوں، اپنی منزل دوسری تہذیبوں اور انسان کے بارے میں اپنا تصور مغربی نظریات میں تلاش کرنے لگا جبکہ اس کے شعور میں دین محض چند احکام، ذمہ داریوں اور رسمی عبادات کا مجموعہ بن کر رہ گیا۔
اس راستے میں پہلا بڑا انحراف اس وقت پیدا ہوا جب اللہ کی معرفت دل اور عملی زندگی میں زندہ حقیقت کی بجائے ایک مجرد اور ذہنی تصور بن کر رہ گئی۔ علمِ کلام نےعقیدے کے دفاع میں اپنی اہمیت کے باوجوداللہ کی معرفت کو زیادہ تر عقلی بحث، منطقی دلائل اور مناظرانہ انداز پر قائم کیا، اس قرآنی ہدایت پر اس کی بنیاد نہیں تھی جو دل میں اللہ کی حضوری، قربت اور کمال کی طرف رغبت پیدا کرتی ہے۔ نتیجتاً مسلمان اللہ کے وجود کو ایک نظری خیال کے طور پر تو جاننے لگا، مگر اللہ کے حضور کو ایک زندہ تجربے کے طور پر محسوس نہ کر سکا۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کائنات کا خالق ہے لیکن اپنی تکلیفوں، فیصلوں اور انجام میں اس کی قربت کو محسوس نہیں کرتا۔ وہ صفاتِ الٰہی کی آیات کو نظری طور پر جانتا ہے مگر اپنی عملی زندگی میں ان کے اثرات کو نہیں پہچانتا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ توحید دین کی بنیاد ہےلیکن یہ نہیں جان پاتا کہ یہی توحید کیسے ایک ایسی جامع نظر یہ بن سکتا ہے جو اسے دنیا کو سمجھنے کا شعور دے اور کمزوری و بکھراؤ کا مقابلہ کرنے کی طاقت عطا کرے۔
اسی وجہ سے شریعت کی روح ختم ہو گئی۔ اصل میں شریعت محض سخت قوانین نہیں بلکہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ، نفس کے تزکیہ کا پیغام اور انسان کی اخلاقی، روحانی اور وجودی تعمیر کا طریقہ ہے۔ جب خدا نہ رہا تو احکام کی روح بھی غائب ہو گئی اور صرف شرعی فرائض رہ گئے جو کبھی کبھار زندگی کے بغیر ادا کیے جاتے ہیں،عبادات اثرات کے بغیر کی جاتی ہیں اور مفاہیم جو بغیر گہرائی کے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ انسان نماز پڑھ سکتا ہے مگر محسوس نہ کرے کہ اس کی نماز اسے روحانی تنگی سے الہی نور کی وسعت تک لے جا رہی ہے، روزہ رکھ سکتا ہے مگر اس کے اندر کچھ بدلتا نہیں، حج کر سکتا ہے مگر یہ نہ محسوس کرے کہ مکّہ کا سفر اس کے اپنے باطن کی طرف بھی ہے۔ جب احکام اپنے مقاصد سے جدا ہو جائیں تو عبادت صرف دہرائی جاتی ہے، فقہ ایک تکنیک بن جاتی ہے اور دین صرف ایک عمل بن کر رہ جاتا ہےیہ بصیرت عطا نہیں کرتا۔
ایسے میں دینی تعلیمات بھی اپنی قوت کھو بیٹھتی ہیں۔ وہ تعلیمات جو نص اور انسان کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہیں یوں وقت کے ساتھ جدید عقل کو متاثر کرنے میں یہ تعلیمات ناکام ہو گئیں کیونکہ خود وہ اپنی روح اور اُس رہنمائی کو کھو چکی تھیں جو نص کو زندگی میں زندہ کرتی ہے۔ آج اکثر دینی بیان میں صرف ماضی کے علماء کے اقوال دہرایا جاتا ہے ان کے طریقۂ کار کو بھی نہیں سمجھا جاتا، ورثہ بغیر تنقید کے منتقل کیا جاتا ہے، نصوص کو سمجھ بوجھ کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ نئی مشکلات کو پرانی تکنیکوں سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔نسل نو سے ایسے بات کی جاتی ہے جیسے وہ بھی ابتدائی دور کے ہی لوگ ہوں۔آج کے انسان پر وجودی سوالات حملہ آور ہیں، جس پر تیز رفتار زندگی دباؤ ڈالتی ہے جو تکنیکی دنیا میں گھرا ہوا ہے، جسے شکوک و شبہات گھیرے ہوئے ہیں اور اپنی شناخت کے بارے میں تشویش ہے، اسے ایسے دینی بیان کی ضرورت ہے جو ایک جامع وژن رکھتا ہو نہ کہ صرف وعظ اور یاد دہانی پر اکتفا کرے۔
اسی طرح مسلمان نے خود کو ایک عجیب حالت میں پایا وہ قرآن پڑھتا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ قرآن کے ذریعے دنیا کو کیسے سمجھا جائے۔ وہ خطبے سنتا ہے لیکن وہ اس کے دل میں بصیرت پیدا نہیں کرتے۔ وہ دیندار ہوتا ہےلیکن بلند نہیں ہوتا۔ وہ اسلام پر عمل کرتا ہےمگر اسلام اس کے اندر زندہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی زندگی کا معنی پوچھتا ہےلیکناسے قائل کرنے والا جواب نہیں ملتا جو دل اور عقل دونوں کو روشنی دے۔ جب وہ وجود کے معنی تلاش کرتا ہے تو مغربی فلسفوں کی طرف جاتا ہے، جب وہ اپنی منزل ڈھونڈتا ہے تو دوسری تہذیبوں کے سامنے جھک جاتا ہے اور جب کامیابی چاہتا ہے تو ایسے تجربات کی تقلید کرتا ہے جو دین کے اس کے وژن سے جنم نہیں لیتے۔ اس دوران، اس کے شعور میں دین زندگی کے روزمرہ پہلوؤں سے الگ ہو جاتا ہے، نہ دنیا کو سمجھنے کا ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے نہ انسان کو رہنمائی دیتا ہے، نہ بڑے سوالات کے جواب دیتا ہے اور نہ اسے یقین، آزادی یا دقت عطا کرتا ہے۔
اصل بحران یہاں ہے کہ وہ دین جو زندگی کے لیے ایک وژن میں تبدیل نہ ہو، اپنی فطری اہمیت کھو دیتا ہے۔ دین محض چند تعلیمات نہیں، نہ ہی تھوڑے سے احکام ہیں اور نہ صرف نظری عقیدہ ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے، دین ایک جامع نقطۂ نظر ہے جو کائنات، انسان، تاریخ اور انجام کو سمجھاتا ہے، انسان کو معنی عطا کرتا ہے، اس کے کردار کو رہنمائی دیتا ہے، اس کی روح کو نکھارتا ہے، اس کے عقل کو روشن کرتا ہے اور اس کے دنیا کے ساتھ تعلق کو تشکیل دیتا ہے۔ جب یہ معانی نہ رہیں تو دین صرف ایک شناخت رہ جاتا ہے جو باہر سے عمل کرتی ہے وہ ہدایت نہیں جو دل و روح میں جیتی ہے۔
آج کا مسلمان صرف فقہ کی اصلاح دینی بیان کی تجدید یا شبہات کا رد نہیں چاہتا۔ اسے اصل میں ایک جامع وژن کی ضرورت ہے؛ ایک توحیدی قرآنی وژن جو انسان کا اللہ تعالی سے تعلق بحال کرے، نص کو حقیقت سے جوڑے، شریعت کو اس کے مقاصد سے جوڑے، اور دین کو زندگی کے ساتھ جوڑے۔ یہی وژن توحید کو قوتِ محرکہ بناتا ہے، شریعت کو ارتقاء کا راستہ، دینی بیان کو علم کا دروازہ، اخلاق کو ایمان کا فطری نتیجہ، دینداری کو ایک حقیقی روحانی تجربہ جو عملی زندگی سے جُڑا ہو اور صرف معاشرتی مظہر نہ ہو اوریہ تہذیب کو شعور کے نتیجے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
حل صرف بیان کی اصلاح یا نصاب کی تجدید سے نہیں نکلتا بلکہ اس سے نکلتا ہے کہ ہم اس طریقۂ کار کو دوبارہ قائم کریں جس کے ذریعے ہم خود دین کو سمجھتے ہیں۔ قرآن کوئی بند نص نہیں بلکہ ایک ایسا متن ہے جو اپنے اندر سے طریقۂ کار بناتا ہے، اپنی آیات میں سمجھنے کی کنجیاں دیتا ہے اور انسان کی بصیرت کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو وقت کی حدود سے ماورا ہے۔ اگر ہم اس طریقۂ کار کو دوبارہ حاصل کر لیں تو نص اپنی قوت واپس پا لے گی، دین اپنا اصل کردار حاصل کرے گا، انسان اپنی پہچان بحال کرے گا، معاشرہ اپنی روح واپس پائے گا اور تہذیب اپنی سمت دوبارہ حاصل کرے گی۔ آج کی ضرورت یہی ہے: صرف دینداری نہیں بلکہ دین کا نیا فہم؛ صرف تکرار نہیں بلکہ ایک ایسا مطالعہ جو وژن پیدا کرے؛ صرف بیان نہیں بلکہ ایک ایسا طریقۂ کار جو ہدایت کے دروازے کھولے۔
دینی وژن کی بحالی کوئی فکری مہم یا صرف نخبگان کا منصوبہ نہیں بلکہ ہر اُس انسان کے لیے ایک وجودی ضرورت ہے جو ایک مضطرب دنیا میں اپنے لیے معنی تلاش کر رہا ہے۔ اس عمل کے لیے واضح عملی راستوں کی ضرورت ہے، جن پر دینی ادارہ، طالب علم، دانشور اور عام مسلمان چل کر دین کو دوبارہ الہام اور تعمیر کی طاقت عطا کر سکتے ہیں۔
ان راستوں میں سب سے پہلا راستہ یہ ہے کہ براہِ راست قرآن کی طرف رجوع کیا جائے، اسے صرف ایک احکام کی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ وژن کے منبع کے طور پر دیکھا جائے۔ قرآن صرف فقہی حل نہیں دیتا بلکہ انسان کو اندر سے تعمیر کرتا ہے، اس کی دنیا کو دیکھنے کی نظر وضع کرتا ہے اور اس کے کائنات، انسان اور تاریخ کے ساتھ تعلق کو نئے سرے سے ترتیب دیتا ہے۔ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ قرآن کے اس تصوری ڈھانچے کی طرف واپس نہ آئے؛ وہ ڈھانچہ جو انسان کو خود آگاہی دیتا ہے، زندگی کی افادیت ظاہر کرتا ہے اور اسے اپنے وجود کو اللہ کی ارادہ کے تسلسل کے طور پر دیکھنے کی بصیرت عطا کرتا ہے۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ اللہ کو ان عقلی قیود سے آزاد کیا جائے علمِ کلام نے عائد کی ہیں اور اسے قرآنی تصور میں واپس لایا جائے۔ جب مسلمان محسوس کرے کہ اللہ محض کتابوں میں بحث کے لیے ایک خیال نہیں بلکہ ہر دل کی دھڑکن کے ساتھ موجود، ہر انتخاب کا حوالہ اور ہر قدر کا ماخذ ہے تو توحید ایک اندرونی طاقت بن جاتی ہے جو اخلاق، کردار اور شعور کو دوبارہ تشکیل دیتی ہے۔اللہ کی حضوری معرفت داخلی اصلاح کی پہلی کنجی ہےکیونکہ انسان اس وقت تک درست نہیں رہ سکتا جب تک وہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک نظری تعلق کی بجائے ایک وجودی تعلق کے طور پر نہ جئے۔
تیسرا راستہ شریعت کی روح کو زندہ کرنا ہے، صرف اس کے احکام سیکھنے تک محدود نہیں رہنا۔ قرآن میں شریعت انسان کو روکنے کے لیے قوانین نہیں بلکہ اسے تزکیۂ نفس کے راستے پر لے جانے کے لیے ہے۔ جب احکام کو ان کے مقاصد سے الگ پڑھایا جائے تو لوگ صرف یہ سیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہےلیکن یہ نہیں سیکھتے کہ کیوں کرنا ہے۔ آج کی دینی تعلیم میں ضروری ہے کہ قرآنی مقاصد کو مرکزیت دی جائے اور ہر حکم کو اس کے روحانی اور انسانی اثرات کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ دین صرف رسمی عمل نہ رہے بلکہ ایک ایسا کردار بن جائے جو دل کی گہرائی سے پیدا ہو اور اس کے اردگرد کی دنیا کو بہتر بنائے۔
چوتھا راستہ یہ ہے کہ دینی پیغام کو ایک علمی اور تحلیلی پیغام میں تبدیل کیا جائے جو حقیقت کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اب صرف لوگوں کو وہ باتیں یاد دلانا کافی نہیں جو پہلے سے معلوم ہیں، نہ ہی صرف ماضی کے علماء کے اقوال دہرانا؛ بلکہ ایک نیا پیغام ہونا چاہیے جو زندگی کی تبدیلیوں کو سمجھے، جدید علوم کو پڑھے، ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا مقابلہ کرے، نئی نسل کے وجودی سوالات کا حل پیش کرے، اور ایک ایسا وژن پیش کرے جو قرآن، عقل اور انسانی تجربے کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر دینی بیان جدید عقل سے مخاطب ہونے میں ناکام رہےتو انسان اپنا عقل دوسرے نظریات کے حوالے کر دیتا ہے۔
پانچواں راستہ یہ ہے کہ اخلاق کو دوبارہ اس کی اصل حیثیت دی جائےیعنی اخلاق کو دین کا بنیادی جوہر سمجھا جائے نہ کہ اس کی بعد کی پیداوار۔ ایسی دینداری جو رحم، عدل، صداقت اور عاجزی میں ظاہر نہ ہو ادھوری ہے چاہے اس کے تمام شعائر موجود ہوں۔ اخلاق دین کا اضافی پہلو نہیں بلکہ دل میں اللہ کی موجودگی کا عملی اظہار ہیں۔ ہر دینی اصلاح کا منصوبہ اگر اخلاق سے شروع نہ ہوتو چاہے اس کے نعروں کی بلندی کتنی بھی ہووہ گر جائے گا اور کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
چھٹا راستہ جو سب سے اہم راستوں میں سے ہےیہ ہے کہ ایک تہذیبی شعور قائم کیا جائے جو دین کو صرف ماضی کی یادداشت کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کی طاقت کے طور پر دیکھے۔ مسلمان اپنے دین پر اعتماد تب ہی واپس حاصل کرے گا جب وہ یہ دریافت کرے کہ اسلام علم، معیشت، انسان کے ماحول کے ساتھ تعلق، آزادی، عدل اور سماجی تعمیر کے لیے ایک وژن فراہم کر سکتا ہے۔ ایک تہذیبی وژن کے طور پر دین انسان کو معنی دیتا ہے، معاشرے کو توازن فراہم کرتا ہے اور دورِ حاضر کو رہنمائی کی سمت عطا کرتا ہے۔
ساتواں راستہ یہ ہے کہ شعور کو غیر اسلامی ثقافتی یلغاروں سے پاک کیا جائے جو اس پر غالب ہو چکی ہیں۔ جب مسلمان اپنے مقاصد مغربی فلسفے سے حاصل کرے، اپنے خواب مادّی نمونوں سے بنائے اور اپنی کامیابی کی بنیاد مارکیٹ کی قدروں پر رکھے تو اسے اپنی زندگی میں دین کا کوئی کردار نظر نہیں آئے گا۔ دین صرف اسی وقت رہنمائی کرنے والی طاقت بن سکتا ہے جب وہ محض رسومات کا ذریعہ نہ رہے بلکہ مقصد کا حقیقی ماخذ بن جائے۔
آخری راستہ یہ ہے کہ انسان کو اس کی اپنی ذات کی طرف واپس لایا جائےاور دین کو اس کی زندگی کے مرکز میں دوبارہ قائم کیا جائے۔ ہر اصلاح کا آغاز اندر سے ہوتا ہے: جب انسان محسوس کرے کہ اس کی زندگی ایک بڑے معنی کا حصہ ہے، اس کا وجود محض اتفاق نہیں اور ہر عمل جو وہ کرتا ہے اللہ تک پہنچنے کا ایک راستہ بن سکتا ہے تو اس کی کائنات کو دیکھنے کی نظر بدل جاتی ہے، اس کے اقدامات درست ہوتے ہیں اور دین صرف کرنے والی چیز نہیں رہتا بلکہ ایسا بن جاتا ہے جس کے ساتھ وہ زندگی جیتا ہے۔
اسی طرح گم شدہ وژن دوبارہ بحال ہو جاتا ہے۔ یہ نہ فکری لڑائیوں کے
ذریعے، نہ وعظ و نصیحت کے بیانات کے ذریعے، اور نہ معلومات کے جمع
کرنے سے بلکہ دین کو اس کی فطری جگہ پر واپس لانے کے ذریعے ممکن ہے۔
ایسی طاقت جو انسان کو تشکیل دے، شعور کو پیدا کرے، معنی قائم
کرےاور زندگی کی رہنمائی کرے۔


