

سید الشہداء امام حسینؑ پر جزع (غم و اندوہ کا اظہار) کی حدود
السيد علي العزام الحسيني
شرعی نصوص نے جزع (گریہ و زاری ، آہ و بکا) کو مکروہ قرار دیا ہے، لیکن صحیح اور معتبر روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سید الشہداء، امام حسینؑ پر جزع اس حکم سے مستثنیٰ ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپؑ پر گریہ اور جزع کرنا راجح اور مستحب عمل ہے۔ یہ بھی مسلم ہے کہ روایات میں ہر قسم کے جزع کو مکروہ قرار دیا گیا ہے، سوائے غمِ امام حسینؑ کے۔اور یہ حقیقت آج کے مؤمنین پر پوشیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ان روایات کو یہاں تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
البتہ اس موضوع پر دو پہلوؤں سے غور و فکر کیا جاتا ہے، اور دو واضح سوالات سامنے آتے ہیں:
پہلا سوال: مکروہ جزع(آہ و بکا) کا مفہوم کیا ہے، اور وہ جزع جو سید الشہداءؑ کے لیے مکروہ ہونے سے مستثنیٰ ہے، اس کا مفہوم کیا ہے؟ کیا یہ دونوں مفہوم کے اعتبار سے مختلف ہیں، یا دونوں کا معنی ایک ہی ہے اور فرق صرف حکم میں ہے، جو مصادیق اور مواقع کے اختلاف کی بنا پر پیدا ہوتا ہے؟
دوسرا سوال: کیا سید الشہداءؑ پر جزع مطلق ہے، یعنی ہر وہ عمل اس میں شامل ہے جو امام حسینؑ کے غم کے اظہار کے طور پر کیا جائے، چاہے اس عمل کی نوعیت کچھ بھی ہو؟ یا یہ حکم محدود اور مقید ہے؟ اور اگر یہ محدود ہے تو اس کی حدود اور قیود کیا ہیں؟ اس قید و تحدید کی دلیل کیا ہے، خاص طور پر جب کہ جزع کی مطلوبيت پر وارد نصوص بظاہر مطلق ہیں؟
شرعی نصوص میں (جزع) کا صرف ایک ہی مفہوم ہے، اور وہ وہی ہے جو لغت میں متعین اور استعمال ہے۔ یعنی شریعت نے "(جزع) کے لیے کوئی نیا مفہوم یا ایسی نئی حقیقت ایجاد نہیں کی جو عربوں میں رائج اس کے اصل مفہوم سے مختلف ہو۔ فنی اصطلاح میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ (جزع) ان موضوعاتِ مستنبطہ میں شامل نہیں ہے۔ یہ نہ تو ان "شرعی مخترعات" میں سے ہے جن کی حقیقت و ماہیت شریعت نے خود وضع اور ایجاد کی ہو، جیسے نماز، روزہ، حج، غسل اور طہارت وغیرہ؛ اور نہ ہی یہ ان "عرفی موضوعات" میں سے ہے جن کی اصل حقیقت میں شریعت نے کوئی ترمیم کر کے ان کے مفہوم میں شرائط یا قیود شامل کی ہوں، جیسے "وطن" اور "سفر" وغیرہ۔
یہ دونوں اقسام یعنی "شرعی مخترعات" اور "عرفی موضوعاتِ معدّل" مل کر "موضوعاتِ مستنبطہ" کہلاتی ہیں، کیونکہ شریعت نے ان کے مفہوم کی تشکیل میں یا تو ابتداءً کوئی نیا تصور پیدا کیا ہوتا ہے یا پھر ان کے اصل لغوی معنی میں تبدیلی کی ہوتی ہے، اور اس طرح ان کا مفہوم شریعت کے ہاں لغت کے اصل مفہوم سے مختلف ہو جاتا ہے۔ لیکن "(جزع) کا معاملہ اس سے برعکس ہے ۔ اس کا مطلب وہی ہے جو اصل زبان میں تھا، اور شریعت نے اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی۔
(جزع) ایک خالص لغوی موضوع ہے، نہ کہ "موضوعاتِ مستنبطہ" میں سے۔ شریعت میں اس کا استعمال اسی طرح ہے جیسے پانی، مٹی، صبر یا شراب جیسے الفاظ کا،یعنی یہ اپنے لغوی معنی میں ہی مراد لیا جاتا ہے اور اس کی پہچان محسوسات یا اس قاعدے سے کی جاتی ہے کہ چیزیں اپنے اُلٹ سے پہچانی جاتی ہیں۔
لغت میں جزع کا مطلب اس کے اُلٹ معنی سے سمجھا جاتا ہے، اور اس کا اُلٹ ہے "صبر"۔ صبر کا مطلب ہے مصیبت کے وقت اپنے آپ کو جزع کی حالت سے روکنا، جیسا کہ طریحی نے مجمع البحرین میں لکھا ہے۔ اس حساب سے جزع کا مطلب ہوا: صبر نہ کرنا، یا مصیبت کے وقت اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ پانا۔
مختصر اور واضح الفاظ میں، (جزع) کا مفہوم ہے: ہر وہ ظاہری عمل یا علامت جو غم کو ظاہر کرے۔ اور اسی معنی میں یہ لفظ شرعی نصوص اور ان احکام میں استعمال ہوا ہے جن کا اس سے تعلق ہے۔ یقیناً (جزع) اپنے اس مفہوم کے لحاظ سے ایک تدریجی دائرہ رکھتا ہے ،یا منطقی اصطلاح میں کہیں تو یہ "مفاہیمِ مشکّکہ" میں سے ہے، نہ کہ "مفاہیمِ متواطیہ" میں سے۔ یعنی اس کی شدت اور کمزوری کے مختلف درجے ہیں۔ یہ ہلکی ترین صورت سے شروع ہوتا ہے، جیسے چہرے پر افسردگی طاری ہونا یا صرف آنکھ سے آنسو نکل آنا، پھر بڑھتے ہوئے رونے، چیخنے، آہ و بکا کرنے اور سینہ کوبی تک جا پہنچتا ہے، اور آخرکار اس حد تک جا سکتا ہے کہ بدن کو نقصان پہنچے یا حتیٰ کہ جان بھی چلی جائے۔ یہ تمام شکلیں "(جزع) کے دائرے میں آتی ہیں، بشرطیکہ ان پر اس کی تعریف صادق آئے اور وہ حقیقت میں اس کا مصداق ہوں۔ یہ بھی واضح ہے کہ جزع کی یہ مختلف صورتیں اور لوگوں کے غم کے اظہار کے طریقے کئی عوامل کی وجہ سے بدلتے ہیں، جیسے ثقافت، تربیت، ماحول وغیرہ۔ اسی لیے جو چیز ایک قوم یا گروہ کے نزدیک "صبر" سمجھی جائے، وہی کسی دوسرے کے نزدیک "(جزع) کہلا سکتی ہے۔اور اس کا الٹ بھی درست ہے۔
جی ہاں، بعض روایات میں مکروہ جزع کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی چند درجے اور مثالیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ شیخ کلینیؒ نے اپنی سند کے ساتھ جابر سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے امام باقرؑ سے جزع کے بارے میں پوچھا۔ امامؑ نے فرمایا: سب سے شدید جزع(رنج و الم) یہ ہے کہ واویلا اور آہ و بکا کے ساتھ چیخنا چلّانا، چہرے اور سینے پر مارنا، اور پیشانی کے بال کاٹنا۔اور جو شخص نوحہ برپا کرے وہ صبر کو چھوڑ دیتا ہے اور غلط راستے پر چل پڑتا ہے۔ اور جو شخص صبر کرے، اِنّا لِلّٰہ و اِنّا اِلَیہِ راجِعون کہے اور اللہ کی حمد کرے، تو وہ اللہ کے فیصلے پر راضی ہوا، اور اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔اور جو ایسا نہ کرے، اس پر قضا نافذ ہو جائے گی اور وہ مذموم ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس کا اجر باطل کر دے گا۔ (الکافی، ج 3، باب الصبر والجزع، حدیث 1) یہ روایت مکروہ جزع کی چند عملی مثالوں کی نشاندہی کرتی ہے اور اس کے کچھ مصادیق کو واضح کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ مفہوم اُنہی لغوی حدود کے اندر رہتا ہے جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔
یہ تھا "(جزع) کے مفہوم کا خلاصہ۔ وہ مفہوم جو بعض صورتوں میں (جیسے غیر امام پر جزع) مکروہ قرار پایا، اور بعض صورتوں میں (جیسے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر جزع) مستحب ٹھہرا۔ اب جبکہ ہم نے اجمالی طور پر جزع کے مفہوم کو واضح کرلیا ہے، تو دوسرے نکتے کی طرف آتے ہیں۔ کیا سید الشہداءؑ پر جزع، جس کے لیے استحباب ثابت ہے، بالکل مطلق ہے یا اس میں کوئی قید ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب دونوں پہلوؤں سے دیا جا سکتا ہے۔
ایک پہلو سے دیکھا جائے تو مؤمن اپنے غم کو امام حسینؑ کے لیے جس بھی طریقے سے ظاہر کرے، وہ سب "سید الشہداءؑ پر (جزع) کے عنوان میں شامل ہے، اور شرعی نصوص کے اطلاق سے اس پر وہی مخصوص حکم (استحباب) ثابت ہوتا ہے۔ البتہ اگر کسی موقع پر یہ عمل اپنے عنوان سے بدل جائے اور غم یا جزع کے اظہار کے بجائے کسی اور عنوان میں داخل ہو جائے، تو حکم بھی بدل جائے گا۔
مثال کے طور پر، اگر امام حسینؑ پر کہی گئی کوئی مرثیہ ایسی دُھن میں پڑھی جائے جو اہلِ لہو و طرب کی مجالس کے لیے موزوں ہو، تو یہاں عنوان بدل جائے گا اور حکم استحباب سے حرمت میں منتقل ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء کے مطابق احکام کا دار و مدار عنوانات کے وجود یا عدم پر ہوتا ہے۔
لہٰذا اصل حکم یعنی استحباب اس عنوانِ وصف کے ساتھ مطلق ہے: "امام حسینؑ پر غم اور جزع کا اظہار"۔ اور یہ حکم صرف اس وقت محدود ہوتا ہے جب اس پر کسی ثانوی حکم (یعنی شرعی طور پر مقدم اور غالب حکم) کی دلیل آجائے، جیسا کہ یہ تمام اسلامی احکام میں ہوتا ہے۔ یہ بات ذرا وضاحت چاہتی ہے۔
کہ تمام شرعی احکام بلا استثناء "عناوینِ ثانویہ" کے تحت محدود اور مشروط ہوتے ہیں، جیسے: ضرر، عسر و حرج، اضطرار، اکراہ، تقیہ اور دیگر عنوانات۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عنوانات دراصل شریعت کے بنیادی اصول اور اعلیٰ قوانین ہیں، جن میں سے ہر ایک ایک بڑے اصول اور قانون کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور یہ اصول ہر حال میں نافذ ہوتے ہیں۔
ایک مثال سے اس بات کو مزید واضح کرتے ہیں ۔ کہ شراب نوشی کی حرمت اسلام میں ایک قطعی اور واضح شرعی حکم ہے۔ اس کی حرمت کا ثبوت قرآن اور دیگر قطعی دلائل میں صراحت کے ساتھ آیا ہے، اور یہ حرمت بالکل مطلق ہے۔ یعنی اپنے اصل اطلاق میں یہ ہر حالت کو شامل کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر شراب پینا کسی شخص کو ہلاکت یا موت سے بچانے کا ذریعہ ہو، تو بھی ظاہری طور پر اس حکم کا اطلاق وہاں ہوگا۔ لیکن ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ حرمت (مضطر یعنی حالتِ مجبوری) پر لاگو نہیں ہوتی۔ اب اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے: جب شراب کی حرمت پر دلالت کرنے والے دلائل میں یہ قید نہ تو صراحت کے ساتھ آئی ہے اور نہ ہی اشارے سے، تو پھر ہم نے یہ قید کہاں سے لی؟
ہم نے یہ قید قرآن و سنت میں وارد ان دلائل سے لی ہے جو ضرر، عسر و حرج، اضطرار اور اس جیسی دوسری حالتوں کی نفی پر دلالت کرتے ہیں۔ گویا شریعت سے جو بھی حکم (وجوب یا حرمت ) ہمیں ملتا ہے، وہ اپنے اندر یہ قید رکھتا ہے چاہے اسے ہر حکم کے ساتھ صراحتاً ذکر نہ کیا گیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شرعی حکم کا حقیقی جملہ یوں سمجھا جائے کہ شراب پینا حرام ہے سوائے اس کے جو پینے پر مجبور ہو۔ مردار کھانا حرام ہے، مگر یہ کہ اس کے کھانے میں جان بچانے کا پہلو ہو، تو اس صورت میں یہ حرام نہیں۔ اسی طرح روزہ رکھنا واجب ہے، مگر یہ کہ اس سے ضرر ہو، تو واجب نہیں۔ حج واجب ہے بشرطیکہ اس میں کوئی ضرر نہ ہو۔ اسی طرح امر بالمعروف واجب ہے جب ضرر کا خوف نہ ہو، وغیرہ۔
بالکل اسی طرح امام حسینؑ پر غم اور جزع کے اظہار کا بھی معاملہ یہی ہے۔ احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس کا حکم استحباب ہے، اور یہ استحباب ہر اس عمل پر لاگو ہوتا ہے جو "غم اور جزع کے اظہار" کے عنوان پر صادق آئے۔ البتہ اگر اس پر کوئی عنوانِ ثانوی عارض ہو جائے تو حکم بدل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر : یہ عمل واجب ہو سکتا ہے، جیسے کسی نے نذر یا شرعی قسم کھائی ہو کہ وہ مجلسِ عزاداری قائم کرے۔ اسی طرح یہ عمل حرام بھی ہو سکتا ہے، اگر وہ مجلس یا جزع کا کوئی طریقہ کسی شرعی ضرر کا باعث بنے۔
جو کچھ اوپر بیان ہوا اس کی روشنی میں ہم آسانی سے یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ اس موضوع پر جب بڑے علماء استفتاء کے جوابات دیتے ہیں تو ان کے پس منظر میں کیا اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی پوچھے کہ امام حسینؑ کے غم میں سینہ کوبی کا کیا حکم ہے، تو بعض علماء یوں جواب دیتے ہیں کہ یہ عمل اگرچہ شدید ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ یہ جزع کے عنوان میں آتا ہے اور معتبر روایات نے اس عنوان کو راجح (پسندیدہ) قرار دیا ہے، اس لیے یہ مستحب شعائر میں شمار ہوگا۔ چاہے بعض اوقات اس سے خون نکل آئے یا سینہ نیلا پڑ جائے۔ اس بات پر کوئی شرعی دلیل نہیں کہ ہر جسمانی ضرر حرام ہو، جب تک کہ وہ نفس پر ایسا حملہ نہ بن جائے جو ظلم شمار ہو۔ "اسی طرح یہ سوال کہ عزاداری کا طریقہ مہذب ہے یا نہیں، شرعی طور پر حرمت یا جواز کا معیار نہیں، اور نہ ہی یہ بات شرعی استدلال میں کوئی حیثیت رکھتی ہے۔ (مآخذ: الأنوار الإلهية في المسائل العقائدية، ص 195)
خلاصۂ کلام یہ ہے: فقہی اصولوں کی روشنی میں، سید الشہداء امام حسیں علیہ السلام پر جزع (رنج و الم) کے عنوان میں آنے والا ہر عمل مطلق طور پر مستحب ہے، اور اس کو محدود یا مقید صرف وہی شرعی حدود اور ضوابط کر سکتے ہیں جو نصوصِ شریعت میں بیان ہوئے ہیں۔