7 ربيع الاول 1447 هـ   31 اگست 2025 عيسوى 10:33 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2025-08-14   64

ایک فقہی حکم جو دل کا نوحہ ہے

السيد علي العزام الحسيني

قدیم فقہاء نے یومِ عاشوراء کے روزے کے استحباب کا فتویٰ دیا ہے ۔مگر یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان فقہاء (رضوان اللہ علیہم) کے نزدیک روزے سے مراد  فقہی روزہ نہیں بلکہ "امساک" ہے، جیسا کہ بعض بزرگ علماء مثلاً شہید ثانیؒ نے وضاحت کی۔ یہاں تک کہ آج کے معاصر فقہاء صاف طور پر "صوم" اور "امساک" کے درمیان فرق کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مستحب "روزہ" نہیں بلکہ "امساک" ہے، جو عصر سے پہلے ختم ہو جاتا ہے۔

سید ابوالقاسم خوئیؒ فرماتے ہیں کہ اگر (یومِ عاشوراء کا روزہ) غروب تک لے جائے تو یہ مکروہ ہے، لیکن مستحب یہ ہے کہ عصر کے وقت، غروب سے پہلے افطار کرے۔ (صراط النجاة، سوال 409)۔ اسی طرح آیت اللہ سید علی سیستانی (دام ظلہ) بھی یہ تصریح کرتے ہیں کہ عاشوراء کے روزے کا ثواب اس امساک میں ہے جو غم کی حالت میں عصر کی نماز کے بعد تک ہو، اور پھر اس وقت پانی کی ایک گھونٹ سے افطار کیا جائے۔

ایسا روزہ شرعی معنی میں "صوم" نہیں کہلا سکتا، بلکہ یہ اس کے تحت آتا ہے جسے "صومِ تأدیب" کہا جاتا ہے، یعنی دن کے کچھ حصے میں کھانے پینے سے رکنا، روزہ داروں کی مشابہت میں اسے صوم یا روزہ کہا جاتا ہے جبکہ وہ روزہ نہیں ہے

صومِ تأدیب سات مواقع پر ثابت ہے:

1- مسافر جب اپنے گھر لوٹے حالانکہ دن میں کھا چکا ہو،

2- مریض جب دن میں صحت یاب ہو،

3-حائضہ اور نفساء جب دن میں پاک ہو جائیں،

4-کافر جب دن میں اسلام لے آئے،

5- بچہ جب دن میں بالغ ہو،

6- دیوانہ جب دن میں ہوش میں آ جائے۔

7- اور اسی طرح بیہوش شخص کا دن کے وقت ہوش میں آنا۔

اس اعتبار سے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یومِ عاشوراء کا روزہ بھی اسی قبیل سے ہے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:

"اسے بغیر نیت کے رکھو، اور افطار بھی بغیر خوشی کے کرو، اور اسے مکمل روزہ نہ بناؤ، اور افطار عصر کے ایک گھنٹے بعد پانی کی ایک گھونٹ سے کرو" (مفاتیح الشرائع، ج1، ص 284)

جو شخص اس فرمان پر غور کرے، اور اسے رسول اللہ ﷺ کے اس قول کے ساتھ ملا کر دیکھے کہ "جس نے نیت نہیں باندھی، اس کا روزہ نہیں"، اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ مشروع روزہ غروبِ آفتاب کے بعد ہی افطار ہوتا ہے، تو سمجھ جائے گا کہ امام صادقؑ نے نہایت لطیف اور فصیح انداز میں اس روزے کے بطلان کو بیان فرمایا۔ یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ عامر شعبی نے اس شخص کو جواب دیا جس نے پوچھا: "بُنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟" تو اس نے کہا: "جائز ہے، مگر بغیر وضو کے"۔ (وقایة الأذهان للصفہانی، ص 382)۔

پس خلاصہ یہ ہے کہ یومِ عاشوراء غروب سے پہلے تک امساک شرعی طور پر مستحب ہے، بطورِ غم سید الشہداءؑ۔ مگر اس حکم میں ایک ایسی چبھن چھپی ہوئی ہے جو دل کو زخمی کرتی ہے، اور اس کے پیچھے ایک ایسا غم ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ اس وقت واضح ہوگا جب ہم اس حکم کی وجہ اور حکمت کو جانیں گے۔

یہی حکمت اس روایت میں صراحت سے بیان ہوئی ہے، جس پر فقہاء نے فتویٰ دیا اور عمل کیا۔ یہ روایت عبداللہ بن سنان سے منقول ہے کہ وہ کہتے ہیں: "میں عاشوراء کے دن امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کا چہرہ غمگین ہے، غم کا اثر نمایاں ہے، اور آپ کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح بہہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا، یا ابن رسول اللہ! اللہ آپ کی آنکھوں کو کبھی نہ رلائے، کس وجہ سے یہ گریہ ہے؟ آپؑ نے فرمایا: کیا تم غفلت میں ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حسین بن علی علیہما السلام آج ہی کے دن شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا، مولا! اس دن کے روزے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

آپؑ نے فرمایا: اسے بغیر نیت کے رکھو، اور افطار بھی بغیر خوشی کے کرو، اور اسے مکمل روزہ نہ بناؤ، اور افطار عصر کے ایک گھنٹے بعد پانی کی ایک گھونٹ سے کرو؛ کیونکہ اسی وقت اس دن آلِ رسولؐ سے جنگ کا خاتمہ ہوا، اور ان پر سے معرکہ ہٹ گیا، اور زمین پر ان کے تیس ساتھی ان کے ساتھ شہید ہو چکے تھے، جن کا قتل رسول اللہ ﷺ پر نہایت شاق تھا، اور اگر رسول خدا اس وقت زندہ ہوتے تو خود ان کے غم میں تعزیت قبول کرتے۔ راوی کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام اتنا روئے کہ آپؑ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ (مصباح المتهجد، ص 782)۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018