7 ربيع الاول 1447 هـ   31 اگست 2025 عيسوى 10:31 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2025-08-14   69

عارفًا بحقّه (ان کے حق کو پہچانتے ہوئے)۔

السيد علي العزام الحسيني

زیارت امام  حسین علیہ السلام کے ثواب میں معرفت امام کی شرط۔

امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے ثواب سے متعلق اکثر احادیث میں "عارفًا بحقّه" (یعنی امام کے حق کو پہچانتے ہوئے) کی شرط پائی جاتی ہے۔ یہ جملہ قدیم ترین اور معتبر ترین حدیثی ماخذ میں بھی موجود ہے۔ حتیٰ کہ جلیل القدر عالم دین ابن قولویہ قمیؒ (وفات 368ھ) نے اپنی کتاب کامل الزیارات میں اسے ایک باب کے عنوان کا حصہ بنایا ہے"ثواب من زار الحسین (ع) عارفًا بحقّه"(اس شخص کا ثواب جو امام حسین علیہ السلام کی زیارت ان کے حق کو پہچانتے ہوئے کرے)۔اس کے علاوہ شیخ صدوقؒ (وفات 381ھ) نے اپنی کتاب ثواب الأعمال میں، اور اس سے پہلے کلینیؒ (وفات 329ھ) نے الکافی میں اسے روایت کیا ہے۔

یہ شرط، اگرچہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے متعلق احادیث میں کثرت سے آئی ہے، لیکن یہ صرف انہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ یہ دوسرے ائمہؑ کی زیارت سے متعلق روایات میں بھی مذکور ہے۔ مثلاً امیرالمؤمنین علیہ السلام اور اسی طرح امام رضا علیہ السلام کی زیارت میں بھی آیا ہے کہ: جو ان کی زیارت کرے اور ان کے حق کو پہچانتے ہوئے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں جو قید (عارفا بحقہ) بیان ہوئی ہے، وہ وضاحتی قید کی قسم سے نہیں ہے جسے حذف کرکے بھی کلام اپنا معنی صحیح طور پر دیتا ہے، بلکہ یہ احترازی قید کی قسم سے ہے جس کا حکم اور نتیجہ مرتب ہونے میں حقیقی دخل ہے۔ یہاں قید کے احترازی ہونے کے اصولی قاعدے کے علاوہـ یہ بات بھی تائید کرتی ہے کہ روایات میں یہ شرط بہت کثرت سے اور مختلف طریقوں سے تاکیدی انداز میں آئی ہے۔ ان میں سے ایک اسلوب شرطیہ ہے، جیسا کہ امامؑ کا فرمان ہے: (ما يثاب به زائر الحسين، إذا عرف بحقه وحرمته وولايته أن يغفر له.)  زائرِ حسین کو جو ثواب ملتا ہے، وہ اس صورت میں ہے کہ وہ ان کے حق، حرمت اور ولایت کو پہچانتا ہو، تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔۔(الکافی، ج۴، ص۵۸۲)۔

یہاں پر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ "عارفًا بحقّه" والی قید سے مراد کیا ہے اس کو واضح کیا جائے۔ یہاں "معرفت" سے کیا مطلب ہے؟ امام کا وہ کون سا "حق" ہے جسے زائر کو پہچاننا ضروری ہے؟ پھر یہ کیوں نہیں فرمایا گیا کہ "عالمًا" کیوں "عارفًا" کہا گیا؟ اور یہ معرفت امام کے حق سے کیوں جوڑ دی گئی ہے، ذات امام کی معرفت سے کیوں نہیں؟ کیا کوئی ایسا شخص جو ظاہر میں اہلِ بیتؑ کی محبت کا دعویدار ہو مگر واجبات ادا نہ کرتا ہو، محرمات کا لحاظ نہ رکھتا ہو، اور بس آکر امام کی قبر پر زیارت پڑھ لے۔ کیا وہ بھی ان روایات میں مذکور گناہوں کی بخشش اور بغیر حساب جنت میں داخل ہونے کے وعدے میں شامل ہو سکتا ہے؟

اگرچہ بعض روایات میں اس عبارت کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ (أن يعلم الزائر أنّ المزور إمام مفترض الطاعة)

زائر کو یہ علم ہو کہ جس کی زیارت کر رہا ہے وہ امام مفترض الطاعة ہے (امالی شیخ صدوق، ص 121) یا یہ کہ (أنّه حجة الله على خلقه وبابه الذي يؤتى منہ) وہ خدا کی اپنے بندوں پر حجت ہے اور وہ خدا کا وہ دروازہ ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے جس پرآنا ضروری ہے (الکافی، ج۴، ص584)

تاہم یہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ روایات اس مسئلے کے سب سے اہم پہلو کو واضح کرتی ہیں، یعنی اہلِ بیتؑ کی امامت پر ایمان۔ یہی ایمان معرفت کی بنیادی شرط اور اس کا مضبوط سہارا ہے۔ بغیر علم اور یقین کے درست معرفت ممکن نہیں، جیسا کہ آگے وضاحت آئے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس مسئلے کے تمام دلائل اور پہلو ایک ساتھ دیکھے جائیں تاکہ مقصد پوری طرح واضح ہو سکے۔ عام دلائل سے ہٹ کر جو اصولِ عقائد اور قواعدِ علمِ کلام کے تحت یہ بتاتے ہیں کہ ایمان دراصل زبان سے اقرار، دل سے یقین، اور عقل سے معرفت حاصل کرنے کا نام ہے، یا یہ کہ ایمان دل کا تصدیق کرنا، زبان کا اقرارکرنا، اور اعضاء کا عمل کرنا ہے۔اور اس بات سے بھی قطع نظر کہ یہ مذکورہ تشریح قرآنِ کریم کی روح سے ہم آہنگ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف متقین کے عمل کو قبول فرماتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس دو خاص دلائل ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عملی التزام (عملی پیروی) اس شرط میں دخیل اور مؤثر ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امام کے حق کی معرفت سے مراد صرف نسبت رکھنا یا ان کی امامت پر عقیدہ رکھنا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ان کی عملی اطاعت اور عملی پیروی بھی شامل ہے، تاکہ ولایت کے اقرار کا حق ادا ہو اور ان کی اقتداء سے وفا ہواور یہ ہر شخص کی اپنی حیثیت اور درجے کے مطابق ہے۔

یہاں دو نکتے قابل توجہ ہیں :

پہلا نکتہ: ایک وجدانی دلیل ہے جو عبارت میں آنے والے لفظ "معرفت" کے تجزیے پر مبنی ہے۔ اگرچہ "معرفت" اور "علم" کے درمیان ایک قسم کا اشتراک اور تداخل ہے، لیکن "معرفت" نہ تو "علم" کا مترادف ہے اور نہ ہی اس کے ہم معنی۔ بلکہ یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں، جن کی بنیاد اور مفہوم دونوں مختلف ہیں، اور یہ دو جداگانہ تصورات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان دونوں کے فرق پر مفصل کتابوں میں بحث کی گئی ہے، یہاں ہم اس تفصیل میں نہیں جائیں گے، صرف ایک بنیادی اور مرکزی فرق کی طرف اشارہ کریں گے۔

"معرفت" وہ علم ہے جس پر عمل بھی کیا جائے۔ یعنی ایسا علم جس کا حامل اس کا لحاظ رکھے، اس پر عمل کرے، اس کے تقاضے پورا کرے، اور اس کے مطابق نتیجہ مرتب کرے۔ دوسرے لفظوں میں علم اور معرفت کے درمیان منطقی نسبت مساوات کی نہیں ہے (جیسا کہ انسان اور ناطق کے درمیان ہے) بلکہ یہ عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے (جیسا کہ انسان اور جسم کے درمیان ہے)۔ علم، معرفت سےعام ہے، اور معرفت، علم سے خاص ۔ لہٰذا، جو شخص معرفت رکھتا ہے، وہ لازماً علم بھی رکھتا ہے، لیکن ہر صاحبِ علم، صاحبِ معرفت نہیں ہوتا۔

اسی بنیاد پر عمل، معرفت سے کبھی جدا نہیں ہوسکتا، کیونکہ عمل اس کا اندرونی جز اور اس کا بنیادی رکن ہے۔ اس لیے معرفت اور عمل میں جدائی ممکن نہیں، جب کہ علم اور عمل میں جدائی ممکن ہے۔ اسی لیے بہت سی روایات میں ہمیں "عالم" کے بارے میں آتا ہے کہ کوئی اپنے علم پر عمل کرتا ہے اور کوئی اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، جبکہ "عارف" کے بارے میں یہ جدائی نہیں ملتی، کیونکہ عمل، معرفت کی ذاتی صفت یا اس کا لازمی نتیجہ ہے جو اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے بعض روایات میں معرفت کا انحصار عمل پر قرار دیا گیا ہے۔

چنانچہ شیخ صدوقؒ نے سند کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

(لا يقبل الله عز وجل عملًا إلا بمعرفة، ولا معرفة إلا بعمل)

"اللہ عزوجل کسی عمل کو قبول نہیں کرتا مگر معرفت کے ساتھ، اور کوئی معرفت نہیں مگر عمل کے ساتھ" (الأمالی، ص 422)

دوسرا نکتہ : اور یہ ایک روائی دلیل ہے، جو براہِ راست ہمارے زیرِ بحث موضوع سے جڑی ہوئی ہے۔ ابنِ قولویہؒ نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

(من زار الحسين(عليه السلام) عارفًا بحقه يأتمّ به؛ غفر الله له ما تقدّم من ذنبه وما تأخر.)

"جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے، ان کے حق کو پہچانتے ہوئے، اور ان کی اقتداء کرے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے اور آئندہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے" (کامل الزیارات، ص 264)

اس روایت میں اصل نکتہ اور اس کا جوہر لفظ "یأتمّ به" (ان کی اقتداء کرے) پر مرکوز ہے، جو فوراً عبارت "عارفًا بحقّه" کے بعد آیا ہے، بغیر کسی حرفِ عطف یا دوسرے فاصلے کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ "یأتمّ به" دراصل "عارفًا بحقّه" کی وضاحت کرنے والا جملہ ہے، اور اس سے مقصود کو کھول کر بیان کرتی ہے۔ یہ بات بھی مخفی نہیں کہ "یأتمّ به" کا ظاہری مفہوم عملی پیروی اور اتباع ہے، اس کے علاوہ قلبی اعتقاد بھی اس میں شامل ہے۔

لہٰذا، "عارفًا بحقّه" ایسی شرط کو بنیاد فراہم کرتی ہے جو عقیدے کے بعد عملی پیروی اور اتباع پر قائم ہو، چاہے اس کا کم سے کم درجہ ہی کیوں نہ ہو۔ محض علم یا صرف عقیدہ، زیارت کے قبول ہونے اور ان عظیم اثرات، بلند درجات اور اعلیٰ مقامات کے حاصل ہونے کے لیے کافی نہیں، جن کا وعدہ روایات میں زائر کے لیے کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ابنِ قولویہؒ نے امام علی رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: (من زار الحسين بن علي(عليه السلام) عارفا بحقه كان من محدّثي الله فوق عرشه)

"جو شخص حسین بن علی علیہما السلام کی زیارت کرے اور ان کے حق کو پہچانے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے اوپر اس سے ہمکلام ہونے والوں میں سے ہوگا"۔

پھر امام رضا علیہ السلام نے اس بات پر قرآنِ کریم کی آیت سے استشہاد فرمایا: (إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَ نَهَرٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ)

اہل تقویٰ یقینا جنتوں اور نہروں میں ہوں گے، سچی عزت کے مقام پر صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں"  (کامل الزیارات، ص 141)۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018