7 ربيع الاول 1447 هـ   31 اگست 2025 عيسوى 10:26 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2025-08-13   166

عزاداریِ امام حسینؑ کے چار روشن اور مستند حقائق

السید علی العزام الحسینی

یہاں بلا کسی تمہید یا طولِ کلام کے، چار مسلمہ اور قطعی حقائق پیش کیے جا رہے ہیں جو اہلِ سنت کے معتبر منابع میں صحیح اسناد اور واضح الفاظ کے ساتھ ثابت ہیں۔ یہ حقائق سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام پر رونے اور عزاداری کی عظیم فضیلت سے متعلق ہیں۔ یہ روایات واضح کرتی ہیں کہ اہلِ بیتِ نبیؐ کے مصائب پر اشک بہانا محض قلبی جذبہ نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت اور قربِ الٰہی حاصل کرنے کا اہم وسیلہ بھی ہے

پہلی حقیقت:

جو شخص اہلِ بیتؑ کے غم میں آنسو کے چند قطرے بہا دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت لازم قرار دیتا ہے۔

یہ روایت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی معروف اور مستند کتاب فضائل الصحابة میں نقل کی ہے، جو نہایت معتبر سند اور واضح الفاظ کے ساتھ ثابت ہے۔ اس میں یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کہ اگر کسی مومن کا دل اہلِ بیتؑ کے غم سے اس قدر متاثر ہو کہ آنکھوں سے چند آنسو بہہ نکلیں، تو یہ عمل عند اللہ اتنی عظیم قدر و قیمت رکھتا ہے کہ اس کے بدلے میں جنت کا وعدہ یقینی ہو جاتا ہے۔ (فضائل الصحابة، جلد۲، صفحه 675، حدیث 1154، مؤسسة الرسالة، بیروت، طبع اول، 1403ھ/1983ء، تحقیق: ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس۔)

دوسری حقیقت:

امام حسینؑ کے غم میں نبی کریم ﷺ کا سر اور محاسن کو خاک آلود کرنا۔

حاکم نیشاپوری نے اپنی مستند حدیثی تصنیف المستدرک علی الصحیحین میں حضرت سلمیٰؓ کی روایت نقل کی ہے، جس میں وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ اُمِّ سلمہؓ کے پاس گئیں اور دیکھا کہ وہ گریہ کناں ہیں۔ دریافت کرنے پر اُمِّ سلمہؓ نے فرمایا: "میں نے خواب میں رسولِ اکرم ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ اشکبار تھے اور آپ کے سر و محاسن مبارک خاک آلود تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ! یہ کیا کیفیت ہے؟" تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: " میں نے ابھی ابھی حسینؑ کے قتل کا منظر دیکھا ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، جلد ۴، صفحہ 20، حدیث 6764، دار الکتب العلمية، بیروت، طبع اول، 1411ھ/1990ء، تحقیق: مصطفی عبد القادر عطا۔)

تیسری حقیقت:

سیدالشہداءؑ پر رسولِ اکرم ﷺ کا گریہ و نشیج

حضرت اُمِّ سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ ایک دن رسولِ اکرم ﷺ میرے حجرے میں تشریف فرما تھے اور فرمایا:میرے پاس کوئی داخل نہ ہو۔میں انتظار میں تھی کہ اسی دوران امام حسینؑ اندر تشریف لے آئے۔ میں نے رسولِ اکرم ﷺ کے رونے کی ہلکی مگر گہری آواز سنی۔ جب میں نے دیکھا تو امام حسینؑ آپؐ کی آغوشِ مبارک میں تھے اور آپؐ نہایت محبت سے ان کے رخسار و پیشانی پر دستِ شفقت پھیر رہے تھے، جبکہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے خبر نہ ہوئی کہ حسینؑ کب اندر آ گئے۔آپؐ نے فرمایا:جبرائیلؑ میرے ساتھ اس کمرے میں موجود تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا آپ اسے (حسینؑ کو) محبوب رکھتے ہیں؟ میں نے کہا بے شک۔ جبرائیلؑ نے کہا:آپ کی امت اس فرزند کو ایک ایسی سرزمین پر شہید کرے گی جسے کربلا کہا جاتا ہے۔پھر جبرائیلؑ نے اس سرزمین کی مٹی اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کو دی، اور آپؐ نے وہ مٹی مجھے دکھائی۔

جب کربلا میں امام حسینؑ کو محاصرہ میں لے لیا گیا اور شہید کر دیا گیا، تو آپؐ نے فرمایا:"اس زمین کا نام کیا ہے؟" لوگوں نے جواب دیا "کربلا۔ " آپؐ نے فرمایا:"اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ یہ کرب و بلا کی سرزمین ہے۔"

حوالہ:(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ج 9 ص189 للهيثمي (المتوفى: 807هـ)، حديث رقم: (15116)، مكتبة القدسي- القاهرة، سنة النشر: 1414 هـ، 1994 م، تحقيق: حسام الدين القدسي، وأعقبه الهيثمي بالقول: اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: "رسولِ اللہ ﷺ نے سچ فرمایا؛ یہ زمین غم و آزمائش کی سرزمین ہے" ( اسے امام طبرانی نے متعدد اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے، جن میں سے ایک سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)

چوتھی حقیقت:

کائناتی نشانیاں اور زمین، آسمان و جنات کا گریہ

امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس سانحۂ عظیم کے بارے میں پانچ معتبر آثار نقل کیے ہیں، جو حضرت امام حسینؑ کی شہادت کے وقت ظاہر ہونے والی غیر معمولی کائناتی اور ماورائی کیفیات کو بیان کرتے ہیں:

1-امام زہری فرماتے ہیں: بیت المقدس میں کوئی کنکر یا پتھر اُٹھایا نہ گیا مگر اس کے نیچے تازہ خون پایا گیا۔

2- امام زہری ہی کی ایک اور روایت ہے کہ شام میں جس روز امام حسینؑ شہید ہوئے، اُس دن ہر اُٹھائے جانے والے پتھر کے نیچے تازہ خون تھا۔

3- ام حکیم بیان کرتی ہیں: جب امام حسینؑ کو شہید کیا گیا، میں اس وقت ایک کم سن لڑکی تھی۔ اُس دن کے بعد کئی روز تک آسمان کا رنگ جما ہوا خون (علقمہ) جیسا دکھائی دیتا رہا۔

4- ابو قبِیل کہتے ہیں: امام حسینؑ کی شہادت کے وقت سورج گرہن کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ دوپہر کے وقت آسمان پر ستارے نظر آنے لگے، حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ قیامت قائم ہو گئی ہے۔

5- ام سلمہ اور میمونہ دونوں کا بیان ہے: ہم نے جنات کو امام حسینؑ کی شہادت پر نوحہ و ماتم کرتے سنا۔ حوالہ: ( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ج9ص196، حديث رقم: 15159 وما بعده. )

 

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018