

آج میرے نانا رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہم سے جدا ہوئے
السيد علي العزام الحسيني
عاشورا کے دن یعنی دسویں محرم کو جب امام حسین (علیہ السلام) کو شہید کر دیے گئے، تو اُن کی ہمشیرہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے فرمایا: "آج میرے نانا رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) رحلت فرما گئے"۔ علمائے اصول کے نزدیک، کلام کو اس کے حقیقی اور ظاہری معنی پر محمول کرنا ہی اصل ہوتا ہے۔ اب اگر ہم اس اصول پر غور کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جملے اور اس کے ظاہری مفہوم کے درمیان ایک واضح زمانی فاصلہ موجود ہے ، یعنی سنہ 11 ہجری (وفاتِ نبوی) سے سنہ 61 ہجری (واقعۂ کربلا) تک پچاس برس کا فرق ہے۔ لہٰذا، عقیلۂ بنی ہاشم (سلام اللہ علیہا) کا یہ کلام ظاہری معنی پرتو نہیں لیا جا سکتا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے اس جملے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مفہوم کیا ہے؟ یہ پہلا سوال ہے جوفورا ہی ذہن میں آتا ہے ۔
ایک دوسرا سوال بھی ہے، جو اس بات سے متعلق ہے کہ شیعہ امام حسین (علیہ السلام) کے دن یعنی عاشورہ کی بہت زیادہ عظمت کے قائل ہیں، اور آپ علیہ السلام کی مصیبت پرنہایت شدت سے گریہ و ماتم کرتے ہیں، یہاں تک کہ یہ غم و سوگ اُن ہستیوں کی مصیبت سے بھی بڑھ جاتا ہے جو مرتبے میں امام حسینؑ سے افضل ہیں؛ جیسے کہ خود آپ علیہ السلام کے نانا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ، آپ کے والد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام، آپ کی والدہ ماجدہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا، اورآپ کے بھائی امام حسن زکی (علیہ السلام)۔ پس شیعہ، یومِ عاشور کو دیگر ایام سے کمیت (یعنی وسعت و دوام) اور کیفیت(یعنی انداز و کیفیت) دونوں اعتبار سے الگ انداز سے منعقد کرتے ہیں۔ اور یہ بات ایسی نمایاں اور ظاہر ہے کہ اس کا انکار صرف ضدی اور کسی بھی دلیل کو تسلیم نہ کرنے والا شخص ہی کر سکتا ہے۔ لہٰذا یہاں سوال امام حسینؑ کی مصیبت کی عظمت کے بارے میں نہیں ہے- کیونکہ یہ تو انتہائی عظیم نیز اسلام، آسمانوں اور زمینوں کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے- بلکہ سوال اس امتیازی سلوک کی حکمت، راز اور فلسفے کے بارے میں ہے۔ یعنی کیوں امام حسینؑ کی یاد منانے کا انداز باقی سب سے مختلف اور منفرد ہے؟
یہ دونوں سوالات مضمون اور موضوع کے اعتبار سے جداگانہ ہیں، اور یہ کسی طرح بھی ایک سوال نہیں- جیسا کہ ظاہر ہے۔ لیکن ان دونوں کا جواب ایک ہی ہے، اور وہ جواب شیخ صدوق نے عبد اللہ بن فضل ہاشمی کی روایت میں نقل کیا ہے:عبد اللہ بن فضل ہاشمی کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کیا، اے فرزندِ رسولؐ! یہ کیسے ہوا کہ عاشور کا دن دیگر تمام دنوں پر غم، ماتم، بے قراری اور گریہ کا دن بن گیا، جبکہ وہ دن جس میں خود رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا وصال ہوا، یا وہ دن جس میں جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کا انتقال ہوا، یا وہ دن جس میں امیر المؤمنین علیہ السلام شہید ہوئے، یا وہ دن جس میں امام حسن علیہ السلام کو زہر دیا گیا- یہ سب ایام عاشور جتنے نہیں سمجھے جاتے؟ تو امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یقیناً امام حسین (علیہ السلام) کا دن تمام دنوں سے بڑھ کر مصیبت کا دن ہے۔ اس لیے کہ اصحابِ کساء، جو تمام مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محترم تھے، وہ پانچ تھے۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے، تو باقی چار (یعنی علی، فاطمہ، حسن، حسین علیہم السلام) لوگوں کے لیے باعثِ تسلی اور سہارا تھے۔ جب جناب فاطمہ (علیہا السلام) کا وصال ہوا، تو علی، حسن اور حسین علیہم السلام لوگوں کے لیے باعثِ تسلی اور سہارا رہے۔ پھر جب علیؑ شہید ہوئے، تو حسن اور حسین علیہما السلام لوگوں کے لیے باعثِ تسلی اور سہارا تھے۔
پھر جب حسنؑ شہید ہوئے، تو حسینؑ ہی واحد سہارا اور تسلی کا مرکز تھے۔ لیکن جب حسینؑ کو شہید کر دیا گیا، تو اہلِ کساء میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا جو لوگوں کے لیے تسلی اور صبر کا باعث ہوتا۔ لہٰذا امام حسینؑ کی شہادت گویا تمام اہلِ کساء کے رخصت ہو جانے کے مترادف ہے۔ جیسے ان کا باقی رہنا تمام اہلِ کساء کے باقی رہنے کے برابر تھا، ویسے ہی ان کا چلے جانا گویا سب کے چلے جانے کے مترادف ہو گیا۔ اسی لیے ان کا دن تمام دنوں سے بڑھ کر مصیبت کا دن بن گیا۔ (علل الشرائع، جلد 1، صفحہ 225) یہ حدیث طویل ہے اور اس کا ایک بہت ہی اہم تتمہ (آخری حصہ) بھی ہے، لیکن ہم نے یہاں صرف محلِ استشہاد (یعنی جس حصے کی استدلال مین ضرورت تھی ) پر اکتفا کیا ہے۔ اور جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا، یہ حصہ نہایت مضبوط اور جامع ہے، کلام کی پختگی کی انتہا پر ہے، اس میں نہ کوئی ابہام ہے، نہ کسی قسم کی کوئی دقت یا اشکال۔
یہ امام حسین (علیہ السلام) کی زمانی خصوصیات میں سے ہے، جیسے کہ ان کی مکانی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تربت میں شفا رکھی ہے۔ یہ تمام خصوصیات اُن کی ذاتی فضیلتوں میں سے ہیں، مگراس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اُن کے جد (رسول اللہؐ) یا والد (علیؑ) پر فوقیت کا کوئی قائل ہو ۔بہرحال، اس حدیث کے باطن میں جو روحانی نکتہ موجود ہے- وہ نہ صرف صراحت کے ساتھ حدیث میں بیان ہوا ہے، بلکہ ادبِ عاشورا میں بھی پوری طرح نمایاں ہے، اور اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں بھی بکثرت موجود ہے۔ جہاں تک ادبی مثال کا تعلق ہے، تو ہمارے سامنے صالح قزوینی کا مشہور قصیدہ(شجر الأراك أراك تزهو)ہے،
جس میں وہ فرماتے ہیں: (فحياة أصحاب الكساء حياته، وبيوم مصرعه جميعاً صرّعوا) اصحابِ کساء کی زندگی، دراصل حسینؑ کی زندگی ہی تھی؛ اور جس دن وہ شہید ہوئے، اُسی دن گویا سب کے سب شہید ہو گئےـ بہر حال، جو "روحِ جواب" اس حدیث کے اندر صراحت کے ساتھ پوشیدہ ہے، وہی روح ہمیں "ادبِ طف" میں بھی نمایاں نظر آتی ہے، اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کی احادیث میں بھی اس کا اظہار ملتا ہے۔
قزوینی نے یہ معنی اہل بیتؑ ہی سے اخذ کیا تھا۔ چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ جب امام حسین (علیہ السلام) مدینہ سے رخصت ہونے لگے، تو بنی عبد المطلب کی عورتیں جمع ہو گئیں اور نوحہ و ماتم کرنے لگیں۔ امام حسینؑ ان کے پاس آئے اور فرمایا "میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ ایسی نوحہ خوانی نہ کرو جو اللہ اور رسولؐ کی نافرمانی کا باعث بنے۔ تو بنی عبد المطلب کی عورتوں نے عرض کیا کہ "ہم نوحہ و ماتم میں جلدی کیوں نہ کریں؟ یہ دن ہمارے لیے ویسا ہی ہے جیسا وہ دن تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، علیؑ اور فاطمہؑ کا وصال ہوا تھا (کامل الزیارات، ص 195)
یہی مفہوم وہ ہے جس کی طرف میں نے اس مضمون کی تمہید میں اشارہ کیا تھا؛ یعنی وہ روایت جو ابو الفرج اصفہانی (وفات: 356ھ) نے نقل کی ہے۔ جب امام حسینؑ خود کو رجز کے اشعار کے ذریعے میدانِ کربلا میں اشارہ کر رہے تھے اور اپنی شہادت کی خبر سنا رہے تھے، تو حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: (یا حسیناہ! یا سیداہ! یا بقیتَ اہلِ بیتاہ) آج میرے نانا رسول اللہؐ، میری ماں فاطمہ زہراؑ، میرے بابا علیؑ، اور میرے بھائی حسنؑ سب کا انتقال ہو گیا ہے۔ اے تمام گزر جانے والوں کی نشانی، اور باقی رہنے والوں کا سہارا" (مقاتل الطالبیین، ص 113) یہ تمام نصوص اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ امام حسینؑ کی شہادت صرف ایک فرد کی موت نہ تھی، بلکہ اہلِ کساء کے تمام نوروں کا غروب تھی- اور یہی وجہ ہے کہ عاشور کا دن سب دنوں سے بڑھ کر "یوم الفقد الکبیر"بن گیا۔ آج میرے نانا رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہم سے جدا ہوئے ۔