

جب دنیا نے خدا کی موت کا اعلان کیا: تاریخ سے سبق
شیخ مقداد الربیعی
سنہ 1966 میں، امریکی جریدے (ٹائمز) نے اپنے سرورق پر ایک چونکا دینے والا عنوان شائع کیا(کیا خدا مر چکا ہے؟ ) لیکن صرف گیارہ برس بعد، سنہ 1977 میں، اسی جریدے کے سرورق پر ایک بالکل مختلف عنوان نمایاں ہوا (مارکس کی موت)۔یہ بنیادی تبدیلی کوئی اتفاقی بات نہیں تھی بلکہ یہ اس حقیقت کا صریح اعتراف تھا کہ خدا کے وجود کے انکار کا نظریہ بذاتِ خود انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ مفکرین اور ادباء نے کئی دہائیوں پر محیط تلخ تجربات کے بعد اس نتیجے تک رسائی حاصل کی کہ اس انکار کے اثرات انسانی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کر جاتے ہیں۔
نطشےکی سیاہ پیشگوئیاں حقیقت بن گئیں؟
جرمن فلسفی فریڈرک نطشے، جس نے "خدا کی موت" کا اعلان کیا تھا، شاید اس حد تک یہ درست ہونے کی توقع نہیں رکھتا تھا۔ اُس نے دو اہم پیشگوئیاں کی تھیں:
پہلی پیشگوئی:
بیسویں صدی تاریخ کی سب سے زیادہ خونریز صدی ہو گی۔ اور یہی کچھ واقعتاً پیش آیا؛ اس صدی میں ایسی جنگیں اور قتل عام رونما ہوئے جن کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی، اور اس صدی میں اتنا خون بہا جتنا پچھلی تمام صدیوں کے مجموعے میں بھی نہ بہا تھا۔
دوسری پیشگوئی:
دنیا میں پاگل پن اور اخلاقی بے راہ روی عام ہو جائے گی۔ اور آج ہم اسی پیشگوئی کی تعبیر دیکھ رہے ہیں؛ جب ہم فحاشی، عریانی اور اخلاقی انحطاط کی بدترین صورتوں کا کھلے عام مشاہدہ کرتے ہیں۔
اہلِ فکر و دانش اس فکری و اخلاقی انحطاط کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے، بلکہ انہوں نے انسانیت کو اس کمزوری سے خبردار کیا جو اُس وقت لاحق ہوتی ہے جب کوئی معاشرہ ایمانِ باللہ سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ ان تنبیہات میں سے ایک نہایت بلیغ اور پرمعنی تنبیہ برطانوی فلسفی چیسٹرٹن نے کی"خدا کے وجود کا انکار ایسا ہے جیسے کوئی شخص ایک صبح بیدار ہو کر آئینے میں دیکھے اور اُسے اپنا عکس نظر نہ آئے۔ جہاں عکس مفقود ہو، شعور غائب ہو جاتا ہے۔ اور انسان اپنی ذات کی معرفت سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر نہ کوئی ایسا معیار بچتا ہے جس پر وہ خود کو پرکھ سکے، اور نہ کوئی ایسا اصول باقی رہتا ہے جس کے مطابق وہ اپنی اصلاح کر سکے۔ اس لیے سقراط کا مشہور قول ’اپنے آپ کو پہچانو‘ عملاً ناممکن ہو جاتا ہے۔ " حقیقت یہ ہے کہ معاصر تاریخ نے ان تنبیہات کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ نطشے نے جو مایوسی اور جھوٹا احساسِ برتری دنیا میں چھوڑا، وہ براہِ راست ان نظریاتی اور عملی نتائج کا سبب بنا جنہوں نے انسانیت سے اخلاق، رحم، اور ہمدردی کو چھین لیا۔ نیتشے کے نظریے کے تحت جس "اعلیٰ انسان"کا تصور پیش کیا گیا تھا، وہ حقیقت میں ظالم اور وحشی حکمرانوں کی صورت میں ظہور پذیر ہوا-ایسے حکمراں جو اقتدار کے عشق میں مبتلا ہو کر بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے، جیسے اسٹالن، ہٹلر اور موسولینی۔
عصرِ حاضر سے ایک حقیقی کہانی
اگست 2003 کے شمارے میں "ریڈرز ڈائجسٹ" نے ایک دل دہلا دینے والی کہانی شائع کی، جو یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح یہ تباہ کن نظریہ (یعنی خدا کے انکار پر مبنی فکر) نوجوانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ دو نو عمر لڑکوں، روبرٹ اور اس کے ساتھی جِم کی داستان ہے، جنہوں نے امریکی یونیورسٹی "ڈارٹماؤتھ" کے دو مقبول اساتذہ کے جوڑے کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ان نوجوانوں نے اپنے چھوٹے سے شہر سے فرار ہو کر مجرمانہ زندگی گزارنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اُن کا پہلا قدم یہ تھا کہ وہ کسی آسان شکار کو تلاش کریں، اُس سے رقم چھینیں، اور پھر اُسے قتل کر دیں۔
مقالہ نگار لکھتا ہے: "روبرٹ ہائی اسکول کے دوران نیتشے کی کتابیں پڑھا کرتا تھا، اور وہ خاص طور پر اس جرمن فلسفی کے اس نظریے سے متاثر ہوا جسے 'عدمیّت' کہا جاتا ہے—یعنی وہ فکر جو خدا کی موت اور اخلاقی اقدار کے وجود کی مکمل نفی کرتی ہے۔روبرٹ اور جِم نے ایک دوسرے کی تقلید شروع کر دی، اور رفتہ رفتہ ان کے ذہن میں انتہائی غیرمعمولی اور انتہا پسندانہ خیالات جنم لینے لگے۔ وہ ہٹلر سے متاثر تھے اور اُسے 'نہایت ذہین' شخصیت تصور کرتے تھے۔"ہم جتنے بھی خوبصورت الفاظ استعمال کر کے حقیقت کو نرم کرنے کی کوشش کریں یا اس کی توجیہات پیش کریں، مگر سچائی اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ خیالات کے حقیقی نتائج ہوتے ہیں، اور الحاد کی رنگین تشریحات انسانیت کی دیوار پر پڑنے والی ان دراڑوں اور شگافوں کو نہیں چھپا سکتیں جو اس فکر نے پیدا کیے ہیں۔حقیقت کو چھپانے کی ہر کوشش دراصل شدید ذہنی دباؤ اور حقیقت سے فرار کے ایک خود فریب خیالی عمل کے سوا کچھ نہیں، اور ایسی کوششیں بالآخر ناکام ہوتی ہیں۔
اس تلخ حقیقت کو مشہور برطانوی صحافی مالکوم مجریج نے خوبصورتی سے بیان کیا: "اگر خدا مر چکا ہے، تو لازماً اس کی جگہ کوئی اور چیز لے گی۔ اور وہ چیز یا تو غرور اور عظمت کا پاگل پن ہو گا، یا پھر نفس پرستی اور ہوس کا غلبہ؛ یا اقتدار کی جنونی خواہش ہو گی، یا شہوانی لذت کا پوجا۔یہ 'نئے معبود' یا تو ہٹلر ہوں گے یا ہیو ہفنر۔"
ہٹلر نے دنیا کو نفرت اور سادیت (دوسروں کو اذیت دے کر خوشی حاصل کرنے) کے زہر میں مبتلا کیا، جس کے نتیجے میں انسانی تاریخ کے بدترین خونریز مظالم سامنے آئے۔دوسری طرف، "پلے بوائے" میگزین کے بانی ہیو ہفنر نے عورت کی حرمت اور وقار کو کھلم کھلا پامال کیا، اور اس کے عمل نے اس بات کو تقویت دی کہ جسمانی لذت ہی انسانی زندگی کا سب سے اعلیٰ مقصد ہے۔
ان تمام عقلی و تجربی شواہد سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا وہ سچا کلام ہے جو اس نے اپنے فرشتوں کے سوال کے جواب میں بیان فرمایا، جب اُنہیں بتایا گیا کہ زمین پر ایک خلیفہ پیدا کیا جا رہا ہے: (أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ) (کیا تو زمین پر کسی ایسے کو بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا؟) یہی وہ حقیقت ہے جسے فرشتے سمجھ گئے تھے: کہ انسان جب خدا کی عبادت ترک کر دے اور روحانی و اخلاقی اصولوں کو چھوڑ دے، تو وہ کسی وحشی درندے سے بھی بدتر بن جاتا ہے۔
بیسویں صدی کے طغیان پسند حکمرانوں پر نیتشے کے اثرات
یہ بات تاریخ میں معروف ہے کہ بیسویں صدی کے بڑے آمر، ہٹلر، اسٹالن اور موسولینی وغیرہ نیتشے کے الحادی افکار سے زیادہ متاثر تھے۔ ممتاز مؤرخ پال جانسن نے اپنی معروف کتاب (عصرِ جدید) میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ ہٹلر،اسٹالن اور موسولینی اس صدی کے تین بڑے "شیطان" تھے۔ ان تینوں نے نطشے کی تعلیمات کو نہ صرف قبول کیا بلکہ ان کی روشنی میں اپنے فکری اور عملی نظام استوار کیے۔
نطشے کی فلسفیانہ فکر کا سب سے گہرا اثر ہٹلر پر ہوا۔ ہٹلر کے ذہن اور عمل کی تشکیل میں نیتشے کی تعلیمات نے بنیادی کردار ادا کیا۔ نیتشے کے افکار نے ہٹلر کو اس تصوراتی فریم ورک کی بنیاد فراہم کی، جس کے تحت اس نے دنیا کے کمزور اور پسماندہ طبقات کو مٹا دینے کے لیے پُرتشدد اقدامات کیے۔ ہٹلر نے انسانی فطرت میں موجود تعصبات، قوم پرستی اور احساس برتری کو ہوا دے کر اس خیال کو فروغ دیا کہ ایک مخصوص نسل یا گروہ کو "اعلیٰ انسان"کی حیثیت حاصل ہے، اور یہی گروہ دنیا پر بالادستی کا حق رکھتا ہے۔
نیتشے کے اثر کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ہٹلر نے نیتشے کی تحریروں کا ایک نسخہ بطور تحفہ بینیتو موسولینی (اطالوی آمر) کو پیش کیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ نیتشے کی تعلیمات محض نظریاتی بحث نہیں تھیں بلکہ طاقت کے عالمی کھیل میں ایک "شطرنجی حکمتِ عملی"کا حصہ بن چکی تھیں-جہاں بادشاہتیں اور آمریتیں مہرے کھیلتی ہیں، اور عام انسان فقط قربانی کے مہرے ہوتے ہیں۔
یہ ہے اُس دردناک حقیقت کا چہرہ جسے اُس دنیا نے خود دریافت کیا جو خدا کی موت کا اعلان کر چکی تھی کہ ایسا انسان جو خدا کو ترک کر دے، نہ تو (اعلیٰ انسان) بن سکتا ہے، اور نہ ہی مہذب و بااخلاق مخلوق؛ بلکہ وہ ایک ایسا درندہ بن جاتا ہے جو فطرت کے کسی بھی وحشی جانور سے زیادہ خونخوار اور سفاک ہوتا ہے۔