4 شوال 1446 هـ   3 اپریل 2025 عيسوى 6:53 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2025-03-30   124

ڈیمو ہسٹری کا نظریہ اور خدا کا ثبوت

تحریر: الشيخ باسم الحلي

ڈیمو ہسٹری کے بارے میں پچھلے مضمون (اسلام میں تاریخ کا تسلسل (ڈیمو ہسٹری)   میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ یہ ایک نئی اصطلاح ہے، جو دو الفاظ "دوام" اور "تاریخ" کے امتزاج سے بنی ہے۔

ڈیمو ہسٹری کا بطور منہج مطلب یہ ہےکہ وہ قوانین جو کم وسائل، مشکل حالات اور مادی بقا کے ظاہری وسائل کی عدم موجودگی کے باجود تاریخ میں کائنات، انسان اور معاشرے کو زندہ، متحرک اور ترقی کی جانب گامزن رکھتے ہیں۔ ڈیمو ہسٹری کی حقیقت کو مختصرا بیان کرنا چاہیں تو ہر وہ چیز جو ماضی اور حال میں زندہ، قائم اور متحرک رہی ہو اور جس کا مستقبل میں بھی زوال ممکن نہ ہو، چاہے وہ مادی بقا کے اسباب سے محروم ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی زندہ اور موجود رہتی ہے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو فنا ہو چکی، مٹ چکی یا ختم ہو رہی ہےجیسے زوال پذیر تہذیبیں، ناپید ہونے والی حیوانی اور نباتاتی انواع اور تباہ ہونے والے سماجی و سیاسی قوانین یہ سب ڈیمو ہسٹری کا حصہ نہیں ہیں۔ اسی طرح وہ چیزیں جو محض تلوار کی طاقت، دولت کے اثر و رسوخ یا اقتدار کے جبر سے قائم ہیں وہ بھی ڈیمو ہسٹری میں شامل نہیں کیونکہ وہ جلد یا بدیر ختم ہو جائیں گی اور مٹ جائیں گی۔

مثال کے طور پر تمام مومن و کافر معاشرے اس بات پر متفق ہیں کہ غاصب ظالم ہوتا ہے اور اسے سزا ملنی چاہیے۔ یہ ایک ڈیمو ہسٹری (یعنی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہنے والی) حقیقت ہے۔ اسی طرح نیکی کرنا، بھلائی سے محبت رکھنا اور انصاف کو اپنانا ہمیشہ پسندیدہ اور مطلوب کام سمجھے گئے ہیں۔ یہ بھی ایک ڈیمو ہسٹری حقیقت ہے جسے انسانی فطرت، انسانی ضمیراور کائنات و فطرت نے قبول کیا ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا (فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ) (سورہ رعد ۱۷ )

پھر جو جھاگ ہے وہ تو ناکارہ ہو کر ناپید ہو جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے فائدے کی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے ۔

ہم اس حقیقت میں شک نہیں کرسکتے کہ اخلاقیات انصاف، مساوات، اچھائی کی محبت اور انسان کے احترام جیسے اصول ہمیشہ زندہ اور موثررہتے ہیں اگرچہ ان کے پاس مادی بقا کے کوئی نمایاں اسباب نہ بھی ہوں۔ دوسری طرف ہمیں اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ظلم اگرچہ تاریخ میں اکثر غالب رہا ہے تلوار، دولت اور طاقت کے ذریعے اپنی بالادستی قائم رکھتا آیا ہے لیکن تمام گزشتہ ریاستوں اور سلطنتوں کے زوال کی گواہی یہی ہے کہ ظلم بالآخر مٹ جاتا ہے۔ وہ کبھی ہمیشہ زندہ نہیں رہتا بلکہ ختم ہونے کے لیے ہی جیتا ہے۔ وہ زندہ ہوتا ہے تو بس مرنے کے لیے، چاہے وہ بقا کے تمام مادی اسباب رکھتا ہو۔

اس کی سب سے بڑی مثال امام حسینؑ کا باقی رہنا ہے، یہ  آگے بڑھتی اور زندہ امت میں ہمیشہ موجود رہا ہے حالانکہ ظاہری طور مادی بقا کا کوئی  ذریعہ نہیں تھا۔ امام  کا ذکر  اس کے باوجود موجود ہے کہ آپ کے مقابل  ایک ایسی اموی سلطنت تھی  جو 80 سال تک ان سے برسرِ پیکار رہی، انہیں گالیاں دیتی رہی اور ان کو گالیاں نکالتی رہی اور یہی طرزِ عمل ان کے بعد آنے والوں نے بھی اپنایا۔ اس کے باوجود امام حسینؑ آج بھی زندہ ہیں، امت کے دلوں میں اسی طرح دھڑکتے ہیں جیسے وہ کبھی شہید ہی نہ ہوئے ہوں۔ وہ انسانی فطرت اور کائنات کی روح کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ماضی، حال اور مستقبل میں ہمیشہ باقی رہیں گے جبکہ وہ سلطنتیں جو ان کے خلاف تھیں، مٹ گئیں گویا وہ کبھی وجود ہی نہ رکھتی تھیں۔

ڈیمو ہسٹری کی بہترین مثال یہ بھی ہے کہ بعض اوقات مادی لحاظ سے کمزور اقلیت، مادی طور پر طاقتور اکثریت پر غالب آجاتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال غزوۂ بدر میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جہاں نبی اکرم کی فوج محض 313 افراد پر مشتمل تھی جن میں سے بعض کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں 1000 مشرکین کی فوج تھی جو مکمل ساز و سامان اور تیاری کے ساتھ آئی تھی۔ اس بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے:

(كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ، وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ) (سورہ بقرہ ۲۴۹-250)

بسا اوقات ایک قلیل جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے پر نکلے تو کہنے لگے: ہمارے رب! ہمیں صبر سے لبریز فرما، ہمیں ثابت قدم رکھ اور قوم کفار پر ہمیں فتحیاب کر۔

ہم مانیں یا نہ مانیں یہ ایسی حقیقت ہے جس کی مادی طور پر کوئی وضاحت فلسفۂ تاریخ کے مادی اصولوں سے ممکن نہیں۔ اس سے بڑھ کر طبیعیاتی اور مادی سائنس کے فلسفی بھی اس حقیقت کی تشریح کرنے سے قاصر ہیں۔

ڈیمو ہسٹری وہ منہج (طریقۂ مطالعہ) ہے جو ان حقائق کا جائزہ لیتا ہے جنہیں فلسفۂ تاریخ کے قوانین جو قطعیّت (حتمیت) اور مطلق حقیقت کے نظریے پر قائم ہیں سمجھنے سے قاصر رہے۔ اسی طرح یہ ان امور کا بھی احاطہ کرتا ہے جنہیں سائنسی فلسفہ (تجربی سائنس)جو حقیقت کو نسبتی (نسبیّت پر مبنی) قرار دیتا ہےسمجھنے میں ناکام رہا بلکہ ان امور کا بھی مطالعہ کرتا ہے جنہیں یہ فلسفے کسی حد تک سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر ڈیمو ہسٹری پوری تفصیل اور یقین کے ساتھ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو مظالم محاکمِ تفتیش (Inquisition Courts) میں کیے گئے پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں جو تباہی مچائی گئی، عزتوں اور اموال کی لوٹ مار اور جنسی تجارت و منشیات (چرس و ہیروئن وغیرہ) کا کاروباریہ سب انسانی ضمیر کے کھلے تضاد اور گراوٹ کی بدترین مثالیں ہیں۔ماضی ، حال اور کوئی بھی شخص مستقبل میں آ کر اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا۔

اسی طرح ڈیمو ہسٹری اس حقیقت کو بھی واضح طور پر تسلیم کرتی ہے کہ جانوروں پر شفقت، بچوں پر مہربانی، ضرورت مندوں کی مدد اور پریشان حال لوگوں کی فریاد رسی ایسی سچائیاں ہیں جو زمان و مکان سے ماورا ہیں۔ یہ اصول ہمیشہ زندہ، باقی اور ترقی پذیر رہیں گےماضی،حال اور مستقبل میں بھی ان میں کوئی تبدیلی نہ ہو گی کیونکہ انسانی ضمیر کبھی بھی ان کی حقانیت پر شک نہیں کرتا۔

ڈیمو ہسٹری کا نظریہ یہ ہے کہ اگر کوئی حقیقت ماضی اور حال میں زندہ اور قائم رہی ہےتو یہی اس کے مستقبل میں باقی رہنے کے لیے کافی دلیل ہے۔ انسانی تاریخ کا دس ہزار سالہ تجربہ جو تمام تہذیبوں کی مجموعی عمر ہےیہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ان حقائق کے مستقبل میں ختم ہونے کا امکان نہیں۔ان کے خاتمے کی پیش گوئی محض اندازے، قیاس آرائی یا کسی غیبی تصور (Metaphysics) کی بنیاد پر ہوا میں تیر چلانا ہی ہو گی۔ یہی مابعدالطبیعاتی نظریات وہ ہیں جنہیں اُوگست کومت (Auguste Comte) کارل پوپر (Karl Popper) اور تجربی منہج کے زیادہ تر ماہرین مسترد کر چکے ہیں۔

ڈیمو ہسٹری کا معیار صرف کسی چیز کا زندہ، باقی اور جاری رہنا نہیں ہے بلکہ وہ حقیقتیں ہیں جن کے بارے میں انسانی ضمیر اور باہر کی حقیقت اس بات پر متفق ہوں کہ ان کا فنا ہونا ناممکن ہے یا کم از کم اسے انتہائی بعید سمجھا جائے۔صرف یہ حقیقت کہ آج امریکی سلطنت قائم ہے اس کے مستقبل میں زندہ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں۔ ڈیمو ہسٹری پوری قطعیت کے ساتھ پیش گوئی کرتی ہے کہ یہ ایک دن ضرور زوال پذیر ہوگی کیونکہ اس کی بنیاد ایسے مظالم پر رکھی گئی ہے جن پر انسانی ضمیر شرمسار ہوتا ہے، جنہیں دیکھ کر کائنات لرز جاتی ہےاور جو فطرت کی روح سے متصادم ہیں۔

اس کا حال بھی بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی بڑے مجرم یا چور کاجو لاکھوں کی دولت چرا کر کچھ عرصے کے لیے عیش و عشرت کی زندگی گزار لیتا ہےمگر بالآخر اس کا انجام قید اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ڈیمو ہسٹری کا معیار صرف عارضی عروج یا طاقت نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہیں جو ہمیشہ باقی رہتے ہیں اور انسانی ضمیر و فطرت کے اٹل اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں۔

ڈیمو ہسٹری کی ابدی اور زمان و مکان سے ماورا حقیقتوں کی سب سے نمایاں مثال یہ ہے کہ زندگی چاہے وہ انسان کی ہو، حیوان کی، درختوں کی یا حتیٰ کہ پتھروں میں موجود بعض حیاتیاتی اثرات کی آج تک مسلسل جاری و ساری ہے اور مستقبل میں بھی باقی رہے گی۔مادی نظریے کے مطابق، زندگی ہزاروں یا لاکھوں سالوں سے موجود رہی ہے اور اس کے محض مادی موت کے امکان کو بنیاد بنا کر اس کے مکمل فنا ہونے کا نظریہ پیش کرنا بے بنیاد قیاس آرائی ہے، جس کی کوئی حتمی دلیل موجود نہیں بلکہ ایسا دعویٰ خود اسی مابعدالطبیعاتی سوچ کا ایک کھوکھلا نمونہ ہے جسے مادہ پرست ملحدین مسترد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ آج بھی اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ کس چیز نے بے جان مادے میں زندگی کی روح پھونکی؟ کس نے اسے انسان، حیوان اور نباتات کی شکل دے دی؟ حالانکہ اس کا وجود بدیہی حقیقت ہےجسے کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں!

مادّی نظریۂ ارتقا (Theory of Material Evolution) اس سوال سے یا تو راہِ فرار اختیار کرتا ہے یا پھر خود کو اس کے جواب دینے سے ہی عاجز پاتا ہے کہ زندگی کا حقیقی سبب کیا ہے؟ زندگی آئی کہاں سے ہے؟یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ محض مادہ جب تک وہ صرف مادہ ہے، زندگی کا سرچشمہ نہیں بن سکتا۔ لیکن یہی بنیادی سوال جسے یہ نظریہ نظر انداز کر دیتا ہے۔ اگر نظریۂ ارتقا کے مطابق پہلا خلیہ (First Cell) ایک زندہ مادہ تھا تو اس سے پہلے وہ زندہ کیسے بنا؟ اسے زندگی کہاں سے ملی؟یہ وہ مقام ہے جہاں مادّی سائنسی فلسفہ مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس اس سوال کا کوئی معقول، قطعی اور تجرباتی جواب نہیں ہے۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ زندگی خلیے کی مادی تشکیل سے پہلے موجود تھی کیونکہ یہی زندگی خلیے کے زندہ ہونے کا سبب بنی۔ خلیے کے وجود میں آنے سے پہلے بگ بینگ کا واقعہ پیش آیاجو ایک خالصتاً مادی عمل تھا اور جس میں کسی بھی طرح کی زندگی کا کوئی وجود نہیں تھا۔سائنس کے تجرباتی قوانین نہ تو یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ بگ بینگ میں زندگی موجود تھی اور نہ ہی یہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ اس میں شامل کوئی مادی عنصر بعد میں پہلا زندہ خلیہ کیسے بن گیا؟

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ بگ بینگ سے پہلے کوئی زندگی موجود تھی جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا تھی اور یہی فطری بات بھی ہےکیونکہ بگ بینگ سے پہلے نہ کوئی مادہ تھا نہ ہی کوئی  زمان و مکان  تھا ۔

خدا ایک ڈیمو ہسٹری حقیقت ہے!

تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ تسلسل رہا ہے کہ کوئی فرد فوت ہو جاتا ہے،کوئی جاندار ناپید ہو جاتا ہے، کوئی تہذیب زوال پذیر ہو جاتی ہے، کوئی نسل ختم ہو جاتی ہے، کوئی ثقافت مٹ جاتی ہےاور کوئی مذہب ختم ہو جاتا ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کے باوجود زندگی کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور اسی طرح دین اور خدا کی عبادت بھی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

اگر ہم تاریخ پر عمیق نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ کچھ جاندار ناپید ہو گئے، کچھ نسلیں ختم کر دی گئیں، کچھ انواع مٹ گئیں، کچھ ثقافتیں زوال پذیر ہو گئیں، اور کچھ مذاہب ختم ہو گئے۔ ان سب کے باوجود  بہت سے  جاندار اب بھی باقی ہیں اور فنا نہیں ہوئیں جیسے انسان، مچھلی، پانی، زیتون کے درخت اور کہکشائیں وغیرہ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں بہت سے مذاہب پیدا ہوئے اور پھر ختم ہو کر مکمل طور پر ناپید ہو گئے۔ اس کے باوجود یہ تمام مذاہب خدا کے وجود کو تسلیم کرنے پر متفق رہے۔یہ سچ ہے کہ ہندو مت کا تصورِ خدا بدھ مت کے تصورِ خدا سے مختلف ہے، یہودیوں کا تصور خدا عیسائیوں کے  تصور خدا سے الگ ہے اور اسی طرح صابئیوں اور مسلمانوں کا تصورِ خدا بھی ایک دوسرے سے جدا ہے کیونکہ ہر مذہب خدا کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں مختلف عقائد رکھتا ہے۔البتہ، ہمارا مقصد یہاں یہ طے کرنا نہیں کہ کون سا مذہب سچ ہے اور کون سا غلط بلکہ صرف اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ خدا کا تصور ہمیشہ باقی رہا ہے۔

جس حقیقت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا وہ یہ ہے کہ تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق خدا ضرور موجود ہے۔یہ ایک ڈیمو ہسٹری حقیقت ہے، چاہے ہم اسے تسلیم کریں یا نہ کریں۔ یہ ہزاروں برس پرانی حقیقت ہےجو آج بھی اپنی پوری شان کے ساتھ باقی ہے، زندہ ہے، مسلسل بڑھ رہی ہے اور ارتقا پذیر ہے۔زمانہ قدیم سے آج تک جب یہ الفاظ لکھے جا رہے ہیں یہی وہ حقیقت ہے جس سے ظلم، جبر اور فساد والے خوف کھاتے ہیں کیونکہ یہ ہر اس چیز کے خلاف ہے جو انسانی فطرت سے متصادم ہے۔

اگر ہم ارسطو کی جدلیاتی منطق، ڈیکارٹ کی منطق یا اوگست کونت کی وضعی منطق کے اصولوں کو اپنانا چاہیں تو ہم کسی بھی طرح یہ تصور نہیں کر سکتے کہ مستقبل میں خدا کے تصور یا عقیدے کا خاتمہ ہو جائے گا یا یہ مکمل طور پر مٹ جائے گاجیسا کہ جدلیاتی منطق (Dialectics) اور وضعیت (Positivism) نے بے بنیاد اندازے کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا۔ درحقیقت یہی وہ خالص خرافات ہیں جنہیں جدلیاتی اور وضعی فلسفے خود مسترد کرتے ہیں کیونکہ کسی ایسی حقیقت کا خاتمہ فرض کرناجو ہزاروں سالوں سے زندہ ہے، قیاس آرائی کے سوا کچھ نہیں۔

ڈیمو ہسٹری کا نظریہ یہ ہے کہ توحیدکے عقیدے کی جڑیں انسانی ضمیر کی گہرائیوں، انسانی معاشرے کے دل اور پوری انسانیت کی روح میں موجود ہیں۔ یہ ہر اس چیز میں جاری و ساری ہے جو زندہ ہے اور باقی رہنے والی ہے۔یہ عقیدہ ہزاروں سالوں سے قائم ہےحالانکہ اس کے پاس مادی بقا کے وہ وسائل نہیں تھے جو اسے ایک دن یا دو دن تک بھی ظاہری طور پر باقی رکھ سکتے۔ اس کے باوجودوقت کے ساتھ بے شمار چیزیں مٹ گئیں، فنا ہو گئیں، زوال پذیر ہو گئیں مگر خدا پر ایمان آج بھی زندہ ہے اور وہ انسانی ضمیر میں دھڑکتا ہےبشرطیکہ یہ ضمیر ظلم، جرم اور فساد سے پاک ہو۔اسی وجہ سے، اس عقیدے کے خلاف سب سے زیادہ وہی لوگ برسرِپیکار ہوتے ہیں جو انسانی حرمت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے جو ظلم، سرمایہ داری اور اقتدار کے پجاری ہوتے ہیں۔

عقیدہ توحید کو ہمیشہ سرمایہ داروں، جابروں، مجرموں اور بدعنوان عناصر کی طرف سے مخالفت کا سامنا رہا ہے کیونکہ یہ عقیدہ ظلم کے انکار، عدل کے قیام، انسانی وقار کے احترام، جانوروں پر شفقت، اور قدرتی نظام کے تحفظ کی دعوت دیتا ہے۔اس حقیقت کا مشاہدہ ہم ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹمی حملوں، اسلحے اور جنسی تجارت، منشیات (چرس) کے کاروبار اور دوسری عالمی جنگ میں روسی اور اتحادی افواج کے ہاتھوں دو لاکھ جرمن خواتین کے ساتھ ہونے والے اجتماعی زیادتیوں میں کر سکتے ہیں۔یہ تو الگ بات ہے کہ اسی جنگ میں اسی (80) ملین انسان مارے گئےجو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے قتلِ عام میں سے ایک تھا۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عقیدہ توحید مستقبل میں بھی باقی رہے گاجب تک کہ اس کے زوال پر کوئی مستند مادی اور تجرباتی دلیل پیش نہ کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی انسانی عقل کے پاس ایسی کوئی دلیل موجود نہیں۔ اگر کوئی اس کے خاتمے کا دعویٰ کرے بھی تو وہ محض اندازوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہوگااور یہی وہ طرزِ فکر ہے جسے جدلیاتی منطق اور وضعیّت خود مسترد کرتے ہیں۔

خدا کے وجود کا عمومی عقیدہ

خدا پر ایمان کے بنیادی عقیدے کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ ایک ہی مذہب میں خدا کے مختلف تصورات پائے جاتے ہیں چاہے یہ اختلاف بعض اوقات تضاد تک بھی پہنچ جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی مذہب کے پیروکار خدا کی صفات، ذات اور تعریف کے معاملے میں منقسم ہو تے ہیں۔ مثال کے طور پر، کیتھولک عیسائیوں کا خدا، آرتھوڈوکس عیسائیوں کے خدا سے مختلف ہےجو پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے تصورِ خدا سے بھی جدا ہے اور یہ سب آریوس کے خدا کے تصور سے بھی مختلف ہیں۔لیکن اس سب کے باوجودیہ تمام مکاتبِ فکر اس بنیادی حقیقت پر متفق ہیں کہ خدا موجود ہے۔

مثال کے طور پر تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ خدا ایک ہے، بے نیاز ہے، ہر چیز کا خالق ہےقرآن کریم میں یہی  بیان کیا گیا ہے۔تاہم خدا کی صفات اور ذات کی تفصیلات کے حوالے سے اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے نظریات میں فرق پایا جاتا ہے۔ اسی طرح مجسّمہ (وہ لوگ جو خدا کے لیے جسمانی صفات کے قائل ہیں) اور معطّلہ (وہ لوگ جو خدا کی صفات کے انکار کی طرف مائل ہیں) کے تصورات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

ڈیمو ہسٹری کا منہج اس مرحلے پر تفصیلات میں زیادہ الجھنے کی بجائے اس بنیادی حقیقت پر توجہ دیتا ہے کہ توحید کا عمومی عقیدہ ہمیشہ سے انسانی معاشرے میں زندہ و متحرک رہا ہے کبھی بھی ختم نہیں ہوا۔ حال اور مستقبل میں یہی حقیقت خدا کے وجود کے تسلسل کا ثبوت ہے۔کسی بھی فکری منہج کے ذریعے اس عقیدے کے مکمل زوال کا حتمی فیصلہ ممکن نہیں،صرف اندازے اور قیاس آرائی کی جاتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جو الحادی فکر، خاص طور پر جدلیاتی اور وضعی منطق کے اصولوں کے خلاف ہے۔

جب ڈیمو ہسٹری اس مرحلے پر خدا اور توحیدی معاشروں کے بارے میں گفتگو کرتی ہے،یہ بت پرست اقوام کے بارے میں بھی بات کرتی ہے جو کسی نہ کسی شکل میں ایک بگڑے ہوئے تصورِ خدا پر ایمان رکھتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ انسانی تاریخ میں آج تک زندہ ہے۔ ڈیمو ہسٹری بغیر کسی دلیل کے اس عقیدے کے مکمل خاتمے کے دعوے کو محض اندازے اور قیاس آرائی   قرار دیتا ہے، جیسا کہ ملحدین کرتے ہیں اور ایسے کسی دعوے کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔ 

ڈیمو ہسٹری کے دوسرے مرحلے میں جو زیادہ پیچیدہ ہے اس میں صرف اس بات پر اکتفا نہیں کیا جاتا  کہ عقیدہ موجود ہے بلکہ یہاں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کون سا حصہ ختم ہو چکا ہے اور کون سا آج بھی زندہ ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ یہ عقیدہ قدرتی طور پر زندہ رہا ہےیا پھر یہ تلوار، سیاست، خونریزی اور ظلم و جبر کے ذریعے برقرار رکھا گیا؟

خدا کا غلط تصور!

ڈیمو ہسٹری کے مطابق خدا کا حقیقی عقیدہ وہی ہے جو تلوار، جبر اور دولت کے زور پر قائم نہ کیا گیا ہو۔جو عقیدہ ظلم، طاقت اور دولت کے سہارے باقی رہے وہ اصل میں مردہ اور فنا ہونے کے لائق ہے۔تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ تمام سلطنتیں اور تہذیبیں زوال پذیر ہو گئیں جو خدا کے نام کا بدترین استحصال کرکے انسانوں کو دھوکہ دیتی رہیں۔یہ وہ ریاستیں اور حکومتیں تھیں جو تلوار، دولت اور ظلم و جبر کے ذریعے اپنی بنیادیں قائم کرتی رہیں، چاہے وہ واقعی خدا پر ایمان رکھتی تھیں یا محض اس کا نام استعمال کرتی تھیں۔

اہلِ اقتدار، دولت  مند اور جابر کفار نے حضرت محمد ﷺ سے کہا:

(وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ) (سورہ مبارکہ ھود ۲۷)

اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہم میں سے ادنیٰ درجے کے لوگ سطحی سوچ سے تمہاری پیروی کر رہے ہیں اور ہمیں کوئی ایسی بات بھی نظر نہیں آتی جس سے تمہیں ہم پر فضیلت حاصل ہو۔

ان کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ ہی مادی بقا کے کوئی وسائل موجود ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ظلم اور فساد پر قائم تمام سلطنتوں کے خدا کا تصور بھی خود ان سلطنتوں کے ساتھ ہی مٹ گیا، فنا ہو گیااور نفرت کا نشان بن گیا۔یہ تمام سلطنتیں انسانی حرمت اور انصاف کے اصولوں کے خلاف تھیں۔اموی سلطنت کے خدا کا تصور عباسیوں کی تلوار سے ختم ہوا۔عباسی سلطنت کے خدا کا تصور ہلاکو خان کی تلوار کے ساتھ مٹ گیا۔ٹیمپلرز (فرسان المعبد) کے خدا کا تصور فرانس اور یورپ میں پھانسی کے ساتھ دفن ہو گیا۔چرچ کی انکووزیشن (محاكم التفتيش) کے خدا کو خود عیسائیوں نے مسترد کر دیا۔خوارج کے خدا کو قرآن اور مسلمانوں نے مسترد کر دیا اور وہ ایسا تصور بن گیا جو سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہا۔

اس کے برعکس ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد (علیهم السلام) کا خدا،وہ خدا جو انسانیت، فطرت، اخلاق اور ضمیر کا پروردگار ہے، جو تلوار، ظلم، جبر اور دولت کے اثر و رسوخ سے پاک ہےوہ آج تک باقی ہے اور ہمیشہ رہے گا، جیسا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے آج تک زندہ و قائم ہے۔

حضرت محمد ﷺ کا خدا ایک ڈیمو ہسٹری حقیقت

حضرت محمد کا خدا ایک ڈیمو ہسٹری حقیقت ہے جو زمان و مکان اور مادی قوانین سے ماورا ہےاور اسے صرف مادی اصولوں کی بنیاد پر جانچنا ممکن نہیں۔ اگر ہم اس خدا کو بہتر طور پر سمجھنا چاہیں تو یہ حقیقت کافی ہے کہ جس ہستی نے اس کی دعوت دی، وہ ایک اُمیّ (بغیر رسمی تعلیم کے) شخصیت تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا۔ نہ انہوں نے فلسفہ، ادب، سیاست، تاریخ، ریاضی، طبیعیات، طب یا سماجیات کی تعلیم حاصل کی اور نہ ہی ان کے پاس دولت یا اقتدار کے وسائل موجود تھے۔ مال و اسباب کی کثرت نہ تھی، جن کے پاس بقا کے لیے مادی سہارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے بغیر کسی جنگی طاقت، دولت یا سیاسی اقتدار کےقریش کی ظالم سلطنت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ آپ کے خلاف قتل کی ہر سازش اور مسلط کردہ ہر جنگ میں آپ ہمیشہ کامیاب اور سرخرو رہے۔

حضرت محمد کا لایا ہوا عقیدہ توحید آج بھی ظالموں کے جبر، فاسدوں کے فساد اور مجرموں کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ یہ عقیدہ ہمیشہ اس اصول پر قائم رہا ہے کہ قلیل تعداد اگر حق پر ہو تو کثرت پر غالب آ سکتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ) (سورہ بقرہ ۲۴۹)

مگر جو لوگ یہ یقین رکھتے تھے کہ انہیں خدا کے روبرو ہونا ہے وہ کہنے لگے: بسا اوقات ایک قلیل جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے۔

اعتراض کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیا کیتھولک چرچ کا خدا برحق ہے کیونکہ وہ بھی تلوار کے زور پر پھیلا، جب رومی شہنشاہ قسطنطین نے 325 عیسوی میں مجلسِ نیقیہ (Council of Nicaea) کے ذریعے اسے سرکاری مذہب قرار دیا؟!!

ہم جواب دیں گے بے شک، مگریہ خدا کا ایک بگڑا ہوا اور استحصالی تصور تھا جسے اقتدار پرست حکمرانوں نے اپنی طاقت کے لیے استعمال کیایہاں تک کہ عقل بھی اس سے گھن محسوس کرتی ہے۔ اس کے  باوجود یہ تصور اس حد تک مسخ ہو چکا تھا کہ اسے دیکھ کر کراہیت محسوس ہو پھر بھی وہ کسی نہ کسی شکل میں باقی رہا۔اس کی بقا کی واحد وجہ یہ تھی کہ اس نے ڈیمو ہسٹری سے کچھ زندگی مستعار لے لی، اگرچہ انتہائی ظالمانہ اور استحصالی طریقے سے ایسا کیا کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بذاتِ خود ایک ڈیمو ہسٹری حقیقت ہیں جو زمان و مکان کی قید سے ماورا ہو کر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیت کے وہ تمام مسخ شدہ اور تحریف شدہ عقائد بھی کسی نہ کسی طرح باقی رہنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ وہ اپنی بقا کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت سے جڑے رہے۔

یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے خوارج اپنے بقا کے لیے قرآن اور سنت سے استدلال کرتے ہیں حالانکہ ان کا قرآن و سنت کا فہم اور خدا کا تصور مسخ شدہ اور گمراہ کن ہے۔ یہی وہ بگڑا ہوا ڈیمو ہسٹری تصور ہےجسے طاقتور طبقات نے لوگوں کو دھوکہ دینے اور استحصال کرنے کے لیے استعمال کیا۔

ڈیمو ہسٹری کے زندہ اور غیر مسخ شدہ ہونے کا واحد معیار یہ ہے کہ وہ محض فطرت، اخلاق، انسانیت کے احترام، عدل اور رحمت کی بنیاد پر باقی رہے۔اس کے دوام میں تلوار،طاقت،خونریزی،عزتوں کی پامالی اور زور و زبردستی شامل نہ ہو۔

مطلق اخلاقی دلیل اور وجودِ خدا

آخر میں، ہم عمانوئل کانٹ (1804ء) کی قطعی اخلاقی دلیل کو بیان کریں گے جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہے۔یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ کچھ اخلاقی اقدار مطلق ہوتی ہیں، جیسے ظلم، قتل، عورتوں کی بے حرمتی، دولت کی لوٹ مار اور انسانوں کو بلاجواز غلام بنانا۔ یہ سب ایسے اعمال ہیں جو انسانی وقار کی توہین کرتے ہیں۔ ان مطلق اخلاقی اصولوں کی حقیقی حدود اور دائرہ کار کا تعین ممکن نہیں الاّ یہ کہ ہم ایک مطلق خدا کے وجود کو تسلیم کریں، جو ان اقدار کو متعین کرے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ محض انسانی عقل ہر زمانے، ہر حالت اور ہر صورتِ حال میں تمام اخلاقی اقدار کی مکمل تعیین کرنے سے قاصر ہے۔

کانٹ نے اخلاقی دلیل کی قطعی حتمیت پر انحصار کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب بھی انسان کوئی کام کرنا چاہے تو وہ خود سے یہ سوال کرے۔ کیا یہ ایسا عمل ہے جسے تمام عقل مند اور سلیم الفطرت انسان اپنانا ضروری سمجھیں گے یا نہیں؟اگر جواب ہاں میں ہوتو وہ عمل اخلاقی ہے اور اگر نہیں میں ہوتو وہ غیراخلاقی شمار ہوگا۔

عمانوئل کانٹ کے نظریے اور ڈیمو ہسٹری کے منہج میں منہجی فرق موجود ہےاگرچہ دونوں اس نکتے پر متفق ہیں کہ ہر وہ چیز جو زندہ اور باقی ہے اور جو زمان و مکان سے ماورا ہے، وہ اخلاقی ہے اور انسانی وقار کا احترام کرتی ہے۔اسی طرح ہر وہ چیز جو مٹ چکی ہےوہ غیر اخلاقی ہے کیونکہ وہ انسانی وقار کا احترام نہیں کرتی۔ کانٹ کی اخلاقی دلیل کی اہمیت کے پیش نظر، ہم اس پر اس ویب سائٹ میں ایک الگ مضمون مختص کریں گے.

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018