14 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 11:34 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | تہذیب اور اقوام |  طولونی سلطنت (سلطنت طولونیہ)
2021-01-29   152

طولونی سلطنت (سلطنت طولونیہ)

طولونی سلطنت کا آغاز:

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک خواہ جتنا بڑا اور طاقتور ہو، جب اس کی قیادت کمزور ہو جائے تو اس ملک کے معاملات میں اجنبی لوگوں کے ہاتھ میں چلےجاتے ہیں۔ بلکہ آج کے دور میں بھی یہی ہے ۔

تیسری صدی ہجری کے وسط میں جب عباسی خلفاء کی بادشاہت و طاقت میں کمی آگئی تو ایران اور ترکی جیسے دور دراز کے ملکوں کے لوگوں کو نہ صرف دعوت دے کر اپنے محلات کی خاص باتوں اور رازوں سے آگاہ کیا بلکہ ان کو فوجی کمانڈروں کی جگہ دے دئ گئی۔جب ان لوگوں کے قدم  مضبوط ہوگئے اوران کا اثرورسوخ بڑھ گیا تو انہی لوگوں نے حکومتی معاملات میں  مداخلت شروع کی۔ یہاں تک کہ صورت حال یہاں تک جا پہنچی کہ یہ لوگ خلیفہ کے پیچھے لگ گئے اور حکم عدولی کے ساتھ ساتھ خلیفہ کی عزت و وقار سے کھیلنے لگے۔ یہی بات خلافت اسلامی کے دور ودراز علاقوں میں قبائلی جھگڑوں اور مرکزی سلطنت سے جدا ہونے کی سبب بنی ۔جنانچہ یہی وجہ بنی کہ ترک رہنما احمد بن طولون نے اس صورت حال کا استحصال کرتے ہوئے مصر کو ریاست سے الک کیا پھر عباسی سلطنت تشکیل دینے میں کامیاب ہوا۔جو صر ف اٹھاسی سال تک قائم رہ سکی۔

احمد بن طولون کون تھے ؟

احمد بن طولون کا تعلق بخارا کے ایک ترک خاندان سے تھا ۔ وہ    ۲۲۰  ہجری بمطابق ۸۳۵  عیسوی کو بخارا میں  پیدا ہوئے۔ان کی تربیت  سلطنت عباسیہ کے دارالخلافہ سامراء کے ایک فوجی ماحول میں ہوئی۔اس کے والد نے اس کی اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا۔ انہوں نے عسکری علوم و فنون وہی سے حاصل کیا ، علاوہ  از ایں  لغت ، دین اور حدیث کی تعلیم  بھی وہاں کے نمایاں علماء سے حاصل کی۔

جب عباسی خلیفہ معتز بااللہ نے امیر با یکباک یا باکباب کو (جوکہ احمد بن طولون کا سوتیلا باپ تھا) مصر کاحکمران مقرر کیا تو بایکباک نے (اپنے سوتیلے بیٹے) احمد کو ریاست کے امور چلانے میں اپنا نائب مقرر کر دیا۔ان کے لیے شہرت اور وقار حاصل کرنے کا موقع اس وقت میں ملا کہ جب خلافت اسلامی کے محاذوں پر بازنطیوں کی طرف سے متواتر اور مسلسل حملے ہو رہے تھے۔لہٰذا خلیفہ معتمد عباسی نے احمد بن طولون کو بازنطیوں کا مقابلہ کرنے اور ریاست کے شمالی محاذوں پر دشمن کو پسپا کرنے کی ذمہ داری دے دی گئی۔جنانچہ اس نے اپنے مشن پر عمدہ کارکردگی دکھائی اور بازنطیوں پر فتح حاصل کی۔ اس طریقے سے انہوں نے خلیفہ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ خلیفہ نے ان کی بہادری کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں مصر اور شام سمیت جزیرہ عرب کا والی اور حکمران مقرر کردیا۔

احمد بن طولون نے ترکی، افریقہ کے ساحلی علاقے اور روم کے ملکوں کے لوگوں پر مشتمل ایک بڑی اور مضبوط فوج بنائی (بعد میں وہ عباسی سلطنت سے مستقل طور پر آزاد ہونے میں کامیاب ہوا)۔ وہ خطبوں اور دعاؤں میں اپنے نام کے ساتھ خلیفہ استعمال کروانے لگا۔ انہوں نےاپنی حیات کے  بعد اپنے بیٹے خمار ویۃ کو جانشین بنایا ۔ انہوں  نے مصر اور شام کی حکمرانی کی شرط پر خلافت عباسیہ کے ساتھ صلح کرلی ۔ جس کے ساتھ یہ بھی شرط رکھی گئی کہ وہ عباسی حکمران  کوایک بڑی رقم  ادا کرنے کا پابند ہوگا۔انہوں نے حکومت کو مستقل کرنے کے لئے اپنی بیٹی اسماء (جو کہ ـقطرالندا ـ کے نام سے معروف تھی) کی شادی عباسی خلیفہ معتمد عباسی سے کرادی۔

احمد بن طولون کی اولاداور ریاست کا خاتمہ:

۲۷۲؁ ہجری میں احمد بن طولون نے وفات پائی ، ان کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا خمارویہ جانشین بنا۔ جس نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے والد کے زمانے میں جو مشکلات رہی تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذا ۲۸۲ ہجری میں ان کی وفات تک بھی یہ ریاست قائم رہی ۔خمارویہ کی وفات کے بعد ریاست کا ستارہ گردش میں آیا اور ڈگمگانے لگی۔ ملکی بھاگ ڈور کم عمر حاکموں کے ہاتھ میں آیا جو ملکی انتظام سنبھالنے کا تجربہ بالکل نہ رکھتے تھے ۔ جیسے ابو العساکر جیش بن خمارویہ جس نے ۲۸۲ ہجری سے ۲۸۴ ہجری تک حکومت کی ۔ اس کے بعد اس کا چودہ سالہ بھائی ابوموسی ٰ ہارون بن خمارویہ نے ۲۸۴ ہجری سے ۲۹۲  ہجری تک حکومت کی۔ان کے مرنے کے بعد ان کے چچا شیبان یاشائبان حکمران بن گیا لیکن اس کی فوج نے اسے مسترد کرتے ہوئے اسے معزول کردیا۔یہی سے طولونی سلطنت کا اختتام ہوا اور ان کے زیرانتظام تمام مصر اور شام کے علاقے دوبارہ سامراء میں عباسی سلطنت میں شامل کر لئے گئے۔

طولونی سلطنت کے تہذیبی پہلو:

۱۔ تعمیرات:

 احمد بن طولون نےایک  شہر فسطاط کے شمال کی جانب ’’ مدینۃ القطائع‘‘  کے نام سے آباد کیا اور اسے اپنی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔پھر ہر جگہ سے نامور طبیبوں اور حکیموں کو لا کر  اس شہر میں ایک بڑا ہسپتال قائم کیا ۔اس ہسپتال میں تمام لوگوں کا برابری کی بنیاد پر علاج کیا جاتا تھا۔پھر انہوں نے اپنی فوج کے کمانڈروں ،غلاموں،  کاریگروں اور تاجروں میں زمینیں تقسیم کیں۔ پس ان لوگوں میں سے ہرکسی کو زمین کا ایک ایک (قطعہ)حصہ دیا۔اسی لیے اس سرزمین کا نام القطائع پڑگیا۔

۲۔جامع احمد بن طولون:

انہوں نے ہسپتال کی طرح ایک بڑی مسجد بھی بنائی جو جامع احمد بن طولون کےنام سے معروف ہے، اور جسے شمالی افریقہ میں اسلامی فن تعمیر کے شاہکاروں میں سے شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مسجد آج بھی اپنے مینار، نماز پڑھنے کی جگہ اور صحن کے ساتھ موجود ہے۔ یہ ابن طولون کے کارناموں میں سے تھا کہ انہوں نے اسی جامع مسجد کے اندر طبیب مقرر کیا اور فارمیسی کی بھی بنیاد رکھی اور  ہر قسم  کی دوائیں لا کر رکھ دیں۔یہ دوائیں مسجد جانے والے بیمار نمازیوں کے لیے رکھی گئی تھیں۔

۳۔صنعت:

طولونیوں نے صنعت کے شعبے پر بھی  بہت توجہ دی اور ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کی ۔ اس زمانے کی صنعت /انڈسٹری میں ٹیکسٹائل کی صنعت، اسلحہ سازی، کاغذ، چینی اورصابن تیار کرنا زیادہ مشہور تھا۔ایک اور اہم بات اور ہے جو طولونی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیاوہ ان کے ملک کا منفرد جغرافیائی محل وقوع تھا۔مشرق اور مغرب کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے طولونیوں کو اس وقت مصر سے گزرنے والے بحری جہازوں اورتجارتی قافلوں سے ٹیکس وصول کرنے کا موقع ملا۔

۴۔زراعت:

 احمد بن طولون اور ان کے بیٹوں نے ملکی زراعت پر بھی بہت زیادہ توجہ دی۔ یہاں تک کہ ان کے زمانے میں مصر کی زرعی زمین کا رقبہ ایک میلین ایکٹر تک پہنچ گیا۔انہوں نے ان زمینوں کونہ صرف  کسانوں میں تقسیم کی بلکہ ان کو بیچ، مشینری کے بہترین مواقع فراہم کئے۔ کھیتوں کے لیے نہریں نکالنے کے علاوہ اور ان پر پل بھی  بنائے۔ اسی طرح انہوں نے دریائے نیل کی صفائی کی اور پانی کے مقدار کی نگرانی کا خیال بھی رکھا۔

۵:انتظامی امور:

طولونیوں نے مصر کو انتظامی طورپر تین حصوں میں تقسیم کیا۔ بالائی مصر، وسطی مصراور زیرین مصر۔ اسی طرح ان حصوں کو بھی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا تھا۔ان میں سے ہر اکائی (یونٹ) کو ’’کورۃ‘‘ (ضلع) کا نام دیا جاتا تھااور جو شخص اس ضلع کے انتظامات سنبھالتا اسے ’’صاحب الکورۃ‘‘ یعنی ضلع کا مالک کہا جاتا تھا۔

طولونی رہنماؤں نے ان ضلعوں کے انتظامی امور کو سنبھالا اور ہر وقت اس کے اتنظامی امور کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔شہر میں قیام امن اور عوام کی مصلحت عامہ کی رعایت بھی کرتے تھے۔چنانچہ انہوں نے محکمہ پولیس کے لیے ایک خاص نظام بنایا اور اس محکمے کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔

الشرطۃ الاعلیٰ:

یعنی سپریم پولیس ؛ ملک کے اعلیٰ طبقے سے رہنماؤں، علماء وسکالرز،نمایاں افراد اور اعلیٰ عہدیداران اس پولیس کے دائرہ اختیار میں شامل تھے۔

الشرطۃ السفلیٰ:

یعنی نچلے درجے کی پولیس۔ اس کے دائرہ اختیار میں عام عوام اور رعایا کے امور کا انتظام کرنا تھا۔

محکمہ ڈاک:

 طولونیوں نے پوسٹل یعنی نظامِ ترسیل  بھی بنایا تھا۔ اس کام کے لیے انہوں نے ’’ صاحب البرید‘‘ کے نام سے ایک شعبے کی ملازمتیں نکالیں۔ صاحب البرید یا ڈاکیا دارالحکومت میں رہتا تھا۔ اپنے نمائندوں کے ذریعے مختلف شہروں میں رہنے والے لوگوں کے حالات اور ان کی خبریں حاصل کرنا ان کی اہم ترین ذمہ داری تھی۔

طولونیوں کا خاتمہ:

جب طولونیوں کی ریاست کا خاتمہ ہوا ، مصر اور شام کے علاقے دوبارہ عباسی لوگوں کے زیردست آگئے۔یہ علاقے اکتیس سال سے زیادہ عرصہ عباسیوں کے زیر تسلط رہے۔ پھر اخشیدیوں نے مصر پر قبضہ کرکے اور سامراء میں عباسی خلافت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018