15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 12:16 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | مقدس مزارات، اور تاریخی مقامات |  سلمان فارسی کا مرقد
2020-12-26   141

سلمان فارسی کا مرقد

شہر مدائن بغداد سے تقریبا ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر جنوب مشرق میں واقع ہے اور جہاں پرمسجدسلمان محمدی موجود ہے کہ جو کہ بغداد کے پرانے مقابر اور آثار قدیمہ میں سے ایک ہے۔  

یہ مسجد مغربی طرز تعمیر کی حامل ہے اور عثمانی اور عباسی حکمرانوں نے مغربی طرز پر اس پر عمدہ نقاشی کی  ہے۔ اور آج بھی اپنی عظمت وخوبصورتی کے ساتھ موجود ہے۔ مسجد سلمان محمدی کہ جہاں سلمان فارسی مدفون ہیں اس کا گنبد سطح زمین سے ۱۷ مٹر بلند ہے اور اس  کی دو منزلیں ہیں جن کی بلندی 23.2  مٹر ہے، جن کا تعمیراتی احاطہ ۱۰۰۰۰ مربع میٹر ہے، اور یہ تقریبا مستطیل شکل میں واقع ہے، یہ چوڑائی میں ۸۸ میٹر اور لمبائی میں ۱۲۵ میٹر ہے۔ اس کے چار سپ گیٹس اور تین مین گیٹس ہیں؛ پہلا گیٹ بغداد کی طرف ہے اس کو بابِ امام موسیٰ کاظم ؑ کہاجاتا ہے، ایک گیٹ بابِ فاطمہ الزہرا علیہا السلام کے نام سے موجود ہے جو کہ دریا دجلہ کی طرف کھلتا ہے اور تیسرا اہم گیٹ باب امام علیؑ  کے نام سے موجود ہے جو نجف اشرف کی طرف کھلتا ہے۔

یہ مسجد ابتداء میں جب بنائی گئی اس وقت ۴۰۰۰ مربع میٹر پر محیط تھی، اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں توسیع ہوتی رہی اور آج اس کی وسعت ۵۰۰۰۰ مربع میٹر تک جا پہنچی ہے۔ اور اب اس میں ایک بڑا ہال، ایک مہھمان خانہ، ایڈمن بلاک، اور خدمات اور صحت کی سہولیات بھی موجود ہیں۔

یہ ایک باعظمت  اور پر شکوہ مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں عظیم صحابی رسول حضرت سلمان فارسیؓ  کا مرقد بھی ہے، اس کے علاوہ صحابی رسول حذیفہ یمانی (صاحب سر ِرسولؓ)، امام محمد باقر ؑ کے فرزند طاہر بن محمد کے مزارات بھی اسی کے قرب وجوار میں واقع ہیں کہ جنہیں سنہ ۱۹۳۰ ہجری میں بغداد میں آنے والے بڑے سیلاب کے نتیجے میں یہاں منتقل کیا گیا۔ اسی طرح اس کی ایک جانب صحابی رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کی قبر اور مسجد امام حسن عسکری علیہ السلام بھی موجود ہے۔

جناب سلمان محمدی نسب کے اعتبار سے فارسی  تھے، اور آپ کا نام زوربه بن خشبوذان تھا جبکہ دوسری رائے  یہ ہے کہ آپ کا اصل نام بن خشبوذان تھا، آپ ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئے، آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک عظیم اور جلیل القدر صحابی تھے اور آپ نے ایمان اور پرہیزگاری کی وجہ سے رسول گرامی اسلام کے ہاں ایک عظیم منزلت اور مرتبہ حاصل کیا۔ یہاں تک کہ آپ کے بارے میں یہ کہا گیا: کہ سلمان ہم اہل البیت میں سے ہیں۔

اور آپ کی عظمت اور رفعت کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت تین اشخاص کی مشتاق ہے: علی ابن ابی طالب، عمار یاسر اور سلمان۔اسی طرح آپ کو سلمان خیر بھی کہا جاتا تھا۔

جناب سلمان فارسی نے بہت سی اسلامی جنگوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں شرکت کی، اور آپ ایک بہادر، اور نڈر مرد تھے۔

جنگ (احزاب) یعنی جنگ خندق میں خندق کھودنے کی تجویز بھی آپؓ ہی نے پیش کی تھی، اور آپ ایک بہترین اور تجربہ کار سیاست دان بھی تھے، اسی وجہ سے خلیفہ دوم کے دور خلافت میں آپ کو مدائن کا گورنر بنا کر بھیجا گیا، اور آپ اس  منصب پر تا دم حیات فائز رہے، یہاں تک کہ  سنہ ۳۵ یا ۳۶ ہجری میں آپ وفات پاگئے اورآپ کو امیر المؤمنین علی ابی طالبؑ کی موجودگی میں وہیں دفن کیا گیا۔ آپ ؓ امیر المؤمنینؑ کے خواص میں سے تھے، آپ نے پہلی ہجری میں ہی اسلام قبول کیا، اسی لیے سابقین اولین میں سے ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔ جیسا کہ امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں: رسول گرامی اسلام پر سب سے پہلے ایمان لانے والے پانچ افراد ہیں اور مجھے ان سب میں سے پہلے اسلام لانے شرف حاصل ہے، اسی طرح ان میں سے سلمان فارس کے رہنے والے ، صہیب روم کے رہنے والے، بلال حبش کے رہنے والے، اور خبّاب نبط کے رہنے والے تھے۔

حضرت سلمان محمدی ؓ زہد وتقویٰ کے  اس درجہ پیکر تھے، کہ جب آپ کو خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب کی طرف سے مدائن کی گورنری کی پیش ہوئی تو آپ نے انکار کیا، یہاں تک کہ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب سے اجازت ملی تب جاکر  کہیں اس عہدہ کو قبول کیا اور مدائن کے گورنر بن گئے۔ آپ کی سادگی کی یہ مثال تھی کہ باوجود اس کے آپ گورنری کے منصب پر فائز تھے خود ہی لکڑی چنتے تھے، اور آپ کے پاس ایک  عبائیہ تھی، جس کا ایک حصہ آپ بچھاتے تھے اور ایک حصہ اوڑھتے تھے، اورگورنر ہونے کے عوض سے جب بیت المال سے آپ کو کچھ ملتا تھا تو اسے راہ خدا میں صدقہ کے طور پر دیدیتے تھےاور اس کے علاوہ  آپ گورنر ہونے کے باوجود ٹوکریاں بنایا کرتے  اور فروخت کرتے تھے، اور اسی قیمت سے اپنا خرچہ نکالتے تھے۔ اور جب لوگ آپ کی  اس سادگی پر اعتراض کرتے تھے تو آپ  اس کے جواب میں کہتے تھے کہ مجھے اپنی محنت اور مزدوری سے ہی کھانا کھانا پسند ہے۔

ضريح الصحابي سلمان المحمدي

ضريح الصحابي سلمان المحمدي

مرقد سلمان المحمدي

مرقد سلمان المحمدي

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018