11 ذو القعدة 1442 هـ   21 جون 2021 عيسوى 9:19 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | انسانی حقوق |  نفس کا حق
2020-08-03   158

نفس کا حق

عقل اور نفس کا تحفظ اور اسے نقصان پہنچانے  والی چیزوں سے دور رکھنے کی ضرورت و اہمیت

دین مقدس اسلام اس بات کی تاکید کرتاہے کہ انسان اپنے نفس کو تحفظ دے اور اسے بغیر کسی تبدیلی و تغیر کے اپنی اصلی خلقت اور ارتقاء کے ساتھ ایک کائناتی ناموس کی حیثیت سے زندہ رہنے کا حق دے۔ کیونکہ جو خالق اسے پہلی بار عدم سے وجودمیں لایاہے، اس نے اسے اپنی خلقت کا شاہکار اور بہترین مخلوق بنایاہے۔ ” (( لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ)) (التين ــ 4) ترجمہ: بتحقیق ہم نے انسان کو بہترین اعتدال میں پیدا کیا۔

چنانچہ انسان اللہ تعالیٰ کی باقی مخلوقات، حتی کہ ملائکہ پر بھی اپنی افضلیت کی وجہ سے تمام مخلوقات  کا سردار ہے۔ ((وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أبى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ))(البقرة ـــ 34)

ترجمہ: اور (اس وقت کو یاد کرو)جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔ پس بنی نوع انسان کے لئے جس طرح اس کا خالق چاہتا ہے، اپنی پوری فضیلتوں کے ساتھ اس کا تحفظ لازمی قرار پایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نفس  کا تحفظ لازم اور اس کا قتل حرام قرار دیا گیا ہے۔ پس حرمتِ قتل کا یہ مطلق حکم انسانی نفس کے قتل سے شروع ہوا۔ (وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا))( النساء ـــ 29)

ترجمہ:   اور تم اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو،بے شک اللہ تم پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔

پس نفس انسانی کا تحفظ اس کے تمام مراحل میں لازم ہے۔ اور نطفے کے مرحلے سے ہی اس تحفظ کا آغاز ہوتا ہے۔ کیونکہ نطفہ ہی مادہ حیات ہے۔ پھر یہی نطفہ آگے جا کر علقہ(جما ہوا خون) بنتا ہے پھر مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا) بنتا ہے، اور پھر اسی طرح انسان وجود میں آتا ہے۔ چنانچہ جو شخص نطفہ یا ماں کے پیٹ میں موجود جنین وغیرہ کو قتل کرنے کا سبب بنے وہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبت و سزا کا مستحق ٹھہرنے کے علاوہ دنیا میں بھی سزا کا مستحق ہے۔ اور اس ایک نفس کو قتل کرنا گویا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ وہ اگر اسے قتل نہ کرتا اور اسے باقی رہنے دیتا تو یہ اپنے بعد اپنی نسل میں ایک بڑا معاشرہ وجود میں لا سکتا تھا۔ جس طرح حضرت آدمؑ کی خلقت کی وجہ سے پورا ایک انسانی معاشرہ قائم ہوا۔ یہی مثال ہے کہ اگر کسی نے ایک نفس کو قتل کیا تو گویا اس کی نسل میں آنے والی پوری انسانیت کو قتل کیا۔

(.... مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ...)) (المائدة ـــ 32).

ترجمہ: ۔۔ جس نے کسی ایک کو قتل کیا جب کہ یہ قتل خون کے بدلے میں یا زمین میں فساد پھیلانے کے جرم میں نہ ہو تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔

چنانچہ اللہ تعالی نے انسان پر اپنی جان اور عقل کی حفاظت کرنا لازم قرار دیا ہے۔ خاص کر ان چیزوں سے جو اسے زائل کر سکتی ہیں اور اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ شاید یہی وجہ شراب اور اس جیسی مست کرنے والی چیزوں کی حرمت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔

((يا أيها الذين آمَنُواْ إِنَّمَا الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رِجْسٌ مّنْ عَمَلِ الشيطان فاجتنبوه لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشيطان أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ العداوة والبغضاء في الخمر والميسر وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ألله وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُّنتَهُونَ)) (المائدة ـــ91)،

ترجمہ: اے ایمان والو!شراب اور جوا اور مقدس تھان اور پانسے سب ناپاک شیطانی عمل ہیں پس اس سے پرہیز کرو تاکہ تم نجات حاصل کر سکو۔شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آ جاؤ گے؟ کیونکہ انسان کی عقل ہی وہ عظیم چیز ہے جس کی وجہ سے انسان باقی مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے، بلکہ اسی عقل ہی کی وجہ سے اسے باقی مخلوقات پر سیادت اور بالادستی حاصل ہے۔

 اسلام نے کتنی شدت سے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس عقل کو بروئے کار لائیں ۔اس کے ذریعے غور و فکر کریں اور روز مرہ کے امور اور نت نئے حادثات پر اس کے ذریعے تجزیہ و تحلیل کریں اسی طرح عقل کو معطل کرنے اور اسے بے کار رکھنے سے بھی متعدد مقامات پر منع فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: (وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ)) (البقرة ـــ 269) 

ترجمہ: اور صاحبان عقل ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔

اسی طرح اندھی تقلید کرتے ہوئے بھی عقل سے کام نہ لینا ممنوع قرار دیا ہے۔ ((وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ)) (البقرة ـــ 170)

ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو پایا ہے، خواہ ان کے آبا و اجداد نے نہ کچھ عقل سے کام لیا ہو اور نہ ہدایت حاصل کی ہو۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018