11 ذو القعدة 1442 هـ   21 جون 2021 عيسوى 11:00 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | مسلمان شخصیات |  غریبِ ربذہ حضرت ابوذر غفاریؓ
2020-08-03   230

غریبِ ربذہ حضرت ابوذر غفاریؓ

آپ کا نام جندب ابن جنادہ  غفاری ؓ ہے آپ اسلام کے آنے سے بیس سال پہلے پیدا ہوا۔ آپ ابو ذر غفاری کے نام سے معروف ہیں آپ چوتھے  یا پانچویں نمبر اسلام لائے۔آپ  ایمان کی اعلی  منزل پر فائز تھے،عظیم عزم و ہمت کے حامل فرد تھے،آپ پختہ عقیدے کے مالک تھے۔آپ ہمیشہ حق کی آواز بنتے تھے اور اس میں کسی قسم کا خوف نہیں کھاتے تھے اور باطل کے سامنے ڈٹ جاتے تھے۔

قبولِ اسلام:

جندب نے نبی اکرمﷺ کی بعثت کے بارے میں سنا تو اپنے بھائی انیس  کو مکہ بھیجا اور کہا اس  سواری پر سوار ہو جاو  مجھے اس شخص کی معلومات  لا کر دو جو یہ کہتا ہے کہ میرے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں،اس کی بات سنو اور میرے پاس آو۔انیس مکہ کی طرف آئے اور نبی اکرمﷺ کو دیکھا اور آپ کی گفتگو کو سنا  پھر اپنے بھائی جندب  کے پاس گئے اور کہا  میں نے ان کی گفتگو سنی  وہ اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور ایسا کلام کہتے ہیں جو شعر نہیں ہےانہوں نے  یہ سن کر  جواب دیا کہ تمہاری  باتوں سے صورتحال واضح نہیں ہوئی اس لیے انہوں نے خود مکہ جانے کا فیصلہ  کیا۔نبی اکرمﷺ کو جندب ؓ نہیں جانتے تھے  رات کے وقت  جا رہے تھے کہ حضرت علی ؑ  نے  انہیں دیکھا مسافر  جان کر کہا میرے پیچھے آو،  آپ پیچھے ہو ئے  ۔حضرت علی ؑ نے  تین دن تک حضرت ابوذر غفاریؓ کی مہمان نوازی کی پھر ان سے مکہ آنے کا سبب دریافت کیا حضرت ابوذرؓ نے   کہا اگر  وعدہ کریں کہ  آپ میری اس طرف رہنمائی کریں  گے تو  میں بتاتا ہوں، ،حضرت علیؑ نے ان سے وعدہ کیا کہ میں آپ کی رہنمائی کروں گا۔کیا یہ  نبیﷺ حق  پر ہے؟ حضرت علیؑ نے جواب دیا یہ نبی ﷺ ہیں جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے اور آپﷺ اللہ کے رسولﷺ ہیں اور اگر آپ ان سے ملنا چاہتے ہو تو میرے ساتھ آو۔حضرت علیؑ چلے اور آپ کی پیروی میں جندبؓ بھی  نبی اکرمﷺ کے گھر کی طرف روانہ ہو ئے۔جب نبی اکرمﷺ کے گھر میں  داخل ہوئے تو جندب ؓ نے آپﷺ کو سلام کیا،آپﷺ نے جواب دیا۔پھر آپﷺ نے پوچھا تم کون ہو؟ حضرت ابوذر غفاریؓ نے کہا  میں بنی غفار کا ایک آدمی ہوں۔نبی اکرمﷺ نے  اسلام پیش کیا   جسے حضرت ابوذر ؓ نے قبول کر لیا۔

حضرت ابوذر ؓ  ایمان کی اعلی منزل پر فائز،نیک زبان کے مالک،اعلی شان کے مالک تھے جو حق بات کہنے میں کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے۔آپ حکمرانوں کے مدمقابل پوری جرات سے کھڑے رہےہر اس شخص کی اعلانیہ مخالفت کی  جنہوں نے اللہ کے فرمان یا سنت رسول اکرمﷺ کے خلاف فیصلے کیے۔

شام جلاوطنی:

جب حضرت عثمان نے مروان بن حکم اور دوسرے بنوامیہ کو مسلمانوں کے بیت المال سے نوازا  اور  دیگر کو بھی خلاف قواعد اسلام  مال دیا تو آپ  نے اس کی شدید مخالفت کی اور قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کیا کرتے تھے:

بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا (سورہ النساء  ۱۳۸)

(اے رسول) منافقوں کو دردناک عذاب کا مژدہ سنا دو۔

حضرت عثمان نے  انہیں شام جلاوطن کر دیا ۔جب آپ شام جلاوطن ہو ئے اس وقت وہاں معاویہ کی حکومت تھی۔آپ نے لوگوں  کو  وعظ  کرنا شروع کیا اور نبی اکرمﷺ کی احادیٹ سناتے تھے  جو آپ نے نبی اکرمﷺ سے فضائل اہلبیتؑ میں سنی ہوئی تھیں۔معاویہ نے لوگوں کو ان کی محفل میں بیٹھے اور ان کی بات سننے سے منع کیا۔

شام سے مدینہ واپسی :

معاویہ نے حضرت عثمان کو لکھا  کہ ابوذرؓ نے اہل شام کو  خراب کر دیا ہے۔حضرت عثمان نے حکم دیا  کہ انہیں مدینہ بھیج دو،جب حضرت ابوذرؓ مدینہ پہنچے تو خلیفہ نے  انہیں مال کی پیشکش کہ تاکہ آپ  زبان بند رکھیں۔حضرت ابوذرؓ نے کسی بھی قسم کا مال لینے سے انکار کر دیا  اور جس طرح پہلے حکمرانوں کے غلط اقدامات پر تنقید کرتے تھے وہ جاری رکھی۔خلیفہ نے انہیں بدترین خطہ زمین پر جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کوئی مسلمان نہیں تھا وہاں کے رہنے والے سب کے سب یہود تھے اور اس کا نام ربذہ تھا اور تمہیں کیا معلوم کہ ربذہ کیا ہے؟

مدینہ سے ربذہ جلاوطنی:

لوگوں کی کثرت کے خوف سے کسی کو یہ اجازت نہ دی گئی کہ وہ حضرت ابوذرؓ کو الوداع کہہ سکیں۔صرف حضرت علیؑ،ان کے بھائی عقیلؑ،امام حسین ؑ و حسینؑ،حضرت عمارؓ،حضرت مقدادؓ بن اسود اور عبداللہ بن عباسؓ آپ کو الوداع کہنے کے لیے آئے۔حضرت ابوذرؓ کو جبرا ربذہ جلاوطن کر دیا گیا وہاں خدا کے علاوہ آپ کا نہ کوئی مدد گار تھا اور نہ ہی کو آپ کی خبر گیری کرنے والا تھا۔

حضرت ابوذر ؓ کو الوداع کہتے ہوئے حضرت علیؑ کا خوبصورت فرمان:

ابو ذرؓ تمہارا غیظ و غضب اللہ کے لئے ہے لہٰذا اس سے امید وابستہ رکھو جس کے لئے یہ غیظ و غضب اختیار کیا ہے۔قوم کو تم سے اپنی دنیاکے بارے میں خطرہ تھا اور تمہیں ان سے اپنے دین کے بارے میں خوف تھا لہٰذا جس کا انہیں خطرہ تھا وہ ان کے لئے چھوڑ دو اور جس کے لئے تمہیں خوف تھا اسے بچاکرنکل جاو۔یہ لوگ بہر حال اس کے محتاج ہیں جس کو تم نے ان سے روکا ہے اورتم اس سے بہرحال بے نیاز ہو جس سے ان لوگوں نے تمہیں محروم کیا ہے عنقریب یہ معلوم ہو جائے گا کہ فائدہ میں کون رہا اور کس سے حسد کرنے والے زیادہ ہیں۔یاد رکھو کہ کسی بندہ خدا پر اگر زمین وآسمان دونوں کے راستے بند ہوجائیں اور وہ تقوائے الٰہی اختیار کرلے تو اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال دے گا۔دیکھو تمہیں صرف حق سے انس اور باطل سے وحشت ہونی چاہیے تم اگر ان کی دنیا کو قبول کر لیتے تو یہ تم سے محبت کرتے اور اگردنیا میں سے اپنا حصہ لے لیتے تو تمہاری طرف سے مطمئن ہو جاتے ۔

حضرت ابوذرؓ  حضرت رسول اکرمﷺ اور حضرت علیؑ  کی نظر میں :

نبی اکرمﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا:

ما أظلت الخضراء، وما أقلت الغبراء من ذي لهجة أصدق من أبي ذر"

ابوذرؓ سے زیادہ سچے آدمی پر نہ آسمان کا سایہ پڑا ہے اور نہ ہی زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اندر جگہ دی ہے۔

حضرت ابوذرؓ کے بارے میں نبی اکرمﷺ کا ایک اور مشہور فرمان ہے:

"أبو ذر في أمتي شبيه عيسى بن مريم في زهده"

میری امت میں  ابوذرؓ  زہد میں حضرت عیسی بن مریم ؑ کی طرح ہیں۔

حضرت علیؑ فرماتے ہیں:

وقد سُئِل الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام عنه فقال: "ذلك رجل وعى علما عجز عنه الناس، ثم أوكأ (أغلق) عليه، ولم يُخرِج شيئا منه"

ابوذر ؓکے بارے میں سوال کیا گیا تو امامؑ نے فرمایا: ان کے پاس ایسا علم ہے جس سے لوگ محروم ہیں اور وہ ایسے علم سے مستفید ہو رہا ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا۔

حضرت علیؑ سے روایت ہے نبی اکرمﷺ مجھے خظاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"الجنة تشتاق اليك - أي الى علي - والى عمار وسلمان وأبي ذر والمقداد"

جنت تمہاری   (یعنی علیؑ کی) عمارؓ کی،سلمان ؓ کی اور ابوذر ؓ کی مشتاق ہے۔

ان کے فضائل میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت فاطمہ ؑ کے جنازہ اور تدفین میں شریک تھے آپ ؑ کو ان کی وصیت کے مطابق رازداری کے ساتھ  رات کو دفن کیا گیا۔

حضرت ابوذرؓ کی وفات :

حضرت ابوذرؓ  کا انتقال ربذہ  میں انتہائی کسمپرسی میں ہوا،آپ نے وطن سے دور  تنہائی میں آخری ایام گزارے،آپ کا کوئی مدد گار نہ تھا، زندگی کے وسائل بھی محدود تھے،وحشت بھرا گھر تھااور بری پتھروں والی زمین تھی۔اس وقت ان کے ساتھ فقط ان کی زوجہ اور اور آپ کا غلام بن اسحاق تھے۔جب آپ کی موت کا وقت قریب آیا تو ان دونوں کو اپنے غسل و کفن کے بارے میں وصیت کی کہ راستے میں بیٹھ جانا جو پہلا قافلہ آئے ان سے کہنا  یہ ابوذرؓ ہیں ہماری مدد کرو اور اس کی وصیت کو نافذ کرو۔ کچھ وقت کے بعد  حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قافلہ پہنچا جو عراق سے آ رہا تھا۔ان دونوں نے ان سے کہا یہ ابوذرؓ صحابی رسولﷺ ہیں  یہ سننا تھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ رونے لگے اور فرمایا  اللہ کے رسولﷺ نے سچ فرمایا تھا،میں نے  اللہ کے نبی ﷺ سے سنا تھا ابوذر ؑکے بارے میں فرما رہے تھےیہ تنہا چل رہا ہے،تنہا مرے گا اور تنہا ہی اٹھایا جائے گا۔نیچے اترے اور آپ کو دفن کیا۔آپ کی تدفین میں بزرگ صحابی رسولﷺ حضرت حجر بن عدی الکندیؓ بھی شریک ہوئے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018