15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 12:02 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | قرآنی مضامین |  عقل قرآن کریم کی نگاہ میں
2020-07-13   200

عقل قرآن کریم کی نگاہ میں

قرآن کریم میں بہت سی آیات ایسی ہیں جو عقل کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ یہ آیات اسلامی ثقافت کے امور سنبھالنے والوں پر واجب قرار دیتی ہیں کہ وہ اسلام میں عقل کے کردار پر زور دیں، کیونکہ اسلام کے اکثر دشمن یا وہ لوگ جو کسی قانون اور قاعدے کے پابند نہیں ہیں، یہ تصور کرتے ہیں کہ اسلام کا عقلی اصولوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے، بلکہ اس میں جو کچھ بھی ہے وہ فقط تعبدی شکل میں ہے۔

ہم  اس چیز کی نفی نہیں کرتے کہ اسلام انسان کی خدا کے لیے عبودیت و عبدیت پر تاکید کرتا ہے کیونکہ خداوند کریم خود فرماتا ہے: )وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى الله وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ)۔(الأحزاب ـ36) [اور کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کریں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار حاصل رہے] لیکن زندگی میں انسان کے اعمال اور تجربہ و غور و فکر کے ذریعے علمی نتائج کے اخذ کرنے میں اس نے ہمیں عقل کی پیروی کا بھی پابند بنایا ہے، کیونکہ عقل کا کردار ہی یہی ہے کہ وہ انسان کے وجدان میں متحرک رہتی ہے تاکہ وہ زندگی کے ایک سیدھے راستے پر چل سکے جس کی وجہ سے اس کی زندگی دوسروں سے بے نیاز اور بافضیلت ہو جائے۔

کفر یعنی لا عقل:

بعض آیات میں، جن میں عقل کے موضوع پر بات کی گئی ہے، قرآن کریم اس بات پر زور دیتا ہے کہ کفر لاعقلی کی حالت ہے، اور جو کفر کرتا ہے وہ اپنی عقل کو استعمال ہی نہیں کر رہا بلکہ وہ اس چیز پر اعتماد کر رہا ہے جو اس کے معاشرے نے اسے وراثت میں دی ہے، یا اس کے کچھ شخصی حالات ایسے ہیں کہ جن پر وہ اعتماد کر رہا ہے اور اپنی عقل کو استعمال میں نہیں لا رہا۔

قرآن کریم کی یہ آیات انبیاء کے زمانے کے لوگوں کے مخالفانہ اور جاہلانہ رویوں کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب انبیاء لوگوں کے لیے نئی چیز لاتے تھے، کیونکہ وہ لوگ اسی بنیاد پر اپنی زندگی گزار رہے تھے کہ جس چیز پر وہ پہلے سے عمل کرتے  چلے آ رہے ہیں اسی پر باقی رہیں گے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے ان سابقہ طور طریقوں کا عقلی بنیادوں پر دفاع بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ انبیاء کی طرف سے لائی جانے والی نئی چیزوں کو ٹھکراتے وقت یہ دلیل دیتے تھے: (إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ)۔(الزخرف ـ23) [ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رسم پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔] ان کا یہ مسئلہ تاریخ کی سماجی توسیع سے مربوط ہے جو وقت کی نقل و حرکت میں موجود ہے۔ تاریخ کے اس عرصے میں انسان گویا فکری حرکت اور ترقی کے حوالے سے وقت منجمد ہو کر رہ جاتا ہے، تاریخ کا وہ عرصہ جو کئی ہزار سالوں تک چلا جاتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب انسانوں کے خیالات پسماندگی اور توہم پرستانہ اور خرافاتی ذہنیت کے سائے میں پلتے بڑھتے ہیں۔

عین اسی وقت ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید ان کے اس مسئلے پر عقلی انداز سے اثرا انداز ہوتے ہوئے فرماتا ہے: (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ الله قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا)۔(البقرة ـ170) [اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے۔] تم کہتے ہو کہ تم اس چیز کی پیروی کرو گے جس پر تم نے اپنے آباؤ اجداد کو عمل پیرا پایا ہے۔ اور اسی وجہ سے تم ہر وہ چیز چھوڑ دیتے ہو جو تمہاری وراثت اور میراث سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ تمہارے اجداد کے پاس کون سا ثقافتی اور عقلی معیار تھا؟ کیا ان کے پاس ایسی عقل تھی جو حقیقت کو کشف کر لیتی ہے۔ کیا وہ ایسی ثقافت کے مالک تھے جو عقل کی پرورش اور نشوونما کرتی ہو؟ (أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلا يَهْتَدُونَ)۔(المائدة ـ104) [خواہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور ہدایت پر بھی نہ ہوں۔] پس تمہارے وہ آباؤ اجداد جن کے راستے پر تم نے چلنا اپنے لیے ضروری قرار دیا ہے، وہ تو عقل و فکر سے عاری تھے، کیونکہ وہ ایسے معاشرے میں پروان نہیں چڑھے تھے جو عقلی بنیادوں پر استوار ہوا ہو اور جو اپنے معاملات کو عقل پر پرکھتا ہو۔ اسی طرح یہ لوگ بھی ہدایت پر نہیں ہے کیونکہ ہدایت کی راستے پر نہیں چلے۔ کیا عاقل انسان ایک غیر عاقل انسان کی اتباع کر سکتا ہے؟ کیا ایک ایسا شخص جو ہدایت کا طالب ہو، ایک ایسی شخص کی پیروی کر سکتا ہے جو ہدایت سے اصلاً عاری ہو؟

پس تاریخ میں وہ لوگ باقی نہیں رہتے جو اپنے آباؤ اجداد کی پیروی ان احساسات و جذبات کے تحت کرتے ہیں جو تمہیں اپنے آباؤ اجداد سے جوڑے ہوئے ہیں، کیونکہ عقل کا معاملہ اور ہے اور جذبات کا معاملہ اور۔ جذبات احساس و شعور سے مربوط ہوتے ہیں جبکہ فکر عقل اور تفکر سے۔

اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ مسئلہ لا عقل سے ملا ہوا ہے، اس طرح کہ انسان لاعقل کی تاریخ میں حرکت کرنا چاہتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو معاشروں کو منجمد کر دیتی ہے اور تہذیبوں کو زوال کا شکار کر دیتی ہے۔ پس جب قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں بات کرتا ہے جو اپنے آباؤ اجداد کی میراث پر ڈٹے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایک قدیم چیز، جس حالت میں بھی ہے ، اس پر باقی رہنا چاہتے بغیر اس کے کہ وہ عقل و فکر سے کام لیں یا اس مسئلے پر کوئی بات چیت کریں۔ اور جب قرآن مجید ایسے گروہ کے بارے میں بات کرتا ہے جو انبیاء علیہم السلام کی دعوتوں کے مقابلے میں آن کھڑے ہوئے تھے تو ہم اس سے یہ بات اخذ کر سکتے ہیں کہ اس واقعیت اور حقیقت سے تمام مصلحین اور اصلاح پسندوں کو گزرنا پڑتا ہے کہ وہ مخالفین، جہالتوں اور خرافات کا سامنا کریں۔ پس ان کے مخالفین ان کی مخالفت میں کھڑے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی ہمارے طور طریقے اور رسوم و رواج ہیں، اور ہم اپنے آباؤ اجداد کی میراث پر باقی رہنا چاہتے ہیں۔ قرآن کا طریقہ تو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل کو خلق کیا اور اسے انسان پر حجت قرار دیا ہے، پس انسان اسی بنیاد پر حکم لگائے جو عقل اسے فراہم کرے۔ لہٰذا اے انسان! تجھ پرضروری  ہے کہ تو کسی بھی نئی چیز کو فقط اس بنیاد پر نہ چھوڑ دے کہ وہ قدیم چیز سے مختلف ہے۔ اسی طرح تجھ پر یہ بھی لازم ہے کہ تو کسی بھی نئی چیز کو اس وقت تک قبول نہ کر جب تک تو اپنی عقل اور ثقافت کو بات چیت اور مباحثے کے ذریعے اسے پرکھنے کے لیے کام میں نہ لائے تاکہ اگر تیری فکر مثبت نتیجہ دے تو تُو مثبت نتائج تک پہنچ جائے اور اگر تیری فکر منفی نتائج دے تو تُو منفی نتائج کی طرف متوجہ ہو جائے۔

اسلام فکر سے مالا مال ہے:

یہ فکر ہی ہے جو معاشروں کو بے نیاز کرتی ہے اور ان کی ثقافتی سطح کو بلند کرتی ہے، چاہے یہ عقیدتی ثقافت ہو چاہے شریعت کی ثقافت، کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ ممکن ہے ماضی کے مفکرین اپنے عقائد و نظریات میں مخلص  اور بے لوث رہے ہوں لیکن مخلص ہونے کا مطلب درست ہونا ہر گز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی فکر اور نظریے میں مخلص تو ہوتا ہے مگر اس کے پاس ایسے وسائل نہیں ہوتے جو اسے درست اور صحیح نکتے تک پہنچا دیں۔ بعض اوقات مخلص لوگ بھی غلطی کر بیٹھتے ہیں، عمداً اور جان بوجھ کر نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچانے والے وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے، لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ہر نئی فکر اور نظریے کی تردید کرنے میں جلدی سے کام نہ لیں بلکہ اس میں غور و فکر کریں، اس کی جانچ پڑتا ل کریں، اسے عقلی بنیادوں پر پرکھیں۔ اسی طریقے سے ہم اسلام کو ایک ایسی فکر سے مالا مال کر سکتے ہیں جو ان تہذیبوں کو غنی کر دے جو کسی علم یا آئیدیالوجی کی خاطر وجود میں آتی ہیں اور تخلیقی صلاحیتوں کے اعلیٰ درجے تک پہنچ جاتی ہیں۔ پس اہم یہ ہے کہ ہم اپنی فکر کو منجمد نہ کریں اور اسے قدامت پرست نہ بنائیں بلکہ ضروری ہے کہ اسے کھلی فضا میں چھوڑ دیں تاکہ وہ حقیقت تک پہنچ سکے۔

اسی ضمن میں ہم ایک آیت مجیدہ میں پڑھتے ہیں: (وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لا يَسْمَعُ إِلا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لا يَعْقِلُونَ)۔(البقرة ـ171) [اور ان کافروں کی حالت بالکل اس شخص کی سی ہے جو ایسے (جانور) کو پکارے جو بلانے اور پکارنے کے سوا کچھ نہ سن سکے، یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، پس اسی وجہ سے یہ لوگ عقل سے بھی عاری ہیں۔] اس آیت میں خداوند  سبحانہ و تعالیٰ واضح کرتا ہے کہ کفار کی مشکل یہی ہے کہ وہ جن چیزوں پر عمل پیرا ہیں انہی پر جمے ہوئے ہیں۔ بالکل اسی شخص کی طرح جب وہ اپنے اردگرد آوازیں سنتا ہے تو چیخنے لگتا ہے ، فقط اس وجہ سے کہ وہ ایک آواز ہے، نہ اس آواز کی نوعیت کو سمجھتا ہے اور نہ ہی اس میں غور و فکر کرتا ہے۔ انہیں ’’بہرا‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ اپنے اردگرد کی آوازوں کو غور سے نہیں سنتے اور دوسروں کے الفاظ و  افکار کو سمجھتے نہیں۔ یہ ’’اندھے‘‘ ہیں کیونکہ ان کی چشمِ فکر حقیقت کو دیکھ نہیں سکتی، بلکہ یہ اندھوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں، خدا فرماتا ہے:( فَإِنَّهَا لا تَعْمَى الأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُور)ِ۔(الحج ـ46) [حقیقتاً آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔] اسی طرح وہ اپنی آنکھوں سے اسرارِ پروردگار میں موجود عظمتوں کے دلائل دیکھنے کے لیے استفادہ نہیں کرتے جو ان کے سامنے اس کی توحید و ربوبیت کو کھول کھول کر بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ’’گونگے‘‘ ہیں جو بات نہیں کرتے کیونکہ وہ ان ذخیرہ شدہ عقائد پر حرکت کرتے ہیں جو انہوں نے وراثت میں پائے ہیں یا جو انہوں نے خود ہی گھڑ لیے ہیں، بغیر اس کے اپنے ان عقائد میں وہ بحث و مباحثہ کریں، جانچ پڑتال کریں اور دوسرے لوگوں کے عقائد کے ساتھ ان کا موازنہ کریں۔ پس اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے، کیونکہ وہ اس عقل سے عاری ہیں جو سماعت، بصارت، حرکت اور ادراک عطا کرتی ہے۔ ان کی حالت بالکل اس مفلوج شخص کی طرح ہے جس کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے  اور اس کی آنکھیں اپنی اصلی شکل میں باقی رہتی ہیں، کہ جن میں لوگوں کی شکلیں تو محفوظ ہوتی رہتی ہیں مگر وہ انہیں نہیں جانتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بصارت معرفت کا وسیلہ اسی وقت بنتی ہے جب مادی بصارت کے ساتھ ساتھ روحانی اور عقلی بصارت بھی مکمل ہو۔ یہی حال سماعت اور نطق کا ہے کیونکہ انسان کے جسم کی مادی حرکات و اعمال اس کی اس معنوی اور داخلی حرکت سے مربوط ہیں جو سماعت، بصارت اور نطق کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔

دوسری آیت میں قرآن مجید ان لوگوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ان چیزوں کو نہیں سنتے جو ان کی سطح بلند کر سکتی ہے اور جو کچھ ان کی ثقافت انہیں دیتی ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتے، نہ سوال، نہ مکالمہ نہ مناقشہ۔ ایسے لوگوں کو قرآن مجید نے یوں تعبیر کیا ہے:(إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ الله الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ)۔(الأنفال ـ22).[اللہ کے نزدیک تمام جانداروں میں بدترین یقینا وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔]

تفکر اور نتائج کا حساب:

خداوند کریم ہمیں اس نفسیاتی حالت کے بارے میں بتاتا ہے جس میں مدینہ میں رہنے والے یہودی مبتلا تھے۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی اور مشرکین کے ساتھ مل کر رسول اللہ حضرت محمدﷺ کی مخالفت کی جنہوںؐ نے ان پر غلبہ پا لیا تھا۔ خداوند کریم مومنین سے فرماتا ہے: (لأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِي صُدُورِهِمْ مِنْ الله ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَفْقَهُونَ)۔(الحشر ـ13).[اللہ کے نزدیک تمام جانداروں میں بدترین یقیناً وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔]

اگرچہ یہود اپنے خاص طریقے کے مطابق اللہ پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ اس ایمان کی گہرائی سے محروم ہیں جو انہیں اس احساس اور اعتماد کے ساتھ زندہ رکھے کہالْقُوَّةَ للهِ جَمِيعًا۔ [ساری طاقتیں صرف اللہ ہی کی ہیں] اور یہ کہ انسان اپنی قوت خداوند کریم سے حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کے پاس ایمان کی قوت ہے۔ وہ اتنا خدا کو وحشت زدہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے جتنا مسلمانوں کو کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایمان کسی خالص عقیدے کے فہم و ادراک پر مرکوز نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایمان ایسا ہے جو انہیں اللہ کی قوت اور بندوں کی قوت کے درمیان موازنہ کرنے کا ادراک دے اور نہ ہی انہیں یہ درک ہوتا ہے کہ یہ ایمان انسان کو بندوں سے نہیں ڈرنے دیتا۔ اس لیے کہ ایک مومن انسان جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ان صفات( أنَّ الْقُوَّةَ للهِ جَمِيعًا)۔(البقرة ـ165) [ساری طاقتیں صرف اللہ ہی کی ہیں]اور مَالِكَ الْمُلْكِ۔(آل عمران ـ26) [مملکت (ہستی) کے مالک] اور دوسری صفات کی وجہ سے اس کی عظمت اور کائنات پر اس کے تسلط کی معرفت رکھتا ہے، وہ اپنے دل میں غیر خدا کا خوف رکھ کر زندگی بسر نہیں کر سکتا، جب وہ اس کے سامنے عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے یا اپنی زندگی کے دوسرے اعمال انجام دیتا ہے۔ جیسا کہ خداوند کریم نے فرمایا ہے:( وَتَخْشَى النَّاسَ وَالله أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ)  (الأحزاب ـ37).[اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔]

یہ وہ ایمانی خط ہے جس پر ایک مومن کو ان تمام چیلنجز اور مشکلات کے سامنے ڈٹے رہنا چاہیے جو مومنین کو استکبار اور ظالم و جابر حکمرانوں کی طرف سے پیش آتی ہیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ضعیف العقیدہ لوگ ان کے سامنے ڈگمگا جاتے ہیں اور وہ اللہ سے ایسے نہیں ڈرتے جیسے انسانوں سے ڈر جاتے ہیں۔ قرآن کریم جنگ احزاب میں ایسے ہی کچھ مومنین کا نمونہ ہمیں دکھاتا ہے: (وَإِذْ زَاغَتْ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِالله الظُّنُونَا)۔(الأحزاب ـ10) [اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور (مارے دہشت کے) دل (کلیجے) منہ کو آ گئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔] جبکہ مومنین کا تذکرہ یوں کرتا ہے:(هذا ما وعَدَنَا اللهُ ورَسُولُه وصدَقَ اللهُ ورَسُولُه وَمَا زَادَهُمْ إِلا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا)۔ (الأحزاب ـ22) [یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھااور اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تسلیم میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔] کیونکہ ایمان ان کےقلوب کی گہرائیوں میں موجود تھا جو انہیں یہ سمجھا رہا تھا کہ اس آزمائش میں شکست کا کوئی کام نہیں بلکہ ان کا وظیفہ ہے کہ وہ ثابت قدم رہیں اور اللہ کی نصرت پر ایمان رکھیں تاکہ وہ یہودیوں اور مشرکوں کے اتحاد کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھ سکیں۔

اب ہم اس آیت کی طرف رجوع کرتے ہیں جس میں خداوند کریم یہودیوں کے بارے میں فرماتا ہے:(لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَاءِ جُدُرٍ بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ)۔(الحشر ـ14) [یہ سب مل کر تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں یا دیواروں کی آڑ میں سے، ان کی آپس کی لڑائی بھی شدید ہے، آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں لیکن ان کے دل منتشر ہیں، یہ اس لیے ہے کہ وہ عقل سے کام لینے والے نہیں ہیں۔] اس آیت میں خداوند کریم فرماتا ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو خوف ان کے دلوں میں بیٹھا ہوا ہے وہ انہیں تم (مسلمانوں) سے رُو برو لڑنے سے روکتا ہے جیسا کہ آج بھی یہی حالت ہے: (’بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ)۔ اگر تم ان کے اندر جھانک کر دیکھو تو  تمہیں نظر آئے گا کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ اور یہ بھی نظر آئے گا کہ فتنہ ان کے تمام حالات اور ان کی تمام اقسام میں حرکت کرتا ہے۔ (حْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى)  یعنی یہ جو ظاہری شکل میں ان کی وحدت اور اتحاد ہے یہ عقلی اور باطنی اتحاد نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ خدا نے ان کی یہ صفت بیان کی ہے: (ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَعْقِلُونَ)۔ (الحشر  ـ14) [یہ اس لیے ہے کہ وہ عقل سے کام لینے والے نہیں ہیں۔] کیونکہ ایک عاقلانہ معاشرہ وہ معاشرہ ہے جو اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ وحدت ہی قوت کا مرکز ہے اور اختلاف کا مطلب تفرقہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مثبت نتائج تک پہنچنے کے لیے مکالمہ اور بحث و مباحثہ کرنا ہے۔

پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ اُس زمانے کے یہودیوں کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے  کہ ان کا رویہ اور راستہ ایسے لوگوں جیسا ہے جو چیزوں کی گہرائی میں جا کر سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے نہ ہی ان کے پاس ایسی عقل ہے جس کے ذریعے وہ اپنی واقعیت اور معاشرے کو ایک ایسے راستے پر منظم کر سکیں جو انہیں قوت اور نصرت عطا کرے۔

عقل اور خواہشات کے استعمال کے درمیان:

ایک دوسری جہت سے قرآن کریم میں ہم ایسے لوگوں کے بارے میں بھی پڑھتے ہیں جو اپنی زندگی خواہشات اور غرائز کے زیر اثر گزارتے ہیں۔ وہ لوگ عقل کو استعمال میں نہیں لاتے بلکہ وہ اپنی خواہشات اور غرائز کو اپنا مرکز و محور بناتے ہیں کہ جس کے گرد ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی حرکت کرتی ہے۔ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:(أَرَأَيْتَ مَنْ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلاً)(الفرقان ـ43) [کیا آپ نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟ کیا آپ اس شخص کے ضامن بن سکتے ہیں؟] اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان یہ کہے کہ اس کی نفسانی خواہشات اس کا معبود ہیں بلکہ اس کا اپنی خواہشات کے ساتھ معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے اطاعت اور تسلیم مطلق میں  ایک عبد اور غلام کا اپنے مولا و آقا کےساتھ ہوتا ہے۔ (أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ)کیا تم گمان کرتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ اس چیز کو سنتے ہیں جو وحی ان پر پروردگار کی طرف سے نازل ہوتی ہے؟ أَوْ يَعْقِلُونَ یا اس میں غور و فکر کرتے ہیں؟ انہوں نے اپنی عقلوں کو اور اپنی شخصیت میں توازن کی ہر حالت کو اوروں کے  ہاں گروی رکھ دیا ہے: (أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا) (الفرقان ـ44)[ یا کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر کچھ سننے یا سمجھنے کے لیے تیار ہیں؟ (نہیں) یہ لوگ جانوروںکی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔] کیونکہ حیوانوں کے پاس ایسی عقل نہیں ہوتی جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کو تبدیلیوں کی طرف حرکت دے سکیں یا نئی پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غور و فکر نہیں کرتے جبکہ اللہ نے انہیں  عقل عطا کر رکھی ہے لیکن وہ اسے غلط راستے پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ چوپایوں سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسی قوت عطا کر رکھی تھی جس کے ذریعے وہ سعادت اور خیر تک پہنچ سکتے تھے مگر انہوں نے اسے استعمال نہیں کیا بلکہ بالکل ہی چھوڑ دیا۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018