14 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 11:29 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | قرآنی مضامین |  کیا قرآن صرف ایک کہانی کی کتاب ہے یا ایک منظم قانون؟ قرآنی دائرۃ المعارف کا ایک مطالعہ
2020-07-13   223

کیا قرآن صرف ایک کہانی کی کتاب ہے یا ایک منظم قانون؟ قرآنی دائرۃ المعارف کا ایک مطالعہ

قرآن کریم ہدایت کی کتاب ہے جسے نبی اعظم حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر تمام انسانیت کی ہدایت کی خاطر نازل کیا گیا ہے تاکہ یہ مضبوط راستے کی طرف رہنمائی کرے:( ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ)۔ (البقرة-2) [یہ کتاب، جس میں شبہے کی کوئی گنجائش نہیں، ہدایت ہے تقویٰ والوں کے لیے۔] یہ رہنمائی کوئی ایک ہی راستہ بتانے پر اکتفاء نہیں کرتی بلکہ ان تمام متفرق راستوں کی نشاندہی کرتی ہے  جو انسان کی دنیوی اور اخروی زندگی میں اس کے لیے ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید دینی، تربیتی اور علمی تمام شعبوں کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اور اس نے ایسے قوانین وضع کیے ہیں جو پروردگار کی مرضی کے مطابق انسان پر حاکم ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں نظر آتا ہے کہ قرآن مجید کی ہدایات اور ارشادات متنوع اور نو بہ نو ہیں۔ ہم ان میں سے عقائد کے باب میں بیان کیے گئے کچھ ارشادات بیان کرتے ہیں۔ عقائد جو دین کی اساس ہیں اور قرآن مجید نے انہیں قاطع دلیل اور ساطع برہان کے ساتھ بیان کیا ہے کہ تمام آسمانی اور خودساختہ عقائد میں سے فقط اسلامی عقیدہ ہی تمام انسانوں کی فلاح و صلاح کی قوت رکھتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس پر نفوس ایمان لاتے ہیں اور اس کے احکام شرعیہ پر پابندی سے عمل کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس نے پچھلے تمام عقائد کا اتمام کیا اور جو کچھ پہلے ادیان کے عقائد تھے ان سب کو اپنے احاطے میں شامل کیا۔

قرآن کریم نے علم اخلاق کے میدان میں بھی قدم رکھا حتی کہ اس نے ایسے سبق سکھائے اور ایسی قیمتی نصیحتوں سے نوازا جو انسان کو دلنشین فضائل اورقابل تعریف خصائل سے مزین ہونے پر ابھارتی ہیں جن کے ذریعے انسان ترقی کرتا ہوا خلافت الٰہیہ کے مرتبے تک جا پہنچتا ہے کہ جس کی خاطر اسے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید ایسے اخلاقی رذائل  اور ان کے نتائج کو بھی بیان کرتا ہے جو انسان کو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے لے جاتے ہیں۔ یہ اس لیے بیان کیے تاکہ انسان ان سے اجتناب کرے۔

اسی طرح تمام انسانی علوم کے باب میں بھی اس نے بنیادی اور کلی قوانین عطا فرمائے اور ان قوانین میں غور و فکر پر ابھارا ہے، یہ سمجھاتے ہوئے کہ یہی قوانین انسانی زندگی کی سہولت اور آسانی کا وسیلہ ہیں کہ انسان اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں سے اس میں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔

ان تمام ابواب نے قرآن مجید کو ایک ایسی کتاب بنا دیا ہے جس نے علوم کے کسی ایک خاص اور محدود شعبے کی بجائے تمام شعبوں میں اپنے اصول پیش کیے ہیں۔

جہاں تک بات ہے تاریخی اور داستانی باب کی تو اس میں بھی اس نے عبرت و نصیحت کی نظر سے تاریخ کو دیکھا ہے اور ان تاریخی واقعات سے انسانوں کے لیے وہ نکات بیان کیے ہیں جو ان کی دنیوی اور اخروی زندگی کے لیے فائدہ مند ہیں:( لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ)  (يوسف-111) [بتحقیق ان (رسولوں) کے قصوںمیں عقل رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے، یہ (قرآن) گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ اس سے پہلے آئے ہوئے کلام کی تصدیق ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔] یہی وجہ ہے کہ خدائے علیم و خبیر نے احسن القصص کو اختیار کیا جو اس کے علیم و خبیر ہونے کی تصدیق کرتا ہے:( نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ)۔ (يوسف-3).[ ہم اس قرآن کو آپ کی طرف وحی کر کے آپ سے بہترین قصہ بیان کرنا چاہتے ہیں اور آپ اس سے پہلے (ان واقعات سے) بے خبر تھے۔]

دوسری آسمانی اور خودساختہ مذہبی کتابوں سے قرآن مجید کا امتیاز ہی یہی ہے کہ اس نے واضح طور پر انسانوں کے لیے ایک رہنما اور سکھانے والے راستہ بتایا ہے۔ اس کے لیے اس نے کلیات کو بیان کیا مگر تفصیل اور جزئیات کو نبیﷺ اور ان کی سنت کے ذمے لگا دیا جو کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے:( وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (النحل 44) [اور (اے رسول) آپ پر بھی ہم نے ذکر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کر بتا دیں جو ان کے لیے نازل کی گئی ہیں اور شاید وہ (ان میں) غور کریں۔] اور اس کے بعد یہ ذمہ داری ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے حوالے کی جو متواتر حدیث ثقلین کی روشنی میں کتاب خدا کے بعد دوسری بڑی ثقل ہیں: إني تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي أهل بيتي ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي أبدا وقد أعلمني الخبير اللطيف أنهما لن يفترقا حتى يردا علي الحوض۔[میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت اہل بیتؑ۔ جب تک تم ان دونوں سے متمسک رہو گے میرے بعد گمراہ نہ ہو گے۔ مجھے خبیر و لطیف پروردگار نے خبر دی ہے کہ یہ حوض کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے۔]

ان تمام امور کی وجہ سے قرآن کریم نے ایک ایسا دائرۃ المعارف تشکیل دیا ہے جو لوگوں کی ہدایت کے تمام راستوں کو شامل ہے، اور ہر موضوع پر ایسے رہنما اصول دیے ہیں جنہوں نے لوگوں کو سکھایا کہ عالم دنیا جو کہ عالم فنا ہے، سالم عقیدے اور عمل صالح کے بغیر اس کی اصلاح ممکن نہیں ہے اور سالم عقیدے اور عمل صالح ہی میں عظیم یوم حساب کے عذاب سے نجات اور خدا کی خوشنودی کا حصول ممکن ہے۔ اور دوسرا یہ کہ یہ دنیوی عالم، عالم آخرت جو کہ ابدی بقا کا عالم ہے، کے لیے ایک پل سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔

اخلاق میں:

علم اخلاق کے باب میں دیکھا جائے تو اس کے نظریاتی اور عملی دونوں پہلؤوں کے بارے میں قرآن مجید نے بہت گہرائی اور دقّت سے بیان کیا اور ایسے احکام اور قوانین وضع کیے ہیں جو انفرادی اور اجتماعی سطح پر لوگوں کے اپنی ذات کے ساتھ، آپس کے تعلقات اور خدا کے ساتھ ان کے تعلقات میں ایک توازن پیدا کرتے ہیں۔ اور اس نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ان دونوں پہلؤوں میں ہم بستگی اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ان دونوں میں جدائی ممکن نہیں ہے، اس نے انسانی زندگی سے مربوط بہت سی جزئیات کو بھی بیان کیا اور ان کے لیے قوانین وضع کیے۔ پس ایمان عمل صالح کے لیے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم کے لیے روح ہوتی ہے:( إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ) (البينة-7) [جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے وہ یقینا بہترین خلائق میں سے ہیں۔] قرآن کا ہمیشہ سے یہی ہدف رہا ہے کہ وہ انسانوں کو اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کی تعلیم دے جو اس کے مقام کو حیوانی غرائز کے پست مقام سے اٹھا کر خلاف الٰہیہ کے بلند اور مستحکم رتبے تک لے جائیں:( وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا)۔ (الشمس۷ تا ۱۰) [اور نفس کی اور اس کی جس نے اسے معتدل کیا۔ پھر اس نفس کو اس کی بدکاری اور اس سے بچنے کی سمجھ دی۔ بتحقیق جس نے اسے پاک رکھا کامیاب ہوا۔ اور جس نے اسے آلودہ کیا نامراد ہوا۔]

اسی طرح انسانی غرائز کی تربیت کرنا اور انہیں قوانین اور فقہی احکام کے ذریعے کنٹرول کرنے کے طریقے بتانا قرآن کریم کے توحیدی اصول کی اصلیت کو بیان کرتا ہے۔ وہ عقیدہ توحید جس کی ابتداء ایک صحیح عقیدے سے ہے جس سے عمل صالح کی وضاحت بھی ہوتی ہے جو ہمیشہ اس عقیدے کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اس کے بعد امانت، گفتار میں سچائی، ضمیر پر کنٹرول کرنا، چغلی، بخل اور نفرت سے دوری اختیار کرنا، اسلام کے وہ اخلاقی اصول ہیں جن کے ذریعے وہ انسانوں کی قدر و منزلت کو مقامات اعلیٰ کی طرف بلند کرنا چاہتا ہے:( لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ)۔ (التين-4) [بتحقیق ہم نے انسان کو بہترین اعتدال میں پیدا کیا۔]

اسی طرح قرآن مجید نے جن اخلاقی اصولوں کی طرف دعوت دی ہے، پیغمبر اکرمﷺ کی شخصیت اور سیرت میں اس کا عملی نمونہ بھی ہمارے سامنے پیش کیا ہے یہاں تک کہ مسلمانوں کو اس نموے کی پیروی اور اسے اپنے لیے اسوہ حسنہ بنانے کا حکم دیا ہے:( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا) (الأحزاب-21) [بتحقیق تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔] کیونکہ پیغمبر گرامی قدر کی ذات اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ہے جیسا کہ خداوند کریم نے اپنی محکم کتاب میں آپ کے خلق عظیم کی تعریف کی ہے: (وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ)  (القلم-4) [اور بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔] اور رسول کریمﷺ نے اپنی رسالت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل بتایا ہے: إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق۔ [مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔] یہ حدیث قرآن کی اخلاقی دعوتوں کی تاکید کرتی ہے اور سمجھاتی ہے کہ نبی کریمﷺ کی ذات اقدس ان نظری اخلاقی قوانین کا عملی نمونہ ہیں۔

دوسرے علوم میں:

قوموں کی ترقی اور پیشرفت کو ان کی علمی، تہذیبی اور تمدنی ترقی کے میزان پر تولا جاتا ہے جس کے ذریعے انہوں نے مختلف انسانی طبقات اور انسانیت کو تمدن و تہذیب کے بلند مقامات تک پہنچنے میں مدد کی ہو۔

یہ علمی انکشافات بغیر کسی کوشش اور سعی کے حاصل نہیں ہوئے بلکہ یہ پروردگار کی طرف سے دی جانے والی دسترس کی بدولت حاصل ہوئے ہیں کہ اس نے اس کائنات کو انسان کی خدمت اور اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے خلق کیا ہے: (أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً)  (لقمان-20).[ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ نے تمہارے لیے مسخر کیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں کامل کر دی ہیں۔]

اور چونکہ قرآن مجید ایک دائرۃ المعارف شکل کی کتاب ہے لہٰذا اس نے کسی ایک حد پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ علمی میدان اور علمی بحث کے ساتھ ساتھ زندگی کے مادی اور اعتباری پہلؤوں کو بھی بیان کیا  کہ جن کے ذریعے انسانوں کی معیشت آسان ہو اور ان کی زندگی کی وہ مشکلات دور ہو جائیں جو ان کی ترقی اور پیشرفت کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں یہاں تک کہ اس نے لوگوں کے درمیان فضیلت کا باعث علم کو قرار دیا: (قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابز)  (الزمر-9) [کہدیجئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔] افضلیت کو تاکید کے ساتھ علماء کے لیے بیان کیا گیا ہے جو انہیں دوسرے لوگوں پر حاصل ہے اور یہ افضلیت ہمیں قرآن کریم کی مختلف آیات میں نظر آتی ہے کیونکہ علماء ہی وہ گروہ ہیں جو ایسے علوم و نظریات کے حامل ہوتے ہیں جو انسانیت کی علمی اور تہذیبی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کو دوسروں پر فوقیت دی گئی ہے یہاں تک کہ ان کے بارے میں فرمایا گیا:(  يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ)  (المجادلة-11).[ اور وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو اللہ بلند فرمائے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔]

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018