14 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 11:35 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | قرآنی مضامین |  کیا آیات قرآنی میں تضاد ہے؟
2020-06-23   188

کیا آیات قرآنی میں تضاد ہے؟

ہر آسمانی دعوت کے کچھ ایسے مخالفین موجود ہوتے ہیں جو اس دعوت کا انکار کرتے ہیں یا اس کی تعلیمات اور اہداف کے بارے میں غلط بحث کرتے ہیں، بغیر کسی ایسے علم کے جو ان کی حق کی طرف رہنمائی کرے یا بغیر کسی ایسی روشن کتاب کے جو ان کے عقلوں سے پوشیدہ رہنے والی چیزوں کو ان کے لیے روشن کر دے یا بغیر کسی ایسے قابل اعتماد ہادی کے جو ان کی نظروں سے پوشیدہ رہ  جانے والی حقیقتیں ان پر آشکار کر دے۔

سابقہ ادیان کی طرح اسلام کے ساتھ بھی یہی ہوا جس کا جاہل اور مشکّک لوگوں سے پالا پڑا:( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ لا هُدىً وَ لا كِتابٍ مُنيرٍ)۔ (لقمان: 20) [کچھ لوگ اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہ علم ہے اورنہ ہدایت اور نہ کوئی روشن کتاب۔] بالخصوص ان جاہلوں اور مشککین کے پاس زیادہ سے زیادہ جو چیز ہوتی ہے وہ ہٹ دھرمی اور بے کار کی بحث ہے کہ جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور حق اور اس کے مقاصد سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ یہ افراد کبھی تو آیات قرآنی پر باطل ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور کبھی ان میں تضاد اور منافات کا۔ یہ لوگ اس افتراء پردازی میں اس حریت اور آزادی کا استعمال کرتے ہیں جو مشیت الٰہی نے انہیں عطا کی ہے، وہی مشیت الٰہی جو چاہتی ہے کہ دنیا ایمان و کفر کے درمیان اختیار کا مقام بن جائے: (فَمَنْ شاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَ مَنْ شاءَ فَلْيَكْفُر)۔ (الکہف: 29) [پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔]

یہی وجہ ہے کہ جو شخص خدا اور آسمانی رسالتوں کا انکار کرتا ہے وہ لامحالہ طور پر آیاتِ قرآنی کی تضعیف اور ان پر طعن و تشنیع اور اعتراض کے راستے اختیار کر لیتا ہے تاکہ اس بہانے سے وہ اپنے کفر کو  ڈھانپ لے اور اس کا جواز فراہم کرے، جبکہ وہ یہ بات بھول چکا ہوتا ہے کہ وہ فطرتِ ایمان کی مخالفت کر رہا ہے جس فطرت پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ وہ شخص جو نکتہ چینی کی سیاست کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیتا ہے یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ فکری اور نظریاتی لحاظ سے پوچ اسالیب اسے خدا پر ایمان اور اس ایمان کے نتیجے میں واجب ہونے والی ذمہ داریوں اور فرائض کی بندش سے آزاد کر دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ اعتقاد بھی رکھتا ہے کہ یہ کمزور بنیادوں والے طریقے اس کے لیے ایسی سند کا درجہ رکھیں گے جس کے ذریعے وہ اپنے بالکل غلط اور جھوٹے دلائل کو ثابت کرے گا۔ جبکہ وہ اس چیز سے غافل ہوتا ہے کہ دین حق اور ربِ  حقیقی کے بارے میں بحث انسانی فطرت میں داخل ہے کہ جس پر انسانوں کی تخلیق کی گئی ہے:( فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنيفاً فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتي‏ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْها لا تَبْديلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَ لكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ)۔ (روم: 30) [پس (اے نبی) یکسو ہو کر اپنا رخ دین (خدا) کی طرف مرکوز رکھیں، اللہ کی اس فطرت کی طرف جس پر اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے، (یعنی) اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے، یہی محکم دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔] یہ ایک ایسا منظم امر ہے جو اس ذات کے نقائص کو دور کر دیتا ہے جو اپنے خالق کی طرف محتاج ہے:( يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ وَ اللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَميد)۔ (فاطر: 15) [اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو بے نیاز، لائق ستائش ہے۔]

اسی طرح یہ مشکک شخص یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اللہ کی ذات پر ایمان وہ حق الیقین ہے جس میں کسی وہم و گمان کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور فنا ہو جانے والے باطل سے آلودہ سطحی فکر اللہ تعالیٰ کے ان قوانین اور سنتوں کوباطل نہیں کر سکتی جو کسی تبدیلی اور تغیر کو قبول ہی نہیں کرتیں۔ خصوصاً شکوک و شبہات اور طعن و تشنیع کے ساتھ باطل کے راستوں کی پیروی کرنا اور اس غرور، تکبر اور اعتماد کے ساتھ ان پر قائم رہنا کہ یہ محکم اور مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں، ایک ایسا باطل دعویٰ ہے جس کی کوئی اساس نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی سند ہے جو اس کا جواز فراہم کرتی ہو۔

اسی طرح کتاب مبین کی آیات کے مقابلے میں اندھے اور گمراہ راستوں کو اختیار کرنا ایک ایسی کھلی اور بے نقاب سیاست ہے جس کی اتباع وہی شخص کرتا ہے جسے عربی زبان کی کچھ سدھ بدھ نہیں ہے، جو کہ قرآن کی زبان ہے، اور اس کے مفاہیم، دلالات، اہداف، اسباب نزول اور مکان نزول آیات کی زبان ہے۔

آیات قرآنی میں کوئی اختلاف نہیں:

قرآن کریم کی آیات مبارکہ میں اختلاف اور تضاد کی نفی کی دلیل یہ ہے کہ اس کا سرچشمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات گرامی ہے جو علیم ہے، اپنی مخلوقات کا احاطہ رکھتا ہے، جو ہر شے کا خالق و مالک ہے، بذاتہ غنی ہے، ہر شے پر قادر ہے اور غیبِ مطلق اسی کے لیے ہے۔ اور چونکہ تمام صفاتِ کمال اس کی جلالتِ قدرت کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں لہٰذا غنی ہونا اس کی عظمت ہے کیوں کہ کوئی نقص اس کی عظمت میں کمی نہیں لا سکتا۔ پس کمال سارے کا سارا اسی کے لیے ہے۔ اس بنا پر اس کی ذات سے جو بھی صادر ہو گا وہ کامل ہو گا اور اس میں تضاد یا اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ اور قرآن کریم بھی اسی کامل کمال کے سرچشمے سے پھوٹنے والا ایک چشمہ ہے۔ یہ خدا کا بہترین قول ہے، جس کی طرح آیت کریمہ اشارہ کرتی ہے: أَ فَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فيهِ اخْتِلافاً كَثيرا۔ (النساء: 82) [کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے۔] یعنی اگر اس کا صدور غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ فقیر مخلوق کی طرف سے ہوتا جو اپنی خلقت اور تدبیر دونوں میں دوسرے کا محتاج ہے۔ اس صورت میں اس میں ایسے نقائص کو وجود ضروری ہو جاتا جو اس کی عظمت کو ختم کر دیتے، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غنی بھی ہے اور کامل بھی۔ پس اس میں نہ تو کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی کمی بیشی۔ یہ خدا کی حفاظت میں محفوظ ہے:( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ) (حجر: 9) [اس ذ کر کو یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔]

چونکہ قرآن کریم عربوں کی زبان میں نازل ہوا پس یہ ایک خالص عربی قرآن تھا۔ اور ساری زندہ زبانوں میں سے فقط عربی زبان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کو پوری طرح ادا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم عربی زبان ہی میں نازل ہوا۔ اس بنا پر جو شخص بھی قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کو جاننا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے عربی زبان سیکھے اور اسے اچھی طرح سمجھے تاکہ وہ ہر اسے الجھن کو دور کر سکے جو قرآن کے مفاہیم سمجھنے میں اس کی فکر کو لاحق ہوتی ہے۔ خصوصاً ترتیب اور نظم و نسق آیات قرآنی کی خاص عظمت اور امتیاز ہے۔

آیت محو و اثبات اور آیت تنزیل میں کوئی تضاد نہیں:

جب ہم آیاتِ قرآنی میں تضاد اور ٹکراؤ کی نفی کرتے ہیں تو اس کے لیے قرآن کریم ہی سے ادلہ لاتے ہیں جو واضح دلالت رکھتی ہیں، روشن طریقے سے ثابت کرتی ہیں اور مفاد پرست لوگوں کے دعوے کا دندان شکن جواب ہیں، مثلاً آیت( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ)۔ (حجر: 9) [اس ذ کر کو یقیناً ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔] اور( يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَ يُثْبِتُ وَ عِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ)۔ (الرعد: 39) [اللہ جسے چاہتاہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔] ان دونوں آیات کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ( يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَ يُثْبِتُ)کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ کتاب اللہ کی آیات کو خدا محو کرتا ہے یا قرآن کے کسی ایک حصے کو محو کر دیتا ہے جیسا کہ ایک سطحی فکر اور علم رکھنے والے مشکک کا ذہنی تبادر اسی طرف ہوتا ہے، بلکہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے اعمال کے مطابق اس کے رزق اور عمر کی کچھ مقدرات میں محو و اثبات کا عمل انجام دیتا ہے۔ یہ محو و اثبات سلبی بھی ہوتا ہے اور ایجابی بھی، مثلاً ایک انسان جب صدقات و خیرات، اپنے اور لوگوں کے درمیان صلاح و فلاح یا کسی بھی نیک عمل کے ذریعے نیک راستے پر چلتا ہے تو خداوند کریم اس نیکی کے بدلے میں لوح محو و اثبات میں لکھی ہوئی اس کے رزق اور عمر  کی مقدرات کو محو کر دیتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی عمل کی وجہ سے اس کی عمر کم ہو جاتی ہے مگر پھر وہ کوئی نیک عمل انجام دیتا ہے جس کی وجہ سے خدا اس کی عمر دراز کر دیتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات کسی عمل کی وجہ سے اس کا رزق کم ہو جاتا ہے مگر پھر کسی نیک عمل کے نتیجے میں خدا اس کے رزق میں وسعت عطا کر دیتا ہے۔ یہ محو و اثبات اس نیک عمل کی مقدار کے تناسب سے ہوتے ہیں جو انسان انجام دیتا ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی مثالیں ہیں۔ یہ سب خداوند کریم کی طرف سے وہ اچھی جزا ہے جو وہ اپنے بندوں کو دیتا ہے اور یہ اس کی ان افراد سے رضامندی کا ایک پرتو ہے۔

جبکہ اسی کے برعکس بعض اوقات وہ کوئی ایسا برا عمل انجام دے دیتا ہے جو سلبی نتائج کا حامل ہوتا ہے یعنی اس برے عمل کی سزا کے طور پر انسان سے کچھ نہ کچھ سلب ہو جاتا ہے، مثلاً اس کی عمر کم ہو جائے گی یا اس کے رزق میں تنگی آ جائے گی۔

گذشتہ بحث سے ہم یہ نتیجہ لے سکتے ہیں کہ ان دونوں آیات میں کوئی تضاد اور ٹکراؤ نہیں ہے، کیونکہ لوح محو و اثبات کا  قرآن کریم کی کسی آیت کے حذف کرنے یا ان دو آیات میں کسی تعارض کی موجودگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آیات شفاعت میں کوئی تعارض نہیں:

عبد اور اس کے رب کے درمیان پایا جانے والا تعلق درحقیقت ایک فقیر اور محتاج عبد کا اپنے بے نیاز اور قائم بالذات رب کے ساتھ تعلق ہے۔ وہ رب جو قدرتِ مطلق کا مالک ہے۔ نفع و نقصان سب اسی اکیلے کے ہاتھ میں ہے کیونکہ وہ ان سب سے بے نیاز ہے۔ کوئی بھی امر اس کی اجازت کے بغیر نہ ہی انجام پاتا ہے اور نہ ہی جاری ہوتا ہے۔ ان امور میں سے ایک امر، عقیدۂ شفاعت ہے۔ اس بات کے اثبات اور آیات شفاعت میں تضاد اور منافات کی نفی کرنے کے لیے ہم قرآن مجید سے کچھ آیات لے کر آتے ہیں جو اس بات کو سمجھنے میں اچھی طرح تاکید کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ آیات اس الجھن اور سرگردانی کو بھی دور کر دیں گی جو ان آیات سے پیدا ہوئی ہے۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اور اس کے عبد کے درمیان طولی تعلق پایا جاتا ہے اور یہ تعلق بندوں کی طرف سے صادر ہونے والے تمام امور کے اجراء میں خدا کے اذن پر انحصار کرتا ہے۔ ان امور میں سے ایک، عقیدۂ شفاعت بھی ہے۔ جب انسان شفاعت کی منزل پر پہنچ جاتا ہے اس وقت بھی وہ اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت کا حق نہیں رکھتا۔ قرآن کریم کی یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مطلق شفاعت خداوند کریم کے لیے ہے: (قُلْ لِلَّهِ الشَّفاعَةُ جَميعاً لَهُ مُلْكُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُون) (الزمر: 44) [کہدیجئے: ساری شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے پھر تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔] پھر ایک اور آیات اسی آیات کی تائید کرتی ہے اور اسی مفہوم کو واضح کرتی ہے( اللَّهُ الَّذي خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَيْنَهُما في‏ سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوى‏ عَلَى الْعَرْشِ ما لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَ لا شَفيعٍ أَ فَلا تَتَذَكَّرُون)۔ (السجدۃ: 4) [اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کو چھ دنوںمیں پیدا کیاپھر عرش پر متمکن ہو گیا، اس کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ شفاعت کرنے والا، کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟]

یہ آیات ان آیات سے منافات نہیں رکھتیں جو خدا کے مکرّم اور مقرب بندوں؛ انبیاء، رسل، اولیاء صالحین کے لیے شفاعت ثابت کرتی ہیں۔ اور نہ ہی یہ امر اس بات کا سبب بنتا ہے کہ شفاعت کا عقیدہ رکھنے سے انسان کا فکری اور عقائدی نظام مختل اور مضمحل  ہو جائے، جبکہ شفاعت خدا کے اذن ہی سے انجام پائے گی۔

شفاعت خدا کے بندوں کی عزت و عظمت کے باب سے ہے جو انہیں خدا کے ہاں منازل کی بلندی اور مراتب کی رفعت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے:( إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذي خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ في‏ سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوى‏ عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ما مِنْ شَفيعٍ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَ فَلا تَذَكَّرُون)(یونس: 3) [یقینا تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کوچھ دنوں میں پیدا کیا پھر اس نے عرش پر اقتدار قائم کیا، وہ تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے، یہی اللہ تو تمہارے رب ہے پس اس کی عبادت کرو، کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟]

یقین میں مزید اضافے کے لیے ہم ایک اور آیت پیش کرتے ہیں جو اسی مفہوم یعنی شفاعت کے لیے خدا کے اذن پر دلالت کرتی ہے:(اللَّهُ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ لَهُ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْديهِمْ وَ ما خَلْفَهُمْ وَلا يُحيطُونَ بِشَيْ‏ءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِما شاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ لا يَؤُدُهُ حِفْظُهُما وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ)  (البقرۃ: 255) [اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ اور سب کا نگہبان ہے، اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کر سکے؟ جو کچھ لوگوں کے روبرو اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ ان سب سے واقف ہے اور وہ علم خدا میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان دونوں کی نگہداری اس کے لیے کوئی کار گراں نہیں ہے اور وہ بلند و بالا اور عظیم ذات ہے۔]

قرآن مجید میں محکم اور متشابہ آیات کے درمیان کوئی تعارض نہیں:

(هُوَالَّذي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتابَ مِنْهُ آياتٌ مُحْكَماتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتابِ وَأُخَرُمُتَشابِهاتٌ فَأَمَّا الَّذينَ في‏ قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ ما تَشابَهَ مِنْهُ ابْتِغاءَ الْفِتْنَةِوَابْتِغاءَ تَأْويلِهِ وَما يَعْلَمُ تَأْويلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا وَما يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُولُوا الْأَلْبابِ)   (آل عمران: 7) [وہی ذات ہے جس نے آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی جس کی بعض آیات محکم (واضح) ہیں وہی اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں، جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ اور تاویل کی تلاش میں متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، جب کہ اس کی (حقیقی) تاویل تو صرف خدا اور علم میں راسخ مقام رکھنے والے ہی جانتے ہیں جو کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو صرف عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔]

کیونکہ لغت میں ’’اُمّ‘‘ سے مراد اصل اور اساس ہے۔ اور کتاب خدا میں آیات محکمات کو جو ’’اُمّ الکتاب‘‘ کا نام دیا گیا ہے تو وہ اس وجہ سے کہ یہ بنیاد اور اساس ہیں اور آیات متشابہات کا مرجع ہیں کہ جن میں حق و باطل مخلوط ہو جاتا ہے جس سے افکار شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ آیات میں تضاد اور تنافی کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے لیے قرآن کریم نے ہمیں ایک مسلم اور ثابت قاعدہ سکھایا ہے جس کے ذریعے ہم متشابہ آیات کو محکم کی طرف پلٹائیں اور وارد ہونے والے شبہات کو دور کریں اور ہمیں اس بات کا یقین حاصل ہو جائے کہ کتاب خداوندی کی آیات میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ پس وہ آیات جو کبھی تو موت دینے کی نسبت ملک الموت کی طرف دیتی ہیں: (قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلى‏ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ) (السجدۃ: 11) [کہدیجئے: موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کرتا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔] اور بعض اوقات اس کی نسبت رسولوں کی طرف دیتی ہیں: (إِذاجاءَأَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنا وَهُمْ لا يُفَرِّطُونَ)   (انعام: 61) [جب تم میں سے کسی ایک کو موت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔] اور کچھ آیات میں خداوند کریم کی ذات کو ممیت (موت دینے والا) کہا گیا ہے:( اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حينَ مَوْتِها وَ الَّتي‏ لَمْ تَمُتْ في‏ مَنامِها فَيُمْسِكُ الَّتي‏ قَضى‏ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْأُخْرى‏ إِلى‏ أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ في‏ ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُون)  (الزمر: 42) [موت کے وقت اللہ روحوں سکو قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا اس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے پھر وہ جس کی موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے اسے روک رکھتا ہے اور دوسری کو ایک وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے، فکر کرنے والوں کے لیے یقینا اس میں نشانیاں ہیں۔]

گذشتہ بحث سے واضح ہوتا ہے کہ آیت محکمہ ’’اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ‘‘ اُمّ، اصل اور محکم ہے کہ جس کی طرف مذکورہ دو متشابہ آیات لوٹائی جائیں گی جو موت دینے کی نسبت ملک الموت یا رسولوں کی طرف دیتی ہیں تاکہ ہمارے لیے روشن ہو جائے کہ ملک الموت اور رسل جو موت دینے کا امر انجام دیتے ہیں وہ خدا کی وکالت میں انجام دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ امر الٰہی کی اطاعت کرنے والے بندے ہیں اور خدا کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے۔ یہ ملائکہ کی جنس میں سے ہیں۔ یہاں سے یہ شبہ اور اشکال زائل ہو جاتاہے جس کے ذریعے یہ گمان کیا جاتا ہے کہ بہت سی آیات قرآنی کے مضامین میں تضاد پایا جاتا ہے کہ جن میں سے ایک موت دینے کا فعل بھی ہے۔ یہ شبہ زائل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تمام امور خداوند کریم کے اذن اور اس کی دی ہوئی طاقت سے انجام پاتے ہیں۔

آیاتِ خلق میں تضاد کی نفی:

(فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقين)  (المومنون: 14) [پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین خالق ہے۔] اس آیت کریمہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے خالق موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ ان میں سب سے زیادہ بہترین خالق ہے کہ جس کی طرف صیغہ تفضیل ’’أَحْسَن‘‘ اشارہ کرتا ہے۔ اس سے یہ شبہ پیدا ہو گیا کہ یہ آیت ان آیات کے منافی اور متضاد ہے جو کہتی کہ سوائے خدا کے کوئی معبود نہیں اور وہی ہر شے کا خالق ہے:( ذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ خالِقُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فَاعْبُدُوهُ وَ هُوَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَكيل)  (انعام: 102) [یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کا خالق ہے لہٰذا اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر نگران ہے۔]

اس اشکال کے حل کے لیے ہم کہتے ہیں کہ عالم وجود میں جس پر بھی ’’شے‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے وہ خدا کی مخلوق ہے اور اس کا ذلیل و عاجز بندہ ہے، جو اس کی دی ہوئی قدرت سے قائم ہے، مخلوقات کے لیے کوئی قدرت اور استقلال نہیں ہے سوائے اس کی دی ہوئی طاقت کی وجہ سے۔ اسی طرح تخلیق کا کوئی عمل بھی اس کی اجازت کے بغیر انجام نہیں پاتا۔ یہیں سے اس اشکال کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔ اسی بات کی تائید یہ آیت کریمہ کرتی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حق میں نازل ہوئی: (وَرَسُولاً إِلى‏ بَني‏ إِسْرائيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فيهِ فَيَكُونُ طَيْراً بِإِذْنِ اللَّه)۔ (آل عمران: 49) [اور (وہ) بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے رسول کی حیثیت سے (کہے گا:) میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر تمہارے پاس آیا ہوں، (وہ یہ کہ) میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی شکل کا مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔]

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے جو بات کی اس سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا کہ میں تمہارے لیے معجزے کے طور پر ایک نشانی لایا ہوں اور وہ یہ کہ میں گندھی ہوئی مٹی سے پرندے کی شکل کا مجسمہ بناؤں گا پھر اس میں خدا کے اذن سے روح پھونکوں گا۔ یہاں ’’اذنِ خدا‘‘ کی قید لگائی گئی ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مستقل طور پر یہ قدرت نہیں دی گئی تھی بلکہ اسے قدرتِ خداوندی کے مرہون منت رکھا گیا اور اس کے ساتھ دو قیدیں لگائی گئیں: پہلی یہ کہ یہ خدا کی طرف سے معجزے کے طور پر دی جانے والی نشانی ہے اور دوسری یہ کہ گندھی ہوئی مٹی سے پرندہ بنانے کا عمل پروردگار کے اذن سے انجام پایا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خلق کے لیے واسطہ تھے اور خلق کا اصل کام خدائے واحد و قہار کا تھا۔

مسئلہ الامر بین الامرین (لا جبر و لا تفویض) کے حوالے سے آیات قرآنی میں تضاد نہیں

(وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَ إِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ) (النساء: 78) [اور انہیں اگر کوئی سکھ پہنچے تو کہتے ہیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی دکھ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ آپ کی وجہ سے ہے، کہدیجیے: سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔] سے قاری کے ذہن میں پہلی نظر میں یہی بات آتی ہے کہ نیکی اور بدی دونوں اللہ تعالیٰ کے فعل ہیں اور انسان کا ان میں کوئی دخل نہیں ہے، کیونکہ یہ آیت نیکی اور بدی دونوں کے عمل کی نسبت اللہ تعالیٰ کے طرف دے رہی ہے۔

یہاں اعتراض کے دو پہلو ہیں: ایک برے کام کی انجام دہی کی نسبت خدا کی طرف کیسے دی جا سکتی ہے جبکہ برا کام کرنا اس کی بندوں پر رحمت کے اصول کے منافی ہے (وَرَحْمَتي‏ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ‏ءٍ)۔ (الاعراف: 156) [اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے۔] اور اس کے ساتھ ساتھ جمال الٰہی بھی اپنی جگہ پر ایک دلیل ہے کیونکہ وہ جمال ہے اور اس سے جمیل یعنی اچھائی کے علاوہ کچھ بھی صادر ہونا ممکن نہیں ہے۔ گویا کہ یہ آیت انسان کے تمام اچھے برے افعال کی نسبت خداوند کریم کی طرف دے رہی ہے اور انسان کی اپنے اعمال پر کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔

اس کے بعد اسی سورہ کی آیت 79 یہ کہتی  ہے: (وَما أَصابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ) (النساء: 79) [اور جو دکھ پہنچے وہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔]

اس بات میں کوئی شک نہیں ہےکہ اس کائنات میں موجود ہر شے اللہ تعالیٰ کی خلق کردہ ہے۔ پس اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔ ہر مخلوق اپنی فطرت میں اپنے خالق کی طرف احتیاج کا پہلو لیے ہوئے ہے اور یہ احتیاج ہر مخلوق کی خلقت اور اس کے تمام امور کی تدبیر کے سلسلے میں ہے۔ اسی وجہ سے اس کی تمام حرکات اور افعال خدا ہی کی دی ہوئی قوت و قدرت سے انجام پاتے ہیں، کیونکہ اس خدائے علی و قدیر کے علاوہ کوئی طاقت و قوت موجود نہیں ہے۔

لہٰذا تمام افعال چاہے وہ بالقوۃ ہوں یا بالفعل، خدا ہی کی طرف منسوب ہیں، کیونکہ جب وہ چاہتا ہے تو اس کام سے منع کر دیتا ہے اور یہ اس کی رحمت کے باب میں سے ہے۔ اور جب اس نے منع کر دیا تو وہ فعل جس حال میں ہے اسی طرح گز گیا چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ اس کے علاوہ ان افعال کی نسبت انسان کے اختیار کی طرف بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اس سے ان اعمال کی بابت بازپرس کی جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امور خداوند کی سلطنت سے خارج نہیں ہیں۔ البتہ دوسری آیت جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ برائی کی نسبت خدا کی طرف دی جا رہی ہے تو یہ خدا کی صفات کمال و جمال سے مناسبت نہیں رکھتی جیسا کہ ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ پس علماء نے یہ نظریہ دیا کہ افعال کے دو رُخ ہیں: ایک تکوینی رُخ یعنی فعل کا خارج میں واقع ہونا اور دوسرا تشریعی رُخ اور وہ ہے خدا کا کسی کام کے بارے میں حکم دینا یا اس سے منع کرنا قطع نظر اس سے کہ وہ کام خارج میں واقع بھی ہو۔ جیسا کہ کلام جس کی ایک جہت صدق ہوتی ہے اور دوسری کذب۔ پس اگر کلام کا فعل تکویناً واقع ہو تو خدا نے اس میں فقط صدق کی جہت کی اجازت دی ہے لیکن اگر کلام کی دونوں جہات کی خدا کی طرف نسبت دی جائے تو یہ اس معنی میں ہو گا کہ خدا نے انسان کو اس کام کے انجام دینے کی قوت اور طاقت عطا کر رکھی ہے نہ یہ کہ خدا خود وہ فعل انجام دہے رہا ہے۔ پس اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کام کی قوت خدا کی طرف سے ہے مگر اس کے انجام دینے کا تعلق انسان سے ہے۔ چاہے انسان اسے قانون الٰہی کے مطابق انجام دے چاہے مخالف۔ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ انسان کے کاموں کی ساری ذمہ داری اسی کی کندھوں پر ڈالی جائے۔

اس بات کی زیادہ وضاحت اور تاکید قرآن کریم کی یہ آیت کرتی ہے: (فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَ لكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَ ما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَ لكِنَّ اللَّهَ رَمى‏ وَ لِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليم)  (الانفال: 17) [پس انہیں تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور (اے رسول) جب آپ کنکریاں پھینک رہے تھے اس وقت آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے کنکریاں پھینکی تھیں تاکہ اپنی طرف سے مومنوں کو بہتر آزمائش سے گزارے بے شک اللہ سننے والا، جاننے والاہے۔]

یہاں آیت قتل کی ظاہری نسبت تو مومنین کی طرف دے رہی ہے کہ انہوں نے سرکش کفار سے جنگ کے دوران انہیں قتل کیا لیکن اصل میں اس فعل کی نسبت خداوند علی و قدیر کی طرف ہے کیونکہ طاقت اور قوت تو اسی کی طرف سے عطا کی گئی ہے اور اسی کے ذریعے مومنین نے کفار  سے قتال کیا۔ اسی طرح اس کی طرف سے آنے والی برکت اور نصرت بھی اسی بات کی تائید و اثبات کرتی ہیں:(يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ أَقْدامَكُمْ) (محمد: 7) [اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔]

جنگ کے بارے میں نازل ہونے والی آیات کے شانِ نزول اور وقتِ نزول میں اختلاف:

ہم ان آیات، جو خدا کی راہ اور دین کی عزت و عظمت کی راہ میں میں نفس کے دفاع اور قتال کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور آن آیات، جو سِلم و سلامتی اور عفو و درگزر کی دعوت دیتی ہیں، میں بھی کسی قسم کے تضاد اور تنافی کی تردید کرتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جنگ کی آیات ایک خاص زمانے اور خاص حالات میں نازل ہوئی ہیں، کیونکہ یہ کفار کی دشمنی اور سرکشی کے مقابلے میں دین اور نفس کی حفاظت کے لیے دفاعی کردار پر زور دیتی ہیں۔ قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہے:( وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَ لا تُقاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ حَتَّى يُقاتِلُوكُمْ فيهِ فَإِنْ قاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذلِكَ جَزاءُ الْكافِرينَ)  (البقرۃ: 191) [اور انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کرو اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ برا ہے، ہاں مسجد الحرام کے پاس ان سے اس وقت تک نہ لڑو جب تک وہ وہاں تم سے نہ لڑیں، لیکن اگروہ تم سے لڑیں تو تم انہیں مار ڈالو، کافروں کی ایسی ہی سزا ہے۔]

کیونکہ فتنے کے وجود کی وجہ سے جو کہ قتل سے زیادہ شدید ہے اور جس کا سرچشمہ کفار ہیں، اور اس فتنے کی آگ، جو کہ ہر خشک و تر کو کھا جاتی ہے،  کو بجھانے کے لیے اس آگ کو بھڑکانے والوں کے خلاف جنگ کرنا واجب ہو جاتا ہے جو شیطان کے احکام کی پیروی کرتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں کئی نیک مومنین کی جانیں چلی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے مسلمانوں کو ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ فتنے کے خطرے اور اس کے اثرات کا سدباب کیا جائے اور امت مسلمہ کے مومن افراد کی زندگیوں کی حفاظت کی جائے۔ یہ چیز بذاتِ خود قرآن مجید کی امن و روداری کی تعلیمات سے بالکل ہم آہنگ ہے:( وَ إِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَها وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ الْعَليمُ) (الانفال: 61) [اور (اے رسول) اگر وہ صلح و آشتی کی طرف مائل ہو جائیں تو آپ بھی مائل ہو جائیے اور اللہ پر بھروسا کیجیے۔ یقینا وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔] جیسا کہ قرآن مجید نے کفار کے ساتھ جنگ شروع کرنے سے منع کیا ہے جب تک کہ وہ خود جنگ کی ابتدا نہ کر دیں۔ اس منع کرنے کی وجہ یہ ہے تاکہ اپنی جان کا دفاع جائز قرار پائے۔ اس مطلب کی طرف وہ آیت کریمہ اشارہ کرتی ہے جو کفار کے جنگ سے ہاتھ روکنے کو جنگ کے ختم ہونے کی شرط قرار دیتی ہے۔ اس آیت سے یہ مفہوم صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ کفار ہی ہیں جو جنگ کی ابتدا کرتے ہیں: (فإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحيمٌ) (البقرۃ: 192) [البتہ اگر وہ باز آجائیں تو یقینا اللہ بڑا معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔]

اس بنا پر زمانہ صدرِ اسلام کے حالات اور وقت کو ہمارے موجودہ زمانے اور حالات پر منطبق نہیں کیا جا سکتا جو اُس زمانے اور حالات سے بالکل مختلف ہیں، کیونکہ اسلام کے ابتدائی ایام اور ان میں مسلمانوں کے خلاف کفار کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں نے مسلمانوں پر اپنے دین اور مومنین کی زندگیوں کے دفاع کے لیے قتال کو ضروری قرار دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اور حالات،  جو آیات کے نزول کا تقاضا کر رہے تھے، میں قتال کی آیات دفاعی تھیں۔ لیکن آج کے زمانے میں جب تک مسلمان اپنے دشمنوں کی طرف سے امن و امان میں ہیں اس وقت تک قتال جائز نہیں ہے۔

مفاد پرست اور بدباطن لوگوں کی طرف سے جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام کی دفاعی جنگیں دشمنی پر مبنی حملے تھے جو پُر امن لوگوں پر کیے گئے تھے، یہ محض ایک افتراء پردازی ہے کہ منصف اور خالص تاریخ اور دستورِ اسلام (قرآن مجید) کے امن و سلامتی پر مبنی تقاضے جس کا سختی سے انکار کرتے ہیں۔

(البتہ یہاں ایک بات ضرور ملحوظ خاطر رہے کہ ہم ہمیشہ ان جنگوں کی بات کرتے ہیں جو پیغمبر اسلامﷺ کی حیات طیبہ اور امام علی علیہ السلام کے عہد مبارک کہ جو عہدِ پیغمبر ہی کا شرعی تسلسل تھا، میں لڑی گئیں۔ ہمارا ان جنگوں سے کوئی واسطہ نہیں جو اس کے ان دو زمانوں سے ہٹ کر اسلام کے نام پر لڑی گئیں اور انہیں فتوحات کا نام دے دیا گیا۔)

یہ جو کہا گیا اور آج بھی کہا جاتا ہے کہ اسلام اسلحے کے زور پر پھیلا، یہ ایک انتہائی رکیک اور منافقانہ نظریہ ہے جس کا مقصد فقط اور فقط اسلام پر طعن و تشنیع کے دروازے کھولنا ہے، جبکہ یہ بات اسلام کے سلامتی سے معمور راستے اور تمام انسانوں کے ساتھ اجتماعی روابط میں اس کی انسانی اقدار سے بالکل میل نہیں کھاتی۔ قرآن کریم نے واضح آیات کے ذریعے اس نظریے کی تردید کی ہے۔ یہ آیات کسی بھی قسم کی زیادتی نہ کرنے کا حکم دیتی ہیں بلکہ سلامتی کے راستے کو اختیار کرنے اور کفار کے ساتھ بھی اسے طرزِ عمل کے طور پر اپنانے کا حکم دیتی ہیں جب وہ صلح و سلامتی کی شرائط کو قبول کر لیں: (وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَها وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ الْعَليم)۔ (الانفال: 61) [اور (اے رسول) اگر وہ صلح و آشتی کی طرف مائل ہو جائیں تو آپ بھی مائل ہو جائیے اور اللہ پر بھروسا کیجیے۔ یقیناً وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔]

اسی طرح دین اسلام دوسرے افراد حتی کہ اس شخص پر بھی زیادتی کرنے کے اصول کو مسترد کرتا ہے جس نے مسلح جارحیت کا آغاز کیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ قادر مطلق زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور آیت کریمہ بھی پوری وضاحت سے فقط ان لوگوں سے قتال کا حکم دیتی ہے جو تم سے جنگ کریں یعنی جو تم سے جنگ کی ابتدا کریں: (وَقاتِلُوا في‏ سَبيلِ اللَّهِ الَّذينَ يُقاتِلُونَكُمْ وَ لا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدينَ)  (البقرۃ: 190) [۔اور تم راہ خدا میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو اللہ تجاوز کرنے والوں کو یقینا دوست نہیں رکھتا۔]

اسی طرح آیت کریمہ زیادتی نہ کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اور یہ حکم ’’لَا تعتدوا‘‘ کے ذریعے دیا ہے۔ اور قتال کو روکنے کی شرط یہ قرار دی ہے کہ پہلے کافروں کی طرف سے قتال رک جائے۔ پس اگر ان کی طرف سے قتال روکے جانے کے بعد بھی مسلمان اقدامات کریں تو وہ زیادتی شمار ہو گی۔ یہ حکم اس لیے دیا تاکہ مسلمانوں کا اس حکم کو قبول کر لینا خداوند کریم کی طرف سے نازل ہونے والے احکامات کی اطاعت اور احترام قرار پائے:(وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ)  (البقرۃ: 193) [اور تم ان سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے، ہا ں اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے علاوہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو گی۔]

حق کی تلاش کرنے والا ہر شخص اس چیز کو ملاحظہ کرتا ہے کہ دین اسلام ہی سلامتی اور محبت کا دین ہے، جو دوسروں پر زیادتی کو پسند نہیں کرتا، اور اس نے جنگ کی طرف بھی جو دعوت دی ہے تو وہ فقط اپنی جان کی دفاع کے لیے ہے۔ اور یہ بھی ملاحظہ کرتا ہےکہ اس کا راستہ دوسروں کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنا اور زیادتی سے گریز کرنا ہے۔

آیات قرآنی میں ناسخ اور منسوخ میں کوئی تضاد نہیں:

قرآن کریم میں پائی جانے والی ناسخ و منسوخ آیات: (مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)(البقرة-106) [ہم کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کراتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت نازل کرتے ہیں، کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ؟] کے حوالے سے متنوع قسم کے نظریات ہیں۔

ان نظریات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص  کتاب مبین کی آیات میں تدبر نہیں کرتا اس کے نزدیک قرآن میں کچھ ایسی آیات ہیں جو اپنے سے پہلے کچھ آیات کو نسخ کر دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ناسخ ماقبل آیات کا وجود بھی اصلاً ختم کر دیتی ہیں اور ان کی تاثیر کو بھی غیر موثر کر دیتی ہیں۔ اس نظریے کا سبب یہ ہے کہ اس شخص نے لفظ ’’نسخ‘‘ کا مطلب ضائع کرنا اور مٹا دینا سمجھا ہے۔

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ آیاتِ منسوخہ کی فقط تلاوت باقی ہے مگر ان کے احکام اب قابلِ اجراء نہیں ہیں۔ یہ غیر منطقی نظریہ ہے جو قرآنی نصوص سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا جو کہتی ہیں کہ کتاب کی آیات میں نہ تو تعارض و تضاد ہے اور نہ ہی ان کی تاثیر اور حکم ختم ہونے والا ہے۔ اس طرح کا نظریہ، پڑھنے والے کی ذہنی الجھن کی پیداوار ہے جس کے نزدیک ان شکوک و شبہات نے سر اٹھایا کہ کتاب کی آیات آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں جس کی وجہ سے ایک آیت دوسری آیت کی تنسیخ کر رہی ہے یعنی منسوخ آیات بے اثر اور ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

یہ نظریہ قرآن کی صریح نص کے سراسر خلاف ہے جو کہتی ہے کہ کلام اللہ ثابت ہے اور اس کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی:( وتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًاَّ لا مبدل لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ)۔(الأنعام-115) [اور آپ کے رب کاکلمہ سچائی اور عدل کے اعتبار سے کامل ہے، اس کے کلمات کو تبدیل کرنے والا کوئی نہیں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔]،(مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيد) (ق -29) [میرے ہاں بات بدلتی نہیں ہے اور نہ ہی میں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں۔]

اسی طرح قرآن کریم نے اپنے اندر کسی بھی قسم کی کجی کی نفی ہے: (الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا)۔(الكہف -1) [ثنائے کامل اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کسی قسم کی کجی نہیں رکھی۔] اور باطل نہ اس کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے: (لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ)۔(فصلت -42) [باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے، یہ حکمت والے اور لائق ستائش کی نازل کردہ ہے]

نسخ کا معنی محو کرنا یا بے اثر کرنا نہیں ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم لفظ ’’نسخ‘‘ کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کریں۔ اس کے بعد اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے قرآن کریم کی آیات سے استدلال کریں۔

لفظ ’’ننسخ‘‘ کے معانی میں سے ایک معنی تثبیت یعنی ثبت کرنا اور تحریر کرنا  بھی ہے۔ اس بات پر دلیل درج ذیل آیت ہے: (هَـذَاكِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ) (الجاثية-29) [ہماری یہ کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو تم کرتے تھے، ہم اسے لکھواتے رہتے تھے۔]

’’ننسخ‘‘ کا معنی مٹا دینا اور زائل کردینا بھی ہے۔ ہم آیت نسخ کی طرف دوبارہ رجوع  کرتے ہیں اور اسے پڑھتے ہیں تو آیت کہتی ہے ’’مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ ‘‘۔ اب اس میں کون سی آیت مراد لی گئی ہے؟ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ آیات کے کئی معانی ہیں۔ بعض اوقات آیات قرآنیہ کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ:( تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وانك لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ)۔(البقرة -252) [یہ ہیں اللہ کی آیات جنہیں ہم حق کے ساتھ آپ پر تلاوت کرتے ہیں اور آپ یقینا مرسلین میں سے ہیں۔]

بعض اوقات یہ الٰہی معجزے کے معنی میں آتا ہے:( قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَـذِهِ نَاقَةُ اللَّـهِ لَكُمْ آيَةً) (الاعراف:73) [تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلیل آ چکی ہے، یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔]

کبھی عبرت اور حکمت کے معنی میں استعمال ہوا ہے:( قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ)۔(آل عمران-13) [تمہارے لیے ان دو گروہوں میں جو (جنگ بدرکے دن) باہم مقابل ہوئے ایک نشانی تھی، ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافر تھا وہ (کفار) ان (مسلمانوں) کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہے تھے اور خدا جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے اس کی تائید کرتا ہے، صاحبان بصیرت کے لیے اس واقعے میں یقینا بڑی عبرت ہے۔]

کسی مقام پر اسے حکم شرعی کے معنی میں لیا گیا ہے:( أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِّن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طوافون عَلَيْكُم بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ)(النور-58) [اے ایمان والو! ضروری ہے کہ تمہارے مملوک اور وہ بچے جو ابھی بلوغ کی حد کو نہیں پہنچے ہیں تین اوقات میں تم سے اجازت لے کر آیا کریں، فجر کی نماز سے پہلے اور دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد، یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں، ان کے بعد ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے میں نہ تم پر کوئی حرج ہے اور ان پر، اللہ اس طرح تمہارے لیے نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ بڑا دانا، حکمت والا ہے۔] یہاں آیت سے مراد حکم شرعی ہے۔

آیت کی مثل یا اس سے بہتر کسی آیت کا لانا زمانی و مکانی حالات پر منحصر ہے، جس میں کسی شخص کی فکری اور تہذیبی ترقی کو اس کے ماحول کے اثرات کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ اس کی مثال قبلہ کو اس جیسے ایک اور قبلہ کے ذریعے نسخ کرنا ہے۔ اب اس میں مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ واحد و  اَحَد کی طرف متوجہ ہونا کیونکہ تمام آسمانی ادیان توحید کی دعوت دیتے ہیں:( قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ۔)(البقرة-144) [ہم آپ کو بار بار آسمان کی طرف منہ کرتے دیکھ رہے ہیں، سو اب ہم آپ کو اسی قبلے کی طرف پھیر دیتے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں، اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف کریں اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو اس کی طرف رخ کرو اور اہل کتاب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق پر مبنی (فیصلہ)ہے اور جوکچھ وہ کر رہے ہیںاللہ اس سے غافل نہیں ہے۔] جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسی کوئی قرآنی نص موجود نہیں ہے جو بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیتی ہو۔

پہلی آیت سے بہتر آیت کے ذریعے نسخ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا حکم شرعی آئے جو پہلے حکم شرعی سے بہتر ہو۔ جیسا کہ شریعت موسیٰ  علیہ السلام میں مشرک کی سزا یہ تھی کہ اسے قتل کر دیا جائے:( وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ)  (البقرة-54) [اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم! تم نے گوسالہ اختیار کر کے یقینا اپنے آپ پر ظلم کیا ہے پس اپنے خالق کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اپنے لوگوں کو قتل کرو، تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی، بے شک وہ خوب توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔] جبکہ اسلام میں مشرک کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہے تو اسے خالص توبہ کرنا پڑے گی، اس کے بعد وہ امت اسلام میں داخل ہو جائے گا:( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّـهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير)ٌ (التحريم-8) [اے ایمان والو! اللہ کے آگے توبہ کرو خالص توبہ، بعید نہیں کہ اللہ تم سے تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اس دن اللہ نہ اپنے نبی کو رسوا کرے گا اور نہ ہی ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہو گا اور وہ دعا کر رہے ہوں گے: ہمارے پروردگار! ہمارا نور ہمارے لیے پورا کر دے اور ہم سے درگزر فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔]

اس کے بعد ہم آیات منسیہ کا تذکرہ کرتے ہیں جن سے مراد وہ احکام و قوانین تھے جو سابقہ انبیاء پیغمبر اکرمﷺ کے لیے لے کر آئے اور خداوند کریم نے ان احکام کو قرآن مجید میں نہ تو اپنے نبیﷺ کے لیے بیان کیا اور نہ ہمارے لیے۔ ان احکام و شرائع کو آیات منسیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے: (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ فإذا جَاءَ أَمْرُ اللَّـهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ)(غافر-78) [اور بتحقیق ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے ہیں، ان میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ سے بیان کیے ہیں اور بعض کے حالات آپ سے بیان نہیں کیے اور کسی پیغمبر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی آیت پیش کرے، پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور اس طرح اہل باطل خسارے میں پڑ گئے۔]

گذشتہ بحث سے واضح ہو جاتا ہے کہ اگر ہم قرآن کریم کی آیات میں اچھی طرح غور و فکر کریں اور عربی زبان جو قرآن کریم کی زبان ہے اور جس میں یہ نازل ہوا ہے، کے معانی و مطالب کو جان لیں تو قرآن کریم کی آیات میں ہمیں کوئی تعارض نظر نہیں آئے گا۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018