15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 12:40 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | انسانی حقوق |  قیدی کا حق
2020-06-14   234

قیدی کا حق

جہاں تک قیدی کے حق کی بات ہے ، تو اسلام میں انسانیت ایک خاصیت ہے جسے کسی حدود میں محدود کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی قیود میں مقید۔ بلکہ انسان جس زمان و مکان یا جس کیفیت میں بھی ہو، اسلام نے ان کا خیال رکھنا لازم قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جہاں  مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی ہے( وہ بھی فقط دفاع کی خاطر ہے)وہاں ان پر یہ بھی لازم قرار دیا ہے کہ دشمن کے ساتھ اچھا سلوک کرے، خواہ کسی بھی قسم کا دشمن یا دشمن کا سہولت کار ہو۔اسی طرح  اسلام نے دشمن کی بنیادی ضررویات کو روکنے سے منع کیا ہے۔جیسے ان  کا پانی روکنا، ان کے کھیت جلانا، اس کے کھانے میں زہر ملانا حتی کہ ان کے خلاف ممنوعہ ہتھیار استعمال کرنا اور ان کے ساتھ ہر قسم کی  ناجائز زیادتی کرنے  سے بھی منع کیا ہے۔وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ(البقرة ـــ190)  'اور تم راہ خدا میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو اللہ تجاوز کرنے والوں کو یقینا دوست نہیں رکھتا۔

اسی طرح اسلام نے دشمن کے ساتھ  جنگ میں حصہ نہ لینے والے افراد کو قتل کرنے سے بھی  منع کیا ہے جیساکہ خود ِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 'دار حرب' میں دشمن کے بچوں اور عورتوں کو  قتل کرنے سے منع فرمایا  کہ جب تک وہ خود مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہوں۔اسی  طرح آنحضرتؐ نے دشمن کی زمین پر ان کو زہر دینے سے بھی منع فرمایا ہے۔ بلکہ آپؐ نے دشمن کے مقتولین کا مُثلہ (اعضاء بدن کاٹنا) کرنے سے بھی سختی سے روکا ہے۔  جب مقتولین کے ساتھ یہ حال ہے تو آپؐ قیدیوں کے ساتھ تو بطریق اولیٰ ہر ممکن انسانیت کے ساتھ پیش آنے کے خواہاں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگی قیدیوں کو اپنے اصحاب میں یہ فرماتے ہوئے بانٹ دیتے تھے کہ ان کے ساتھ ہر ممکن اچھائی سے پیش آو۔ پس اس  سے معلوم ہوتا ہے کہ قیدی کےحقوق  بہت زیادہ ہیں جن کا شمار ان سطور میں ممکن نہیں۔

یہاں یہ بات واضح کرتا  چلوں کہ اسلام نے جنگ میں حصۃ لینے والے دشمنوں میں سے خصوصی طور پر  قیدی کے لئے  جو نام  (اسیر)استعمال کیا ہے    اسی نام کی بنیاد پر ہی اس کے ساتھ برتاو  کرتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کے کلام ِ برحق میں واضح طور پر یہ دستور آیا ہے کہ "فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ" (سورہ محمد:4)'پس جب کفار سے تمہارا سامنا ہو تو (ان کی) گردنیں مارو یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کر چکو تو (بچنے والوں کو) مضبوطی سے قید کر لو، اس کے بعد احسان رکھ کر یا فدیہ لے کر (چھوڑ دو) تاوقتیکہ لڑائی تھم جائے، حکم یہی ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لیتا لیکن (اللہ کو یہ منظور ہے کہ) تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعے سے لے اور جو لوگ راہ خدا میں شہید کیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز حبط نہیں کرے گا۔'  یہاں اسیر کو قتل کرنے سے  واضح طور پر  منع فرماتا ہے،  بلکہ  یہ حکم بھی دیتا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد خیر سگالی کے طور پر یا اس سے تھوڑا سا مال فدیہ لے کر آزاد کرو ، یا پھر قید میں رہنے دو۔

 اسلام نے تاکید کی ہے کہ قیدی کے ساتھ ہمیشہ انصاف سے پیش آئیں،  قطع نظر اس کے کہ وہ کس سے وابستہ ہے اور اس کے ساتھ جنگ نوعیت کیا ہے۔ یہ انسانی رویہ اسے تکلیف اور ضرر پہنچانے سے اجتناب کرنے اور ان کے  کھانے پینے کی ضرورتوں  کا خیال رکھنے سے ہی ممکن ہے۔"ويطعمون الطّعام على حبّه مسكينا ويتيماً وأسيراً" (سورہ الانسان: 8) ' اور اپنی خواہش کے باوجود مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018