15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 1:09 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | اسلامک اثنولوجی (نسلیات) |  یوروپ میں مسلمانوں کی آبادی،شرح افزائش اور حکومتوں کا خوف
2020-06-10   241

یوروپ میں مسلمانوں کی آبادی،شرح افزائش اور حکومتوں کا خوف

ساتویں صدی عیسوی میں اسلام یورپ میں داخل ہوا، اور آہستہ آہستہ پھیل گیا، اس کا سبب کبھی اسلامی فتوحات ٹھریں، اور کبھی دوسرے مسلمانوں کی یورپ کی طرف  ہجرت سے یہاں مسلمان آئے، تیسرا لوگوں کے مابین ثقافتی تبادلہ کے ذریعہ یہاں لوگوں نے اسلام کو قبول کیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے یہ بات یورپ میں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ مغربی معاشرے میں اسلام کے پھیلاو اور مسلمانوں کی تعداد کے حوالے سے چند اعداد شمار ہیں جنہوں معتبر ذرائع سے حاصل کیا گیاہے ملاحظہ ہوں۔

2010 کے اعدادوشمار کے مطابق ، یورپ کی آبادی لگ بھگ (708) ملین ہے۔

مسلمانوں کی تعداد 44 ملین ہے ، یہ آبادی ترکی کی مسلمان آبادی کے علاوہ ہے  جو کل آبادی کا 6٪ ہے۔

تاریخ میں یہ دلچسپ صورتحال پہلی بار پیدا ہوئی کہ  یوروپ میں مسلمانوں کی تعداد 2008 میں پہلی بار کیتھولک افراد کی تعداد سے تجاوز کر گئی۔

کچھ یورپی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کا تناسب۔

کوسوو میں، کل آبادی کا 90٪۔

البانیہ میں 70٪

بوسنیا اور ہرزیگوینا 40٪

جمہوریہ میسیڈونیا کے بارے میں 30

روس میں 10 اور 15٪ کے درمیان

بلغاریہ میں 12٪

فرانس میں 6.9٪ سے

برطانیہ میں 5٪

جرمنی 5٪

پیو انسٹی ٹیوٹ کی پیشن گوئی:

پیو امریکن انسٹی ٹیوٹ برائے شماریاتی علوم نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030 تک یورپ میں مسلمانوں کا تناسب 6 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد ہو جائے گا۔ یہ اضافہ مندرجہ ذیل وجوہات   کی بنیاد پر ہو گا:

مسلمانوں کی بلند شرح پیدائش

یورپی باشندوں میں شرح تولید میں کمی

افریقہ ، ترکی اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے نوجوان مسلمان

یورپ میں مسلمانوں کے بارے میں پیو  انسٹی ٹیوٹ  میں اس تحقیق  کے ایک اہم رکن جیمس بیل نے کہا ، "اسلام قبول کرنا دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کو جس طرح بڑھا رہا ہےاس طرح افزائش نسل اتنا بڑا کردار ادا نہیں کر رہی۔

"یوروپ میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا 53 ملین مسلمان ہے ، یا کل آبادی کا 5.2 فیصد ہیں ، جن میں سے  16ملین مسلمان یورپی یونین میں رہتے  ہیں۔ ، یعنی 2010 کے اعدادوشمار کے مطابق یونین کی کل آبادی کا3.2فیصد ہیں۔

یورپ میں افزائش نسل کی کم شرح:

یوروپی سرکاری اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ یوروپی یونین کے ممالک میں شرح پیدائش کم سطح پر پہنچ گیا ہے ، جو یورپ کی مذہبی اور نسلی تشکیل کے لئے سنگین خطرہ بن گیا ہے ۔یہ مستقبل میں اپنے لوگوں کے مسیحی وجود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا ، تمام یوروپی ممالک میں شرح پیدائش کم ہوچکی ہے۔ 1.38فی خاندان پیدائش کی شرح ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تین خاندان چھ افرادکے چار بچے ہوتے ہیں ۔ آپ یورپی معاشروں میں افراد  کی تعداد میں بتدریج کمی کا تصور کرسکتے ہیں۔ جس سے عیسائی یورپ کے وجود کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے۔

اگر کوئی مذہبی یا نسلی ادارہ اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتا ہے تو ، اس کا فی خاندان 2.11 بچوں سے کم نہیں ہونا چاہئے۔ اگر پیدائش کی شرح فی خاندان 1.9 ہے تو  پھر آہستہ آہستہ زوال پذیر  ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن اگر یہ 1.3 تک پہنچ جائے تو مستقبل قریب میں مکمل انہدام کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔جیسا کہ 2007 میں حکومتی اعدادوشمار سے ظاہر ہوا ، کچھ یوروپی ممالک میں پیدائش مندرجہ ذیل فیصد تک پہنچ گئی۔

فرانس میں ، تناسب فی خاندان 1.8 پیدائشیں ہوئیں۔

برطانیہ میں ، ہر خاندان میں 1.6 پیدائشیں ہوئیں۔

جرمنی اور یونان میں ، ہر خاندان میں 1.3 پیدائشیں ہوئیں۔

جبکہ اٹلی میں ہر خاندان میں 1.2 پیدائشیں ہوتی ہیں۔

اسپین میں ، یہ فی خاندان 1.1 پیدائشیں ہوئیں۔

اگر ہم ان ممالک میں شرح پیدائش پر غور کریں تو یہ فی خاندان 1.38پیدائش ہوگی جو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ان ممالک میں پیدائش کا تناسب ریڈ لائن پر پہنچ گیا ہے اور اب ان کی آبادی آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

مسلمانوں میں بلند شرح پیدائش

جہاں تک مسلمانوں میں شرح پیدائش  کی بات ہے تویہ فی مسلمان خاندان میں اعلی سطح پر 3.1 پیدائش ہے ، اور اعدادوشمار کے مطابق اگر شرح پیدائش اسی طرح جاری رہی تو اگلے انتالیس سال میں یورپ میں مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018