15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 1:16 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | اسلامک اثنولوجی (نسلیات) |  مذاہبِ عالم اور مسلمانوں کی حیثیت
2020-05-22   184

مذاہبِ عالم اور مسلمانوں کی حیثیت

2013ء میں شائع ہونےوالی  ایک رپورٹ کےمطابق دنیا میں انسانوں کی آبادی تقریبا 7،095،217980کے قریب  ہے۔اس رپورٹ  میں دنیاکے  مختلف مذاہب اور ان کی تفصیلات کچھ اس طرح دی گئی ہے۔

دنیا کی کل آبادی میں سے  5.8 ارب لوگ کسی بھی مذہب سے وابستہ  رکھتے ہیں جبکہ باقی  1.1 ارب لوگ ملحداور لامذہب ہیں۔

پہلے نمبر پر مسحیت  ہے جو  دنیا کی 31.50  فیصد آبادی پر مشتمل  ہے۔

دوسر نمبر پر    اسلام ہے   : مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کا 23.20 فیصد ہے۔

جبکہ تیسرےنمبر پر  ہندو مذہب ہے  ،  دنیا میں ہندوں کی آبادی 13.8 فیصد پر مشتمل ہے ۔

دنیا میں یہودیوں کی تعداد بہت کم ہے یہودیوں کی  کل آبادی دنیا کی آبادی کا  0.22 فیصد ہےیعنی 15 ملین سے زیادہ یہودی دنیا میں نہیں ہے ۔ اسی طرح  بہائی مذہب کی کل آبادی  0.11 فیصد ہے ۔ بہائی مذہب کے پیروکار دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہے جیسے امریکہ،ہندوستان،اور جنوبی امریکہ وغیرہ۔

ان مذاہب کے علاوہ دنیا  میں بسنے والے دیگر مذاہب  کی آبادی  10.95 فیصدپر مشتمل ہے ۔ان میں  مقامی سطح کے معروف اور معروف مذاہب وغیرہ  شامل  ہیں جیساکہ   کنفیو شزم،لاویہ،اور شنتوازم  (جاپانی مذہب)   کرویس، راماکرشنا وغیرہ ہیں ۔

دنیا میں ملحدین  کی آبادی  2.01  فیصدہے ، یہ لوگ کائنات کو صرف حادثاتی طور پر وجود میں آنے کے قائل ہیں  اور خالق کے وجود  کا انکارکرتے ہوے کسی بھی  چیز کے وجود کو فطرت  یا اتفاق سے منسوب کرتے ہیں۔

لادینوں  (وہ لوگ جو کسی بھی مذہب کاانکار کرتے ہیں )  کی تعداد دنیا میں  16.3 فیصد ہے ۔لا دینی فکر   رکھنے والوں میں  سے 52 فیصد لوگ چین میں آباد ہیں یہ لوگ کسی بھی مذہب اور اعتقادات و غیرہ سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہیں۔عرب دنیا میں لادینیت  اختیار کرنے والوں کی تعداد 0.2  تک پہنچ چکی ہیں اور یہ شرح  باقی  دنیا کی نسبت کم ہے  یعنی اگر عرب دنیا کی کل آبادی کو 370  ملین فرض کیا جائے تو بھی لادینیت کی تعداد 2.1  سے تجاوز نہیں کرسکتی ۔

دنیا کے 49 ممالک میں مسلمان تین چوتھائی اکثریت میں رہتے ہیں جبکہ   دیگر ممالک میں  موجو د ایک چوتھائی مسلمان اقلیت یا جماعت کی حیثیت سے رہتے ہیں۔

مسلمانوں کی اوسط عمر 23 سال ہے جوکہ   عالمی سطح پر بہت ہی کم عمر ہے  جبکہ دنیا میں      بسنے والے لوگوں کی اوسط عمر  28 سال ہے، اس کا مطلب یہ ہے کی  مسلمانوں کی اکثریت جوانوں پرمشتمل ہے  اور  آنے والے زمانوں میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔اس طرح سے  2030  تک مسلمانوں کی  آبادی 1.6  ارب سے بڑھ کر 2.2  ارب تک پہنچ جائے گی۔

سب سے زیادہ مسلمان انڈؤنیشیا اور بر صغیر پاک و ہند میں موجود ہے انڈونیشیا میں 209 ملین مسلمان زندگی گزاررہے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آبادی  200 ملین مشمل ہے۔ پاکستان  مسلم اکثریت ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے یہاں 167 ملین مسلمان رہتے ہیں۔اس کے بعد بنگلہ دیش کا نمبر آتا ہے وہاں پر 133 ملین مسلمان بستے ہیں ۔نائجیریا میں مسلمانوں کی آبادی 133 ملین پرمشتمل ہے۔ مصر اور ایران میں 80 ملین مسلمان بستے ہیں جبکہ مراکش میں مسلمانوں کی تعداد 32 ملین ہے ۔عالمی آبادی میں سے 61 فیصدلوگ آج بھی مقبول دین کی طرف آرہے ہیں۔

یہودی  دنیا میں سب سے کم    مذہبی جماعت ہے  ،  ان کی تعدا 15 ملین سے زیادہ نہیں ہے  اور 15 ملین میں سے 41 فیصد یعنی 6150000 یہودی لوگ اسرائیل میں موجود ہیں جبکہ امریکا میں ان کی تعداد 6150000 ہیں اس کے علاوہ 18 فیصد یہودی آبادی دیگربر اعظموں میں ہے انکی تعداد 2700000ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018