15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 12:33 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | تاریخِ اسلامی |  اسلام کی زمانی فاصلے اور اس پر وثوق میں ہم آہنگی
2020-01-19   337

اسلام کی زمانی فاصلے اور اس پر وثوق میں ہم آہنگی

اسلام کے وجود و واقعیت پر وثوق مسلمانوں کے عقائد کے استحکام میں ایک اہم اور موثر جزو کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ واقعیتِ اسلام کی مصداقیت کا ایک مسلمان کی اخلاقی، عقائدی و نظریاتی بنیاد پر ایک نفسیاتی اثر مرتب ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وثوق مسلمان میں اپنے اس اسلامی عقیدے پر قلبی اطمینان کی روح بیدار کرتا ہے، جس کے مطابق وہ اپنے اعمال انجام دیتا ہے۔

اس بنا پر اسلام کی واقعیت کی تصدیق کے لیے کچھ ایسے دلائل اور شواہد فرض کیے جا سکتے ہیں جو موجود بھی ہوں اور مستحکم بھی، اسلامی واقعیت کے ساتھ زمانی، مکانی اور نفسیاتی طور پر متصل ہوں اور ان پر وثوق اور اعتماد کیا جا سکتا ہو تاکہ نفوس اور قلوب مطمئن ہوں اور اپنے ایمان و اعتقاد پر سختی سے قائم رہیں۔ یہ ضرورت خاص طور پر اس وقت تو اور بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں اور بعض اسلامی واقعات میں بڑھنے والا زمانی فاصلہ 1400 سال تک چلا جاتا ہے۔ یہ بات اس شخص کے لیے ان واقعات کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پیدا کر دیتی ہے جو ان کے بارے میں یقین حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اسلام کی وثاقت کی بحث کی بازگشت اس یقین کی طرف ہے کہ اسلام ہر قسم کی تحریف و تبدیلی سے محفوظ ہے۔ جو وقت گزر چکا ہے اس کے واقعات کی تحریفات اور تبدیلیوں سے صرفِ نظر کرنا آسان نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان واقعات کے جعلی اور نقلی ہونے کا شک باقی رہتا ہے۔

گزرے ہوئے واقعات پر یقینی اور اطمینان بخش صورت میں قائل ہونے کے لیے ان واقعات کو بلاجواز اور تحقیق و سوالات کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ ایسے دلائل و شواہد کے بارے میں سوال کریں جو ان واقعات کی صحت اور وثاقت کی تصدیق کریں جو زمانۂ پیغمبر اکرم محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دین اسلام اور اسلامی حکومت کی بنیادوں کی تشکیل کے وقت اور آپؐ کےعہد مبارک کے بعد آنے والے زمانے میں کہ جو اسلامی واقعات کی پیش رفت سے متعلق ہے، رونما ہوئے۔ یہ سوال وہ جائز حق ہے جس کا جواز ہمیں دین اسلام عطا کرتا ہے کہ جس نے ہمیشہ مسلمانوں سے، ان پر گزرنے والے واقعات میں تدبر اور فکر کرنے کا تقاضا کیا ہے۔ بہت سی آیات میں یہ حکم موجود ہے: ذلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذينَ كَذَّبُوا بِآياتِنا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ۔ (الاعراف: 176) [یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں، پس آپ انہیں یہ حکایتیں سنا دیجیے کہ شاید وہ فکر کریں۔]

تفکر و تدبر کے ذریعے حاصل ہونے والے یقین کے بغیر ظہور اسلام کا واقعہ فقط ایک وہم اور دیومالائی داستان بن کر رہ جاتا ہے جو کتابوں میں بغیر کسی ایسی دلیل کے لکھ دی گئی ہو جو اس کی تصدیق کرتی ہو۔ اور اسے بغیر کسی دلیل کے لکھنے سے شک و تردید پیدا ہوتی ہو، جیسا کہ بعض اسلامی واقعات کے بارے میں پیدا ہونے والا وہم و شک، بلکہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ واقعات مصنفین اور جعل سازوں کی خیال پردازیاں ہیں کہ جنہیں وہ اپنے بے بنیاد خیالات اور مزاجوں کے حساب سے یا اپنے زمانے کی حکومتوں کے دباؤ میں آ کر احاطہ تحریر میں لائے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں کے اردگرد تقدیس کا ایسا ہالہ بنا دیا کہ ان کتابوں کے مطالب مسلّمات میں سے شمار ہونے لگے اور اسلام کا حقیقی مصداق بن گئے کہ جن کا انکار مشکل ہو گیا خصوصاً جب بعد کی نسلوں نے ان پر بغیر سوال و تحقیق کے عمل کرنا شروع کر دیا۔

لہٰذا ان واقعات کی توثیق و تصدیق کے لیے ایسا علمی اور منطقی طریقہ کار اپنایا جائے جس کے ثابت ہونے سے مسلمانوں کا اپنے عقیدے پر یقین مستحکم ہو جائے۔

جو ادلّہ اور شواہد ظہورِ اسلام کی واقعیت و حقیقت کی توثیق و تصدیق کرتے ہیں، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

۱۔ دین اسلام کی بقاء، استحکام اور تیزی سے نشوونما

مسلمانوں کی مختلف خطوں میں سکونت، مختلف حکومتوں کے زیر اثر ہونے اور اپنی کثرت (تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ) کے باوجود ایک عقیدے (عقیدہ اسلام) پر ان کا اکٹھے ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک آسمانی دین ہے جس کے ساتھ رسول اعظم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔ آج کے مسلمانوں کے، آغاز اسلام سے اتنے زیادہ زمانی فاصلے کے باوجود ان کا آج تک اپنے رسوم و رواج میں اسلامی تعلیمات و قوانین پر عمل کرنا، دین اسلام کے وجود کی تصدیق پر سب سے مضبوط دلیل اور سب سے بڑا شاہد ہے کہ دین اسلام ایک ایسا قدیم پیغمبرانہ واقعہ ہے جو آج بھی زندہ وجود کا حامل ہے۔ آج بھی اس کے اثرات مومن نفوس کو تسکین بخشتے ہیں اور یہ نفوس اس کی قدامت اور بقاء کی گواہی دیتے ہیں۔ اسی طرح اہم تاریخی واقعات پر مسلمانوں کا اتفاق اور کتابوں کی تدوین بھی اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ بھی تدوین و تالیف کیا، آپس کے  مسلکی اختلافات کے باوجود، وہ اس کی صحت کا اعتقاد رکھتے تھے اور اس کے وقوع پر انہیں پورا یقین تھا۔ جیسے ابتداء میں مکہ مکرمہ میں ظہورِ اسلام، مشرکینِ قریش کی رسول اللہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت،  اس کے ساتھ ساتھ دس ہجری میں پیش آنے والا فتح مکہ کا واقعہ، مقامِ غدیر پر بیعت کا واقعہ  جو پیغمبر اکرم محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں حجۃ الوداع سے واپسی پر پیش آیا جس میں امیر المومنین علی  علیہ السلام کی مسلمانوں کے ولی و امام کے طور پر بیعت کی گئی۔

۲۔ اسلامی دستاویزات اور تالیفات کا وجود

ظہورِ اسلام کی وثاقت و حقیقت پر موجود دلائل میں سے ایک دلیل قدیم اسلامی دستاویزات کی وہ دریافت ہے جو ماہرین آثارِ قدیمہ کے ہاتھوں انجام پائی۔ ان دستاویزات کی دقیق جانچ پڑتال اور ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے طریق کار سے ان کی قدامت ثابت ہو چکی ہے۔

جس سے سائنسدانوں نے ان دستاویزات کے اصل اور قدیم ہونے کے یقین کے بعد یہ معلوم کیا کہ یہ دستاویزات ظہورِ اسلام کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ قرآن مجید کے پرانے نسخوں کی جانچ پڑتال سے یہ ثابت ہوتا ہے، مثلاً برمنگھم میں پڑا نسخہ جو قرآن مجید کا اب تک کا سب سے قدیم ترین نسخہ شمار ہوتا ہے۔ اس کا سلسلہ پیغمبر اکرم محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک ترین زمانے تک جا ملتا ہے۔ دوسرا نسخہ صنعا ہے جو پہلے نسخے سے متأخر ہے۔ یہ دونوں نسخے ہمارے ہاتھوں میں قرآن کریم کی موجودہ نسخے کی تصدیق اور توثیق کرتے ہیں کہ یہ ایک الٰہی دستاویز ہے جس کا سرچشمہ آسمانی وحی ہے اور آج ہمارے درمیان یہی نسخہ رائج ہے۔

مختلف علمی، ادبی اور فلسفی شعبوں میں عرب اور مسلمان فلاسفہ، علماء اور ادباء کی کچھ دوسری تالیفات اور دستاویزات بھی اپنے عناوین، اوقات اور مختلف اسلامی ادوار اور واقعات کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسا کہ طب میں فخر رازی کی تالیفات، کیمیا میں جابر بن حیان، فلسفہ میں فارابی، ابن رشد، ابوحیان توحیدی اور ابن عربی کی تالیفات، شعرو ادب میں مختلف تصنیفات، اس کے ساتھ ساتھ ماہرین آثارِ قدیمہ کو ملنے والے سونے اور چاندی کے سکے عباسی دور اور مصر میں فاطمی دورِ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ایک اور دلیل ہے  جو پرانے زمانے میں اسلامی حکومتوں کے وجود کی تصدیق کرتی ہیں۔

۳۔ اسلامی یادگاروں کا وجود

مدینہ منورہ میں آج تک قدیم یادگاروں کا وجود، مثلاً رسول اللہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ گھر جس میں آپؐ رہائش پذیر تھے، مسجد نبویؐ کے آثار جو نماز کے وقت اور ان کے دینی اور دنیوی معاملات میں بحث و تمحیص کے وقت مسلمانوں کے اجتماع کا مرکز تھی، مسجد قباء، قبرستان بقیع جو پیغمبر اکرم محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے ہے اور مدینہ کا سب سے بڑا قبرستان شمار ہوتا ہے، جنگِ احد کے شہداء کا قبرستان؛ یہ سب یادگاریں ظہورِ اسلام کی وثاقت پر دلیل ہیں اور شاید پیغمبر اکرم محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض جنگوں کی یادگاروں کا وجود ان حوادث کے وقوع پر اطمینان اور اس یقین پر استحکام میں اضافے کا موجب بنے۔ کیونکہ یہ تمام مقامات اور یادگاریں ابھی تک موجود ہیں، جیسا کہ جنگِ بدر، خندق اور اُحد کی یادگاریں اور اسی طرح جنگ خیبر کے آثار جس کے قلعے کا دروازہ آج بھی اس زمانے کی جنگ کے بعض حالات کی حکایت کرتا ہے۔ نیز آج تک بعض اسلامی شہروں کی موجودگی جو کسی زمانے میں اسلامی حکومتوں کے دارالحکومت ہوتے تھے، بھی ظہورِ اسلام کی وثاقت کا یقین کرنے میں بہت زیادہ تاثیر رکھتے ہیں، جیسا کہ مدینہ منورہ جو پیغمبر اکرم محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد آپؐ کی حکومت اور ان کے بعد آنے والے سیاسی خلفاء ابوبکر، عمر و عثمان کے زمانے میں اسلامی حکومت کا دارالخلافہ رہے۔ اسی طرح کوفہ کا شہر جو امیر المومنین علیہ السلام کے عہدِ حکومت میں اسلامی حکومت کا دارالخلافہ بنا جب امام علیہ السلام نے خلافت کو مدینہ سے کوفہ کی طرف منتقل کیا جب انہوں نے اہل کوفہ کی اپنے لیے نصرت اور حمایت کو ان جنگوں میں دیکھا جو جمل میں ناکثین کے خلاف، صفین میں قاسطین کے خلاف اور نہروان میں مارقین کے خلاف لڑی گئیں۔ نیز بغداد میں جو عباسی سلطنت کا دارالحکومت تھا اور جس کی بنیاد منصور عباسی نے رکھی تھی یہ یادگاریں اور ان کے علاوہ عباسیوں کی بہت سے دوسری یادگاریں جیسے مدرسہ مستنصریہ وغیرہ کے آثار، نیز شہرِ سامرہ جو عباسی حکومت کا دارالخلافہ رہا۔ اس میں بھی بہت سے شواہد موجود ہیں جیسا کہ مینار ملویہ جسے خلیفہ متوکل نےتعمیر کروایا تھا اور قصر عاشق۔  اور ہمیں اموی عہد حکومت کے دارالخلافہ دمشق کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جس میں آج بھی اموی یادگاریں موجود ہیں، جیسا کہ اموی جامع مسجد جو اُس دور کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ اندلس میں اموی حکومت کی یادگاریں بھی ہم سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہییں، جہاں عربوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی اور اسی طرح قرطبہ، اشبیلیہ اور کچھ دوسرے شہر بھی اسلامی وجود کی عظیم یادگاروں کی توثیق کرتے ہیں۔ یہ یادگاریں اس بات پر گواہی دیتی ہیں کہ یہاں پر مسلمان علمی، تہذیبی اور تعمیراتی شعبوں پر عظیم اثرات کے حامل تھے۔

لہٰذا یہ مراکزِ حکومت اور اسلامی شہر جو اسلامی حکومت کے توسیع کے ساتھ ساتھ پھیلتے رہے، ظہورِ اسلام کی وثاقت پر بہترین دلیل ہیں، جس کا انکار ان لوگوں کے لیے ممکن ہی نہیں ہے جو اسلام، اس کی تاریخ اور حکومت کو اس وقت تک ناپسند کرتے رہیں گے، جب تک ان کی طرف سے بری نیتیں اور خبیث عوامل موجود رہیں گے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018