15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 12:30 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | احکامِ اجتماعی |  معاشرے کے حقوق، قرآن کی نگاہ میں
2020-01-16   249

معاشرے کے حقوق، قرآن کی نگاہ میں

انسانیت کے ابدی اور دائمی منشور،قرآن کریم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ انسانی زندگی کے تمام  معاملات کا مکمل احاطہ کرتا ہے اور کسی معاملے کو ترک نہیں کرتا ۔ اور اگر معاشرتی پہلو سے وابستہ امر کو دیکھا جائے تو آپ کو نظر آئے گا کہ قرآن فرد اور معاشرے کے درمیان تعلق کی عمومی بنیادیں رکھتا ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے حقوق و  فرائض مقرر کرتا ہے تاکہ یہ دونوں مکارم اخلاق کو مکمل کرتے ہوئے اور انسانی معاشرے کے اندر محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے اپنے کردار سے ترقی کریں۔ ذیل میں ہم معاشرے کے کچھ ایسے حقوق کو بیان کرتے ہیں جو فرد اور خاندان (پہلی معاشرتی اکائی) پر واجب ہیں۔ ان حقوق میں سے سب سے اہم حق نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں عدم تعاون ہے۔ خداوند کریم فرماتا ہے: وَ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوى‏ وَ لا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَ الْعُدْوانِ۔ (المائدۃ: ۲) [اور (یاد رکھو) نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو۔] اور قرآن نےمعاشرے کے افراد کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے:  وَ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ لا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً وَ بِذِي الْقُرْبى‏ وَ الْيَتامى‏ وَ الْمَساكينِ وَ الْجارِ ذِي الْقُرْبى‏ وَ الْجارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَ ابْنِ السَّبيلِ وَ ما مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَنْ كانَ مُخْتالاً فَخُورا۔ (النساء: 36) [اور تم لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی چیز کو اس کاشریک قرار نہ دو اور ماں باپ، قریب ترین رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب ترین رشتہ دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی، پاس بیٹھنے والے رفیقوں، مسافروں اور جو (غلام و کنیز) تمہارے قبضے میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو، بے شک اللہ کو غرور کرنے والا، (اپنی بڑائی پر) فخر کرنے والا پسند نہیں۔] اسی طرح قرآن کریم نے اس شخص کے لیے نصرت کا حق بھی تسلیم کیا ہے جو نصرت طلب کرتا ہے: وَ إِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ۔ (انفال: 72) [البتہ اگر انہوں نے دینی معاملے میں تم لوگوں سے مدد مانگی تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے] اس کے علاوہ خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقہ نہ ڈالنے کا بھی حکم دیا ہے: وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا۔ (آل عمران: 103) [اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو] اس کے ساتھ اس نے مومنین کے درمیان صلح کی کوشش کرنے کا بھی امر کیا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔ (الحجرات: 10) [مومنین تو بس آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا تم لوگ اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔] اسی طرح ہمارے قرآن کریم نے عفو و بخشش کا حکم دیا ہے: خُذِ الْعَفْوَ وَ أْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجاهِلينَ۔ (الاعراف: 199) [(اے رسول) در گزر سے کام لیں، نیک کاموں کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔] معاہدوں کی پاسداری کا بھی حکم دیا ہے: يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ۔ (المائدہ: 1) [اے ایمان والو! عہد و پیمان پورا کیا کرو۔] امانت کی ادائیگی کا کو بھی لازم قرار دیا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلى‏ أَهْلِها وَ إِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كانَ سَميعاً بَصيراً۔ (النساء: 58) [بے شک اللہ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل کے سپرد کر دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو، اللہ تمہیں مناسب ترین نصیحت کرتا ہے، یقینا اللہ تو ہر بات کو خوب سنتا، دیکھتا ہے] فقراء، مساکین اور مسافروں کے حقوق ادا کرنے اور فضول خرچی اور اصراف کے ذریعے دولت کو ضائع نہ کرنے کا بھی حکم دیا: وَ آتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ وَ الْمِسْكينَ وَ ابْنَ السَّبيلِ وَ لا تُبَذِّرْ تَبْذيراً۔ (الاسراء: 26) [۔ قریبی رشتہ داروں کو ان کا حق دیا کرو اور مساکین اور مسافروں کو بھی اور فضول خرچی نہ کیا کرو۔] اور یہ بھی فرمایا کہ : وَ في‏ أَمْوالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَ الْمَحْرُومِ۔ (الزاریات: 19) [اور ان کے اموال میں سائل اور محروم کے لیے حق ہوتا تھا۔] نیک اخلاق کی ترویج اور صحیح راستے پر چلنے کے لیے قرآن نے ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرنے کی تلقین کی: وَ تَواصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَواصَوْا بِالصَّبْر۔ (العصر: 3) [جو ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے ہیں اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔] قرآن کریم نے فرد پر معاشرےکے جو حقوق بیان کیے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اصلاح اور تبدیلی کے واجب کو ادا کرے تاکہ معاشرہ عقیدتی، سماجی اور اخلاقی انحراف سےمحفوظ رہے۔ فرد پر یہ بھی واجب ہےکہ وہ مصیبتوں اور نامساعد حالات کا صبر اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرے۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو وصیت کی ، اس میں ہے: يا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلاةَ وَ أْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلى‏ ما أَصابَكَ إِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُور۔ (لقمان: 17)۔ [اے بیٹا! نماز قائم کرو اور نیکی کا حکم دو اور بدی سے منع کرو اور جو مصیبت تجھے پیش آئے اس پر صبرکرو، یہ امور یقینا ہمت طلب ہیں] اس طرح قرآن کریم نے ظلم، قتل اور اموال و جائیداد کو غصب کرنے کے ذریعے دوسرے پر زیادتی سے منع فرمایا ہے: وَ لا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدينَ۔ (البقرہ: 190) [اور حد سے تجاوز نہ کرو اللہ تجاوز کرنے والوں کو یقینا دوست نہیں رکھتا۔] بغیر اجازت دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے کو حرام قرار دیا ہے: يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتاً غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَ تُسَلِّمُوا عَلى‏ أَهْلِها۔ (النور: 27) [اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہونا جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کر لو۔] اسی طرح لوگوں کے حقوق میں کوتاہی کرنے سے بھی لوگوں کو منع فرمایا ہے: ِ وَ لا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْياءَهُمْ۔ (ہود: 85) [اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔] ایک اور جہت سے قرآن نے دوسروں کے ساتھ بے رخی سے پیش آنے سے منع کیا: وَ لا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً۔ (لقمان: 18) [اور لوگوں سے (غرور و تکبرسے) رخ نہ پھیرا کرو اور زمین پر اکڑ کر نہ چلا کرو۔] اور وہ تمام کام حرام قرار دیے جو معاشرتی تعلقات کے ٹوٹنے کا باعث بنتے ہیں: يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسى‏ أَنْ يَكُونُوا خَيْراً مِنْهُمْ وَ لا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ عَسى‏ أَنْ يَكُنَّ خَيْراً مِنْهُنَّ وَ لا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَ لا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإيمان۔ (الحجرات: 11) [اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگایا کرو اور ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کیا کرو، ایمان لانے کے بعد برا نام لینا نامناسب ہے۔] اسی طرح گناہ آلود گمان، لوگوں کی جاسوسی اور غیبت کو حرام قرار دیا ہے: يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَ لا تَجَسَّسُوا وَ لا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً۔ (الحجرات: 12) [اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو، بعض بدگمانیاں یقینا گناہ ہیں اور تجسس بھی نہ کیا کرو اور تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔] اسلامی معاشرے میں برائی کو پھیلانے کو حرام قرار دیا ہے: إِنَّ الَّذينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشيعَ الْفاحِشَةُ فِي الَّذينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذابٌ أَليمٌ۔ (النور: 19) [جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کے درمیان بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔] اسی طرح ظاہری اور باطنی برائیوں کے ارتکاب کو بھی حرام قرار دیا ہے: وَ لا تَقْرَبُوا الْفَواحِشَ ما ظَهَرَ مِنْها وَ ما بَطَنَ۔ (انعام: 151) [اور علانیہ اور پوشیدہ کسی طور پر بھی بے حیائی کے قریب نہ جاؤ۔]

اس طریقے سے قرآن مجید بہت کثرت سے وسیع و عریض لائحہ عمل کو پیش کرتا ہے جو معاشرے کی مکمل حفاظت کا  ضامن ہے۔ قرآن مجید ایک دقیق نظام پیش کرتا ہے جو اخلاقی احکام و اقدار پر مشتمل ہے تاکہ امن و مان، ہم آہنگی، بقائے باہمی اور باہمی انحصار معاشرتی زندگی کی اصل خصوصیات قرار پائیں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018