15 ذو القعدة 1442 هـ   24 جون 2021 عيسوى 1:25 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | اسلام میں معیشت |  اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سود اور سودخوروں کے بارے میں اسلام کا موقف
2020-01-14   496

اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سود اور سودخوروں کے بارے میں اسلام کا موقف

’’منافع‘‘ کا لفظ آج کے زمانے میں لفظ ’’سود‘‘ کے متبادل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ دونوں کا معنی ہے اصل سرمائے سے زیادہ لینا، جیسا کہ غیر شرعی عوض اور عقد بیع اور اس جیسے دوسرے عقود کے بغیر کوئی عوض لینا، کیونکہ سود لینے والا دوسرے پر شرط عائد کر دیتا ہے جبکہ دوسرے لوگ جانتے ہوں کہ اس میں جو اضافہ رکھا گیا ہے وہ مشروط ہے اور شرعی عوض کے بغیر ہے۔

مال اسی وقت سود اور حرام ہوتا ہے جب ایک ہی جنس کی دو چیزوں پر معاملہ ہو یا اگر ایک ہی جنس سے نہ ہوں مگر ایسی ہوں کہ ایک ہی جنس کی شمار ہوتی ہوں۔ جبکہ عقود میں شرط ہی یہی ہوتی ہے کہ جو چیز بھی دی جائے اس کے عوض میں بھی کچھ نہ کچھ دیا جائے۔

قرآنی قانون کے مطا بق اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے: الَّذِينَ يأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يقُومُونَ إِلَّا كَمَا يقُومُ الَّذِي يتَخَبَّطُهُ الشَّيطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔ (البقرۃ: 275) [جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ بس اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر حواس باختہ کیا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، پس جس شخص تک اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ سود لینے سے باز آ گیا تو جو پہلے لے چکا وہ اسی کا ہو گا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جس نے اعادہ کیا تو ایسے لوگ جہنمی ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔]

وَمَا آتَيتُمْ مِنْ رِبًا لِيرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يرْبُو عِنْدَ اللَّهِ وَمَا آتَيتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ۔(الروم: 39) [اور جو سود تم لوگوں کے اموال میں افزائش کے لیے دیتے ہو وہ اللہ کے نزدیک افزائش نہیں پاتا اور جو زکوۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو پس ایسے لوگ ہی (اپنا مال) دوچند کرنے والے ہیں۔]

اس کو حرام قرار دیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ناجائز سرمائے کی تشکیل کا سب سے مضبوط عامل ہے، جس سے معاشرے میں جاگیردارانہ اور طبقاتی صورت حال وجود میں آ جاتی ہے۔

سود کی دو قسمیں ہیں: الربا بالمعاملہ (الربا المعاوضی)، اس میں ایک ہی جنس کی چیزوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے البتہ اضافے کے ساتھ (مثلاً دس درہم کے بدلے پندرہ درہم)۔ جبکہ دوسری قسم الربا القرضی ہے جس میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کو قرض دیتا ہے اس شرط پر کہ قرض کی واپسی کے وقت اضافی مال بھی لیا جائے گا۔ اس عمل کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں کے درمیان امیر اور غریب کا طبقاتی فرق پیدا ہو جاتا ہے، جو معاشرتی عدالت کے اصولوں کے منافی ہے، کیونکہ قرض دینے والے کو کسی کوشش اور کام کے بغیر منافع حاصل ہو رہا ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بے روزگاری اور بے کاری کی حالات میں بھی اس کے پاس دولت جمع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے معاشرے کے طبقات کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ امر غریبوں میں ثروتمندوں کے خلاف کینہ اور بغض کے جذبات میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سود، صرف اپنے منافع کے بارے میں سوچنے کی وجہ سے انسان کے اندر دوسرے انسانوں کے حوالے سے ہمدردی اور انسیت کے جذبات کو ختم کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرتی کفالت کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایسی صورت حال بھی پیش آ سکتی ہےکہ مقروض کے لیے قرض ادا کرنے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں اور وہ ایسی چیز کو رہن رکھنے پر مجبور ہو جائے جسے رہن نہیں رکھا جا سکتا، جیسے اپنی آزادی اور یا ممکن ہے اسے بلیک میل کیا جائے یا  اسے قرض خواہ کو جرمانہ ادا کرنا پڑے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018