25 رجب 1447 هـ   13 جنوری 2026 عيسوى 2:09 am کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن یعنی 25 رجب سنہ 183 ہجری کو ساتویں امام حضرت امام موسیٰ ابن جعفر الکاظم علیہ السلام کو بغداد میں ہارون رشيد کے قید خانہ میں زہر دے کر شہید کیا گیا۔
مین مینو

 | مقالات  |  انسان: الٰہی ہدایت اور دنیاوی کشش کے درمیان
2026-01-13   31

انسان: الٰہی ہدایت اور دنیاوی کشش کے درمیان

الشيخ معتصم السيد أحمد

قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اگر غور کیا جائے تو انسان کوئی سادہ یا عام مخلوق نہیں جو صرف ایک ہی پہلو تک محدود ہو اور جس کی حقیقت کو محض ایک زاویے سے سمجھا جا سکے۔انسان نہ تو خواہشات سے پاک کوئی فرشتہ ہے اور نہ ہی صرف جبلّت کے تابع کوئی جانوربلکہ وہ ایک مرکب وجود ہے جسے دو متضاد قوتیں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ ایک قوت اسے بلندی کی طرف لے جاتی ہے جہاں معنی، مقصد اور اخلاقی قدریں ہیں اور دوسری قوت اسے پستی کی طرف کھینچتی ہے جہاں لذت، مادّہ اور بے قابو خواہشات ہیں اور اسی خاص تخلیق سے انسان کی انفرادیت جنم لیتی ہے اور اس کے سامنے آزمائش کا وہ بڑا میدان کھلتا ہے جس کے ذریعے وہ یا تو عزت اور تکریم کا حق دار بنتا ہے یا پھر پستی اور ناکامی سے دوچار ہو جاتا ہے۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿۷﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿۸﴾( سورہ شمس )

اور نفس کی اور اس کی جس نے اسے معتدل کیا،۔ پھر اس نفس کو اس کی بدکاری اور اس سے بچنے کی سمجھ دی

قرآن محض اخلاقی درس نہیں دیتا بلکہ انسانی نفس کی اندرونی ساخت کو واضح کرتا ہے، نفس نہ تو بالکل خالی شئ ہے جس میں کوئی میلان نہ ہو اور نہ ہی وہ سراسر شر ہے جس کے لیے ہلاکت لکھ دی گئی ہو بلکہ وہ ایسا وجود ہے جس میں دونوں صلاحیتیں پائی جاتی ہیں، بگاڑ کی صلاحیت بھی اور سیدھی راہ اختیار کرنے کی صلاحیت بھی، اسی لیے انسان کو محض اس وجہ سے مجرم نہیں ٹھہرایا جاتا کہ اس کے اندر برے رجحانات موجود ہیں اور نہ ہی صرف اس بنا پر قابلِ تعریف سمجھا جاتا ہے کہ وہ بھلائی کو جانتا ہےبلکہ اس کا معیار وہ انتخاب ہے جو وہ کرتا ہے اور وہ راستہ ہے جسے وہ اپنی مرضی اور ارادے سے اختیار کرتا ہے۔

یہ دوگانہ حیثیت ہی دراصل خدائی آزمائش کا راز ہےکیونکہ اگر انسان سراسر نیکی ہوتا تو اختیار کا کوئی معنی نہ رہتا، ور اگر وہ سراسر برائی ہوتا تو اس پر کوئی حجت قائم نہ ہوتی بلکہ حکمت اسی میں ہے کہ انسان کو اس حال میں پیدا کیا گیا کہ وہ بلندی کی طرف جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور پستی کی طرف گرنے کی صلاحیت کا بھی حامل ہے۔پھر اسے چھوڑ دیا گیا کہ وہ خود اپنے مقام کا تعین کرے، اسی لیے قرآن کا بیان فیصلہ کن اور واضح ہے:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ﴿۹﴾ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ﴿۱۰﴾( سورہ شمس )

بتحقیق جس نے اسے پاک رکھا کامیاب ہوا۔ اور جس نے اسے آلودہ کیا نامراد ہوا،

کامیابی اور ناکامی کوئی پہلے سے طے شدہ مقدر نہیں ہوتیں بلکہ وہ اس راستے کا نتیجہ ہوتی ہیں جسے انسان خود اختیار کرتا ہے۔انسان اپنی پیدائش میں کمزور، نادان اور محتاج ہے، پھر اسے وہ وسائل عطا کیے جاتے ہیں جو اسے اس کمی پر قابو پانے کے قابل بناتے ہیں، جیسے عقل، ارادہ، سیکھنے کی صلاحیت اور ہدایت کو قبول کرنے کی اہلیت وغیرہ ۔اسی پس منظر اللہ تعالی کے اس فرمان کو دیکھیے:

﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ﴾(سورہ احراب)

 ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو ان سب نے اسے اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا، انسان یقینا بڑا ظالم اور نادان ہے۔

یہ انسان کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس کی ابتدائی حالت کی وضاحت ہے، وہ اپنی ذات پر محنت کرے اور اپنی صلاحیت سے  کامیابی حاصل کر لے۔

ظلم اور جہالت ہر صورت میں لازم نہیں ہیں بلکہ یہ انسان کی ابتدائی حالت ہیں اور کمال کوئی فطری وصف نہیں بلکہ محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے۔ انسان صرف اسی صورت میں عالم بن سکتا ہے جب وہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرے، صرف اسی صورت میں عادل بن سکتا ہے جب وہ اپنی خواہشات پر قابو پائے اور صرف اسی صورت میں آزاد بن سکتا ہے جب وہ شہوت کی غلامی سے آزاد ہو جائے۔ اسی لیے وہ امانت جو انسان کو سونپی گئی جیسا کہ قرآن کے سیاق سے سمجھ آتا ہےارادے اور ذمہ داری کی امانت ہے، یعنی اختیار کرنے کی طاقت اور اپنے انتخاب کے نتائج اٹھانے کی ذمہ داری ہے۔

اس راستے میں انسان کے لیے سب سے خطرناک چیزیہ ہے کہ وہ مادّہ پر اکتفا کر لے، زمین پر ہی رک جائے اور عارضی لذتوں میں اس قدر غرق ہو جائے کہ آخرت کی طرف توجہ نہ دے۔ قرآن جب خواہشات کی پیروی کو زمین سے جوڑتا ہے تو اس کا مقصد زندگی کے لطف کو برا کہنا نہیں بلکہ یہ انتباہ ہے کہ دنیا کو وجود کا مرکز نہ بنا دیا جائے اور انسان کو صرف جسمانی پہلو تک محدود نہ کر دیا جائے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خواہشات کو خدا کے مقام پر رکھ دیا جائے اور خواہشات فیصلہ کرنے کی بنیاد بن جائے۔

اسی لیے قرآن نے اس کی سخت تنبیہ کی ہے جب انسان اپنی خواہشات کے آگے جھک جائے اسے ایسے بیان کیا گیا ہے جیسے بھوک سے ہانپتا ہوا کتا، جو کبھی سیر نہیں ہوتا، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے جب انسان اپنی اقدار کی رہنمائی کھو دیتا ہے تو مسلسل طلب کرتا ہے اور طلب کے ایک لامتناہی دائرے میں پھنس جاتا ہے۔ دنیا اپنی فطرت کے مطابق کبھی کسی کو مکمل تسکین نہیں دیتی بلکہ اس کی خواہش کو مزید بڑھا دیتی ہےیہاں تک کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسی دوڑ کا قیدی بن جاتا ہے۔

اس زوال کے مقابلے میں عقل اور روح انسان کو پرواز دینے والی دو قوتوں کے طور پر کھڑی ہیں۔ عقل محض حساب کتاب کا آلہ نہیں بلکہ ایک روشنی ہے جو معنی کو آشکار کرتی ہے اور روح کوئی مبہم غیبی حالت نہیں بلکہ انسان کی بلندی حاصل کرنے، لمحے سے ماورا ہونے اور عمل کو مقصد سے جوڑنے کی صلاحیت ہے۔ اسی لیے انسان کی حقیقی جدوجہد اس کی زندگی میں باہر کی دنیا کے ساتھ نہیں بلکہ خود اس کے اپنے نفس کے ساتھ ہے۔

یہ وہی جدوجہد ہے جسے قرآن اور دیگر دینی روایات نے جهاد اکبر سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی سب سے بڑی جدوجہد کہا ہے کیونکہ دشمن یہاں کوئی باہر کا حریف نہیں جسے وقت اور جگہ کے لحاظ سے پہچانا جا سکےبلکہ یہ ایک اندرونی میلان ہے جو ہمیشہ موجود رہتا ہے، مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے اور بڑے دروازوں کی بجائے چھپ کر داخل ہو جاتا ہے۔ نفس فطرتاً عارضی لذت کی طرف مائل ہوتا ہے، آرام کی عادت لیے ہوتا ہے اور مشقت سے نفرت کرتا ہے، اسے خواہشات کے لیے کسی کی ترغیب کی ضرورت نہیں بلکہ اسے حدود و قیود کی ضرورت ہے۔

انسان جانتا ہے کہ اس کا نفس برائی کی طرف مائل ہے مگر یہ  کافی نہیں ہے جب تک یہ علم ایک عملی منصوبے میں تبدیل نہ ہو۔ تزکیہ محض کوئی اخلاقی نعرہ یا عارضی فیصلہ نہیں بلکہ یہ نگرانی، خود احتسابی اور توازن قائم رکھنے کا ایک طویل عمل ہے۔یہ کوئی ایسی منزل نہیں جس تک پہنچ کر انسان آرام کر لے بلکہ ایک مسلسل حالت ہے کیونکہ نفس کبھی مطالبہ کرنا بند نہیں کرتا اور خواہشات کبھی بہکانے سے رکتی نہیں ہیں۔

اگر انسان کو بغیر تربیت  کے چھوڑ دیا جائے تو وہ خود بخود زوال کا شکار ہو جائے گا جیسے پہاڑ کی چوٹی سے گرنا کسی محنت کا متقاضی نہیں جبکہ بلندی قائم رکھنے کے لیے مسلسل کوشش درکار ہے۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن نے سورہ عصر میں خسارے کو وقت کے ساتھ جوڑا گویا انسان کی فطرت میں خسارہ شامل ہے اور نجات استثناء ہےاور یہ نجات صرف ایمان، نیک اعمال، حق کی پیروی اور صبر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

انسان کی اندرونی جدوجہد کبھی مکمل نہیں ہوتی جب تک اس جدوجہد کے سماجی پہلو پر غور نہ کیا جائےکیونکہ نفس خلا میں کام نہیں کرتابلکہ ماحول، ثقافت اور رائج اقدار سے متاثر ہوتا ہے۔ انسان ایسے معاشرے میں رہتا ہے جو صرف مال کی تعریف کرتا ہے اور کامیابی کو اس سے ناپتا ہے کہ کس کے پاس کیا ہے؟ نہ یہ کہ اس نے اخلاقی طور پر کیا کام انجام دیے ہیں؟ وہ اپنے آپ کو ایسے عوامل کے گھیرے میں پاتا ہے جو خواہشات کو بڑھاتے اور عقل کی آواز کو کمزور کرتے ہیں۔ اسی لیے نفس کی جدوجہد صرف فردی معاملہ نہیں بلکہ اس معاشرتی سیاق و سباق پر تنقیدی نظر رکھنے اور رائج منحرف اقدار میں گھلنے سے بچنے کی صلاحیت ہے۔

اسی لیے قرآن زینت اور غرور کے معاملے میں انتہائی حساس ہے کیونکہ خطرہ نعمت کے وجود سے نہیں بلکہ اس کے انسانی وقار کے معیار بن جانے میں ہے۔ جب انسان کی قدر اس کے مال، ظاہر یا مقام سے ناپی جائے تو داخلی اقدار پیچھے رہ جاتی ہیں اور انسان عارضی فوائد کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں جدوجہد صرف نفس کے ساتھ نہیں رہتی بلکہ ایک مکمل نظام کے خلاف بھی بن جاتی ہے جو خواہشات کو جائز قرار دیتا اور ذمہ داری کے معنی کو کمزور کرتا ہے۔

اسی تناظر میں شعور کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر انحرافات برے ارادے سے نہیں شروع ہوتیں بلکہ بتدریج جواز تلاش کرنے اور اندرونی طور پر غلط کو درست سمجھنے سے جنم لیتی ہیں۔ نفس انسان کو براہِ راست تباہی کی طرف نہیں دھکیلتا بلکہ آہستہ آہستہ لے جاتا ہے، اور یہ قدم عموماً کچھ پرکشش عنوانات اور اصطلاحات کے تحت ہوتے ہیں جیسے

"حقیقت پسندی"

"مجبوری

"حالات کا تقاضا"

"سبھی لوگ یہی کرتے ہیں"۔

اسی لیے خود احتسابی نفس کے تزکیہ میں مرکزی کردار رکھتی ہےکیونکہ یہ جواز کے اس دائرے کو توڑتی ہے اور انسان کو دوبارہ اپنی ذمہ داری کے مقام پر واپس لاتی ہے۔

تزکیہ نفس کے فہم میں سب سے خطرناک غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اسے خود کو دبانے یا جسم کے خلاف دشمنی کی حالت میں بدل دیا جائے، گویا انسان سے یہ توقع کی جا رہی ہو کہ وہ اپنی خواہشات ختم کر دے یا اپنی فطری ضروریات کو رد کر دے۔ قرآنی نقطہ نظر خواہشات کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ انہیں درست سمت میں ڈھالنے کی تعلیم دیتا ہےیہ نہیں کہ انسان دنیا سے الگ ہو جائے بلکہ یہ کہ دنیا اسے انسانیت سے دور نہ کر دے۔ جب خواہشات عقل کے زیرِ کنٹرول ہوں تو وہ تعمیری توانائی بن جاتی ہیں اور جب بغیر کنٹرول چھوڑ دی جائیں تو تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

اسی سے ہم سمجھتے ہیں کہ توازن ہی انسانی تجربے کا جوہر ہےاور کمال حقیقت سے الگ ہو کر نہیں بلکہ اسے شعوری طور پر سنبھال کر حاصل کیا جاتا ہے۔ انسان کو زندگی سے فرار اختیار کرنے کا نہیں بلکہ اسے صحیح معنی دینے کا کہا گیا ہےتاکہ زندگی مقصد نہ بنے بلکہ ایک وسیلہ اور ایک پل بنے، مستقل ٹھکانہ نہ بنے۔ یہ فہم انسان کو اندرونی تضاد سے آزاد کرتا ہے اور اسے اطمنان  کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے کہ وہ جس پر ایمان رکھتا ہے اور جو عمل کرتا ہے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔

اسی لیے قرآن جب انسان سے خطاب کرتا ہے تو اسے ایک ذمہ دار فرد کے طور پر مخاطب کرتا ہےسماجی مشین کے ایک معمولی پرزےکے طور پر مخاطب نہیں کرتا۔ حقیقی اصلاح اندر سے شروع ہوتی ہے، نفس، اللہ اور اقدار کے ساتھ تعلق کو دوبارہ قائم کرنے سے اندرونی حال درست ہو جاتا ہے تو بیرونی دنیا کی اصلاح ممکن ہوتی ہے۔انسان کو بدلے بغیر حالات کو بدلنے کی کوشش عموماً بحران کو نئے انداز میں دوبارہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی حقیقی لڑائی نہ وقت کے ساتھ ہے اور نہ حالات کے ساتھ بلکہ اپنے نفس کے ساتھ ہے۔ وقت کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان کے انتخاب کو ظاہر کرتا ہےاور حالات انسان کو نہیں بناتے بلکہ اس کے اندر موجود صلاحیتیں آشکار کرتے ہیں۔ جو شخص اس اندرونی جدوجہد میں کامیاب ہوتا ہے وہ صرف اپنی نفس پر قابو نہیں پاتا بلکہ اپنے اور دوسروں کے لیے حقیقت کی تلاش کرتا ہے اور بگڑی دنیا میں اقدار پر چلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔

اس طرح آخر کار انسان اس بنیادی سوال کی طرف لوٹتا ہے: میں کس طرح زندگی بسر کروں؟ وہ صرف یہ نہیں سوچتا کہ میں اپنی ضروریات کیسے پوری کروں؟ بلکہ وہ یہ سوچتا ہے کہ اپنی انسانیت کو کیسے حاصل کروں۔ انسان الہی پکار اورخواہشات کے درمیان کھڑا ہوتا ہے، اپنے انتخاب میں آزاد، اپنے مقدر کا ذمہ دار اور اپنے مقدر کا اتنا ہی سکندر جتنا وہ اپنے نفس پر قابو پا کر اسے غلام بنائے یا اس کا غلام بن جائے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018