
| مقالات | راحت و آسائش حقیقی خوشی کا متبادل نہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے درد مندی اور ذمہ داری کا ایک جائزہ

راحت و آسائش حقیقی خوشی کا متبادل نہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے درد مندی اور ذمہ داری کا ایک جائزہ
الشيخ مصطفى الهجري
حقیقی خوشی کیا ہے؟ اس کے مفہوم پر فلاسفر اور مذاہب کے درمیان مسلسل کشمکش پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں خوشی کے حصول کے بارے میں مختلف اور متضاد تصورات سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے بعض نظریات انسان کو ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اور فرار کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ اسلام ایک بالکل مختلف زاویۂ نظر پیش کرتا ہے، جو خوشی کو روحانی تکامل اور اخلاقی ارتقا سے جوڑتا ہے، اور اسے ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے ذریعے ممکن قرار دیتا ہے۔
دلائی لامہ کا مشورہ: ذمہ داری سے فرار
ایک متنازع ویڈیو کلپ میں فرانسیسی فلسفی لوک فَیری بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: "اگر تم خوش رہنا چاہتے ہو تو نہ شادی کرو اور نہ ہی بچے پیدا کرو۔"
اس موقف کی توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ بیوی یا بچوں سے جذباتی وابستگی، یا بچوں کا اپنے والدین سے لگاؤ، انسان کو ذاتی خوشی کے حصول سے روک دیتا ہے۔ کیونکہ انسان جن سے محبت کرتا ہے ان کے بارے میں مسلسل فکرمند رہتا ہے، اور اپنی پوری زندگی ان کی خوشی اور آسودگی کے لیے جدوجہد میں گزار دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ خود کو بالکل فراموش کر بیٹھتا ہے۔چنانچہ اس نقطۂ نظر کے مطابق حقیقی دانا وہی ہے جو نہ کسی شخص سے جذباتی وابستگی رکھے اور نہ ہی کسی شے سے۔
یہ منطق اس صورت میں قابلِ فہم ہو سکتا ہے جب ہم خوشی کے مفہوم کو محض ذہنی آسودگی، پابندیوں سے آزادی، اور دنیاوی زندگی میں بوجھ اور ذمہ داریوں کے نہ ہونے تک محدود کر دیں۔لیکن کیا واقعی خوشی کا یہی حقیقی اور مکمل مفہوم ہے؟
اسلامی نقطۂ نظر: راحت نہیں بلکہ تکامل
اسلام ایک بالکل مختلف اور بنیادی طور پر جداگانہ تصور پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق دنیا میں انسان کے وجود کا مقصد محض آرام، آسائش اور سکون حاصل کرنا نہیں، بلکہ روحانی اور اخلاقی تکامل تک پہنچنا ہے۔ اور یہ تکامل اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان مختلف قسم کے چیلنجز، آزمائشوں اور ذمہ داریوں کا سامنا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ﴾ (الانشقاق: 6)
اے انسان! تو مشقت اٹھا کر اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، پھر اس سے ملنے والا ہے۔
پس زندگی آرام کی جگہ نہیں، بلکہ یہ محنت، جدوجہد اور اللہ کی طرف مسلسل سفر کا میدان ہے، اور یہی جدوجہد انسان کے تکامل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔
قرآنِ کریم متعدد آیات میں اس حقیقت کی تصریح کرتا ہے کہ آزمائش اور امتحان ہی نفس کی تطہیر، اس کی پاکیزگی اور اس کے تکامل کا واحد راستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ﴾ (آلِ عمران:(۱۴۱، 142)
نیز اللہ ایمان والوں کو چھانٹنا اور کافروں کو نابود کرنا چاہتا ہے۔ کیا تم (لوگ) یہ سمجھتے ہو کہ جنت میں یونہی چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے کون ہیں؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ، إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا...﴾ (آلِ عمران: 154)
اور یہ (جو کچھ ہوا وہ اس لیے تھا) کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ کر واضح کر دے اور اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے ۔ دونوں فریقوں کے مقابلے کے روز تم میں سے جو لوگ پیٹھ پھیر گئے تھے بلاشبہ ان کی اپنی بعض کرتوتوں کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا۔۔۔
لہٰذا آزمائشیں اور چیلنجز کسی سزا کے طور پر نہیں ہیں، بلکہ یہ روحانی نشوونما اور اخلاقی بلندی کے قیمتی مواقع ہیں۔
یعقوب السراج اور علی بن رئاب سے روایت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، کہ (آزمائشیں اور چیلنجز) انسانوں کو بھٹکائیں گی اور پرکھیں گی، یہاں تک کہ تمہارے نچلے مقام والے اعلیٰ مقام پر پہنچیں، اورتمہارے اعلیٰ مقام والے تمہارانیچے آجائیں۔ اور جو لوگ پہلے کمزور رہے تھے، وہ آگے بڑھ جائیں گے، اور جو لوگ پہلے سبقت لے گئے تھے، وہ پیچھے رہ جائیں گے۔"
یہ حدیث ایک اہم حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ آزمائشیں انسانوں کی اصل شخصیت اور معیار کو آشکار کرتی ہیں، اور انہیں صبر، استقامت اور حقیقی رویوں کے مطابق دوبارہ ترتیب دیتی ہیں
اس مرحلے پر اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو ہمیں دو متضاد منطقوں کے درمیان ایک بنیادی فرق نظر آتا ہے:
پہلی منطق وہ ہے جو انسان کو مختلف اور بار بار آنے والے حالات کا سامنا کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جن میں صبر اور غصے پر قابو پانا، معافی اور درگزر، حق کے لیے جرات، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور رحمدلی، اپنے نفس سے لوگوں کے ساتھ انصاف، اور دیگر اخلاقی کمالات و روحانی اقدار شامل ہیں۔ ایسا انسان روزانہ اپنی ذات کو ذمہ داریاں قبول کرنے کے ذریعے سنوارتا اور مضبوط بناتا ہے۔
دوسری منطق وہ ہے جو ان چیلنجز اور ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرواتی ہے اور جسے اپنا نے سے انسان امورِ زندگی اور لوگوں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ اسی طرح اسے خوشی اور ذہنی سکون حاصل ہو گا۔
لہٰذا، دلائی لامہ کی منطق کو اسلامی نقطۂ نظر میں ذمہ داریوں سے فرار کا راستہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہی ذمہ داریاں تو در حقیقت قیمتی مواقع ہیں، اور یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان اعلیٰ اخلاقی کمالات اور روحانی اقدار حاصل کر سکتا ہے، جو صرف مقابلہ اور چیلنج کے ذریعے ممکن ہیں۔
حقیقی اخلاقی قدر اور کمال اس وقت ظاہر ہوتی اور حاصل ہوتی ہے جب کوئی کام یا موقع انسان سے تقاضا کرے کہ وہ اپنے محبوب یا اپنی پسندیدہ چیزوں کی قربانی دے، چاہے اس کے لیے درد، محنت اور مشقت ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ مثال کے طور پر:
وہ باپ جو اپنے بیمار بیٹے کے بستر کے پاس راتیں جاگ کر گزارتا ہے۔
وہ ماں جو اپنے آرام کو قربان کر کے اپنے بچوں کی خوشی کی خاطر کام کرتی ہے۔
وہ شوہر جو اپنے اہل خانہ کے لیے عزت دار زندگی مہیا کرنے کے لیے کام کی مشقت سہتا ہے۔
یہ سب لوگ وہ اخلاقی کمالات حاصل کرتے ہیں جو ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے والا الگ تھلگ انسان کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔
آخر میں، اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق حقیقی خوشی ذمہ داریوں اور تعلقات سے فرار میں نہیں بلکہ انہیں صبر اور اخلاص کے ساتھ قبول کرنے میں ہے، اور چیلنجز کو ترقی اور تکامل کے مواقع میں بدلنے میں ہے۔ شادی، اولاد اور خاندانی ذمہ داریاں خوشی کی راہ میں رکاوٹیں نہیں بلکہ یہی تو وہ حقیقی سرگرمیاں ہیں جو نفس کو سنوارتی ہیں، اخلاق کو پروان چڑھاتی ہیں اور روح کو بلند کرتی ہیں۔
حقیقی مؤمن زندگی سے نہیں بھاگتا بلکہ اس کے ہر چیلنج کا بہادری سے مقابلہ کرتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ہر آزمائش اللہ کے قریب ہونے اور اس کمال تک پہنچنے کا موقع ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ مستقل اور حقیقی خوشی دنیا میں ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے سے نہیں بلکہ امانت کی ادائیگی اور تفویض کو قبول کرنے سے حاصل ہوتی ہے،اور یہی راستہ آخرت میں ابدی خوشی تک پہنچنے کا ہے۔


